06.18جادہ و منزل
“معالم فی الطریق” سید موصوف کی آخری تصنیف ہے۔ جس میں ان کی نئی تحریروں کے ساتھ کچھ پرانی تحریریں بھی ترمیم و اضافہ کے بعد شامل کی گئی ہیں۔ اس کتاب کو ہم “جادہ و منزل” کے نام سے اردو دان احباب کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ یہی وہ کتاب ہے جس نے سید قطب کو تختۂ دار تک پہنچایا ہے۔ جہاں تک سید قطب کی انقلابی شخصیت اور تحریکی جوش و ولولہ کا تعلق ہے۔ بے شک اس میں وہ اپنے دور کے چند گنے چنے لوگوں میں سے ہیں۔ جب مصر میں فوجی انقلاب برپا ہوا تھا اس میں سید قطب نے جو کردار ادا کیا تھا اس کی بنا پر بعض مصری مصنفین نے ان کو “انقلابِ مصر کا میرابو” کا لقب دیا ہے۔ “میرابو” سے ان کا اشارہ اس فرانسیسی رائٹر کی طرف ہے جو فرانس کے اندر جاگیرداری اور استبداد کے خلاف انقلاب برپا کرنے کے لیے عوام کو اکساتا رہا ہے۔ سید قطب کی کتاب “معرکۃ الاسلام و الراسمالیۃ” میں یہ انقلابی روح صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ اور یہ اس دور میں لکھی گئی ہے جب وہ تمام بڑے بڑے جغادری جو اس وقت “اشتراکیت” اور “مساوات” اور اسی نوعیت کے دوسرے نعروں سے ہنگامہ نشور برپا کیے ہوئے ہیں منقار زیرِ پر تھے۔ “معالم فی الطریق” میں انہوں نے اسلامی نظریہ اور اسلامی تنظیم کے بنیادی خدوخال بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کی پوری اسکیم جس بنیادی نقطہ پر مرکوز ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح اسلام کے صدر اول میں اسلامی معاشرہ ایک مستقل اور جداگانہ معاشرے کی صورت میں ترقی و نمو کے فطری مراحل طے کرتا ہوا بام عروج کو پہنچا تھا اسی طرح آج بھی ویسا صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں لانے کے لیے اُسی طریقِ کار کو اختیار کیا جانا لازم ہے۔ اس اسلامی معاشرے کو ارد گرد کے جاہلی معاشروں سے الگ رہ کر اپنا تشخص قائم کرنا ہوگا۔
یہ اسی کتاب “معالم فی الطریق” کے اردو ترجمہ “جادہ و منزل” کے میں کتاب کے وہ تعارفی الفاظ ہیں جو کتاب اور مصنف کے تعارف کے ضمن میں ادا کیےگئے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو اسی وقت تہیہ کر لیا کہ اس کتاب کو برقیانے کا کام ضرور کروں گا۔ ماہ اپریل کے اوائل میں اردو محفل پر اس سلسلے میں گفتگو کا آغاز کیا اور دو انتہائی شفیق دوستوں نے اس ضمن میں مدد کی یقین دہانی کرائی اور بعد ازاں عملی طور پر اس میں حصہ لیا اور صرف 25 دنوں کے عرصے میں 436 صفحات کی اس کتاب کی کمپوزنگ کا مرحلہ طے پا گیا۔
اب اس کے تکنیکی و پروف ریڈنگ کے اہم مراحل باقی تھے۔ اس پوری کتاب کو ایک فائل میں بند کرنا گویا “دریا کو کوزے میں سمانا” تھا اس لیے اس کی تیاری کے دوران پوری کوشش رہی کہ اس فائل کا حجم کم سے کم رہے اور اسی لیے صرف ایک فونٹ “نفیس ویب نسخ” کااستعمال کیا گیا ہے اور قرآنی آیات کے لیے خوبصورت سے خوبصورت فونٹس کی موجودگی کے باوجود کسی دوسرے فونٹ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ نفیس ویب نسخ کو بھی اس فائل کے اندر embed کر دیا گیا ہے تاکہ وہ صارفین جن کے کمپیوٹر پر یہ فونٹ نصب نہیں، بھی اس کتاب سے استفادہ حاصل کر سکیں۔
مجھے امید ہے کہ تمام دوستوں کو یہ کاوش پسند آئے گی لیکن بحیثیت انسان غلطی ہر شخص سے ہو سکتی ہے اس لیے اس برقی کتاب میں ہجے اور املاء کے علاوہ خاص طور پر کچھ تکنیکی غلطیاں ضرور ہوں گی اور وہ تمام افراد جن پر یہ غلطیاں ظاہر ہوں اس کے بارے میں مجھے مطلع کریں تو میں بہت مشکور ہوں گا اور اس غلطی کو فوری طور پر درست کردوں گا۔
آخر میں تمام اراکین سے التماس ہے کہ اس کتاب کے مصنف سید قطب شہید اور مترجم خلیل احمد حامدی صاحب کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں اور دعاؤں میں اس ناچیز اور کتاب کو برقیانے میں مدد دینے والے دیگر ساتھیوں کو بھی یاد رکھیں
“جادہ و منزل” کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے:
کوئی متعلقہ تحریر نہیں















سبحان اللہ کیا بڑھیا کام کیا ہے آپ نے۔ خدا سب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آپ کو اس طرحکے مزید کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
June 18th, 2008 بوقت 6:17 pm
اتنی صفائی سے تیار کی گئی اس برقی کتاب کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ اس پر محنت کرنے والے تمام حضرات کا شکریہ۔
June 18th, 2008 بوقت 11:39 pm
میرا پاکستان! دعاؤں کا بہت شکریہ، انشاء اللہ اب یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
شارق بھائی! آپ کو بلاگ پر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ کتاب کی پسندیدگی کا بہت شکریہ
June 19th, 2008 بوقت 12:01 pm
خزاک اللہ خیرً
اجمل کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..میری کمزوریوں سے فائدہ
June 22nd, 2008 بوقت 4:29 pm