05.15قانون عوام کی گرفت میں
گزشتہ روز اہلیان کراچی کو ایک اور دل دہلانے والی خبر سننے (اور بذریعہ برقی ذرائع ابلاغ دیکھنے) کو ملی کہ رنچھوڑ لائن کے علاقے میں عوام نے 3ڈاکوؤں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلاڈالا ۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فلیٹ میں ڈکیتی کے بعد فرار ہوتے ہوئے ڈاکو مقامی افراد کے ہاتھوں پکڑے گئے جس کے بعد انہیں زبردست تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جائے وقوعہ پر موجود میرے دفتر کے ایک ساتھی نے بتایا کہ عوام نے موقع پر آنے والے پولیس اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تینوں کو گولی مار دے لیکن پولیس کے انکا رپر عوام نے نہ صرف پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر جائے وقوعہ سے ہٹا دیا بلکہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے تینوں ڈاکوؤں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ جنگ اخبار میں شائع ہونے والی تصویر واقعے کی سنگینی کی عکاس ہے۔

کسی بھی معاشرے و قوم کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام ادارے اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض بخوبی انجام دیں اور کسی بھی ریاست کو اندرونی خلفشار سے بچانے کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ بلاتعصب انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انصاف کی فراہمی کسی بھی معاشرے کی وہ بنیاد ہے جس پر پوری عمارت انحصار کرتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ انصاف کی عدم دستیابی معاشرے میںسفاکیت وجنونیت کو پروان چڑھاتی ہے اور عوام اپنا قانون خود بنانے لگتے ہیں اور یہ واقعہ اس کی پہلی اور بڑی مثال بن کر سامنے آیاہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ
کوئی بھی حکومت کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتی ہے لیکن ظلم و نا انصافی کے ساتھ اس کا باقی رہنا ناممکن ہے
اس طرح کے واقعات کے پیش آنے کی عام وجوہات دو ہیں ایک انصاف کی عدم دستیابی اور دوسری قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رشوت کا عام کلچر۔ مذکورہ واقعے کا بنیادی محرک یہی سمجھ آتا ہے کہ عوام کو معلوم تھا کہ اگر ان مجرموں کو پولیس کے حوالے کیا گیا تو یہ چند روپے رشوت دے کر چھوٹ جائیں گے اگلے ہی روز کہیں اور ڈکیتی مارتے پھریں گے اور اگر عدالتوں تک پہنچ بھی گئے تب بھی کورٹ کچہریوں کے طویل چکر کاٹنے کے بعد بھی اس امر کی امید بہت کم ہے کہ انہیں اپنے کیے کی سزا ملے۔ اس لیے انہوں نے تشدد کی انتہا کرتے ہوئے ایک بدترین مثال قائم کر دی جس کی تقلید میں کئی قدم مزید اٹھ سکتے ہیں۔
واقعے کا یہی پہلو سب سے خوفناک ہے کہ مزید لوگ بھی انہی قدموں پر نہ چل پڑیں۔ کسی زمانے میں بھارت کی ایک فلم “گنگا جل” میں بھی کہانی کا مرکزی پلاٹ ایسا ہی تھا کہ عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے مجرموں کو جائے وقوعہ پر ہی سزا دینے لگے لیکن اس ماورائے قانون قدم کے باعث علاقے میں جرائم کی شرح صفر ہو گئی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس طرح کی اقدامات کی حمایت کی جائے بلکہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ درماندہ حال عدلیہ کے باعث عوام کو کسی سے رائی برابر بھی امید نہیں کہ مجرموں کو ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ اس لیے وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر انتہائی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
اس بڑے ذہنی خلفشار کے دیگر کئی عوامل بھی ہیں کہ عوام نتائج سے بے پروا ہو کر ان قدر سنگین حرکات کر رہے ہیں۔ وہ ہے بجلی کی بلا ناغہ اور طویل دورانیے کی بندش،بے روزگاری، غربت اور سڑکوں پر ٹریفک کے اژدہام کے باعث چند منٹوں کا سفر گھنٹوں میں ، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ذہنی انتشار، اضطراب، خلفشار۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام میں برداشت کا مادہ مفقود ہو چکا ہے، اور جلتی پر تیل ڈکیتی جیسے واقعات کر جاتے ہیں تو اس صورت میں ان سے انتہائی سفاکانہ ردعمل کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔ چند روز قبل کراچی میں ایک مارکیٹ میں دکاندار کو جس بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا اور اس کی لاش سڑک پر کئی گھنٹے تک پڑی رہی اس کے اثرات ابھی تک ذہنوں سے محو نہیں ہوئے اس لیے عوام ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب قانون کو گرفت میں لے رہی ہے۔
ا س تمام صورتحال میں آزاد عدلیہ کی بحالی کی اہمیت کہیں زیادہ دو چند ہوتی ہے وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رشوت کے کلچر کے خاتمے کی ضرورت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کےلیے سنجیدہ حکمت عملی تیار کرے وہیں عوام کو ذہنی سکون دینے کے لیے اشیائے صرف کی گرانی پر قابو پائے بصورت دیگر عوام کا یہ سیلاب حکمرانوں کا حشر ان ڈاکوؤں سے بھی برا کر دے گا۔
کوئی متعلقہ تحریر نہیں















با معلوم ہم کس طرف جا رہے ہیں!
کل اوریا مقبول جان کا کالم بھی ایک مختلف انداز میں یہ ہی کہانی بیان کررہا تھا اور شام کو یہ خبر آ گئی!!!
شعیب صفدر کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..1
May 15th, 2008 بوقت 7:00 pm
ہم آپ کی بات سے متفق ہیں۔ دراصل ڈکیتیاں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ عوام اب ڈاکوؤں سے بہت زیادہ نفرت کرنے لگے ہیں۔ یہ نفرت کی انتہا اور بقول آپ کے پولیس اور عدالتی نظام پر عدم اعتمادی کا نتیجہ ہی تو ہے۔
May 15th, 2008 بوقت 7:21 pm
مائی گاڈ۔۔۔تصویر دیکھ کر تو میرا دل دہل گیا ہے۔ کتنے ظالم لوگ ہیں۔۔۔اور تو اور سارے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ کسی ایک کا بھی دل نرم نہیں تھا کیا۔۔
ابو شامل، ان ڈاکوؤں نے دو عورتوں کو بھی قتل کیا تھا کیا؟
ماوراء کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..منظر نامہ
May 15th, 2008 بوقت 9:24 pm
اسلام علیکم
یہ واقع معاشرے میں بڑھتے ہوئے پرتشدد رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ عوام بھی بیچارے کیا کریں، اگر ان کو پولیس کے حوالے کرتے ہیں تو وہ چند روپے دے کر چھوٹ جائیں گے اور اگلا حدف گرفتار کروانے والے ہوتے۔
May 15th, 2008 بوقت 9:37 pm
اسطرح کے واقعات بھارت میں بلکہ بھارت کی ریاست بہار میں بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں اور اس پر ماہرین نفسیات نے مختلف نقطئہ نظر بیان کیے ہیں۔۔ بھارت میں اس حوالے سے ایک فلم “گنگا جل ” کے نام سے بھی بنی تھی۔۔ لیکن مسلمانوں کے لیے نا مساعد حالات اور انتہائی مایوسی کے عالم میں بھی اس طرح کے غیر انسانی فعل کا ارتکاب کرنا گناہ کبیرہ ہے۔۔ میں سڑک پر ڈکیتی کی واردات سے گزر چکاہوں اور مجھے علم ہے کہ کسی کی گاڑی، موبائل اور نقدی چھینی جائے تو اسکے دل پر کیا گزرتی ہے ۔۔ لیکن پھر بھی یہ انسانوں کی بدترین ذہنی سطح کی عکاسی کرتا ہے۔۔۔ اسکا فوری سد باب کیا جانا چاہیے ورنہ لوگ اپنی دشمنیاں اس طرح سڑک پر نمٹانے لگیں گے۔
راشد کامران کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..ہمیں ماتھے پے بوسہ دو۔۔
May 15th, 2008 بوقت 10:43 pm
میری پوسٹ کے دو بنیادی نکات یہ تھے کہ انصاف کی عدم فراہمی عوام کے ذہنوں پر بہت منفی اثرات ڈالتی ہے اور دور آمریت کے مظالم اس کے ذہنی خلفشار کو اور بڑھاوا دیتے ہیں اور جب جنگل کا قانون رائج ہو تو آپ کو کسی سے خیر کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ یہ واقعہ جتنا اندوہناک اور وحشت ناک ہے اتنا ہی افسوسناک بھی ہے۔ اور دوسرا بنیادی نکتہ تھا کہ اس واقعے کے تناظر آزاد عدلیہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
شعیب صاحب! ہم تاریکی کےگھڑوں کی طرف جا رہے ہیں، اور دور جاہلیت میں واپس جا رہے ہیں جہاں وحشت اور بربریت کا دور دورہ تھا۔ اللہ ہمیں اپنی امان میں رکھے۔
ماوراء صاحبہ! تصویر دیکھ کر دل تومیرا بھی دہل گیا تھا لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ جنگ جیسے معتبر اخبار نے اس طرح کی تصویر کیوں شائع کی؟ کل جو 8 اخبارات میری نظر سے گزرے ان میں یہ تصویر صرف جنگ اور خبریں میں تھی دیگر کسی اخبار نے لاشوں کی جلتے ہوئے تصویر نہیں لگائی کیونکہ اس طرح کی تصویر لگانا اخلاقی و صحافتی اعتبار سے درست نہیں۔ ان ڈاکوؤں نے قتل تو کسی کو نہیں کیا تھا البتہ جس گھر میں ڈکیتی ماری تھی وہاں مزاحمت پر ایک نوجوان کو زخمی ضرور کیا تھا (اخباری اطلاعات کے مطابق)۔
راشد صاحب! گنگا جل کا ذکر میں نے اپنی پوسٹ میں کیا ہے۔ میں ذاتی طور پر موجود ہر فرداس غیر انسانی فعل میں برابرکا شریک سمجھتا ہوں کیونکہ مسلمان کو تو میدان جنگ میں درختوں کو کاٹنے اور فصلوں کو جلانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور لاشوں کا مثلہ کرنے سے تو سختی سے روکا گیا ہے، اور اسی امت کے افراد وحشت و بربریت کا یہ نمونہ قائم کریں تو دل خون کے آنسو نہیں روئے گا؟ حکومت کو اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ساتھ ساتھ انصاف کی فراہمی کو اتنا آسان کرنا چاہیے کہ آئندہ لوگ خود ایسے قدم نہ اٹھائيں۔
ابوشامل کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..1
May 16th, 2008 بوقت 11:08 am
السلام علیکم جب میں نے یہ فوٹو جنگ اخبار میں دیکھی تھی تو مجھے بھی بہت افسوس ہوا تھا کے عوام کو ایسا نہیں کرنا چاہے تھا لیکن پھر بعد میں سوچا ہماری حکومت یا ہماری پولیس کون سا اس پر ایکشن لیتی وہ پھر رشوت دے کر نکل ہی آتے
نوائے ادب کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..بحر رمل مثمن مخذوف
May 16th, 2008 بوقت 3:20 pm
وجہ کچھ بھی ہو یہ انسانیت نہیں درندگی ہے ۔ حکومت اور پولیس اور دوسرے سرکاری اہلکارون کو میں بھی بُرا کہتا رہتا ہوں لیکن جب سوچتا ہوں کہ عام آدمی کا کردار کیا ہے تو سب ایک جیسے لگتے ہیں ۔
آپ نے علامہ اقبال کی شاعری کی پیش کش کی ہے ۔ بہت شکریہ ۔ تصویری تو میرے پاس موجود ہے ۔ اگر ٹیسٹ والی بھیج دیں تو مشکور ہوں گا ۔
اجمل کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..غلام قوم کا ضمير اور توحيد
May 16th, 2008 بوقت 7:54 pm
شامل صاحب بالکل گنگا جل کا تذکرہ آپ نے بلاگ میںکیا تھا۔۔ میں بس یہ بتانا چاہ رہا تھا کے گنگا جل فکشن نہیں بلکہ بہار کے واقعات پر حقیقت پر مبنی فلم تھی۔
بہر حال اس بات پر تو سب متفق ہیں کے یہ غیر انسانی فعل تھا۔۔ جن حضرات کا یہ کہنا ہے کے وہ رشوت دے کر چھوٹجاتے تو کیا ہوا آخرت پر ایمان بھی تو ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور بہر حال انصاف ہو کر ہی رہنا ہے۔۔ یہاں نہ سہی وہاں ہی۔۔ لیکن تاریخ اٹھا کر دیکھیں انصاف یہاں بھی ہوجاتا ہے اور مکافات عمل کبھی بھی انسان کا پیچھا نہیںچھوڑتا ۔۔ بس ذرا نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔۔
May 16th, 2008 بوقت 10:11 pm
میری نظر میں یہ معاشرے میں بڑھتے انتشار کے اظہار کی طرف ایک ابتدائی قدم ہے اور اس وقت جو صورتحال ہے، اس کے تناظر میں ایسے واقعات ہونا کوئی غیر متوقع امر نہیں۔ عوام دیکھتی ہے کہ وہ اپنے حق کے حصول کے لیے ہزار مشکلات اٹھاتی ہے، جائز کام کے لیے پہلے کئی ناجائز کام کرنے پڑتے ہیں اور جب یہ لٹیرے پکڑے جاتے ہیں تو دے دلاکر چھوٹ جاتے ہیں۔ اس وجہ سے ان لٹیروں میں کوئی خوف باقی نہیں رہا۔ اب عوام خود ایسی سزائیں دے گی تو ان لوگوں کے دماغ ٹھکانے آئیں گے اور ایسی کاروائی کرنے سے پہلے ضرور سوچیں گے کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟
جس معاشرے میں انصاف کا حصول ممکن نہ رہے، اس میں ایسے ہی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ شاید آپ کی نظر سے کچھ عرصہ پہلے ایک خبر گزری ہو کہ اورنگیٹاؤن میں بھی دو ڈاکوؤں کو پکڑ لیا تھا اہل محلہ نے تو ان کو غالبا گدھا گاڑی سے باندھ کر پورے علاقے میں گھسیٹا گیا تھا جس سے ایک ڈاکو مرگیا تھا اور ایک کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ اس طرح کا اظہار ابھی پہلی اسٹیج پر ہے۔ ایسے واقعات کے پیچھے جو عوامل کارفرما ہیں، اگر ان کا سدباب نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ ایسے واقعات میں آنے والے دنوں کے ساتھ مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
راہبر کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..منظرنامہ۔ ایک منفرد بلاگ
May 17th, 2008 بوقت 11:10 am
[...] بلاگرز ابوشامل، عکس، انکل اجمل نے کافی متاثر کن انداز میں حقائق بیان [...]
May 17th, 2008 بوقت 11:39 pm
یہ قدم انتہائی افسوس ناک ہے لیکن عوام نے بھی بہت مجبور ہوکر ایسا کیا ۔ اسی سلسلے میں ایک پوسٹ میں نے اپنے بلاگ پر بھی کی ہے وہ دیکھ لیں ۔ میرا مقصد اس واقع کی حمایت کرنا نہیں بلکہ عوام کی انتہائی گری ہوئی حرکت کرنے کی وجہ پر عوام کے ذہن کے مطابق روشنی ڈالنا ہے۔ آج ہم اس واقع پر تبصرے کرکے خاموش ہوجائیں گے لیکن ان لوگوں سے پوچھا جائے جن کا والد، بھائی ، بیٹا یا خاوند ڈکیتی کی واردات میں مارا گیا ہو۔ان کے لیے یہ واقع کیسا ہے۔ اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں نے ابھی تک اپنا رویہ نہیں بدلا۔
May 17th, 2008 بوقت 11:58 pm
میں نے لکھا تھا کہ یہ واقعات ابھی ابتدائی اسٹیج پر ہیں لیکن جلد ہی بڑھنے لگیں گے اور اب یہیں خبریں کہ کل فائیو اسٹار چورنگی پر بھی دو ڈاکوؤں کو پکڑ کر جلادیا گیا جس میں ایک ڈاکو ہسپتال پہنچ کر مرگیا اور دوسرے کی حالت نازک ہے۔ اسی طرح سکھر میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔
کراچی میں ایک اور واقعہ بھی ہوا کہ ایک شہری کے پاس اپنی بندوق تھی تو اس نے خود ہی ایک ڈاکو کو گولی ماردی۔ اب یہ سلسلہ شروع ہوا ہے تو دیکھئے کہاں تک جائے گا۔ اللہ خیر کرے۔
راہبر کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..منظرنامہ۔ ایک منفرد بلاگ
May 18th, 2008 بوقت 11:14 am
خرم! یہ تصویر دیکھ کر میں ٹھٹک کر رہ گیا تھا، زیادہ افسوس اس لیے ہوا کہ یہ تصویر جنگ جیسے معتبر اخبار میں چھپی۔ جنگ کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور آئندہ اس طرح کی تصاویر شائع نہیں کرنی چاہئیں۔
اجمل صاحب! بحیثیت مجموعی ہمارا معاشرہ زوال کی جانب گامزن ہے اور انفرادی سطح پر ہر شخص بھی اخلاقی طور پر نیچے چلا جا رہا ہے۔ میں آپ کو آج ہی ٹیکسٹ والی بھیج دوں گا۔
راشد صاحب! معلومات میں اضافے کا بہت شکریہ۔ آپ نے سولہ آنے درست کہا۔
راہبر! واقعات غیر متوقع بالکل نہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں سب کے سب ظالم ہیں بس ظلم کا موقع جس شخص کے ہاتھ لگے وہ کر گزرتا ہے اور جس کو نہیں ملتا وہ مظلوم بن جاتا ہے۔ اللہ ہماری مدد کرے اور ہمیں دونوں قسم کے لٹیروں (ڈاکوؤں اور پولیس) سے نجات دے یا انہیں ہدایت دے۔
زاہد! انصاف فراہم کرنے والے اداروں کا رویہ اس وقت تک تبدیل نہیں ہوگا جب تک یہ نظام اور بحیثیت قوم ہمارا مزاج نہیں بدلے گا۔
تمام حضرات کا تبصرے کا بہت شکریہ!
May 20th, 2008 بوقت 9:30 am
جب ایک سوشل آرڈر ٹوٹتا ہے تو اس میں مایوس، بھوکے اور بے روزگار افراد کو اپنی محرومیاں دور کرنے کے مواقع نظر آنے لگتے ہیں اور یہی سلسلہ جو ابتدا میں جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف ہجوم کی سزاؤں سے شروع ہوتا ہے، طبقاتی جنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تہی دست، خوشحال لوگوں پر حملے کرنے لگتے ہیں۔ لوٹ مار شروع ہو جاتی ہے اور لوٹ مار میں دوسروں کو سبقت حاصل کرتے دیکھ کر باقی لوگ بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ اِس طرح انارکی جنم لیتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ریاستی ڈھانچہ زمین بوس ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ پہلے ہی بے حد کھوکھلا اور فرسودہ ہو چکا ہے۔ وہ انارکی اور بدامنی کے سامنے چار دن بھی نہیں ٹھہر پائے گا۔ اگر موجودہ حکمران طبقے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں تو بلا تاخیر امن اور انصاف کی فراہمی کا ہنگامی بنیادوں پر انتظام کریں ورنہ ان سب کا اللہ حافظ ہے
May 24th, 2008 بوقت 11:59 pm
السلام علیکم !
میار خیال ہے کہ یہ عوام کا غلط فیصلہ تھا۔ اسلام اسکی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ کسی مسلمان کو زندہ جلا دیا جائے ۔ یہ تو فرعون کا کام تھا کہ لوگونکو آگ میں جلایا کرتا تھا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ” جلانا اللہ کی صفت ہے ناکہ کسی انسان کی ” اس واقع کی پرزور مذمت کرنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہو ۔
اللہ مسلمانوں کو ہدایت نصیب فرمائے اور صراط مستقیم پر رکھے
والسلام
May 25th, 2008 بوقت 2:29 am