ایک اور ضربِ کاری!!

“کرایہ پورا دو ورنہ اتر جاؤ”

“لسٹ دکھاؤ کہاں ہے؟”

“ڈیزل میں 10 روپیہ بڑھ گیا وہ نئیں دیکھتا تم؟”

“فی سواری 4 روپیہ بڑھانا کہاں کا انصاف ہے؟”

“ام کیا کرے؟ ام نے تو ڈیزل پر پیسہ نئیں بڑھایا”

“اترو نیچے، اترو!!!!”

یہ وہ صدائیں ہیں جو گزشتہ دو روز سے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران کانوں میں گونج رہی ہیں بلکہ کئی بار تو کان پھاڑ قسم کی ہوتی ہیں۔ اور یہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور مطالبات کو تسلیم کیے جانے کے بعد معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

حالانکہ موجودہ حکومت روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر میدان میں آئی ہے اور انتخابات میں گزشتہ حکومت کے جو “مظالم” گنوا کر عوام سے ہمدردی کے ووٹ بٹورے گئے ان میں سرفہرست مہنگائی کا مسئلہ تھا اور اس مسئلے کی بنیادی وجہ گزشتہ دور حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا روز بروز اضافہ تھا لیکن “عوام دوست” حکومت کے انتخابات جیتنے کے بعد سے اب تک 7 مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 61 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ فروری 2008ء کے اختتام پر پٹرول کی قیمت 53 روپے 70 پیسے تھی جو اب 86 روپے 87 پیسے پر پہنچ چکی ہے۔ اس ریکارڈ قیمت پر پہنچنے کے لیے ریکارڈ قدم اٹھا کر بیک وقت 11 روپے 18 پیسے اضافہ کیا گیا۔

اسی عرصے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 73، مٹی کے تیل کی قیمت میں 65 اور ایچ او بی سی کی قیمت میں 48 فیصد اضافہ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک “منی بجٹ” کی حیثیت رکھتا ہے خصوصاً ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کے نتیجے میں عوام براہ راست متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ڈیزل سے وہ تمام اقسام کی ٹرانسپورٹ رواں دواں رہتی ہیں جو عوام استعمال کرتی ہے اور مٹی کا تیل ملک کے کئی علاقوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

بہرحال حالیہ اضافے کا نتیجہ اگلے ہی روز ہڑتال کی صورت میں دیکھنا پڑا اور مجھ جیسے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد دفتر پہنچنے میں ناکام رہے یا پھر دیگر ذرائع سے دفتر پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ ہڑتال کے اگلے روز متوقع طور پر شہر کراچی میں جابجا کنڈیکٹروں اور سواریوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات پیش آئے جس کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ تھا جبکہ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی فہرست جاری نہیں کی گئی. اسی تلخ کلامی کی جھلکیاں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے تمام افراد روزانہ ملاحظہ کر رہے ہوں گے۔

اب صرف فہرست کی صورت میں “پروانہ” جاری ہونے کا انتظار ہے، عوام ذہنی طور پر ایک اور کاری وار کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔

July 25, 2008 | اردگرد اور سیاسیات اور ملکی صورتحال | 2 تبصرے »

بیجنگ اولمپک

One World One Dream

Beijing 2008

4 سال بعد دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر سب سے عالمی کھیلوں کے مقابلوں “اولمپکس” پر مرکوز ہیں اور اس مرتبہ سب کی توجہ کا مرکز چین کا دارالحکومت بیجنگ ہے جہاں اگلے ماہ اولمپکس 2008ء کا آغاز ہو رہا ہے۔ بیجنگ نے 2001ء میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا مقابلہ اپنے نام کیا تھا اور اس کے بعد انہوں پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور سخت محنت کے بعد ان عالمی کھیلوں کے شاندار انعقاد کے لیے بھرپورتیاری کی جس کا مظہر بیجنگ اور دیگر مقامات پر اولمپک کھیلوں کے تیار کی گئی شاندار عمارات و کھیل کے میدان ہیں۔ بیجنگ کھیلوں کے لیے جس زور و شور سے تیاریاں کی گئی ہیں وہ اسے تاریخ کا عظیم ترین اولمپک بنانے کے لیے کافی ہیں۔

بیجنگ اولمپک کا آغاز 8 اگست کو ہوگا اور یہ 24 اگست تک جاری رہیں گے۔ ان عظیم کھیلوں کا چین میں انعقاد اس امر کا اظہار ہے کہ عالمی سطح پر چین کا مقام تسلیم کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب چین نے عظیم الشان تعمیراتی شاہکار قائم کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کی معراج کی جانب گامزن ہے۔ بیجنگ نیشنل اسٹیڈیم، بیجنگ نیشنل انڈور اسٹیڈیم، بینل نیشنل ایکویٹکس سینٹر، اولمپک گرین کنونشن سینٹر، اولمپک گرین اور بیجنگ ویوکسونگ کلچر اینڈ اسپورٹس سینٹر تعمیرات کے شاہکار ہیں۔ ان میں ماسٹر پیس بیجنگ کا مرکزی نیشنل اسٹیڈیم ہے جو کسی پرندے کے گھونسلے جیسا لگتا ہے اور اس کی عرفیت بھی bird nest” ہے۔ اس میں 80 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ افتتاحی و اختتامی تقریبات اسی اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گی۔

بیجنگ اولمپک میں 205 ممالک کے کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں جو 28 کھیلوں میں اپنے ملک کےلیے تمغوں کے حصول کی دوڑ میں مصروف دکھائی دیں گے۔

ایک جانب جہاں لاکھوں تماشائی یہ کھیل میدانوں میں ملاحظہ کریں گے وہیں دنیا بھر کے 4 ارب افراد اسے ٹیلی وژن پر بھی ملاحظہ کر سکیں گے تو ہم بھی منتظر ہیں صرف دو ہفتے بعد تاریخ کے اس عظیم ترین ایونٹ کے لیے اور چین کی شاندار تیاریوں کو عملی صورت میں ملاحظہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ چین پہلی مرتبہ اولمپک کھیلوں میں سب سے زيادہ تمغے جیتنے کا اعزاز حاصل کر پاتا ہے یا نہیں؟

July 23, 2008 | کھیل کھلاڑی | 2 تبصرے »

ٹیگ ٹیگ 2

طویل غیر حاضری کے بعد جیسے ہی اپنے بلاگ پر حاضر ہوا تو برادر محمد وارث اور فہیم کی جانب سے طلبی کا نوٹس لگا دیکھا جنہوں نے ایک مرتبہ پھر ٹیگ کا دم چھلا ہمارے ساتھ لگا دیا ہے۔ “مجبوری کا نام شکریہ”، تو دونوں کے شکریے کے ساتھ جوابات بھی حاضر ہیں۔ قاعدے کے تحت پہلے کھیل کے قوانین ملاحظہ ہوں۔

الف۔ کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے۔

ب۔ جس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے۔

ج۔ سوالات کے آخر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے۔

سوالات:

س1۔ ونڈوز یا لینکس؟

دونوں

س2۔ ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟

Hollywood

س3۔ پیپسی یا کوک؟

کوک

س4۔ سیب یا انگور؟

انگور

س5۔ کراچی یا لاہور؟

کراچی

س6۔ پاپ میوزک یا راک؟

ان دونوں میں سے تو کوئی نہیں

س7۔ چائے یا کافی؟

چائے

س8۔ عدنان سمیع یا عاطف اسلم؟

دونوں نہیں

س9۔ نہاری یا حلیم؟

حلیم

س10۔ لوو میریج یا ارینجڈ؟

ارینجڈ کی تو “گل” ہی اور ہے

س11۔ فورمز یا بلاگ؟

فورمز

س12۔ نواز شریف یا آصف زرداری؟

چھڈو جی

س13۔ دوست یا کزنز؟

دوست

س14۔ کرکٹ یا فٹ بال؟

فٹ بال

س15۔ پرسکون یا پریشان؟

ہمہ وقت پریشان

اب میں ان سوالوں کا بوجھ ان 5 لوگوں پرڈالتا ہوں۔

محب علوی

عارف انجم

شاکر عزیز

ساجد اقبال

قدیر احمد

July 15, 2008 | متفرقات | تبصرہ کریں »

شہر زندہ دلان کا

تاریخی اہمیت کا حامل اور کئی قوموں کے عروج و زوال کا شاہد “لاہور” اپنے اندر ماضی کی کئی یادیں سموئے ہوئے اور اس کا چپہ چپہ عظمتِ اسلاف کا گواہ ہے۔ علاوہ ازیں ان عظیم نابغۂ روزگار ہستیوں کی آخری آرام گاہیں بھی یہاں موجود ہیں جو آج بھی اندھیری راہوں پر بھٹکنے والی انسانیت کے لیے چراغ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ہم نے بھی جدید و قدیم کے حسین امتزاج کے حامل اس شہر کا سفر کرنے کی ٹھانی اور چند روز کے لیے کراچی کی مصروفیتوں اور تیز رفتار زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر کے طویل تھکا دینے والے سفر اور راستے میں بھانت بھانت کی نگریاں دیکھنے کے بعد بالآخر داتا کی نگری پہنچے۔

آرام کے بعد اگلے روز گھومنے کے لیے پہلی نظرِ انتخاب اس عظیم عبادت گاہ پر پڑی جو برصغیر میں سطوتِ مسلم کا نشانِ پائیدار ہے جسے بادشاہی یا عالمگیری مسجد کہا جاتا ہے۔ جس کے مینار صدیوں سے اللہ کی کبریائی بیان کرتے آ رہے ہیں اور آج بھی فرزندانِ توحید اس میں ربِ ذوالجلال کے حضور سربسجود دکھائی دیتے ہیں۔ منصوبے کے تحت چند گھنٹے مسجد میں گزارنے کے بعد نماز ظہر ادا کرنی تھی لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی لاہوریوں کی “زندہ دلی” کا سارا تاثر ختم ہو گیا بلکہ “زندہ دلی” کی جدید تعبیر کے مطابق، قائم ہوگیا۔ مسجد کے صحن میں جا بجا شوخ رنگوں کے کپڑوں میں ملبوس خواتین گھومتی پھرتی نظر آئیں، ہمیں خواتین کے مسجد آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جس طرح وہ حجاب و پردے سے بے نیاز گھوم رہی تھیں وہ کسی عام عبادت گاہ کے بھی شایان شان نہ تھا یہ تو پھر عالمگیری مسجد تھی۔ مسجد کے صحن میں موجود حوض تک پہنچے تو اگلا “منظر” وہاں موجود تھا، جینز اور شرٹ میں ملبوس اور دوپٹے سے بے نیاز ایک خاتون اپنے اہل خانہ کی تصاویر کو کیمرے کی آنکھوں قید کر رہی تھیں۔ اب اِدھر اُدھر جو نظر دوڑائی تو مسجد میں کئی جوڑے راز و نیاز میں مصروف دکھائی دیے۔ آنکھیں اس سے زيادہ مسجد کی بے حرمتی کی تاب نہ لا سکتی تھیں فوراً واپسی کا قصد کیا اور حضوری باغ کے سامنے حکیم الامت علامہ محمد اقبال کے مزار پر حاضری دیتے اور اہلیان لاہور کا نوحہ پڑھتے ہوئے قلعۂ لاہور میں داخل ہوگئے۔ قدیم نوادرات و عمارات و تعمیرات سے اس مقامِ عبرت انگیز کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ جہاں کسی زمانے میں پرندے کو پَر مارنے کی اجازت نہ تھی، وہ راہداریاں جہاں صرف خاص الخاص اور خانوادۂ شاہی کے افراد کو قدم رکھنے دیا جاتا تھا آج وہاں “کلّو قصائی” اور “اللہ رکھے” کو بھی محض 5 روپے میں جانے کی اجازت تھی۔ وہ دروازے جہاں سے ظل الٰہی کے علاوہ کوئی گزر نہ سکتا تھا، اگر کوئی ایسی جسارت کرتا تو جسم سر کے بوجھ سے آزاد کر دیا جاتا، وہاں سے یہ ناچیز کئی مرتبہ گزر گیا۔ آہ! دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہُوں۔

بہرحال عالمگیری مسجد اور مینار پاکستان کے درمیان تین صدیوں کی مسافت (بقول مختار مسعود) طے کر کے اس جدید یادگار کے پاس پہنچے جو اس وقت تزئین و آرائش کے مراحل سے گزر رہی تھی اور اوپر جانے کی اجازت نہ تھی۔ مینار کے ساتھ ہی ایک باغیچے کا چند روز قبل ہی افتتاح ہوا تھا لیکن وہاں لوگوں نے وہ “گندِ عظیم” مچا رکھا تھا کہ نیچے بچھا سبزہ بجائے سبز کے کینو کے چھلکوں کی بہتات کے باعث نارنجی نظر آ رہا تھا۔ 10 منٹ کی کوششوں کے بعد مجھے اپنے کھائے گئے کینوؤں کے چھلکے پھینکنے کے لیے ایک ٹوکری دکھائی دی۔ باہر نکلے تو چند لحظوں کے لیے “بدبوؤں کے باسی” بن گئے اور اس بو کے بارے میں تو یہاں لکھا بھی نہیں جا سکتا کہ کس چیز کی تھی۔

لاہوریوں کی زندہ دلی اور اس شہر کی خوبصورتی کے جو چرچے اور قصے یہاں سے سن کر وہاں گئے تھے ان کا اثر صرف چند لحظوں میں چکنا چور ہو گیا۔ یا شاید زندہ دلی کی تشریح ہمارے سمجھ میں نہ آ سکی تھی؟

June 25, 2008 | اردگرد اور سفر وسیلۂ ظفر | 12 تبصرے »

“ٹیگ ٹیگ” کے اکھاڑے میں

آج ہمیں ایک ایسے کھیل میں پھنسا دیا گیا ہے جس سے سابقہ ہی پہلی بار پڑا ہے اور وہ ہے، بقول شخصے بلاگرز کا پسندیدہ کھیل، “ٹیگ ٹیگ کھیلنا” اور اسے کھیلنے کے لیے ہمیں اکھاڑے میں دھکا دینے کا شرف حاصل ہوا ہے محترم عارف انجم کو۔ بہرحال اب دھکا دیا جا چکا ہے تو کھیلنا پڑے گا۔

تو جناب سب سے پہلے اس کھیل کے قوانین

ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔
ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔

سوالات اور جوابات

1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟

سردی گرمی خزاں بہار، چاہے کچھ ہو دفتر آنے کے لیے جرابیں پہننی پڑتی ہیں اور اس وقت سیاہ رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں۔

2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟

ابھی دفتر پہنچا ہوں اور دفتر میں کام کرنے والی خواتین کی محفل سے بھن بھن کی آوازیں آ رہی ہیں (نجانے کس کی غیبت ہو رہی ہے؟)

3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟

ہاں وہی ناشتہ! پراٹھہ، انڈہ اور چائے

4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟

ہممممم آج اندازہ ہو رہا ہے کہ کوئی فلم دیکھے بہت عرصہ ہو گیا ہے، شاید آخری مرتبہ بچوں والی کوئی فلم دیکھی تھی ڈاکٹر ڈولٹل 1

5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟

مرد کا ایک مرتبہ گھر کے اندر اور عورت کا گھر سے باہر دل لگ گیا تو انہیں پلٹانا سب سے مشکل ہے

6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟

کمپیوٹر پر نصب کردہ نیا گیم کھیل رہا تھا UEFA Euro 2008

7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟

یہ سب سے مشکل سوال ہے، اتنی شخصیات سے ملنے کی خواہش ہے کہ ہر شخصیت پہ دم نکلے۔ بہرحال حکیم الامت علامہ اقبال سے ملنے کی بہت تمنا ہے۔

8) غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟

پرسکون اسی وقت ہوتا ہوں جب غصہ اتر جاتا ہے، ویسے میں بذات خود کوشش نہیں کرتا بلکہ دیگر افراد میرے غصے کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ;)

9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟

کل رات کو ایک دوست سے

10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟

بلاشبہ سب سے زیادہ مزا عید الاضحٰی پر آتا ہے۔

کھیل کے قوانین کے مطابق 5 دیگر بلاگرز کو زبردستی اس کھیل میں گھسیٹنا ہے تو میں دھکا دیتا ہوں ان بلاگرز کو:

راہبر، اظہر الحق، راشد کامران، نعمان اور اجمل صاحب

June 19, 2008 | بلاگنگ اور ماحولیات | 5 تبصرے »

جادہ و منزل

“معالم فی الطریق” سید موصوف کی آخری تصنیف ہے۔ جس میں ان کی نئی تحریروں کے ساتھ کچھ پرانی تحریریں بھی ترمیم و اضافہ کے بعد شامل کی گئی ہیں۔ اس کتاب کو ہم “جادہ و منزل” کے نام سے اردو دان احباب کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ یہی وہ کتاب ہے جس نے سید قطب کو تختۂ دار تک پہنچایا ہے۔ جہاں تک سید قطب کی انقلابی شخصیت اور تحریکی جوش و ولولہ کا تعلق ہے۔ بے شک اس میں وہ اپنے دور کے چند گنے چنے لوگوں میں سے ہیں۔ جب مصر میں فوجی انقلاب برپا ہوا تھا اس میں سید قطب نے جو کردار ادا کیا تھا اس کی بنا پر بعض مصری مصنفین نے ان کو “انقلابِ مصر کا میرابو” کا لقب دیا ہے۔ “میرابو” سے ان کا اشارہ اس فرانسیسی رائٹر کی طرف ہے جو فرانس کے اندر جاگیرداری اور استبداد کے خلاف انقلاب برپا کرنے کے لیے عوام کو اکساتا رہا ہے۔ سید قطب کی کتاب “معرکۃ الاسلام و الراسمالیۃ” میں یہ انقلابی روح صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ اور یہ اس دور میں لکھی گئی ہے جب وہ تمام بڑے بڑے جغادری جو اس وقت “اشتراکیت” اور “مساوات” اور اسی نوعیت کے دوسرے نعروں سے ہنگامہ نشور برپا کیے ہوئے ہیں منقار زیرِ پر تھے۔ “معالم فی الطریق” میں انہوں نے اسلامی نظریہ اور اسلامی تنظیم کے بنیادی خدوخال بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کی پوری اسکیم جس بنیادی نقطہ پر مرکوز ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح اسلام کے صدر اول میں اسلامی معاشرہ ایک مستقل اور جداگانہ معاشرے کی صورت میں ترقی و نمو کے فطری مراحل طے کرتا ہوا بام عروج کو پہنچا تھا اسی طرح آج بھی ویسا صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں لانے کے لیے اُسی طریقِ کار کو اختیار کیا جانا لازم ہے۔ اس اسلامی معاشرے کو ارد گرد کے جاہلی معاشروں سے الگ رہ کر اپنا تشخص قائم کرنا ہوگا۔

یہ اسی کتاب “معالم فی الطریق” کے اردو ترجمہ “جادہ و منزل” کے میں کتاب کے وہ تعارفی الفاظ ہیں جو کتاب اور مصنف کے تعارف کے ضمن میں ادا کیےگئے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو اسی وقت تہیہ کر لیا کہ اس کتاب کو برقیانے کا کام ضرور کروں گا۔ ماہ اپریل کے اوائل میں اردو محفل پر اس سلسلے میں گفتگو کا آغاز کیا اور دو انتہائی شفیق دوستوں نے اس ضمن میں مدد کی یقین دہانی کرائی اور بعد ازاں عملی طور پر اس میں حصہ لیا اور صرف 25 دنوں کے عرصے میں 436 صفحات کی اس کتاب کی کمپوزنگ کا مرحلہ طے پا گیا۔

اب اس کے تکنیکی و پروف ریڈنگ کے اہم مراحل باقی تھے۔ اس پوری کتاب کو ایک فائل میں بند کرنا گویا “دریا کو کوزے میں سمانا” تھا اس لیے اس کی تیاری کے دوران پوری کوشش رہی کہ اس فائل کا حجم کم سے کم رہے اور اسی لیے صرف ایک فونٹ “نفیس ویب نسخ” کااستعمال کیا گیا ہے اور قرآنی آیات کے لیے خوبصورت سے خوبصورت فونٹس کی موجودگی کے باوجود کسی دوسرے فونٹ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ نفیس ویب نسخ کو بھی اس فائل کے اندر embed کر دیا گیا ہے تاکہ وہ صارفین جن کے کمپیوٹر پر یہ فونٹ نصب نہیں، بھی اس کتاب سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

مجھے امید ہے کہ تمام دوستوں کو یہ کاوش پسند آئے گی لیکن بحیثیت انسان غلطی ہر شخص سے ہو سکتی ہے اس لیے اس برقی کتاب میں ہجے اور املاء کے علاوہ خاص طور پر کچھ تکنیکی غلطیاں ضرور ہوں گی اور وہ تمام افراد جن پر یہ غلطیاں ظاہر ہوں اس کے بارے میں مجھے مطلع کریں تو میں بہت مشکور ہوں گا اور اس غلطی کو فوری طور پر درست کردوں گا۔

آخر میں تمام اراکین سے التماس ہے کہ اس کتاب کے مصنف سید قطب شہید اور مترجم خلیل احمد حامدی صاحب کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں اور دعاؤں میں اس ناچیز اور کتاب کو برقیانے میں مدد دینے والے دیگر ساتھیوں کو بھی یاد رکھیں

“جادہ و منزل” کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے:

جادہ و منزل (مکمل برقی نسخہ)

June 18, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور برقی کتب اور تخلیقات | 4 تبصرے »

اوپن سولارس

کمپیوٹر، اس کے پرزہ جات، سافٹ ویئر کے حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے معروف بین الاقوامی ادارے اور اوپن آفس سمیت دیگر معروف اوپن سورس سافٹ ویئرز کے خالق “سن مائیکرو سسٹمز” کے نئے اوپن سورس پروجیکٹ “اوپن سولارس” کا پہلا کارنامہ منظر عام پر آگیا۔

سن نے گنوم ڈیسک ٹاپ انوائرمنٹ کی حامل نئی لینکس ڈسٹرو “اوپن سولارس” (OpenSolaris) پیش کر دی ہے۔ اسے براہ راست (Live CD) بھی کمپیوٹر پر چلایا جا سکتا ہے۔

آپ یہ جدید لینکس ڈسٹرو اوپن سولارس کی ویب سائٹ پر یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور سب سے خاص بات کہ یہ محض چند لینکس ڈسٹروز میں سے ایک ہے جو مفت سی ڈی بھی فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے لیے اس صفحے پر جائیے اور Get Free Media کے ربط پر کلک کر کے فارم پُر کر لیجیے اور سی ڈی آپ کے گھر پر پہنچ جائے گی۔

اوپن سولارس اسکرین شاٹ

ایک وضاحت: یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر صارفین صرف سی ڈی منگوانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے بعد لینکس کے استعمال یا اسے مزید پھیلانے کا کام نہیں کرتے۔ اس لیے اگر یہ ارادہ ہے تو پھر اوپن سورس کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں میری گزارش ہے کہ سی ڈی ملنے کے بعد اس کی کاپیاں بنائیں اور زیادہ سے زیادہ دوستوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کریں، اس سے اوپن سورس کو ترویج ملے گی۔

June 09, 2008 | لینکس نامہ | 5 تبصرے »

اچھا نہیں ہے میر کا احوال ان دنوں

میرؔ کہہ گئے ہیں:

اچھا نہیں ہے میرؔ کا احوال ان دنوں

غالب کہ ہو چکے گا یہ بیمار آج کل

قصہ مختصر یہ کہ جیسے جیسے مئی کے ایام گزرتے گئے اور کراچی کی گرمی کی قیامت خیزی میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے طبیعت مضحمل ہوتی چلی گئی اور بالآخر مئی کے آخری عشرے کے ساتھ ہی نزلے اور بخار نے جکڑ لیا اور یوں ہم بلاگ پر کچھ تحریر کرنے سے کم و بیش دو ہفتوں کے لیے محروم ہو گئے۔ ان دو ہفتوں کے دوران بخار ایک مرتبہ اتر کر دوبارہ چڑھا اور طبیعت اس قدر پتلی ہوتی چلی گئی کہ لکھنے لکھانے کے کسی کام کی جانب دل مائل نہیں ہوپایا۔ طبیعت میں گرانی تو اب بھی ہے تاہم حالت پہلے سے بہتر ہے۔ آپ لوگوں سے التماس ہے کہ دعا کریں اور میری کوشش ہے کہ چند روز میں ہی بلاگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کروں۔

June 06, 2008 | متفرقات | 11 تبصرے »

“رنگین” پاکستانی سیاست کا ایک “سنگین” مظاہرہ

پاکستانی سیاست بہت “رنگین” ہے اور اس کے ہر رنگ کی ایک خاص بات ہے۔ حتٰی کہ چند “چٹ پٹے” رنگوں پر بازاری قسم کے مصنفین نے کتابیں بھی لکھ ڈالیں جو ٹھیلے پر کتابیں بیچنے والوں کے ہاں مخصوص مقامات پر رکھی جاتی ہیں تاکہ فوری توجہ حاصل کریں۔ بہرحال پاکستانی سیاست کے انہی رنگوں میں سے ایک رنگ آجکل پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور وہ ہے چیئرمین سی بی آر عبد اللہ یوسف کا ایک محفل کے دوران “رقص”

ویسے ہمارے “جمہوری” وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اسی صلاحیت کی بنیاد پر وزارت تک تقسیم کرچکے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے صدر پرویز مشرف (”پر کٹنے سے پہلے”) انہی حرکات کا ارتکاب کر چکے ہیں جن کی بناء پر بھٹو کو اپنا زوال دیکھنا پڑا۔ حالانکہ صدر محترم اپنے دور عروج میں کئی ایسے کام کر چکے ہیں جن میں سے ہر ایک پر ایک کیا کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن حال ہی میں عبد اللہ یوسف کے ساتھ ان کے رقص کا چرچا اب سر راہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور ایک نجی چینل نے تو روشن خیالی کے اس عملی مظاہرے کو دکھانے کا موقع ہاتھ نہیں جانے دیا اور کارکردگی کا عملی مظاہرہ عوام کو دکھا دیا۔

ویسے بھٹو صاحب نے تو صرف ایک وزارت کے حصول کے لیے مقابل دو امیدواروں میں سے ایک انتخاب بہتر رقص کی بنیاد پر کیا تھا لیکن پرویز صاحب تو اس رقص کا خود حصہ بن گئے۔ جی ہاں! عبد اللہ یوسف نے صدر صاحب کو نشست سے اٹھا کر اہلیان محفل کے روبرو دعوت رقص دی جسے محترم صدر نے قبول کیا لیکن جناب ان کے “رقص” کے آغاز سے قبل ہی کیمرہ مین نے کمال ہوشیاری سے کیمرے کا رخ حاضرین کی جانب پھیر دیا (لگتا ہے کیمرہ مین کا تعلق پی ٹی وی سے تھا)۔ تو فی الوقت تو ہم عبد اللہ یوسف صاحب کے رقص پر ہی اکتفا کرتے ہیں، اب ہمیں اور نجانے کیا کیا دیکھنا ہے اس لیے ساری حیرانگی یہیں ختم مت کیجیے گا، کچھ “برے” وقت کے لیے بھی بچا کر رکھیے گا۔

May 21, 2008 | حالات حاضرہ اور روشن خیالی اور سیاسیات | 2 تبصرے »

ہماری اخلاقی حالت

ہمارے افراد کی عام اخلاقی حالت جیسی کچھ ہے، آپ اس کا اندازہ خود اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کی بنا پر کیجیے۔ ہم میں کتنے فی صد آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جو کسی کا حق تلف کرنے میں، کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے میں کوئی ’’مفید‘‘ جھوٹ بولنے اور کوئی ’’نفع بخش‘‘ بے ایمانی کرنے میں صرف اس بنا پر تامل کرتے ہوں کہ ایسا کرنا اخلاقاً برا ہے؟ جہاں قانون گرفت نہ کرتا ہو، یا جہاں قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی امید ہو، وہاں کتنے فی صدی اشخاص محض اپنے اخلاقی احساس کی بنا پر کسی جرم اور کسی برائی کا ارتکاب کرنے سے باز رہ جاتے ہیں؟ جہاں اپنے کسی ذاتی فائدے کی توقع نہ ہو، وہاں کتنے آدمی دوسروں کے ساتھ بھلائی، ہمدردی، ایثار، حق رسانی اور حسنِ سلوک کا برتاؤ کرتے ہیں؟ ہمار ے تجارت پیشہ لوگوں میں ایسے تاجروں کا اوسط کیا ہے، جو دھوکے اور فریب اور جھوٹ او رناجائز نفع اندوزی سے پرہیز کرتے ہوں؟ ہمارے صنعت پیشہ لوگوں میں ایسے افرادکا تناسب کیا ہے جو اپنے فائدے کے ساتھ کچھ اپنے خریداروں کے مفاد اور اپنی قوم اور اپنے ملک کی مصلحت کا بھی خیال رکھتے ہیں؟ ہمارے زمینداروں میں کتنے ہیں جو غلہ روکتے ہوئے اور بے حد گراں قیمتوں پر بیچتے ہوئے یہ سوچتے ہوں کہ اپنی اس نفع اندوزی سے وہ کتنے لاکھ بلکہ کتنے کروڑ انسانوں کو فاقہ کشی کا عذاب دے رہے ہیں؟ ہمارے مالداروں میں کتنے ہیں جن کی دولت مندی میں کسی ظلم، کسی حق تلفی، کسی بددیانتی کا دخل نہیں ہے؟ ہمارے محنت پیشہ لوگوں میں کتنے ہیں جو فرض شناسی کے ساتھ اپنی اُجرت اور اپنی تنخواہ کا حق ادا کرتے ہیں؟ ہمارے سرکاری ملازموں میں کتنے ہیں جو رشوت اور خیانت سے ظلم اور مردم آزاری سے، کام چوری اور حرام خوری سے، اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال سے بچے ہوئے ہیں؟ ہمارے وکیلوں میں، ہمارے ڈاکٹروں اور حکیموں میں، ہمارے اخبار نویسوں میں، ہمارے ناشرین و مصنفین میں، ہمارے قومی ’’خدمت گزاروں ‘‘ میں کتنے ہیں جواپنے فائدے کی خاطر ناپاک طریقے اختیار کرنے اور خلق خدا کو ذہنی، اخلاقی، مالی اور جسمانی نقصان پہنچانے میں کچھ شرم محسوس کرتے ہوں؟ شاید میں مبالغہ نہ کروں گا اگر یہ کہوں کہ ہماری آبادی میں بمشکل ۵ فیصدی لوگ اس اخلاقی جذام سے بچے رہ گئے ہیں، ورنہ۹۵ فیصدی کو یہ چھوت بری طرح لگ چکی ہے۔ اس معاملہ میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور ہریجن کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ سب کے سب یکساں بیمار ہیں، سب کی اخلاقی حالت خوفناک حد تک گری ہوئی ہے، اور کسی گروہ کا حال دوسرے سے بہتر نہیں ہے۔ (اقتباس: بناؤ اور بگاڑ از سید ابو الاعلی مودودی)

May 20, 2008 | اخلاقیات اور اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 4 تبصرے »

پچھلی »