ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 1

روشن خیالی یعنی جدیدیت اور اس کے مسلم معاشرے پر اثرات کے بارے میں کئی تحاریر اس بلاگ کی زینت بنتی رہی ہیں جن میں جدیدیت کے علم برداروں کے اہداف و طریقہ ہائے کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ اس امر کی ضرورت بھی بہت شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے کہ جدیدیت کی تحریک کے پس منظر، تاریخ، ماضی میں کردار، موجودہ حیثیت اور اس کے بطن سے جنم لینے والی تحاریک کے بارے میں کوئی مفصل تحریر بھی قارئین کی نظر ہونی چاہیے۔ اس کام کے لیے تو وسیع تر مطالعہ اور کافی وقت کی ضرورت ہے لیکن اپنی کم علمی اور وقت کی کمی کے باعث اس پر کام کرنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ماہ جولائی کے “ترجمان القرآن” میں “ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام” (Challenge of Post Modernism & Islam) کے عنوان سے شائع ہونے والا مضمون گویا میرے دل کی آواز تھا۔ حیدر آباد، ہندوستان کے سید سعادت اللہ حسینی صاحب کا مرتب کردہ یہ مضمون اس امر کا عکاس تھا کہ مغربی تہذیب اور جدیدیت کے بارے میں وہ کتنا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔ اس مضمون کی خاص بات جو مجھے پسند آئی وہ یہ کہ انہوں نے مضمون کے آخر میں حوالہ جات مرتب کر کے ہم جیسے تہذیبوں کے مطالعے کے شائق قارئین کے لیے مزید مطالعے کے دروازے وا کیے ہیں ان میں سے کئی حوالہ جات کے انٹرنیٹ روابط بھی دیے گئے ہیں۔ میں اس مضمون کو چند اقساط میں اپنے بلاگ پر پیش کرنے کا آغاز کر رہا ہوں۔ اس مضمون کی پہلی قسط آج آپ کے سامنےحاضر ہے جس میں جدیدیت کی تاریخ، اس کے فلسفے کی بنیاد، کامیابی اور کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ امید ہے یہ سلسلہ قارئین کی معلومات میں وسیع اضافے کا باعث ہو گا۔

جدیدیت ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کے مجموعے کا نام ہے جو 17 ویں اور 18 ویں کے یورپ میں روایت پسندی (Traditionalism) اور کلیسائی استبداد کے ردعمل میں پیدا ہوئیں۔

یہ وہ دور تھا، جب یورپ میں کلیسا کا ظلم اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ تنگ نظر پادریوں نے قدیم یونانی فلسفہ اور عیسائی معتقدات کے امتزاج سے کچھ خود ساختہ نظریات قائم کر رکھے تھے اور ان نظریات کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز کو وہ مذہب کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ شاہی حکومتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے انہوں نے ایک ایسا استبدادی نظام قائم کر رکھا تھا جس میں کسی بھی آزاد علمی تحریک کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی۔

دوسری طرف اسپین کی اسلامی تہذیب کے ساتھ طویل تعامل کی وجہ سے عیسائی دنیا میں بھی حریت فکر کی ہوائیں آنے لگی تھیں۔ قرطبہ اور غرناطہ میں حاصل شدہ تجرباتی سائنس کے درس رنگ لا رہے تھے اور یورپ کے سائنس دان آزاد تجربات کرنے لگے تھے۔ حریت انسانی اور مساوات کے اسلامی تصور کے اثرات نے جنوبی اٹلی اور صقلیہ میں انسان دوستی (Humanism) کی جدید تحریکیں پیدا کی تھیں1۔

ان سب عوامل نے مل کر کلیسا کے استبداد کے خلاف شدید ردعمل پیدا کیا اور جدیدیت کی تحریک شروع ہوئی۔ چونکہ اس تحریک سے قبل یورپ میں شدید نوعیت کی دقیانوسیت اور روایت پرستی کا دور دورہ تھا، اس لیے اس تحریک نے پورے عہدِ وسطٰی کو تاریک دور قرار دیا۔ مذہبی عصبیتوں، روایت پسندی اور تنگ نظری کے خاتمے کو اپنا اصل ہدف بنایا۔ شدید ردعمل نے اس تحریک کو دوسری انتہا پر پہنچا دیا اور روایت پرستی اور عصبیت کے خلاف جدوجہد کرتے کرتے یہ تحریک مذہب اور مذہبی معتقدات ہی کے خلاف ہو گئی۔

جدیدیت کی اس تحریک کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکن2، رینے ڈیکارٹ3، تھامس ہوبس4 وغیرہ کے افکار میں پائی جاتی ہیں، جن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ دنیا اور کائنات عقل، تجربے اور مشاہدے کے ذریعے قابلِ دریافت (knowable) ہے اور اس کے تمام حقائق تک سائنسی طریقوں سے ہی رسائی ممکن ہے۔ اس لیے حقائق کی دریافت کے لیے کسی اور سرچشمہ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ اس کا کہیں وجود ہے۔ صرف وہی حقائق قابلِ اعتبار ہیں جو عقل، تجربے اور مشاہدے کی مذکورہ کسوٹیوں پر کھرے ثابت ہوں۔ ان فلسفیوں نے ما بعد الطبیعیاتی مزعومات (metaphysical contentions) اور مذہبی دعوؤں کو اس وجہ سے قابل رد قرار دیا کہ وہ ان کسوٹیوں پر پورے نہیں اترتے۔ ڈیکارٹ نے

I think therefore I am

(میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں)

کا مشہور اعلان کیا جو جدید مغربی فلسفے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خودی کا شعوری عمل (Conscious Act of Ego) سچائی تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔

پاسکل، مانٹسکیو، ڈیڈاراٹ، وسلی، ہیوم، والٹیر جیسے مفکرین نے بھی عقل کی لا محدود بالادستی اور واحد سرچشمۂ علم ہونے کے اس تصور کو عام کیا۔ یہ افکار عقل پرستی (Rationalism) کہلاتے ہیں اور جدیدیت کی بنیاد ہیں۔ چنانچہ جدیدیت کی تعریف ہی یوں کی گئی: جدیدیت وہ روشن خیالی اور انسان دوستی ہے جو کسی بھی ہستی کی بالادستی اور روایت کو مسترد کرتی ہے اور صرف عقل اور سائنسی علوم کو ہی تسلیم کرتی ہے۔ یہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ سچائی اور معنی کا واحد منبع خود مختار فرد کی عقل ہے ۔۔۔۔۔۔ کارتیسی اصول: فکر کردم پس ہستم5

اس تحریک نے مذہبی محاذ پر الحاد اور تشکیک کو جنم دیا۔ والٹیر6 جیسے الحاد کے علم برداروں نے مذہب کا کلیتاً انکار کر دیا، جب کہ ہیگل جیسے متشکک مذہب کو تسلیم تو کرتے ہیں، لیکن اسے عقل کے تابع بتاتے ہیں اور مذہبی حقائق کو بھی دیگر عقلی مفروضات کی طرح قابل تغیر قرار دیتے ہیں۔

سیاسی محاذ پر اس تحریک نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ آزادئ فکر، آزادئ اظہار اور حقوقِ انسانی کے تصورات عام کیے۔ تھامس ہابس کے حتمی اقتدار اعلٰی (Absolute sovereignty) کے تصور کو سیاسی فلسفے کی بنیاد قرار دیا۔ جان لاک نے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام کو اقتدار اعلٰی کا سرچشمہ قرار دیا۔ والٹیر نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ مانٹسکیو7 اور روسو8 نے ایسی ریاست کے تصورات پیش کیے جس میں انسانوں کی آزادی اور ان کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور حکمرانوں کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔

جدیدیت کی تحریک نے قوم پرستی اور قومی ریاستوں کا تصور بھی عام کیا۔ انہی افکار کے بطن سے جدید دور میں جمہوریت نے جنم لیا اور یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ملکوں میں خود مختار، جمہوری قومی ریاستیں قائم ہوئیں۔

معاشی محاذ پر اس تحریک نے اول تو سرمایہ دارانہ معیشت اور نئے صنعتی معاشرے کو جنم دیا جس کی بنیاد ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر تھی جو صنعت کاری، آزادانہ معیشت اور کھلے بازار کی پالیسیوں سے عبارت تھی9۔ نئے صنعتی معاشرے میں جب مزدوروں کا استحصال شروع ہوا تو جدیدیت ہی کے بطن سے مارکسی فلسفہ پیدا ہوا، جو ایک ایسے غیر طبقاتی سماج کا تصور پیش کرتا تھا، جس میں محنت کش کو بالادستی حاصل ہو10۔

اخلاقی محاذ پر اس تحریک نے افادتیت (Utilitarianism) کا تصور عام کیا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اخلاقی قدروں کا تعلق افادیت سے ہے۔ جو رویے سماج کے لیے فائدہ مند ہیں، وہ جائز اور جو سماج کے لیے نقصان دہ ہیں، وہ ناجائز رویے ہیں۔ اور یہ کہ افادیت اخلاق کی واحد کسوٹی ہے۔ افادیت کے تصور نے قدیم جنسی اخلاقیات اور خاندان کے روایتی ادارے کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں اباحیت (permissiveness) کا آغاز ہوا۔

جدیدیت ہی کے بطن سے نئے صنعتی معاشرے میں نسائیت (Feminism) کی تحریک پیدا ہوئی جو مرد و زون کی مساوات کی علم بردار تھی اور عورتوں کو ہر حیثیت سے مردوں کے مساوی مقام دلانا اس کا نصب العین تھا۔

انقلاب فرانس، برطانیہ میں جمہوریت کی تحریک، امریکہ کی آزادی کی تحریک اور اکثر یورپی ممالک کی تحریکیں جدیدیت کے ان افکار ہی سے متاثر تھیں۔ 20 ویں صدی کے آتے آتے یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ممالک ان افکار کے پرجوش مبلغ اور داعی بن گئے۔ جدیدیت کو روشن خیالی (Enlightenment) اور نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے نام بھی دیے گئے اور بڑی طاقتوں کی پشت پناہی سے روشن خیالی کا منصوبہ ایک عالمی منصوبہ بن گیا۔

چنانچہ 20 ویں صدی کے نصف آخر میں مغربی ممالک کا واحد نصب العین تیسری دنیا میں روایت پسندی سے مقابلہ کرنا اور جدیدیت کو فروغ دینا قرار پایا۔ آزادی، جمہوریت، مساواتِ مرد و زون، سائنسی طرز فکر، سیکولرزم وغیرہ جیسی قدروں کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ معاشی فکر کے معاملے میں مغرب سرمایہ دارانہ اور کمیونسٹ دھڑوں میں ضرور منقسم رہا، لیکن سیاسی، سماجی اور نظریاتی سطح پر جدیدیت کے افکار بالاتفاق جدید مغرب کے رہنما افکار بنے رہے، جن کی دنیا بھر میں اشاعت اور نفاذ کے لیے ترسیل و اشاعت کے علاوہ ترغیب و تنفیذ کے تمام جائز و ناجائز طریقے اختیار کیے گئے۔ تیسری دنیا میں ایسے پٹھو حکمرانوں کو بٹھایا گیا جو عوام کی مرضی کے خلاف زبردستی ترقی کے جدید ماڈل ان پر تھوپنے پر مامور رہے۔ اسلامی دنیا میں خصوصاً اسلامی تہذیبی روایات کی بیخ کنی کو جدیدیت کا اہم ہدف سمجھا گیا۔ ترکی، تیونس اور سابق سوویت یونین میں شامل وسط ایشیا کے علاقوں میں مذہبی روایات سے مقابلے کے لیے ایک سخت ظالمانہ اور استبدادی نظام قائم کیا گیا۔

(سلسلہ جاری ہے)

حوالہ جات:

1. Nasr Seyyed Hossein (1993) A young muslim’s guide to the modern world; Cambridge university press p.156

2- بیکن کے افکار کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:

Bacon Francis (1863) Novum Organum Tr, James Spedding, Robert Leslie Ellis, and Douglas Denon Heath, Boston: laggard and Thomson [As availablein online library http://www.constitution.org/bacon/textnote.htm]

3۔ ڈیکارٹ کے خیالات کے لیے دیکھیے:

Descartes Rene (1983) Principles of Philosophy Trans. V. R. Miller and R.P. Miller. Doddrecht: D. Reidel

4۔ تھامس ہوبس کے افکار کی تفصیل کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:

Hobbes Thomas (2007) Leviathan online available at ebooks@adelaide, http://etext.library.adelaide.edu.au/h/hobbes/thomas/h681/

Updated on March 12 2007

5. Electronic Library

http://elab.eserver.org/hfl0242.html

6۔ والٹیر کےخیالات کے لیے ملاحظہ فرمائیے:

Voltaire Francois (1961) Philosophical letters translated by Emest N. Dilworth, New York: Macmillan

7۔ مانٹیسکیو کے نظریات کے لیے ملاحظہ کیجیے:

Montesquieu Baron de (1914), Secondat, Charles de, The Spirit of Laws Tr, by Thomas Nugent, London: G. Bell & Sons [As available at http://www.constitution.org/cm/sol/htm [

8. روسو کے تصورات کے لیے دیکھیے:

Rosseau Jean-Jacques (2004) Emile Tr. By Barbara Foxley online available at http://gutenberg.org/etext/5427

9۔ ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:

Smith Adam (2007) An inquiry into the nature and causes of the wealth of nations online available at http://metalibriincubadora.fapesp.br/portal/authors/aninquiryintothenatureandcausesofthewealthofnations#books

10۔ مارکسی فکر کے لیے کمیونسٹ مینی فیسٹو سب سے مستند سرچشمہ مانا جاتا ہے

Marx Karl and Engels Frederick (2006) The Communist Manifesto available at http://www.anu.edu.au/polsci/marx/classics/manifesto.html

پسندیدہ میں شامل کیجیے، ای میل کیجیے یا پرنٹ لیجیے
  • Digg
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google
  • LinkedIn
  • Live
  • Ma.gnolia
  • YahooMyWeb
  • Print this article!
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • E-mail this story to a friend!
  • TwitThis

کوئی متعلقہ تحریر نہیں



7 تبصرے برائے “ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 1”

  1. Jabar کا کہنا ہے:

    یہ وہ دور تھا، جب یورپ میں کلیسا کا ظلم اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ تنگ نظر پادریوں نے قدیم یونانی فلسفہ اور عیسائی معتقدات کے امتزاج سے کچھ خود ساختہ نظریات قائم کر رکھے تھے اور ان نظریات کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز کو وہ مذہب کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ شاہی حکومتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے انہوں نے ایک ایسا استبدادی نظام قائم کر رکھا تھا جس میں کسی بھی آزاد علمی تحریک کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی۔

    yahee soorit-e-haal aajkal aalam e Islam kee hai

    is ka matlab keah jitnee zaroorat hamain hai itnee kisee aur ku nahain..

  2. Jabar کا کہنا ہے:

    is ka matlab keah jitnee zaroorat jadeediat hamain hai itnee kisee aur ku nahain.

  3. ابوشامل کا کہنا ہے:

    درست فرمایا جناب، جدیدیت کی جتنی ضرورت ہمیں ہے شاید ہی کسی کو ہو۔ ہمارے مولوی طبقے کا حال بالکل قرون وسطٰی (middle ages) کے کلیسائی رہنماؤں جیسا ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم اپنے مذہب کو تمام شعبوں سے اس طرح بے دخل نہیں کر سکتے جس طرح یورپیوں نے نشاۃ ثانیہ کے عہد میں عیسائیت کو بے دخل کیا۔

  4. دوست کا کہنا ہے:

    پوسٹ تو لاجواب بلکہ پوسٹ کیا مقالہ ہے۔ لیکن فدوی اس لیے حاضر ہوا تھا کہ آپ کی اردو کوڈر پر ذرا ضرورت ہے ایک آدھ چکر لگا لیا کیجیے ہفتے میں۔ فی الحال اشد ضرورت ہے اس لیے جب یہ پڑھیں‌ تو تشریف لے آئیں۔
    urducoder.com

    دوست کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..بابا مشرف (مرحوم)

  5. اکبر لاکھو کا کہنا ہے:

    جناب
    میں نے اس قسم کی پہلی تحریر ہی پڑھی ہے۔ اس سلسلے کی اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔

  6. فیصل کا کہنا ہے:

    بہت اچھی کاوش ہے، معلوماتی بھی اور پر تحقیق بھی۔
    البتہ مجھے تھوڑا سا اختلاف ہے، مسلم سپین کے ساتھ یورپ کا واسطہ غالبآ گیارہویں صدی میں پڑا تھا، نہ کہ سترہویں یا اٹھارویں صدی میں‌۔ ان دونوں‌کے درمیان مصنف غالبآ یورپ میں‌قائم ہونے ولی اولیں‌یونیورسٹیوں کا ذکر بھول ہی گیا جو مسلمانوں‌سے میل ملاپ کا نتیجہ تھیں۔ ان کے قیام کت تین چار سو سال یا اس سے بھی زیادہ کے بعد کہیں‌ جا کر یورپ میں کلیسا کے خلاف تحریک اٹھی۔ گویا یہ کوئی بین الاقوامی سازش نہیں بلکہ ایک عمل کا رد عمل تھا جو کئی صدیوں‌میں‌پک کر تیار ہوا۔
    تیسری دنیا جیسی ہے، اپنی وجہ سے ہے۔ اگر یورپ یا امریکہ اسے اپنے رنگ میں‌ڈھالنا چاہتے ہیں‌تو غالبآ اسوجہ سے کہ انکے خیال میں‌بہترین راسطہ یہی ہے۔ انھیں اسلامی نظام کی گیرائی اور گہرائی کا اندازہ ہی نہیں‌اور ہو بھی کیسے کہ کہیں دکھائی بھی تو نہیں‌دیتا۔

    فیصل کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..همارا نیا نوکیا -١

  7. ابوشامل کا کہنا ہے:

    بالکل شاکر بھائی (دوست) یہ مقالہ ہی لگتا ہے لیکن میرا نہیں بلکہ ہندوستان کے سعادت اللہ حسینی صاحب کا ہے۔

    لاکھو صاحب! اگلی قسط پر کام کر رہا ہوں، انشاء اللہ جلد پیش ہوگی۔ انتظار کی زحمت پر معذرت خواہ ہوں۔

    فیصل بھائی! آپ کے سامنے بھی وضاحت کر دوں گا کہ یہ میری کاوش نہیں بلکہ ہندوستان کے سعادت اللہ حسینی صاحب کی ہے جو گزشتہ دو ماہ اقساط کی صورت میں ترجمان القرآن کے صفحات کی زینت بنی۔
    رہی آپ کی دوسری بات تو شاید آپ سمجھے نہیں مصنف نے یہ نہیں کہا کہ 17 ویں یا 18 ویں صدی میں یورپ میں مسلم عیسائی اختلاط ہوا بلکہ ان کا کہنا ہے یہ ہے کہ جدیدیت (modernism) کی تحریک دراصل 17 اور 18 ویں صدی میں بپا ہوئی۔ علاوہ ازیں مصنف کا مضمون یورپ پر مسلمانوں کے اثرات نہیں بلکہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی تحریک کا تعارف اور اس کے عالم اسلام پر پڑنے والے نتائج ہیں اس لیے یہ پورا مقالہ اسی موضوع کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ جلد دوسری قسط ملاحظہ کیجیے گا۔
    آپ کی آخری باتوں سے میں بالکل متفق ہوں کہ جدیدیت کی تحریک دراصل کلیسائی استبداد کے ردعمل کا نتیجہ تھی اور عالمی قیادت یورپ کی گود میں گرنے میں اس تحریک کا بہت بڑا کردار ہے۔ اور یہ بات بھی سولہ آنے سچ کہ جب تک اسلامی نظام عملی صورت میں ہمیں نظر نہیں آئے گا اس کے بارے میں تمام باتیں ہوا میں تیر ثابت ہوں گی۔ المیہ یہ بھی ہے کہ اسلامی نظام کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو طالبان کا تصور ذہن میں آتا ہے۔

تبصرہ کیجیے۔