11.13احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
گزشتہ چند ماہ سے خالی الذہنی کی کیفیت طاری ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ معاملات پر گرفت، جداگانہ سوچ، فوری تبصرے، فی البدیہہ جملے اور وہ سب جو کبھی میری شخصیت کا خاصہ تھا، نجانے کیوں یکدم بکھرنے لگا ہے۔ حالت یہ ہے کہ جب کسی موضوع پر انتہائی توجہ اور غور سے نہ سوچوں اس حوالے سے کچھ ذہن میں نہیں آتا۔ بھول جانے کی عادت میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن یہ سب کیوں ؟؟؟؟
کچھ دنوں اس پر کافی غور کیا۔ غورو فکر سے جو نتیجہ نکلا کہ وہ یہ تھا کہ زندگی بہت زیادہ مشینی رخ اختیار کر گئی ہے اور ہر معاملے پر مشینی انداز میں سوچ نے دماغ کی فطری خصوصاً تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ اسی غور و فکر کے دوران اچانک علامہ اقبال کا شعر یاد آ گیا۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
شعر تو بہت سادہ سا ہے، مجھ جیسے اردو سے نابلد افراد کے لیے بھی سمجھنا چنداں مشکل نہیں لیکن اس سے کیا کیا مفاہیم نکلتے ہیں، اور اس میں علامہ کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں، موجودہ ذہنی حالت کے پیش نظر اسے سمجھنے میں دقت کا سامنا تھا، سو استاد محترم سے رابطہ کیا کہ کیا فرماتے ہیں علامہ اس شعر میں؟
جواباً فرمایا: کہ مشین کے تین خصائص ہیں (1) رفتار (2) تکرار (3) شور
علامہ دل کو وجودِ انسانی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ انسانی دل ایک مخصوص رفتار و ردھم کا حامل ہے۔ جدید مشینری سے قبل وہ تمام تر آلات جو انسان استعمال میں لاتا رہا ہے انسانی دل کی رفتار سے مکمل ہم آہنگ تھے لیکن جدید مشینوں کی رفتار اور ردھم کہیں زيادہ تیز تھا جس کی وجہ سے انسان اور مشینوں کے درمیان موجود ہم آہنگی کا خاتمہ ہو گیا اور انسان مشین کی رفتار سے کام کرنے پر مجبور ہو گیا۔ جیسے جیسے وہ مشین کی رفتار سے ہم آہنگ ہوتا گیا ویسے ویسے وہ انسانی خصوصیات سے محروم ہوتا چلا گیا۔ تعلق، محبت، مروت اور اس جیسے جذبے کمزور پڑتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ انسان خود ایک مشین بن کر رہ گیا۔ یہ رفتار کے عذاب کے نقصانات ہیں جو نوعِ انسانی کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
دوسرا عذاب “کام کی تکرار” بھی انسان پر مسلط کر دیا گیا۔ تکرار و یکسانیت تخلیقی صلاحیتوں کے لیے موت ثابت ہوئیں۔ مشینوں سے قبل انسان کے کام میں تنوّع، ہنر اور ذات کا اظہار جھلکتا تھا اور اس سے انسانی شخصیت مستقل ارتقا پذیر رہتی تھی۔ انہوں نے کتابت اور کمپوزنگ کی مثال بھی پیش کی کہ کتابت میں تنوع، ہنر اور ذات کا اظہار جھلکتا تھا لیکن کمپوزنگ میں صرف رفتار، تکرار اور ایک ہی طرح کی تکنیکی مہارت ہے جو رفتہ رفتہ مشینی ہوجاتی ہے اور صرف ایک عادت بن کر رہ جاتی ہے۔ (اس کا تجربہ کمپیوٹر سے قریبی تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کو ہوگا)
باقی رہا شور کہ وہ انسانی ذہن، جذبات، احساسات اور اعصابی نظام پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ اس کا ذاتی زندگی میں ہمیں بار ہا تجربہ ہوتا رہتا ہے، یعنی کار کا تیز ہارن ہمارے حواس کے ساتھ کیا کرتا ہے، یہ سامنے کی بات ہے۔
آخر میں فرمایا: اقبال کی مجبوری تھی کہ وہ مصرعے میں صرف ایک لفظ یعنی مروت ہی استعمال کر سکتے تھے، یہ نہ ہوتا تو اس کی جگہ کوئی دوسرا لفظ ہوتا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مشینوں کی حکومت صرف مروت ہی کو نہیں بہت سی قیمتی چیزوں کو کچل دیتی ہے۔
اس لیکچر کے بعد اب کچھ راہیں تو کھلی ہیں، لیکن اس مشینی عذاب سے بڑی حد تک چھٹکارا پانے کی سعی ناکام ہی ثابت ہوئی ہے۔ اس حوالے سے اگر قارئین مفید تجاویز و اپنے تجربات بیان کریں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔
کوئی متعلقہ تحریر نہیں















اب تو جکڑے گئے ہم مشینوں میں
اب چھٹکارا مشکل ہو گیا ہے
ہم لوگ تو موبائیل کے بغیر ہی نہیں رہ سکتے دوسری مشینیںتو دور کی بات ہیں
November 13th, 2008 بوقت 3:32 pm
آپ کے استد محترم نے جامع تجزیہ کیا ہے ۔ انسان کا مشینی جھکاؤ اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ انسانیت سسکنے لگ گی ہے ۔ ھنر دم توڑ رہا ہے ۔ بے پناہ ترقی کے دعویدار دراصل تنزل کی طرف رواں دواں ہیں ۔ اللہ سے دوری بھی مشینی دور کا ایک تحفہ ہے
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..جتھے آوے دا آوا ای وگڑیا ہوے
November 13th, 2008 بوقت 3:33 pm
مشینوں سے چھٹکارا بہت مشکل ہے.. اب ہم بھی مشین بن چکے ہیں.. چنانچہ ہمارا ان کے بغیر اب گزارہ بھی نہیں..
مکی کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..جی میل میں آڈیو ویڈیو چیٹ
November 13th, 2008 بوقت 7:30 pm
گویا مشین خود بری نہیں اسکی حکومت بری ہے چناچہ ہم اگر مشینوں کے حکمران بن جائیں تو معاملہ سلجھ سکتا ہے
جناب آج کل تو آپ مکمل طور پر غائب ہیں۔۔ کہیں مشینوں کے خلاف اعلان جنگ تو نہیں کررکھا آپ نے؟
راشد کامران کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..چھوٹی سی بات
November 13th, 2008 بوقت 11:04 pm
تبصرہ نگاران کا بہت شکریہ۔
راشد بھائی! وجہ شاید میں نے اس تحریر کی ابتداء میں ہی لکھ دی ہے۔ یہ نشیب و فراز بلاگنگ میں آتے رہتے ہیں۔
November 14th, 2008 بوقت 9:37 am
یہ بات تو میں نے بھی نوٹ کی ہے کہ زیادہ دیر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنے سے دماغ بالکل بند ہو جاتا ہے، بندہ بھلکڑ ہو جاتا ہے اور دماغی صلاحیت میں کمی ہو جاتی ہے۔
قدیر احمد کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..کُوچی کُوچی ۔۔۔
November 14th, 2008 بوقت 10:13 am
بہت اچھے فہد بھائ آپ کے استاد تو پہنچے ہوئے ہیں اس شعر کا اتنا واضح مفہوم میں آج تک نہ سمجھ سکا تھا۔
بہت شکریہ
November 15th, 2008 بوقت 11:41 am
آپ کی بات درست ہے کہ بندہ کمپیوٹر میں محفوظ کرتے کرتے اپنے دماغ میںمحفوظ کرنا بھول جاتا ہے گزشتہ کچھ دنوں سے میں بھی اپنی ہی سائٹس کا پاسورڈ بھول رہا ہوں

ویسے اس میں دماغ کا کچھ زیادہ ہی استعمال کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ہر سائٹ پر ایک نیا پاسورڈ ہے
عبدالقدوس کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..موجاں ای موجاں
November 17th, 2008 بوقت 7:05 am
دیکھ لیں قدیر بھائی، اقبال یہ بات اس وقت کہہ گئے ہیں جب کمپیوٹر کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
خاور بھائی! استاد تو واقعی بہت پہنچے ہوئے ہیں، آپ بھی ان سے کافی متاثر ہیں، یہ بات مجھے معلوم ہے۔
عبد القدوس بھائی، بالکل یہی انحصار والی کیفیت ہی روح و دماغ پر مردنی چھانے کا باعث ہے۔ انسان سست الوجود ہو جاتا ہے اور یہی کیفیت “دل کے لیے موت” کا باعث بنتی ہے۔ تبصرے کا شکریہ۔
November 17th, 2008 بوقت 12:15 pm