سوات امن معاہدہ اور ان سولائزڈ سوسائٹی

تحریر از مہمان بلاگر: زبیر انجم صدیقی

zubairanjum1[at]hotmail[dot]com

انسانی تمدن کی بنیاد جس قانون پر قائم ہے اُس کے تحت انسان کا سب سے پہلا حق زندہ رہنے کا حق ہے اورسب سے پہلا فرض زندہ رہنے دینے کا فرض ہے۔ اس لئے تعلیم اور صحت جیسی سہولیات تو دور کی بات، انسان کو روٹی اور پانی سے بھی پہلے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ امن ہے۔ شاید اسی وجہ سے سوات کے لوگ یہ بات سب سے زیادہ سمجھتے ہیں کہ امن کس چڑیا کا نام ہے اور ان سے بہتر کون یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ امن ہی عارضِ محبوب کا وہ تل ہے جس پر ثمرقند و بخارا بھی قربان کیے جا سکتے ہیں اور یہی وہ حق ہے جس سے گزشتہ ڈیڑھ سال سے سوات کے لوگ محروم رکھا جارہا تھا اورسوات کے لوگوں کے لئے امن کا حصول ہی وہ حق اور مقصد تھا کہ جس کے لئے پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی آئیڈیالوجی پر ترجیح دیتے ہوئے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر مولانا صوفی محمد سے مذاکرات کئے “ویل ڈن اے این پی”۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ امن لڑائی کے فیصلے کا نام ہےاور سوات کی شورش کا فیصلہ ہے نظام عدل ریگولیشن۔ ہمارے یہاں ایک سیاسی جماعت اور نام نہاد سول سوسائٹی نے امن معاہدے اور قومی اسمبلی میں قرارداد کی متفقہ منظوری کو طالبان کی فتح قرار دیا ہے۔ مگریہ معاہدہ کس کی فتح اور کس کی شکست ہے۔ اس کا جائزہ اور تجزیہ آئندہ سطور میں کرتے ہوئے ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو اس کے نتیجے میں مولوی فضل اللہ اور طالبان جیسی قوتیں دیوار سے لگیں گی اور ریاست اور سوات کے عوام کامیاب ہوں گے۔

ہمارے خیال میں یہ مشہور انگریزی ترکیب کے مطابق “Win win Situation” ہے صرف پاکستان کی ریاست اور سوات کے شہریوں کے لئے۔ لیکن اس سے پہلے ان حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہےجن میں یہ معاہدہ کیا گیا ہے اور اس جائزے سے اس بات کا بھی بخوبی اندازہ بھی ہوجائے گا کہ ہم اس معاہدے کو کیوں اتنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ریاست کی سب سے بڑی طاقت وہ ہوتی ہے جو وہ استعمال نہیں کرتی اور اس طاقت کے لئے انگریزی میں لفظ “Deterance” استعمال کیا جاتا ہےاور جب ڈیٹرنس کو استعمال کر لیا جائے تووہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس معاہدے کی اندھی مخالفت کرنے والے آج جس حکومتی عملداری[1]پر اصرار کر رہے ہیں۔ وہ اسی دن ختم ہوگئی تھی جب 20 نومبر 2007ء کو پرویز مشرف حکومت نے سوات میں آپریشن شروع کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی رٹ اس دن ختم نہیں ہوئی تھی جب مٹھی بھر نام نہاد طالبان نے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا تھا بلکہ حکومت کے پاس اس دن بھی بات چیت کر کے عملداری قائم رکھنے کا راستہ موجود تھا، مگر جب فوج نے سوات کے شدت پسندوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اس دن عملاً حکومت کی عملداری ختم ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ڈیڑھ سال کے آپریشن میں فوج کو کامیابی نہ ہوسکی۔ مینگورہ ، سوات ، کبل ، مٹہ اور امام ڈھیری میں طاقت کے بھرپور استعمال اور سینکڑوں پاکستانیوں کی ہلاکت کے بعد بھی نوشتہ دیوار یہی ہے کہ فوج وزیرستان اور بلوچستان سے کہیں زیادہ بری طرح سوات میں ناکام ہوئی ہے۔ جبکہ فوج کےاستعمال سے وہ ڈیٹرنس بھی جاتا رہا جو ریاستوں کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اس تناظر کو دیکھا جائے توباآسانی سمجھ میں آسکتا ہے کہ امن معاہدہ کتنی نازک صورتحال میں عمل میں آیا ہے۔ دوسری جانب لڑائی کے دوران شدت پسندوں کی کارروائیوں کے مقابلے میں فوج کی بھاری توپ خانے سے گولہ باری اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کے نتیجے میں شہریوں کا جانی نقصان کہیں زیادہ ہوا ہے۔ سوات آپریشن شروع ہونے کے بعد انتظامیہ غائب تھی۔ تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتراور بازار بند تھے جبکہ آئے دن کے کرفیو نے شہر میں اشیائے ضرورت کی فراہمی بند کر دی تھی جس کے نتیجے میں صوبے کی خوشحال اضلاع میں سے ایک کی تقریباً نصف آبادی کو نقل مکانی پر مجبور ہوکر دوسرے علاقوں میں پناہ گزین ہونا پڑا۔ ان کا روزگار ختم ہوا، املاک تباہ ہوئیں، گھروں پر گولہ باری سے خواتین اور بچوں کی بڑی تعدادجاں بحق ہوئی جبکہ شدت پسندوں کی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی صلاحیت میں کوئی کمی نہ آسکی۔ گزشتہ سال کبل میں آپریشن کے دوران تحریک طالبان کے سوات کے جس واحد سرکردہ رہنما کو ہلاک کیا گیا وہ بھی کوئی جنگجو کمانڈر نہیں بلکہ سرحد حکومت سے بات چیت کرنے والے مذاکرات کار علی بخت خان تھے۔ دوسری جانب فوج ایف سی اور پولیس کے وہ اہلکار بھی سینکڑوں کی تعداد میں جاں بحق ہوئے جنہیں اس لڑائی میں جھونکا گیا تھا۔ یہ بھی ہماراعظیم نقصان ہے۔ یہ عام پاکستانیوں کے بیٹے شوہر اور بھائی تھے۔ پاکستان کے ان بیٹوں کا ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں تھا جنہوں نے آپریشن شروع کرکے انہیں اپنے ہی لوگوں سے لڑانے کا فیصلہ کیا تھا۔

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت یہ بھی نہ کرتی تو کیا کرتی۔ سوات میں دیوار سے لگی ہوئی انتظامیہ ایک ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جس کا لازمی نتیجہ شدت پسندوں کے دیوار سے جالگنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس معاہدے سے پہلے شدت پسند ایک شترِ بے مہار کی طرح یکسر آزادی سےریاست کے اندر ریاست بنے ہوئے تھے۔ جسے چاہیں گرفتار کریں جسے چاہیں سزا دیں۔ ان کا کسی ضابطے کی بندش میں آجانا ایک بڑی کامیابی ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ طالبان کا شترِ بے مہار کی طرح راج کرنا بہتر تھا یہ انہیں کسی ضابطے کا پابند کرنا بہتر ہے۔ ہمارا خیال ہے اس بات کو سمجھنے کے لئے بھی عقل کی بہت زیادہ مقدار کی ضرورت نہیں ہے۔

قاضی عدالتوں کا قیام بھی سب سے زیادہ بندشیں شدت پسندوں ہی پر عائد کرنے کا سبب بنے گا۔ مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ ان کی جدو جہد کا مقصد صرف شرعی عدالتوں کا قیام تھااور ملاکنڈ میں انتظامی معاملات اور عملداری حکومت ہی کی قائم رہے گی۔ اگرچہ اتنے بگاڑ کے بعد بھی کوئی بناؤ کا کام ہوگیا ہے تو اسے غنیمت جاننا چاہیئے۔

آں چہ دانا کند ناداں ہم میکند و لیک بعد از خرابی بسیار

سوات دوبارہ آباد ہورہا ہے، رونقیں لوٹ رہی ہیں اور زندگی بحال ہورہی ہے۔ طالبان نے مسلح گشت ختم کرکے ہتھیار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان کے شدید مخالف اور تجزیہ کار سابق سیکریٹری فاٹا بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بھی کہا ہے کہ نظام عدل ریگولیشن کے نتیجے میں ایک دو ماہ میں حکومت کی عملداری مکمل طور پر قائم ہو جائے گی۔ حیرت انگیز بات ہے شدت پسندوں سے ہتھیار ڈلوانے کا مطالبہ ایک ایسی جماعت کی جانب سے کیا جارہا ہے جس نے ایک غاصب کی 9 سالہ آمریت میں اتنا اسلحہ جمع کرلیا ہےجس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو کئی بار تباہ کیاجاسکتا ہے۔ کیا ان سے کوئی ہتھیار ڈلوانے کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ جس کا مظاہرہ 12 مئی 2007ء کو شارع فیصل پر کیا گیا۔ اس موقع پر اس وڈیو کا ذکر نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی کہ جس کے بارے یہی کہنا مناسب ہوگا کہ

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری

حالات کا سبق دیکھیں کہ جس وڈیو کی بنیاد پرغیرملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز اور متحدہ قومی موومنٹ نے ایک ایسا طوفان اٹھایا کہ سب حیران رہ گئے کہ جو لوگ ہزاروں افراد کے قتل اور لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی پرایک لفظ نہ بول پاتے تھے، کیسی کیسی طویل تقریریں کرنا شروع ہوگئے اور اس ویڈیو پر کیسے میرانیس اور دبیر بن کر سامنے آئے۔ مگر جمعے کو وفاقی سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے عدالت میں بیان داخل کرایا ہے کہ سوات میں لڑکی کوڑوں کی سزا دینے کی وڈیو جعلی تھی[2] ۔ یہاں بات یہ ہے کہ این ج اوزکو تو تنخواہ (غیر ملکی امداد) ہی اسی بات کی ملتی ہےکہ وہ خواتین کی آزادی کے نام پر پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں اور اس وڈیو کو میڈیا میں پیش کرنے والی بھی ایک این جی او چلانے والی خاتون ثمر من اللہ تھیں تاہم کسی سیاسی جماعت کی سیاست ہی  Video Driven  ہوجانا نہ صرف افسوسناک بلکہ سیاست کے لئے نقصان دہ ہے اور بعد میں وڈیو کا جعلی ثابت ہونا اس سیاسی جماعت کے لئے باعث شرم بھی۔ قومی اسمبلی میں قراداد کی منظوری کے موقع پر ولولہ انگیز تقاریر کرنے والے سیاسی رہنما ایوان سے باہر چاہے کتنی ہی مخالفت کر لیں یہ حقیقت ان کے لئے ایک طمانچہ ہے کہ انہوں نے بھی قرارداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا ہے۔ انہوں نے بھی ووٹ کا حق استعمال نہ کرکے قرارداد کی حمایت ہی کی ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں نظام عدل ریگولیشن کے خلاف ایک ووٹ بھی نہ پڑ سکا۔ یہ بالکل ویسی ہی منافقت ہے جیسی 2006ء میں ایم ایم اے نے تحفظِ حقوقِ نسواں کے بل کی منظوری کے موقع پر ظاہر کی تھی۔ وہ بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کے بجائے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے جس کے نتیجے میں بل کے خلاف ایک ووٹ بھی نہیں پڑ سکا۔

اصولی طور پریہ بات درست ہے کہ سوات امن معاہدہ کسی جمہوی سیاسی اور پر امن جدوجہد کے نتیجے میں نہیں بلکہ مسلح مزاحمت کے دباؤ میں عمل میں آیا ہے جس سے ایک غلط پیغام قوم اور دنیا کو پہنچا ہے۔ اس موقف کے حق میں دلائل بھی شاید میرے دلائل سے زیادہ جان دار ہوں، مگر یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کسی موقف کا درست ہونا محض اس بات پر نہیں ہوتا کہ اس کے حق میں دلائل زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک اور حقیقت کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جب کسی خطے میں کوئی مسلح تصادم (Conflict) ہوجائے تو اس کے بعد حکومت کا عسکریت پسندوں سے مذاکرات کرنے کا مقصد یہ قطعاً یہ نہیں ہوتا کہ ریاست شدت پسندوں یا ان کے موقف کو درست سمجھتی ہے بلکہ اس کا محض یہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ زمین پر مزید خونریزی نہیں چاہتی۔ راستے دو ہی تھےیا تو طاقت کے استعمال کی ناکام پالیسی کو جاری رکھ کر سواتیوں سے زندہ رہنے کا حق چھینا جاتا رہتا یا مزید خونریزی روکنے کے لئے وہ کیا جاتا جو سرحد حکومت نے کیا۔ نام نہاد سول سوسائٹی کو محض تنقید کے بجائے متبادل پیش کرنے چاہئیں۔ انگریزی کے اس مقولے پر اپنی بات ختم کروں گا

If you are not the part of solution then you are part of Problem


[1] رٹ آف دے گورنمنٹ۔ یہ وہی رٹ آف دی گورنمنٹ ہے جس کو قائم کرنے کے نام پر پرویزمشرف نے سینکڑوں افراد کو لاپتہ اور نواب اکبر بگٹی سمیت سینکڑوں بلوچوں کو قتل کر کے بلوچستان کو اس انجام تک پہنچایا مگر آج رٹ کہںش اور آرام کر رہی ہے۔ اسلام آباد کی لال مسجد کا وہ مسئلہ جو صرف ایک ایس ایچ او با آاسانی حاصل کر سکتا تھا۔ اسے بھی رٹ قائم کرنے کے جنون ہی نے کمانڈو آپریشن کرنے پر مجبور کیا۔ جس کے نیتجے میں دو ہزار سات پاکستان کی تاریخ کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا جس کے دوران ستاون خود کش حملے کئے گئے۔ پاکستان کو جتنا کمزور اس رٹ کے قیام کے جنون نے دیا ہےشایدکسی اور نے نہیں کیا۔ صحیح کہا ہے کسی نے کہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اس سے کسی نے سبق نہیں سیکھا

[2] اور اس وڈیو کے بارے میں روزنامہ ایکسپریس کے کالم نویس اوریا مقبول جان نے تفصیلی بات لکھ دی ہے اس لئے میں تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا

پسندیدہ میں شامل کیجیے، ای میل کیجیے یا پرنٹ لیجیے
  • Digg
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google
  • LinkedIn
  • Live
  • Ma.gnolia
  • YahooMyWeb
  • Print this article!
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • E-mail this story to a friend!
  • TwitThis

کوئی متعلقہ تحریر نہیں



6 تبصرے برائے “سوات امن معاہدہ اور ان سولائزڈ سوسائٹی”

  1. بیگ صاب کا کہنا ہے:

    دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
    میں‌نے یہ جانا کہ گویا یہ ہی میرے دل میں‌تھا

    جناب میں‌نہیں‌جانتا کہ میں‌نے شعر صحیح لکھا ہے کہ نہیں‌لیکن آ پ نے ماشاءاللہ مصّمون بالکل صحیح‌لکھا ہے- جزاک اللہ

  2. راشد کامران کا کہنا ہے:

    زبیر انجم صدیقی صاحب‌ آپ نے موضوع پر ایک بہت اہم زاویہ سے روشنی ڈالی ہے اور میں اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ خون خرابہ اور بے گناہ جانوں کے ضیاع سے جس طور ممکن ہو بچا جانا چاہیے۔۔ لیکن۔۔ اگر سوات معاہدے کے بعد کی صورت حال کو دیکھا جائے اور سوا ت میں اٹھی تحریک کے قائدین کے حالیہ بیانات کا ایک عمومی جائزہ لیا جائے تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ تحریک کا ایجنڈا صرف سوات میں قاضی عدالتوں کا قیام نہیں‌ہے بلکہ اب اس کے دائرے کو وسیع کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔۔ میں ایم کیو ایم اور اسطرح کی جماعتوں کی “واقعاتی”‌ سیاست سے قطعا متفق نہیں‌ ہوں لیکن جسطرح پاکستان کے موجودہ نظام کو — گوکہ 73 کا آئین بری طرح مسخ شدہ ہے لیکن علماء‌کے اتفاق سے ہی تیار شدہ ہے — اب کافرانہ قرار دیا جارہا ہے۔۔ اس سے میرا اندیشہ یہی ہے کہ مسلح جدوجہد کا راستہ رکا نہیں بلکہ امن کی آڑ میں اس میں مزید شدت لائی جائے گی۔۔ اور لازمی امر ہے کہ کسی بھی صورت حال میں دونوں‌طرف کے فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگائیں گے تو اس میں ریاست کی مضبوطی کا پہلو میری ناقص‌ عقل میں نہیں سمارہا بلکہ طالبان کی مضبوطی اور پھیلاؤ نظر آرہا ہے لیکن میری دعا یہی ہے کہ میری سوچ غلط ہو۔

  3. زبیر انجم صدیقی کا کہنا ہے:

    بہت شکریہ بیگ صاحب ! گویا آپ بھی میرے تجربے ، مشاہدے اور احساس میں شریک ہیں

    گئے دن کے تنہا تھا میں انجمن میں
    یہاں اب میرے رازداں اور بھی ہیں

    بیگ صاحب ! میں نے خبریں تو بے شمار لکھی ہیں مگر اپنی رائے اور خیالات کا تحریری اظہار میرے لئے ایک یکسر نیا میدان ہے ۔ جسے بہتر بنانے کے لئے آپ بلاگرز ساتھیوں کے تعاون اور رہنمائی کی ضرورت رہے گی ۔ اس لئے آپ سے درخواست ہے کی تحریر میں خامیوں کی نشاندہی کریں تاکہ انہیں دور کیا جاسکے ۔۔

    راشد کامران صاحب نے میرے مضمون پر خوبصورت تبصرے کے ساتھ کچھ اندیشہ ہائے دور دراز کا اظہار بھی کیا ہے ۔ اس بارے میں‌ ، میں‌ یہی کہنا چاہوں‌گا کم از کم اتنا تو فوری طور پر ہی ہو گیا ہے کہ جو قوتیں صرف بندوق اور گولی کی زبان سے بات کر رہی تھیں ۔آج وہ بھی گفتگو ہی کر رہی ہیں چاہے ان کے بیانات کتنے ہی جارحانہ ہوں آج وہ صرف بیان ہی ہیں ۔ اور ہمیں یہ بات بھی ذہن میں‌رکھنے چاہیئے دنیا میں جب بھی کوئی فوج اپنی سرزمین پر کوئی آپریشن شروع کر تی ہے تو وہ یہ نہیں کہتی کہ ہمارا مقصد نہتے شہریوں عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانا ہے ۔۔ بلکہ ہمیشہ یہ اسرار کیا جاتا ہے آپریشن دیشت گردوں شدت پسندوں اور تخریب کاروں کے خلاف ہے ۔۔ لیکن آپ کوئی بھی مثال لے لیں چاہے وہ سری لنکا ہو عراق ہو غزہ ہو افغانستان ہو یا پاکستان نتیجے میں‌سب سے زیادی جانی مالی اور انسانی نقصان شہری ہی اٹھاتے ہیں ۔۔ شاید اسی لئے افتخار عارف نے کہا ہے کہ

    سارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیں
    سارے خنجر ایک طرح کے ہوتے ہیں

  4. حسن جمیل کا کہنا ہے:

    جو لوگ صوفی صا حب اور انکی تحریک کی تاریخ جانتے ہیں انکو یاد ہوگا کہ ایک دفعہ پہلے بھی انکی تحریک کی مزاحمت پہ اس دور کی حکومت نفاذ شریعت کا اعلان کر چکی ہے، کیا اس بار بھی ویسا ہی کوئی ظا ہری کام تو ہونے نہیں جا رہا۔ اللہ اس فیصلہ میں برکت دے اور سوات کے عوام کو اور پورے پاکستان کے عوام کو امن عطا کرے آمین۔
    زبیر بھائی کی سوچ سے میں متفق ہوں، یہا ں جو لوگ اامن معاہدہ کے خلاف میدان میں ہیں وہ کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور پاکستان کے اور اسلام کے مخلص نہیں ہیں۔ اللہ ہمیں منا فقین سے بچائے ۔ ہر دور میں میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں نے جتنا اس امت کا نقصان کیا ہے ، شاید دشمن نے براہ راست نہیں کیا۔
    اور آخر میں اللہ ہماری قوم کو صحیح اور غلط لوگوں کی پہچان کی توفیق دے آمین

  5. راشد کامران کا کہنا ہے:

    زبیر انجم صدیقی صاحب‌۔۔ آپ نے وقت نکال کر تمام تبصروں پر اپنی رائے کا اظہار کیا اس کے لیے نہایت مشکور ہوں۔۔ جیسا کہ میں نے کہا کے دعا تو میری بھی یہی ہے کہ تشدد کا سلسلہ رک جائے لیکن اب بونیر میں‌ جاری گڑبڑ ان اندیشوں کو تقویت بخشتی ہے کہ طالبان ایک کے بعد ایک شہروں‌اور قصبوں میں‌ سورش برپا کر کے انہیں‌اپنے نظام تلے لانے کی پالیسی پر گامزن ہیں‌ اور اس کی وجہ سے اگر دوبارہ حکومت اور طالبان آمنے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں تو اس میں بے گناہ جانوں‌ کا اتنا نقصان ہوگا کہ نہ طالبانی شریعت کی اہمیت بچے گی نہ کافرانہ جمہوریت کی۔

  6. سید فواد زیدی کا کہنا ہے:

    محترم جناب زبیر انجم صاحب آپ کا کالم سوات امن معائدہ اوو ان سولائزڈ سوسائٹی اتوار کو مطالعہ کرنے کا موقع ملا آپ نے اپنی تحریر میں جو بنیادی باتیں سوات امن معاھدے کے حوالے سے تحریر فرمائی ہیں میں ان سے بالکل اتفاق کرتا ہوں ۔۔ در اصل جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اے این پی جو سیکیولر جماعت ہونے کا دعوی کرتی رہی اس جماعت نے محض امن کی خا طر مولویوں سے ہاتھ ملانے میں قباحت سے کام نہ لے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ سوات کے لوگوں نے ان کو انتخابات میں کامیاب کرواکر انہیں اپنا حکمران بنایا تھا ان کا فیصلہ غلط نہ تھا۔۔۔۔آپ کی بات بلکل درست ہے کہ امن کے لئے ایک سیکیولر جماعت نے وہ کام کیا ہے جو کوئی مذہبی جماعت نہ کرسکتی تھی۔۔ مگر سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امن معاہدے کا مکمل نفاذ ہو پاتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ اس معاہدے کے بعد جس طرح اندرونی اور بیرو نی قوتیں معاہدے کو سبوتاژ کر نے کے لئے سرگرم ہیں اس سے بظاہر جو انداذہ ہورہا ہے وہ یہی ہے کہ معاہدہ امن کو ہر صورت ناکام بنایا جائے۔۔۔لیکن بھائی زبیر! کیونکہ ہم ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ کہ دو دفعہ معاہدہ کیا گیا اور وہ ناکام ہوگیا۔۔۔۔ اس امید اور دعا کے ساتھ کے اس بار یہ معاہدہ کامیاب ہو اور سوات کے لوگوں کو امن کی جو نوید دی گئی ہے وہ پوری ہوسکے۔۔۔ اور اللہ تعالی آپ کومزید لکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

تبصرہ کیجیے۔