تصویر کہانی

قومی بلاگرز کانفرنس کی ایک ان سنی اور ان کہی کہانی۔ تصاویر کی زبانی

قومی بلاگرز کانفرنس 2008ء ، 18 اپریل 2009ء

وہ وقت جب معروف کالم نویس ارد شیر کائوس جی کو ”بھائی” کا ” فکر و فلسفہ” سنانے کی کوشش گئی

کائوس جی ”فکر و فلسفے” پر روشنی ڈالے جانے کے دوران سر پکڑ کر بیٹھ گئے

اور جب ”فکر و فلسقے” کی تاب نہ لا سکے تو بلاگرز کانفرنس سے ”واک آئوٹ ” کر گئے

پسندیدہ میں شامل کیجیے، ای میل کیجیے یا پرنٹ لیجیے
  • Digg
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google
  • LinkedIn
  • Live
  • Ma.gnolia
  • YahooMyWeb
  • Print this article!
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • E-mail this story to a friend!
  • TwitThis

متعلقہ تحاریر

  1. نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009 جب برادر شعیب صفدر نے مطلع کیا کہ مورخہ 18...



13 تبصرے برائے “تصویر کہانی”

  1. شعیب صفدر کا کہنا ہے:

    بہت خوب!!!
    :grin:

  2. زبیر انجم صدیقی کا کہنا ہے:

    فہد بھائی آخری تصویر بھی اگر کیپشن سمیت آویزاں کر دی جاتی تو مزہ ہی آجاتا ۔

  3. راشد کامران کا کہنا ہے:

    کاؤس جی نے تو کپڑے تبدیل کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں‌ کی۔۔۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلاگز کی ان کی نظر میں‌ کتنی اہمیت ہے۔۔۔ اتنی بدتمیزی تو لوگ یار دوستوں سے ملنے میں نہیں دکھاتے جتنی انہوں نے اتنی فارمل میٹنگ میں دکھائی ہے۔

  4. شکاری کا کہنا ہے:

    فہد صاحب اچھی کاوش ہے۔ :???:

  5. خاور کا کہنا ہے:

    او جی
    کاؤس جی ” کچھا ” پا کے هی آ گئے تھے ؟
    کانفرنس میں
    واھ بھئی واھ

  6. عمر احمد بنگش کا کہنا ہے:

    راشد کامران، جی کاؤس جی تو شہزادے ہیں جی،اسی کانفرنس کے بعد پتہ چلا ان کے بارے میں، من موجی، مست قلندر ہیں جی، ہم بلاگروں کی طرح۔
    بہت ہی اچھے ابوشامل بھیا، کمال کیا آپ نے، کاؤس جی بھی سوچتے ہوں گے، اس سے اچھی اور سستی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف خاموشی۔ ان کہی خاموشی :mrgreen:

  7. عمر احمد بنگش کا کہنا ہے:

    آخری تصویر میں ستاریے کے تاثرات شامل ہو جاتے تو کمال تھا :mrgreen:

  8. افتخار اجمل بھوپال کا کہنا ہے:

    بہت خوب ۔
    ویسے تو اردشیر کاؤس جی ویسے اپنی مثال آپ ہیں لیکن الطاف حسین اور اس کے چیلے تو وہ چیز ہیں جن سا کوئی نہ پہلے پیدا ہو سکا اور نہ شاید بعد میں پیدا ہو ۔

  9. زبیر انجم صدیقی کا کہنا ہے:

    حیف اس چار گرہ بلاگرز کانفرنس کی قسمت غالب
    جس کی قسمت میں ہو ’’بھائی‘‘ کا’’ فکروفلسفہ ‘‘ ہونا

    تصرف بجا

  10. ابوشامل کا کہنا ہے:

    کاوس جی ہر جگہ اسی حلیے میں دکھائی دیتے ہیں میں اس سے قبل بھی ان کی چند تصاویر بھی اسی حلیے میں دیکھ چکا ہوں۔

  11. ابوشامل کا کہنا ہے:

    عمر! آخری تصویر پر فاروق ستار کے تاثرات یہ تھے “الطاف بھائی کا “فلسفہ” ہے ٹینشن لینے کا نہیں، ٹینشن دینے کا” :) ۔

  12. جعفر کا کہنا ہے:

    کاوس جی بھی اپنی طرز کا واحد ”پیس“ ہیں۔۔۔
    اور الطاف انکل تو اپنے گرو کے سامنے بھی سوا سیر ہیں
    اب یہ مت پوچھئے کہ ان کا گرو کون ہے
    ہمارے لیڈر اور دانشور
    باپ نمبری تو بیٹا دس نمبری کی
    مثال ہیں۔۔

  13. جعفر کا کہنا ہے:

    مقطع میں ایک سخن گسترانہ بات آپڑی ہے
    تبصرے والے خانے کے نیچے جو بٹن ہے
    اس پر لکھا ہے
    تبصرہ داخل کیجئے
    اگر ہوسکے تو اس کو بدل دیں۔۔۔۔۔

تبصرہ کیجیے۔