12.12اردو بلاگز کی بڑی کامیابی — جریدے میں مضمون کی اشاعت
گزشتہ دنوں ایک عزیز نے بتایا کہ روزنامہ جسارت کراچی کے سنڈے میگزین (اشاعت 30 نومبر 2008ء) میں اردو بلاگز پر زیر بحث موضوعات اور ان پر قارئین کے تبصروں کے بارے میں ایک مضمون شایع ہوا ہے۔
تلاش بسیار کے بعد یہ مضمون مل گیا۔ این خان نے اس مضمون میں اردو بلاگز کی تحاریر اور ان پر قارئین کے تبصروں کو پیش کیا ہے۔ یہ اردو بلاگز کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ ان کی تحاریر کو اخباری سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس قابل سمجھایا گیا ہے کہ اخبار کی زینت بنایا جائے۔میری طرف سے تمام اردو بلاگرز کو بہت بہت مبارک باد ۔
بہرحال مجھے دو چیزوں کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی ہے ایک اگر ان تمام بلاگرز کو تبصرے کے ذریعے آگاہ کر دیا جاتا کہ آپ کے بلاگ کی تحریر اور تبصروں پر مشتمل مضمون فلاں تاریخ کو سنڈے میگزین کی زینت بنے گا تو اچھا لگتا۔ دوسری بات اگر زیر موضوع تمام بلاگز کے لنکس آخر میں فراہم کر دیے جاتے تو لوگ ان اردو بلاگز کی دیگر تحاریر سے بھی مستفید ہو پاتے۔
بہرحال فی الحال تو میں بھی خوش ہوں کہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوا لیا ہے کیونکہ تحاریر کو تو اس قابل نہیں سمجھا گیا لیکن میرے نام سے دو تبصرے ضرور اس مضمون کا حصہ بنے ہیں

کوئی متعلقہ تحریر نہیں















اس کا مطلب ہے که پڑھتے سب هی هیں
بلاگروں کا لکھا هوا بھی !ـ
بس اردو میں لکھنے والے دیسی دیسی سے لگتے هوں گے
اور انگریزی والے تو هوئے هی انگریز
خاور کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..اردو رسالے
December 12th, 2008 بوقت 1:39 pm
این خان یعنی نعمت خان صاحب نے اس سلسلے میں مجھے سے اردو بلاگرز کے بلاگز کے ایڈیس مانگے تھے جو میں نے انہیںدے دیئے!! اپنے تبصرے میں انہوں نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ وہ سنڈے میگرین میںایک فیچر ڈالنا چاہتے ہیں!!!
اگر اردو ٹٰیک ڈاٹ نیٹچل رہی ہوتی تو میںآُ کو وہ لنک دے دیتا!!!ویسے تلخابہ نام سے انہوں نے اپنا بلاگ بھی شروع کیا تھا!!!
December 12th, 2008 بوقت 2:29 pm
اگر اسی طرح دوسرے اخبارات بھی اردو بلاگرز کی رائے کو اہمیت دینا شروع کر دیں اور الیکٹرانک میڈیا بھی چند دن کیلیے مہربان ہو جائے تو اردو بلاگنگ مقبول ہو سکتی ہے۔ اس طرح اردو زبان کی بھی خدمت ہو گی اور انگریزی سے نابلد پاکستانی اردو میںاپنے بلاگ بنا سکیںگے۔ ویسے پاکستانی بلاگرز اگر کوشش کر کے میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا کوئی پروگرام بنا سکیں تو ہم بھی اپنا حصہ ڈالنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔
میرا پاکستان کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..صدر ہماری نظر میں
December 12th, 2008 بوقت 3:22 pm
بھائی جی آپ دیکھیں گے جلدی بلاگنگ کے لئے اردو مزید مقبول ہو گی ان شاء اللہ
December 12th, 2008 بوقت 7:25 pm
جب پاکستان میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ عام ہوگا تو اردو بلاگنگ بھی عام ہو جائے گی۔ ابھی تو کسی کو پتہ نہیں ہے کہ اخباروں میں کالم چھپوانے کے لیے مارے مارے پھرنے کی بجائے کتنا سستا اور بَڑھیا کام بلاگنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
قدیر احمد کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..ایک بہتر بلاگنگ سروس
December 12th, 2008 بوقت 8:54 pm
بھائی اب تو تبصرہ کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا ہو گا ۔بلاگنگ اب محفوظ نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔
December 12th, 2008 بوقت 9:11 pm
یہ بھی بہت ہے کہ کم از کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ اردو بلاگنگ بھی کچھ ہے اور اردو میں بھی قابل بھروسہ معلومات کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے
امید ہے بہت جلد مزید لوگ بھی اس طرف راغب ہونگے اور قارئین کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
راشد کامران کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..قربانی کی کھالیں ہمیں دیں ۔۔۔۔ ورنہ؟
December 12th, 2008 بوقت 10:50 pm
کوشش جاری رکھیں وہ دن دور نہیںجب چائنہ کی طرح پاکستان میں بھی بلاگنگ پر جیل کی سزا ہوا کرے گی
عبدالقدوس کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..مفت ڈومین نیم جیتنے کا طریقہ
December 13th, 2008 بوقت 12:54 am
ہاہاہا۔۔۔روسی شہری کو اپنی فکر پڑ گئی ہے۔
December 13th, 2008 بوقت 6:56 am
یہ بہت اچھی خبر سنائی ہے آپ نے۔ این خان صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے اردو بلاگنگ کو اچھی خاصی کوریج دی۔
ساجداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..Feed Icons 2
December 13th, 2008 بوقت 11:10 am
ہاہاہا اچھا آپ میں سے کس کس نے اندازہ کرلیا ہے کہ میںدیوانہ ہوں؟ ویسے این صاحب تو کرچکے ہیں اس لیے آپ صاحبان کو بھی اب کرلینا چاہیے۔
آپ خود ان کی تحریر میںدیکھ سکتے ہیں
عبدالقدوس کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..جماعت الدعوۃ ، الرشید ٹرسٹ بھی دہشتگرد ہے
December 14th, 2008 بوقت 12:04 am
[...] کی جس کی تفصیل ابن ضیاء کے بلاگ پر موجود ہیں۔ پھر ابو شامل نامی بلاگر نے بھی جسارت میں شائع ہونے والے ایک … کی طرف توجہ دلائی جس میں اردو بلاگنگ کا جائزہ پیش کیا [...]
December 14th, 2008 بوقت 4:36 am
خاور صاحب! بالکل پڑھتے ہوں گے۔ بلاگز پر سینکڑوں وزٹ فرشتے تو نہیں کرتے ہوں گے نا؟ ہاں بس ترجیح کی بات ہے اور ترجیحات میں ہماری قومی زبان کی حیثیت کیا ہے اس کا سب کو بخوبی اندازہ ہے۔
شعیب بھائی! آپ کا شکریہ۔ نعمت خان صاحب کے بلاگ تلخابہ کو اردو سیارہ اور اردو وینس پر بھی تو شامل کروائیے۔
میرا پاکستان! اصل میں ہمارے ہاں دوسرے کی رائے کو اہمیت و اولیت دینے کا رواج سرے سے نہیں ہے۔ ہر کوئي اپنی رائے کو مقدم سمجھتا ہے اور یہ رحجان آپ کو ٹیلی وژن چینلوں کی نشریات سے ہوتا ہوگا۔ اس لیے ایسا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور دکھائی دیتا ہے کہ ذرائع ابلاغ سے وابستہ ادارے کبھی بلاگرز کی رائے کو اہمیت دیں گے۔ ہاں البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ الیکٹرانک میڈيا پر آنے والے آئی ٹی کے پروگرامز سے رابطہ کیا جائے کہ وہ اپنے پروگرام میں بلاگرز کی دنیا یا بلاگرز کیا کہتے ہیں جیسے سلسلے کو شروع کریں جس میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو بلاگز پر بھی تبصرے شامل ہوں۔
ڈفر! مجھے قوی امید ہے کہ پاکستان میں “volunteerism” کے فروغ کے ساتھ ساتھ اردو بلاگنگ کو بہت فائدہ ہوگا۔ انگریزی بلاگنگ کی جانب رحجان زیادہ ہونے کا سبب اس کا اقتصادی پہلو بھی ہے۔
قدیر بھائی! اردو بلاگنگ کو فائدہ تبھی ہوگا جب اس کی تشہیر ہوگی، ورنہ اس کی حیثیت “انجمن ستائش باہمی” سے زیادہ نہیں ہوگی۔
روسی شہری! ہم آپ کے بے لاگ تبصروں سے محروم نہیں رہنا چاہتے
راشد بھائی! درست کہہ رہے ہیں کہ چاہے کسی بھی پلیٹ فارم ، آخر کسی نے تو اردو بلاگنگ کو تسلیم کیا۔ ہمارے اردو میڈیا کا حال تو یہ ہے کہ انہیں بلاگنگ کا سرے سے معلوم ہی نہیں۔
عبد القدوس، آپ کی نگاہیں تو بہت دور رس ہیں
بہرحال نام چین کا ہی کیوں ہو بدنام کہ اپنے مسلم ممالک بھی پیچھے نہیں (مثال: مصر)
ماوراء جی! آپ تو فکر سے آزاد ہیں نا؟
ساجد بھائی! اصل میگزین دیکھیں تو کوریج اس سے کہیں زيادہ لگتی ہے اس میں تو میگزین سائز کے تقریباً ڈیڑھ صفحات ہیں۔
December 15th, 2008 بوقت 2:40 pm
شکریہ شکریہ
عبدالقدوس کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..امریکی صدر بش پر جوتوںکی برسات
December 15th, 2008 بوقت 7:10 pm