اوپن سولارس

کمپیوٹر، اس کے پرزہ جات، سافٹ ویئر کے حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے معروف بین الاقوامی ادارے اور اوپن آفس سمیت دیگر معروف اوپن سورس سافٹ ویئرز کے خالق “سن مائیکرو سسٹمز” کے نئے اوپن سورس پروجیکٹ “اوپن سولارس” کا پہلا کارنامہ منظر عام پر آگیا۔

سن نے گنوم ڈیسک ٹاپ انوائرمنٹ کی حامل نئی لینکس ڈسٹرو “اوپن سولارس” (OpenSolaris) پیش کر دی ہے۔ اسے براہ راست (Live CD) بھی کمپیوٹر پر چلایا جا سکتا ہے۔

آپ یہ جدید لینکس ڈسٹرو اوپن سولارس کی ویب سائٹ پر یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور سب سے خاص بات کہ یہ محض چند لینکس ڈسٹروز میں سے ایک ہے جو مفت سی ڈی بھی فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے لیے اس صفحے پر جائیے اور Get Free Media کے ربط پر کلک کر کے فارم پُر کر لیجیے اور سی ڈی آپ کے گھر پر پہنچ جائے گی۔

اوپن سولارس اسکرین شاٹ

ایک وضاحت: یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر صارفین صرف سی ڈی منگوانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے بعد لینکس کے استعمال یا اسے مزید پھیلانے کا کام نہیں کرتے۔ اس لیے اگر یہ ارادہ ہے تو پھر اوپن سورس کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں میری گزارش ہے کہ سی ڈی ملنے کے بعد اس کی کاپیاں بنائیں اور زیادہ سے زیادہ دوستوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کریں، اس سے اوپن سورس کو ترویج ملے گی۔

June 09, 2008 10:13 am | لینکس نامہ

5 تبصرے برائے ”اوپن سولارس“

  1. راہبر بتاریخ 09 Jun 2008 بوقت 12:42 pm #

    واہ۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔ دھڑادھڑ تجربات ہورہے ہیں۔ :razz:
    راہبر کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..پھر ملیں گے

  2. محمد شاکر عزیز بتاریخ 09 Jun 2008 بوقت 4:09 pm #

    ابوشامل اوپن سولارس لینکس نہیں‌ بلکہ لینکس جیسا ہے۔ بنیادی طور پر ونڈوز کے علاوہ پائے جانے والے اکثر آپریٹنگ سسٹم یونکس شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ کسی زمانے میں ایک ہی ہوا کرتے تھے پھر مختلف کمپنیوں‌ نے اپنے یونکس جاری کرنا شروع کردئیے۔ لینکس بھی یونکس کی طرز پر لکھا گیا تھا لیکن یہ اوپن سورس ہے۔ ایپل مینکنٹوش کو بھی ایک یونکس ہی گنا جاتا ہے لیکن یہ ونڈوز کی طرف ملکیتی مال ہے، حقوق محفوظ اور قیمت دے کر خریدیں۔ سن کا آپریٹنگ سسٹم بھی کچھ ایسی ہی چیز ہے لیکن یہ لینکس سے بہت مختلف ہے۔ اسے سن مائیکروسسٹمز نے کچھ ہی عرصہ پہلے شدھی کیا ہے پہلے یہ ملکیتی مال ہی تھا۔ اس کا کرنل لینکس کرنل سے خاصا مختلف ہے۔ مواجہ البتہ گنوم یا کے ڈی ای کچھ بھی ہوسکتا ہے چونکہ یہ بنائے ہی اس طرح جاتے ہیں کہ ہر یونکس جیسے سسٹم پر چل سکیں۔ اوپن سولارس میں سن کی جاوا ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی ہے۔
    وسلام

  3. فیصل بتاریخ 09 Jun 2008 بوقت 7:43 pm #

    اچھی خبر ہے، صارفین کو ونڈوز کے علاوہ بھی کچھ دیکھنے اور آزمانے کو ملے گا اور پھر یہ تو بڑی دیوہیکل کمپنی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ویب ٹو کی وجہ سے چونکہ آپریٹںگ سسٹً کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ان لوگوں‌ نے اسے مفت جاری کیا ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر قیمتآ مہیا کرتے تو کوئی لیتا ہی نہ۔ بہر حال جو بھی ہے، میں‌تو اسے آزما کر دیکھوں گا گرچہ ابنٹو چھوڑںے کا ارادہ نہیں‌فی الحال۔

    فیصل کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..رین لینڈر- ایک اچھا ڈیسکٹاپ کیلنڈر

  4. راشد کامران بتاریخ 09 Jun 2008 بوقت 9:32 pm #

    یہ آپ نے اچھی خبر دی ۔۔ اور مفت سی ڈی کی تو کیا ہی بات ہے ۔۔ دو سے چار دن میں انشاء اللہ مل جائے گی۔۔ آپ نے درست فرمایا کے زیادہ سے زیادہ اوپن سورس کی طرف لوگوں‌کو راغب کریں‌ تاکہ پائیریسی کا بھی خاتمہ ہو اور کمرشل سافٹ ویر بنانے والوں کو بھی کچھ مقابلے کا سامنا ہو۔

    شاکر عزیز صاحب کی بات درست ہے ۔۔ سولارس دراصل مکمل یونکس ہے جبکہ لائنکس ، منکس کا کلون ۔۔ یونکس کے چاہنے والوں‌کے لیے سولارس ہمیشہ سے پسندیدہ آپریٹنگ سسٹم رہا ہے ۔۔ گو کے استعمال میں‌تقریبا ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن پھر بھی فائل سسٹم اور دوسری چیزوں میں‌کچھ فرق نظر آئے گا۔

    راشد کامران کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..اگلے جنم موہے “سوکن“ نہ دیجو

  5. ابوشامل بتاریخ 11 Jun 2008 بوقت 8:48 am #

    شاکر بھائی ہم رہے لینکس بچونگڑے ونڈوز اور میک کے علاوہ سب کو لینکس سمجھتے ہیں :grin: بہرحال آپ نے معلومات میں بہت اچھا اضافہ کیا، آئندہ احتیاط برتیں گے۔
    ——————
    فیصل بھائی اوبنٹو کا نشہ ایسا ہے کہ اگر شاعر زندہ ہوتے تو یہ اوبنٹو کے لیے کہہ جاتے کہ:
    چُھٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی !
    ——————
    راشد بھائی! مفت سی ڈی کا آپشن ہی تو اسے دیگر موجود لینکس سے ممتاز کر رہا ہے اس لیے اس پر تبصرہ کر کے یہ “اطلاع” دینا ضروری سمجھا۔

ٹریک بیک | آر۔ایس۔ایس تبصرے

تبصرہ کریں