04.20نیشنل بلاگرز کانفرنس 2009
جب برادر شعیب صفدر نے مطلع کیا کہ مورخہ 18 اپریل 2009ء کو حکومت سندھ کے زیر اہتمام نیشنل بلاگرز کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے تو جہاں ایک جانب خوشی ہوئی کہ بالآخر بلاگرز کو سرکاری سطح تسلیم کیا جا رہا ہے وہیں اردو بلاگنگ کا موقف پیش کرنے کے لیے ایک پریزنٹیشن کی تیاری کے “حکم” نے پریشانی سے دوچار کر دیا۔ لیکن اس سلسلے میں نعمان یعقوب نے جس مہارت کا ثبوت دیا اور اردو بلاگنگ پر پریزینٹیشن بنانے کے لیے مواد ترتیب دیا اور بڑی محنت سے اس کے مختلف فوائد اور پہلوؤں کو سامنے لے کر آئے، اس نے پریزینٹیشن کو حتمی شکل دینے میں بھرپور مدد دی۔ اس سلسلے میں کوتاہیاں اور خامیاں ضرور رہی ہوں گی لیکن ہم نے خلوص دل اور اپنی بساط کے مطابق بھرپور محنت کر کے اردو کا مقدمہ پیش کرنے کی کوشش کی۔
میں ہفتہ کے روز ہی اس کانفرنس کے حوالے سے ایک تحریر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن گزشتہ دو روز سے بجلی نے مہلت ہی نہ دی کہ اس پر کام کرپاتا۔ اس لیے آج تاخیر سے اس کو مکمل کر رہا ہوں۔
اردو بلاگرز کانفرنس 18 اپریل 2009ء کو شام 4 بجے طے تھی لیکن سرکاری پروگرام ہونے کے باعث اس کا آغاز دیر سے ہی ہوا۔ پروگرام میں ایک چیز جو بہت زیادہ ناگوار گزری وہ ناقص کمپیئرنگ اور دوسری بلاگنگ سے غیر متعلقہ کاموں پر زیادہ وقت ضائع کرنا تھی۔ گو کہ ماما پارسی اسکول کی 11 سالہ عمیمہ کے کارنامے کو اعلیٰ سطح پر سراہے جانے کو ضروری سمجھتا ہوں لیکن اس میں کافی وقت ضائع کیا گیا جس سے بلاگرز کو کم وقت ملا۔ تقریب کے آغاز میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے جس میں بلاگرز کے لیے سرکاری سطح پر کوئی تقریب منعقد کی گئی ہو۔
صوبائی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب کراچی کے ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں منعقد کی گئی۔ میزبانی کے فرائض رابعہ غریب اور علی چشتی نے انجام دیے۔ اس موقع پر تقریب کے روح رواں صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی رضا ہارون بھی موجود تھے۔ معروف انگریزی کالم نگار اردشیر کاؤس جی اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار مہمان خصوصی تھے۔
معروف و اہم بلاگرز جنہوں نے بلاگنگ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اور اپنے تجربات دیگر بلاگرز کے سامنے رکھے، ان میں جہاں آراء، راجا اسلام، عواب علوی، عمار یاسر، رملہ اختر اور ہمارے عمار ابن ضیاء شامل تھے۔ میں میزبان علی چشتی کا اس امر پر تو شکر گزار رہوں گاکہ انہوں نے مہمان خصوصی کو مزید تقریباً 7 یا 8 منٹ بیٹھنے کی “زحمت” دی تاکہ وہ اردو بلاگستان کی افادیت و اہمیت کے حوالے سے چند الفاظ سنتے جائیں، تاہم قومی زبان کی حیثیت سے اگر اُسے 5 منٹ مزید بھی دے دیے جاتے تو میرا نہیں خیال کہ اس سے مہمان خصوصی کی نازک طبیعت پر کچھ گراں گزرتا۔ عمار نے بہت بہت کم وقت میں اردو بلاگنگ کا مقدمہ جس انداز میں پیش کیا وہ اس کی صلاحیتوں کا عکاس تھا۔ گو کہ ہمیں پریزینٹیشن مکمل نہیں کرنے دی گئی، غالباً وقت کی کمی مہمان خصوصی سے زیادہ انتظامیہ کو گراں گزر رہی تھی، اس لیے اسے جلد از جلد لپیٹنے کی کوشش کی گئی
بہرحال اردو کا مقدمہ پیش کرنے کے حوالے سے عمار نے جن پہلوؤں کو اجاگر کیا وہ یہ تھے:
* پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد اردو میں معلومات چاہتی ہے۔ اس کا واضح اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین سب سے زیادہ اردو اخبارات، نیوز چینلز کی ویب سائٹس وغیرہ دیکھتے ہیں اور اعداد و شمار بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اردو میں مواد کی طلب انگریزی کی نسبت بہت زیادہ ہے۔
* پاکستانی نوجوان انٹرنیٹ کے حقیقی فوائد سمیٹنے میں ناکام رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ان کے اظہار کی زبان میں مواد موجود ہی نہیں۔
* پاکستان کے اہم انگریزی بلاگز کے نام تک اردو میں ہیں اور وہ جابجا اردو اشعار، محاورے، اصطلاحات وغیرہ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستانیت، چورنگی، بیٹھک، سوچ، وطن دوست، لاہور نامہ، جہان رومی وغیرہ۔
علاوہ ازیں نعمان نے انگریزی بلاگنگ کے حوالے سے عام مفروضوں پر بھی نکات پریزینٹیشن میں شامل کیے۔ مثلاً:
* ایک عام خیال ہے کہ انگریزی میں لکھ کر آپ غیر ملکی میڈیا کی توجہ زیادہ حاصل کرسکتے ہیں اور گلوبل ولیج میں رہتے ہوئے ساری دنیا کے ساتھ اپنے خیالات بانٹ سکتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی انگریزی بلاگ ایسا نہیں جس پر تبصرہ کرنے والے اور جس کے پڑھنے والوں میں دس فیصد بھی غیر ملکی ہوتے ہوں۔
* پاکستان کے مقبول ترین انگریزی بلاگز کے نوے فیصد سے بھی زیادہ قارئین پاکستانی یا پاکستانی نژاد غیر ملکی ہوتے ہیں اور ان کی اکثریت نہ صرف اردو پڑھ اور لکھ سکتی ہے بلکہ شاید کئی اردو لکھنے والوں سے زیادہ اچھی اردو لکھ سکتی ہے۔
* “سوچ کی زبان” کو “اظہار کی زبان” بنانے کی دلیل بھی دی گئی۔ کہ کچھ پاکستانی انگریزی بلاگرز کی انگریزی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جملوں کو پہلے اردو میں ترتیب دیا گیا ہے اور پھر انہیں ترجمہ کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ انگریزی کافی بوجھل معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ اردو میں سوچے گئے خیال کی صحیح ترجمانی نہیں کرپاتی۔
* علاوہ ازیں چند اردو بلاگرز کا ذکر بھی وہاں کیا گیا جو اس عام مفروضے کو ختم کرنے کے لیے تھا کہ لوگ اردو میں اس لئے نہیں لکھتے کہ انہیں کم پڑھا لکھا سمجھا جائے گا۔ اس مفروضے کے توڑ کے لیے زکریا اجمل، شاہ فیصل، رضا رومی، راشد کامران اور دیگر اردو بلاگرز کے حوالے دیے گئے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اردو میں بلاگنگ کرتے ہیں۔
* پھر کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے حوالے سے مشکلات کے مفروضے کو چند جملوں میں توڑنے کی کوشش کی گئی کہ کمپیوٹر پر اردو لکھنا اتنا ہی آسان ہے جتنا انگریزي لکھنا۔
وقت کی کمی کے باعث بہت سارے نکات پر ہم اپنا موقف سامنے نہ لا سکے کیونکہ ہمیں قبل از وقت پریزینٹیشن ختم کرنے کا کہا گیا، جو بہرحال ہمارے لیے مایوس کن تھا، تاہم اتنا بھی کافی تھا کہ ہم کم از کم سرکاری سطح پر اردو بلاگنگ کی موجودگی تسلیم کرانے اور اسے کراچی کے کئی معروف بلاگرز کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
جو نکات ہم کانفرنس میں پیش نہ کرپائے ان میں اردو بلاگنگ کو مقامی میڈیا کی جانب سے مکمل نظر انداز کرنے کے شکووں کے ساتھ ساتھ گوگل اشتہارات بھی نہ ملنے کے دکھڑے شامل تھے۔ علاوہ ازیں اردو بلاگنگ پر اکسانے کے لیے چند سوالات تھے جن میں ایک بڑی ریڈرشپ اور مارکیٹ کی ترغیب دی گئی جو اردو میں اچھے مواد کی منتظر ہے اور آخر میں اردو بلاگنگ میں ہونے والی پیشرفت اور کمیونٹی کے کارناموں ، جیسے ورڈ پریس، تھیمز، پلگ انز کے ترجمے اور دیگر، کو پیش کیا جانا تھا۔
متعلقہ تحاریر
- تصویر کہانی قومی بلاگرز کانفرنس کی ایک ان سنی اور ان کہی...















شکریہ فہد بھیا میں بھی اپنا کام تقریباً مکمل کرچکا ہوں آپ ملاحظہ کیجے گا۔ والسلام
April 20th, 2009 بوقت 12:21 pm
کیا کار نامہ انجام دیا ہے اس بچی نے؟
April 20th, 2009 بوقت 12:23 pm
11 سالہ عمیمہ نے مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل سند حاصل کی ہے۔
April 20th, 2009 بوقت 1:07 pm
شاباش
کسی نے کہا تھا کہ اُس ملک کا کیا ہو جس کی قومی زبان اس ملک میں اجنبی کا سلوک پاتی ہے ۔
اگر آپ شروع میں اور پھر درمیان میں کہیں کہیں الطاف بھائی ۔ حق پرست اور قوم کے خادم قسم کے فقرے بولتے رہتے تو تیس منٹ آرام سے تقریر کر سکتے تھے ۔ آپ نے بے رنگ سی تقریر کر دی ۔ ایسی تقریر ہمارے ملک میں کون سنتا ہے ۔ ایک اور بھی طریقہ ہے کہ آپ شروع میں کہہ دیتے کہ تقریر کے آخر میں آپ ایک رنگا رنگ پرو گرام کی تفصیل بتائیں گے جو آپ منعقد کرنے والے ہیں پھر بھیلمبی تقریر ہو سکتی تھی
میں روؤں یا پاگلوں کی طرح قہقہے لگاؤں
کوئی ہے جو بتائے مجھے میں کدھر جاؤں ؟
April 20th, 2009 بوقت 4:20 pm
صاحب ہم نے بلاگ اپ ڈیٹ کردیا ہے ، تشریف لائیں، مزید یہ کے اردو محفل میں بھی مکمل روداد لگا دی گئی ہے ربط ہمارے دستخط میں مل جائے گا۔ مکمل عکسی رنگین
http://naatiqa.blogspot.com/2009/04/blog-post_20.html
اظہاریہ نویسوں کا قومی اجتماع ۲۰۰۹
April 20th, 2009 بوقت 4:46 pm
بھاگتے چور کا لنگوٹ اتارنے والی بات ہے.. اس سے تو گوگل والوں کی کانفرس زیادہ بہتر تھی کہ اس پر بلاگنگ پر تو زور تھا..
April 20th, 2009 بوقت 8:18 pm
[...] کے بارے میں دیگر بلاگرز کی تحاریر: شعیب صفدر ابوشامل م۔م۔ مغل ڈاکٹر عواب علوی کراچی میٹرو بلاگ عمار فیصل کے [...]
April 21st, 2009 بوقت 10:40 am
بلاگرزکانفرنس کا انعقاد ایک جانبدارانہ پلیٹ فارم اور ماحول میں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کہ غیر مناسب اقدام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے ایسے شکوک شبہات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیدا ہوتے ہیں کہ کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلاگنگ اور بلاگرز۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاسی طور پر استعمال تو نہیں ہونے جارہے؟؟؟؟؟؟؟
ہونا یہ چاہئے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاگرز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسوسی ایشنز بنائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مقامی،صوبائی، قومی و بین الاقوامی کانفرنسز کا خود انعقاد کیجئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
April 21st, 2009 بوقت 9:40 pm
آپ سب مبارکباد قبول کیجئے، جس محنت اور نیک نیتی سے اپنا مقدمہ آپ لوگوں نے پیش کیا وہ لائق تعریف ہے۔ انشااللہ مستقبل میں بھی ایسا ہوتا رہا تو معیار بھی بہتر ہو جائے گا اور اردو بلاگرز کی منفرد پہچان بھی بنے گی۔
ویسے آپ نے مجھے اعلیٰ تعلیم یافتہ کیسے سمجھ لیا؟ پہلے پوچھ لیتے تو غلط فہمی دور کر دیتا
April 23rd, 2009 بوقت 12:30 am
تمام احباب کا تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔
افتخار صاحب! قومی زبان کے لیے گفتگو کا تھوڑا بہت وقت مل گیا یہی احسان عظیم رہا، اگر ہمیں منع کر دیتے تو ہم نے کیا بگاڑ لینا تھا سرکار کا۔
مغل صاحب! اپ ڈیٹ کرنے اور رودار پیش کرنے کا بہت شکریہ۔
مکی بھائی! آپ کی غیر حاضری کا بہت افسوس ہوا۔ مال غنیمت میں جو لنگوٹ ملا ہے اس میں آپ کا بھی حصہ ہے، کب لیں گے؟
حکیم صاحب! میں دیگر بلاگز پر بھی ذکر کر چکا ہوں کہ ہم نے مکمل نیک نیتی کے ساتھ صرف اور صرف اردو بلاگز کی تشہیر و ترویج کے لیے یہ قدم اٹھایا جو میرے خیال میں سرکاری تقریب سے بہت کہیں نہیں ہو سکتی تھی۔ 500 لوگوں کے سامنے ہم نے تقریباً 8 منٹ تک اردو بلاگنگ کے بارے میں پریزینٹیشن پیش کی جو یقیناً اس حوالے سے راہ ہموار کرے گی۔ باقی اس بات سے بے فکر رہیں کہ بلاگرز کسی کے لیے استعمال ہوں گے۔ کسی کے مقاصد کچھ بھی ہوں بلاگرز اپنی تحریر کے سلسلے میں آزاد منش ہوتے ہیں۔ بلاگرز کی کوئی انجمن تو نہیں ہے لیکن چند ماہ قبل بلاگرز اپنے بل بوتے پر کراچی اور مختلف شہروں میں اِس سرکاری تقریب سے کہیں زیادہ اچھی کانفرنسیں منعقد کر چکے ہیں۔
فیصل صاحب! خیر مبارک۔ کام تو اس سے کہیں زیادہ بہتر ہو سکتا تھا، بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے لیکن عین ان دنوں میں جو مصروفیات آڑے آئیں انہوں نے کافی متاثر کیا۔ ان شاء اللہ اگلی مرتبہ بہت زیادہ بہتر انداز میں اردو بلاگنگ کی تشہیر کریں گے۔ ویسے آپ کی نظر میں اعلیٰٰٰ تعلیم یافتہ کا معیار کیا ہے حضور؟
April 23rd, 2009 بوقت 9:22 am