04.24تصویر کہانی
قومی بلاگرز کانفرنس کی ایک ان سنی اور ان کہی کہانی۔ تصاویر کی زبانی

قومی بلاگرز کانفرنس 2008ء ، 18 اپریل 2009ء

وہ وقت جب معروف کالم نویس ارد شیر کائوس جی کو ”بھائی” کا ” فکر و فلسفہ” سنانے کی کوشش گئی

کائوس جی ”فکر و فلسفے” پر روشنی ڈالے جانے کے دوران سر پکڑ کر بیٹھ گئے

اور جب ”فکر و فلسقے” کی تاب نہ لا سکے تو بلاگرز کانفرنس سے ”واک آئوٹ ” کر گئے
متعلقہ تحاریر
- نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009 جب برادر شعیب صفدر نے مطلع کیا کہ مورخہ 18...















بہت خوب!!!
April 24th, 2009 بوقت 5:22 pm
فہد بھائی آخری تصویر بھی اگر کیپشن سمیت آویزاں کر دی جاتی تو مزہ ہی آجاتا ۔
April 24th, 2009 بوقت 8:22 pm
کاؤس جی نے تو کپڑے تبدیل کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔۔۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلاگز کی ان کی نظر میں کتنی اہمیت ہے۔۔۔ اتنی بدتمیزی تو لوگ یار دوستوں سے ملنے میں نہیں دکھاتے جتنی انہوں نے اتنی فارمل میٹنگ میں دکھائی ہے۔
April 24th, 2009 بوقت 10:16 pm
فہد صاحب اچھی کاوش ہے۔
April 24th, 2009 بوقت 10:35 pm
او جی
کاؤس جی ” کچھا ” پا کے هی آ گئے تھے ؟
کانفرنس میں
واھ بھئی واھ
April 25th, 2009 بوقت 12:23 am
راشد کامران، جی کاؤس جی تو شہزادے ہیں جی،اسی کانفرنس کے بعد پتہ چلا ان کے بارے میں، من موجی، مست قلندر ہیں جی، ہم بلاگروں کی طرح۔
بہت ہی اچھے ابوشامل بھیا، کمال کیا آپ نے، کاؤس جی بھی سوچتے ہوں گے، اس سے اچھی اور سستی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف خاموشی۔ ان کہی خاموشی
April 25th, 2009 بوقت 2:12 am
آخری تصویر میں ستاریے کے تاثرات شامل ہو جاتے تو کمال تھا
April 25th, 2009 بوقت 2:15 am
بہت خوب ۔
ویسے تو اردشیر کاؤس جی ویسے اپنی مثال آپ ہیں لیکن الطاف حسین اور اس کے چیلے تو وہ چیز ہیں جن سا کوئی نہ پہلے پیدا ہو سکا اور نہ شاید بعد میں پیدا ہو ۔
April 25th, 2009 بوقت 9:01 am
حیف اس چار گرہ بلاگرز کانفرنس کی قسمت غالب
جس کی قسمت میں ہو ’’بھائی‘‘ کا’’ فکروفلسفہ ‘‘ ہونا
تصرف بجا
April 27th, 2009 بوقت 10:22 am
کاوس جی ہر جگہ اسی حلیے میں دکھائی دیتے ہیں میں اس سے قبل بھی ان کی چند تصاویر بھی اسی حلیے میں دیکھ چکا ہوں۔
April 27th, 2009 بوقت 11:39 am
عمر! آخری تصویر پر فاروق ستار کے تاثرات یہ تھے “الطاف بھائی کا “فلسفہ” ہے ٹینشن لینے کا نہیں، ٹینشن دینے کا”
۔
April 27th, 2009 بوقت 11:40 am
کاوس جی بھی اپنی طرز کا واحد ”پیس“ ہیں۔۔۔
اور الطاف انکل تو اپنے گرو کے سامنے بھی سوا سیر ہیں
اب یہ مت پوچھئے کہ ان کا گرو کون ہے
ہمارے لیڈر اور دانشور
باپ نمبری تو بیٹا دس نمبری کی
مثال ہیں۔۔
May 4th, 2009 بوقت 5:11 pm
مقطع میں ایک سخن گسترانہ بات آپڑی ہے
تبصرے والے خانے کے نیچے جو بٹن ہے
اس پر لکھا ہے
تبصرہ داخل کیجئے
اگر ہوسکے تو اس کو بدل دیں۔۔۔۔۔
May 4th, 2009 بوقت 5:17 pm