شہر زندہ دلان کا

تاریخی اہمیت کا حامل اور کئی قوموں کے عروج و زوال کا شاہد “لاہور” اپنے اندر ماضی کی کئی یادیں سموئے ہوئے اور اس کا چپہ چپہ عظمتِ اسلاف کا گواہ ہے۔ علاوہ ازیں ان عظیم نابغۂ روزگار ہستیوں کی آخری آرام گاہیں بھی یہاں موجود ہیں جو آج بھی اندھیری راہوں پر بھٹکنے والی انسانیت کے لیے چراغ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ہم نے بھی جدید و قدیم کے حسین امتزاج کے حامل اس شہر کا سفر کرنے کی ٹھانی اور چند روز کے لیے کراچی کی مصروفیتوں اور تیز رفتار زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر کے طویل تھکا دینے والے سفر اور راستے میں بھانت بھانت کی نگریاں دیکھنے کے بعد بالآخر داتا کی نگری پہنچے۔

آرام کے بعد اگلے روز گھومنے کے لیے پہلی نظرِ انتخاب اس عظیم عبادت گاہ پر پڑی جو برصغیر میں سطوتِ مسلم کا نشانِ پائیدار ہے جسے بادشاہی یا عالمگیری مسجد کہا جاتا ہے۔ جس کے مینار صدیوں سے اللہ کی کبریائی بیان کرتے آ رہے ہیں اور آج بھی فرزندانِ توحید اس میں ربِ ذوالجلال کے حضور سربسجود دکھائی دیتے ہیں۔ منصوبے کے تحت چند گھنٹے مسجد میں گزارنے کے بعد نماز ظہر ادا کرنی تھی لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی لاہوریوں کی “زندہ دلی” کا سارا تاثر ختم ہو گیا بلکہ “زندہ دلی” کی جدید تعبیر کے مطابق، قائم ہوگیا۔ مسجد کے صحن میں جا بجا شوخ رنگوں کے کپڑوں میں ملبوس خواتین گھومتی پھرتی نظر آئیں، ہمیں خواتین کے مسجد آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جس طرح وہ حجاب و پردے سے بے نیاز گھوم رہی تھیں وہ کسی عام عبادت گاہ کے بھی شایان شان نہ تھا یہ تو پھر عالمگیری مسجد تھی۔ مسجد کے صحن میں موجود حوض تک پہنچے تو اگلا “منظر” وہاں موجود تھا، جینز اور شرٹ میں ملبوس اور دوپٹے سے بے نیاز ایک خاتون اپنے اہل خانہ کی تصاویر کو کیمرے کی آنکھوں قید کر رہی تھیں۔ اب اِدھر اُدھر جو نظر دوڑائی تو مسجد میں کئی جوڑے راز و نیاز میں مصروف دکھائی دیے۔ آنکھیں اس سے زيادہ مسجد کی بے حرمتی کی تاب نہ لا سکتی تھیں فوراً واپسی کا قصد کیا اور حضوری باغ کے سامنے حکیم الامت علامہ محمد اقبال کے مزار پر حاضری دیتے اور اہلیان لاہور کا نوحہ پڑھتے ہوئے قلعۂ لاہور میں داخل ہوگئے۔ قدیم نوادرات و عمارات و تعمیرات سے اس مقامِ عبرت انگیز کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ جہاں کسی زمانے میں پرندے کو پَر مارنے کی اجازت نہ تھی، وہ راہداریاں جہاں صرف خاص الخاص اور خانوادۂ شاہی کے افراد کو قدم رکھنے دیا جاتا تھا آج وہاں “کلّو قصائی” اور “اللہ رکھے” کو بھی محض 5 روپے میں جانے کی اجازت تھی۔ وہ دروازے جہاں سے ظل الٰہی کے علاوہ کوئی گزر نہ سکتا تھا، اگر کوئی ایسی جسارت کرتا تو جسم سر کے بوجھ سے آزاد کر دیا جاتا، وہاں سے یہ ناچیز کئی مرتبہ گزر گیا۔ آہ! دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہُوں۔

بہرحال عالمگیری مسجد اور مینار پاکستان کے درمیان تین صدیوں کی مسافت (بقول مختار مسعود) طے کر کے اس جدید یادگار کے پاس پہنچے جو اس وقت تزئین و آرائش کے مراحل سے گزر رہی تھی اور اوپر جانے کی اجازت نہ تھی۔ مینار کے ساتھ ہی ایک باغیچے کا چند روز قبل ہی افتتاح ہوا تھا لیکن وہاں لوگوں نے وہ “گندِ عظیم” مچا رکھا تھا کہ نیچے بچھا سبزہ بجائے سبز کے کینو کے چھلکوں کی بہتات کے باعث نارنجی نظر آ رہا تھا۔ 10 منٹ کی کوششوں کے بعد مجھے اپنے کھائے گئے کینوؤں کے چھلکے پھینکنے کے لیے ایک ٹوکری دکھائی دی۔ باہر نکلے تو چند لحظوں کے لیے “بدبوؤں کے باسی” بن گئے اور اس بو کے بارے میں تو یہاں لکھا بھی نہیں جا سکتا کہ کس چیز کی تھی۔

لاہوریوں کی زندہ دلی اور اس شہر کی خوبصورتی کے جو چرچے اور قصے یہاں سے سن کر وہاں گئے تھے ان کا اثر صرف چند لحظوں میں چکنا چور ہو گیا۔ یا شاید زندہ دلی کی تشریح ہمارے سمجھ میں نہ آ سکی تھی؟

June 25, 2008 02:39 pm | اردگرد اور سفر وسیلۂ ظفر

12 تبصرے برائے ”شہر زندہ دلان کا“

  1. نعمان بتاریخ 25 Jun 2008 بوقت 4:47 pm #

    میرے خیال میں آپ ابھی تک شہر کے ایک ہی محلے میں گھوم رہے تھے۔ ذرا آگے کی طرف جائیں۔ لاہور واقعی خوبصورت شہر ہے۔

    اور زندہ دلان کی زندہ دلانی شاید آپ کو سمجھ نہ آسکے۔ یہ صرف انہیں ہی سمجھ آتی ہے باقی لوگوں کو وہ بدتمیزی یا بدتہذیبی معلوم ہوتی ہے۔

  2. میرا پاکیستان بتاریخ 25 Jun 2008 بوقت 6:19 pm #

    آپ کو جو برائیاں لاہور میں‌ نظر آئیں یہ آپ کی اسلام سے بے پناہ محبت کا نتیجہ ہے ۔ لیکن اب پاکستان بدل چکا ہے اور یاد رکھیں‌لوگ لوگ عملی اسلام سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
    ویسے آپ کے لاہور کے بارے میں‌تاثرات پڑھ کر ایسا لگا جیسے آپ کراچی سے نہیں‌کسی یورپی ملک سے لاہور کی سیر کرنے آئے تھے۔ ہمیں‌کراچی گئے ہوئے بہت عرصہ ہو چکا ہے کیا واقعی کراچی لاہور سے زیادہ صاف ستھرا اور بااخلاق لوگوں کا شہر ہے جہاں‌لوگ سرعام چھلکے نہیں‌پھینکتے۔
    نعمان صاحب کی بات درست ہے اور ہم بھی اکثر یہی کہتے ہہیں کہ جس نے نابینے کی طرح ہاتھی کے جس حصے کو چھوا اسے ہاتھی ویسا ہی نظر آیا۔ آپ ہمت نہیں‌ہاریں اور پرانے لاہور سے باہر نکل کر ڈیفینس، مال روڈ، کینال روڈ، گلبرگ کی سیر کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ لاہور واقعی زندہ دلوں‌کا شہر ہے۔ دوسرے لاہور کی زندہ دلی لاہوریوں سے ملاقات کے بعد نظر آتی ہے۔ کراچی دراصل جدید دنیا میں‌ڈھل چکا ہے جہاں نفسا نفسی زیادہ ہے اور لاہور کو زندہ دلوں کا شہر اسی لیے کہتے ہیں‌کہ یہاں‌ابھی نفسا نفسی کم ہے اور لوگ مستقبل کے تفکرات سے آزاد موج میلہ کر رہے ہوتے ہیں۔

    میرا پاکیستان کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..جج اور مسلم لیگ ن

  3. شعیب صفدر بتاریخ 25 Jun 2008 بوقت 9:56 pm #

    بادشاہ مسجد والی بات تو ہن نے بھی اپنے وزٹ‌ میں نوٹ کی تھی!‌ باقی زندہ دلی والی بات ہم نے ذیادہ تو فنکاروں‌کی ززبانی ہی سنے ہے!!!‌اب آُ پ کو سمجھ جانا چاہئے وہ زندہ دلی کیا ہو گی!!!

  4. ساجداقبال بتاریخ 26 Jun 2008 بوقت 8:51 am #

    اس زندہ دلی کی کوئی تعریف ہی کر دے۔ :razz:
    ساجداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..ورڈپریس ہیلپ شیٹ

  5. ابوشامل بتاریخ 26 Jun 2008 بوقت 10:19 am #

    نعمان بھائی! تو میں نے بھی برائی صرف ایک خاص علاقے کی ہی کی ہے، دیگر علاقوں کی تو نہیں۔ دیگر علاقے بھی دیکھے لیکن شاید جو تاثر لے کر گئے تھے اس پر پورا نہیں اترے یا شاید ہم نے معیار بہت اونچا بنا لیا تھا اپنے ذہن میں۔ البتہ اس معاملے پر غور و خوض کے بعد اندازہ ہوا کہ کسی شہر جا کر اس کا اپنے شہر سے تقابل نہیں کرنا چاہیے، اس کے نتیجے میں یا تو آپ کا ٹؤر بہت خراب ہوگا یا پھر اپنا شہر بھی برا لگنے لگے گا۔ ویسے لاہور میں 5 دن بہت اچھے گزرے، ہمیشہ یاد رہیں گے۔

    میرا پاکستان! ویسے تو میں کراچی سے ہی لاہور گھومنے آیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں کراچی سے نہیں بلکہ “اپنی ہی دنیا” سے کوئی تاثر لے کر آیا تھا۔ کراچی کی “پاکیزہ گلیاں” ہم روزانہ دیکھتے ہیں، اس کا ذکر پھر کبھی۔
    ہاتھی کی دم کا ہی مشاہدہ نہیں کیا۔ مال روڈ بھی دیکھا، وہاں کی کتابوں کی شاندار دکانیں بھی، عظیم عجائب گھر بھی، اور گوالمنڈی والی فوڈ اسٹریٹ بھی۔ ویسے مجھے لگ رہا ہے کہ مضمون مزید تفصیلات کا متقاضی تھا لیکن فی الوقت کیونکہ دوسرے سفرکی تیاری ہے اس لیے اس سلسلے کو یہی ختم کرتے ہیں اور اگلے سفرنامے کی تیاری شروع :)

    شعیب بھائی، زندہ دلی کی تعریف آپ کے ایک جملے سے سمجھ میں آ گئی :razz:

    ساجد بھائی! آپ ابھی تک نہیں سمجھے؟؟؟ :cry:

  6. خاور بلال بتاریخ 30 Jun 2008 بوقت 2:03 pm #

    لاہوریوں کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بھی لاہور کی شان میں کچھ لکھتا۔ بہر حال ڈرتے ڈرتے میں صرف گوال منڈی کا ذکر کرلیتا ہوں کہ۔ ابوشامل اور میں کراچی سے یہ ارادہ کرکے نکلے تھے کہ لاہور کے کھانوں پر خوب ہاتھ صاف کریں گے۔ لاہوریوں نے گوال منڈی کی اتنی تعریف کررکھی تھی کہ ہمیں کراچی کے کھانوں کے متعلق احساس کمتری ہونے لگا تھا۔ خیر ہم نے سارا دن لاہور کی سیر کی اور کم سے کم کھایا تاکہ پیٹ میں زیادہ سے زیادہ جگہ بن جائے گی تو رات کو گوال منڈی جاکر چک دے پٹے کردیں گے۔ پیٹ میں کھانوں کی ہوس لیے رات کو ہم گوال منڈی پہنچے، یہاں کھانوں کی منڈی سجی دیکھ کر ہم کنفیوژ ہوئے کہ کیا کھائیں خیر ہم نے آستینیں چڑھائیں اور سب سے پہلے گول گپوں پر جھپٹا مارا۔ گول گپوں کی پہلی قسط جیسے ہی حلق سے اتری ہمارا منہ ایسا بن گیا جیسے بچے کڑوی دوا پینے کے بعد بناتے ہیں۔ باسی تیل کی بساند آرہی تھی۔ ہم نے گول گپے وہیں چھوڑے اور اس غم کو دور کرنے کے لیے مچھلی کھانے کے فیصلہ کیا۔ ایک برا تجربہ ہوچکا تھا اسی لیے ہم نے فل آرڈر دینے سے پہلے ایک چھوٹا ٹکڑا منگوالیا کہ پہلے چیک کرلیں کہ کیسی ہے۔ مچھلی چکھنے کے بعد ہمارا تاثر گوپ گپوں سے بھی زیادہ بھیانک تھا۔ اس کے بعد ہم حسرت سے منہ لٹکائے واپس رہائش گاہ آگئے اور سبزی روٹی کھا کر خدا کا شکر ادا کیا۔ اگلے جتنے روز ہم نے لاہور میں بسر کیے سبزی اور دال پر ہی گذارا کیا۔

  7. راہبر بتاریخ 01 Jul 2008 بوقت 12:06 pm #

    ارے محب کہاں ہیں؟ ان کو پڑھوائیں نا یہ :razz:
    راہبر کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..میری واپسی

  8. ساجداقبال بتاریخ 03 Jul 2008 بوقت 1:09 pm #

    محب مجھے کل نظر آئے تھے مسجد میں۔ حالت کچھ ایسی تھی جیسے امریکن ایمبیسی والوں‌ نے گوانتانامو لیجا کر انٹرویو کیا ہو۔

    ساجداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..ورڈپریس ہیلپ شیٹ

  9. محب علوی بتاریخ 04 Jul 2008 بوقت 8:08 pm #

    لو بھئی میں آ گیا ہوں راہبر
    ابو شامل ، بات وہی ہے کہ کسی بھی شہر کے بارے میں رائے شہر کو اچھی طرح‌ گھوم پھر کر کرنی چاہیے۔ بادشاہی مسجد اب ایک سیاحتی جگہ بھی ہے جس کا کچھ لوگ خیال نہیں رکھتے۔ اسلام آباد میں فیصل مسجد ایک عظیم عمارت ہے مسجد کے ساتھ ساتھ ، اکثر جوڑے اور لوگ وہاں پکنک منانے جاتے ہیں۔

    لاہور میں آپ کو چاہیے تھا کہ کچھ باغات ریس کورس ، منی گالف کورس ، شالیمار ، قائد اعظم لائبریری کے ساتھ والا باغ۔ اس کے علاوہ پنجاب لائبریری اور قائد اعظم لائبریری جانا چاہیے تھا۔

  10. امید بتاریخ 09 Jul 2008 بوقت 5:46 pm #

    پہلی دفعہ آپ ک ابلاگ پرھا ہے اچھا لگا

    خودساختہ خوابوں کا طلسم ٹوٹے تو شاید ایسا ہی ہوتا ہے

  11. فہیم بتاریخ 10 Jul 2008 بوقت 3:29 pm #

    فہد بھائی ایک بار پھر آپ کے لیے ٹیگ حاضر ہے :razz:

    http://fahim.urdutech.net/2008/07/10/tag-tag/

  12. محمد وارث بتاریخ 14 Jul 2008 بوقت 2:22 pm #

    السلام علیکم فہد صاحب، بھئی اس تحریر پر آپ کو جس قسم کے ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا وہ ہمارے روز کا معمول ہے، ہماری بیگم صاحبہ کا تعلق اسی شہر سے ہے :lol:

    فوڈ سٹریٹس یا ‘کھابے’ محض زبان کا چٹخارہ اور ڈاکٹروں‌ کی نرسری ہیں، اور رہی بات مسجد کی تو منہ بند ہی رکھوں تو بہتر ہے۔

    بہرحال اس وقت یہاں حاضری کا مقصد کچھ اور ہے، جی ہاں‌ ‘ٹیگ’ کا کھیل پھر شروع ہو چکا ہے سو آپ کو بھی کھینچا جا رہا ہے :lol:

    http://waris.urdutech.net/2008/07/14/tag-again/

ٹریک بیک | آر۔ایس۔ایس تبصرے

تبصرہ کریں