“رنگین” پاکستانی سیاست کا ایک “سنگین” مظاہرہ
پاکستانی سیاست بہت “رنگین” ہے اور اس کے ہر رنگ کی ایک خاص بات ہے۔ حتٰی کہ چند “چٹ پٹے” رنگوں پر بازاری قسم کے مصنفین نے کتابیں بھی لکھ ڈالیں جو ٹھیلے پر کتابیں بیچنے والوں کے ہاں مخصوص مقامات پر رکھی جاتی ہیں تاکہ فوری توجہ حاصل کریں۔ بہرحال پاکستانی سیاست کے انہی رنگوں میں سے ایک رنگ آجکل پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور وہ ہے چیئرمین سی بی آر عبد اللہ یوسف کا ایک محفل کے دوران “رقص”
ویسے ہمارے “جمہوری” وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اسی صلاحیت کی بنیاد پر وزارت تک تقسیم کرچکے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے صدر پرویز مشرف (”پر کٹنے سے پہلے”) انہی حرکات کا ارتکاب کر چکے ہیں جن کی بناء پر بھٹو کو اپنا زوال دیکھنا پڑا۔ حالانکہ صدر محترم اپنے دور عروج میں کئی ایسے کام کر چکے ہیں جن میں سے ہر ایک پر ایک کیا کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن حال ہی میں عبد اللہ یوسف کے ساتھ ان کے رقص کا چرچا اب سر راہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور ایک نجی چینل نے تو روشن خیالی کے اس عملی مظاہرے کو دکھانے کا موقع ہاتھ نہیں جانے دیا اور کارکردگی کا عملی مظاہرہ عوام کو دکھا دیا۔
ویسے بھٹو صاحب نے تو صرف ایک وزارت کے حصول کے لیے مقابل دو امیدواروں میں سے ایک انتخاب بہتر رقص کی بنیاد پر کیا تھا لیکن پرویز صاحب تو اس رقص کا خود حصہ بن گئے۔ جی ہاں! عبد اللہ یوسف نے صدر صاحب کو نشست سے اٹھا کر اہلیان محفل کے روبرو دعوت رقص دی جسے محترم صدر نے قبول کیا لیکن جناب ان کے “رقص” کے آغاز سے قبل ہی کیمرہ مین نے کمال ہوشیاری سے کیمرے کا رخ حاضرین کی جانب پھیر دیا (لگتا ہے کیمرہ مین کا تعلق پی ٹی وی سے تھا)۔ تو فی الوقت تو ہم عبد اللہ یوسف صاحب کے رقص پر ہی اکتفا کرتے ہیں، اب ہمیں اور نجانے کیا کیا دیکھنا ہے اس لیے ساری حیرانگی یہیں ختم مت کیجیے گا، کچھ “برے” وقت کے لیے بھی بچا کر رکھیے گا۔
May 21, 2008 02:36 pm | حالات حاضرہ اور روشن خیالی اور سیاسیات
میرا پاکیستان بتاریخ 21 May 2008 بوقت 5:22 pm #
کچھ لوگ اسے معمول کی کاروائی یا اسے دوسرے مسائل کے مقابلے میںغیراہم قرار دے رہے ہیں۔ نہ جانے وہ کیوںنہیںسوچتے کہ ہر کام کا ایک طریقہ ہوتا ہے ۔ اب اگر سرعام ڈانس میںکوئی برائی نہیںہے تو پھر لوگ سڑکوں سرعام ڈانس کرنا کیوںشروع نہیںکردیتے۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے مہذب ملکوں کے سربراہ اور سرکاری اہلکار اس طرحٹی وی پر کیوںسرعام ناچنا شروع نہیںکردیتے۔ پتہ ہے امریکہ میں طوائفیں لائسنس پر اپنا دھندہ کرسکتی ہیںمگر جب ایک گورنر ایک طوائف کیساتھ پکڑا جاتا ہے تو اسے گھر بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک رول ماڈل ہوتے ہوئے ایسا کام نہیںکرسکتا اسی طرحہمارے معاشرے میں آدمی کا عورتوں کی طرحڈانس اچھا نہیںسمجھا جاتا اس لیے کسی سرکاری کارندے یا حاکم کو یھ زیب نہیںدیتا کہ وہ سرعام اس طرحکا ڈانس کرکے ایک الگ قسم کا رول ماڈل بننے کی کوشش کرے۔ پتہ نہیںڈانس کی حمایت کرنے والوں کو یہ نقطہ کیوںسمجھ نہیںآتا۔
میرا پاکیستان کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..ہائی سکول کی یادیں
عوام بتاریخ 22 May 2008 بوقت 4:02 pm #
اب پتا چلا کہ سی بی آر کے چیرمین کے لیے ناچنا آنا چاہیے