05.12عالمی غذائی بحران
کیا دنیا ایک بحرانی دور میں داخل ہو چکی ہے؟ جس میں ایک بحران سے قبل دوسرا بحران جنم لے رہا ہے، کیا یہ عالمی قوتوں معاشی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے یا سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی خرابیاں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں؟
تیل کے بڑے بحران کے باعث محض گزشتہ چند سالوں میں تیل کی قیمت 25 ڈالرز سے 120 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز چکی ہے (تادمِ تحریر 124 ڈالرز فی بیرل سے زائد)۔ حالانکہ ان قیمتوں میں ابھی اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے لیکن پھر بھی قیمت 105 سے 120 ڈالرز کے درمیان ہی گردش کر رہی ہے اور جیسے جیسے یہ بحران سنگین تر ہو تا جا رہا ہے لگتاہے کہ اگلے چند سالوں (یا اگلے ہی سال میں) تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچے گی۔ دیگر وجوہات کے علاوہ چین اور بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی اس بحران کو مزید گمبھیر صورتحال سے دوچار کر سکتی ہیں کیونکہ ان کی تیل و گیس کی ضروریات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی معیشتیں ترقی کے جس مرحلے پر ہیں اُس مقام پر وہ کسی بحران کے محتمل ہو بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ انہیں شاہراہِ ترقی پر اپنے سفر کو تیز تر بنانا ہے۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں اپنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام جائز طریقوں کے علاوہ اب ناجائز ہتھکنڈوں پر بھی اتر آئی ہیں جس کی واضح مثال افغانستان و عراق پر امریکہ و برطانیہ اور اتحادی ممالک کی چڑھائی ہے جس کے ڈانڈے بہرصورت تیل ہی سے جا کر ملتے ہیں۔
تیل کی یہ کہانی اتنی زیادہ زور پکڑ گئی کہ اس دوران جتنے بھی دیگر نسبتاً چھوٹے بحرانات سامنے آئے وہ زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکے اور حقیقت تب آشکار ہوئی جب جن بوتل سے باہر آ چکا تھا۔ ان بحرانوں میں سب سے سنگین نوعیت کا بحران ہے “عالمی غذائی بحران”۔
اس بحران کی سنگینی کا اندازہ گزشتہ دنوں اخبارات میں شائع ہونے والے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کے بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ “سستی غذا کا دور” اپنے خاتمے پر ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے یہ بیان اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا کے دو تہائی غریب ایشیا میں بستے ہیں۔
اس بحران نے نہ صرف یہاں کہ ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے وہیں عوامی قوتِ خرید بھی روز بروز گھٹتی جا رہی ہے۔ غذائی بحران اس لیے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ وہ اضافی آمدنی جو عوام اپنے طرزِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعما ل کر سکتے تھے، وہ غذاؤں کی اضافی قیمت کی نذر ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب کئی ممالک میں عوام اپنی تین چوتھائی آمدنی خوراک پر صرف کر رہے ہیں اور گزشتہ تین سالوں میں خوراک کی قیمتوں میں 80 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس بحران کا نوٹس لیتے ہوئے بہت سخت بیانات بھی دیے ہیں، جن میں عالمی طاقتوں کی غلط پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کو چنداں اہمیت نہیں دی حتٰی کہ مقروض ترقی پذیر ملکوں پر دباؤ ڈالتے رہے کہ غذائی خود کفالت کی حصول کے بجائے وہ نقد فصلوں کی برآمدات میں سرمایہ کاری کریں ۔ بہرحال اس امر کا مکمل اندازہ ہونا چاہیے کہ اقوام متحدہ کے “سخت ترین بیانات” بھی صورتحال میں تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے بلکہ اسے عالمی معاملات کا “چوہدری شجاعت حسین” کہنا زیادہ بہتر ہوگا، جہاں ثالثی کے لیے درمیان میں آئے حریف کے مارے جانے سے کم نتائج نہ نکلے، چاہے معاملہ بگٹی والا ہو یا لال مسجد والا، دونوں کو چوہدری کی ثالثی کافی مہنگی پڑی۔ بہرحال موضوع کی جانب واپس آتے ہیں:
اس سلسلے میں سب سے غور طلب بات یہ ہے کہ آخر خوراک کا یہ عالمی بحران کیوں جنم لے رہا ہے؟ بنظر غائر دیکھا جائے تو دو بہت بڑی وجوہات دکھائی دیتی ہیں: ایک حیاتیاتی ایندھن (Bio Fuel) کی تیاری اور دوسری عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں یا عالمی حدت (Global Warming) کے باعث فصلوں کی پیداوار پر پڑنے والے مضر اثرات۔ اس کے علاوہ عالمی آبادی کا بگڑتا ہوا توازن بھی ایک اہم وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ و لاطینی امریکہ میں تو بلاشبہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا سبب “بائیو فیول” کی تیاری قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ امریکہ میں حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے کاشت کی جانے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس طرح کاشت کار بجائے غذا کے حصول کے ایندھن کے حصول کے لیے فصلیں اگا رہے ہیں اور یہ رحجان عالمی غذائی بحران کو سنگین تر کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس سلسلے میں بھی اقوام متحدہ نے سخت موقف اپناتے ہوئے فصلوں کو ایندھن کے لیے استعمال کرنے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے لیکن لگتا ہے اتنا سنگین معاملہ بھی بس مطالبات کی حد تک رہ گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے حال ہی میں بائیو فیولز کی تیاری کے لیے اہداف تک مقرر کر دیے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی ان غیر ذمہ دارانہ حرکتوں اور ترقی پذیر ممالک کے حکمرانوں کی نااہلی کے باعث مستقبل قریب میں غذائی بحران کی سنگینی میں کمی کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آسٹریلیا میں شدید خشک سالی نے گندم کی کاشت میں کافی کمی کر دی ہے جبکہ صورتحال کو بھانپ کر یوکرین نے گندم اور چین، مصر، ویت نام اور بھارت نے چاول کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے جس نے صورتحال کو مزید گمبھیر کر دیا ہے۔

خوراک کے اس عالمی بحران کے باعث دنیا بھر کے 8 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں اور عالمی ادارہ خوراک نے اسے ایک “خاموش سونامی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ اٹھائے اور زیادہ سے زیادہ اجناس کی پیداوار کے لیے ترقی پذیر ممالک کے کاشتکاروں کی مدد نہ کی تو تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔
غذائی بحران کی چند جھلکیاں تو پاکستانی قوم سالِ گزشتہ سے دیکھتی آ رہی ہے جب آٹے جیسی بنیادی ضرورت سنگینوں کے سائے تلے ملتی رہی اور عوام طویل قطاروں میں لگ کر گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد چند روز کا آٹا لینے میں کامیاب ہوئے، اور اب بھی ملک کے کئی شہروں میں آٹے کی شدید قلت ہے۔ عالمی اداروں نے حال ہی میں شدید غذائی بحران کا شکار 36 ممالک میں پاکستان کو بھی شمار کیا ہے اور پاکستان کے سیاسی اکھاڑے کھیلے جانے والے کھیل اور سیاست دانوں کی اُس میں مصروفیت اور محویت کے باعث ہر شخص ناامید ہے کہ حکومت غذا کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی تیار کرے گی۔
کوئی متعلقہ تحریر نہیں
















what u say
all pakistani politicians are busy to solve justice problem in london…..! and after that they’ll solve this probelm by visiting every part of the world
May 12th, 2008 بوقت 1:56 pm
بہت فکر انگیز تحریر ہے ابو شامل صاحب۔
ؔپ کی سبھی باتیں بالکل صحیح ہیں، اس وقت دنیا میں مخلتف بحران پے دے پے پیدا ہو رہے ہیں۔ غذا کے بحران کے حوالے یہ بھی خبریں گردش میں ہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی فوڈ کمپنیز بے تحاشہ منافع کما رہی ہیں جب کہ دوسری طرف افریقہ کے بعد ایشیا میں “قحط” پیدا ہونے کے ؔثار نظر ؔ رہے ہیں۔
دنیا اور عالمی راہنماں کو جلد از جلد اس مسٕلے کے متعلق سوچنا چاہیٕے۔
May 12th, 2008 بوقت 4:12 pm
اسلام علیکم،
محترم آپ غذا کے بحران کو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں اور حکمران سے ججز کا مسلئہ ہی حل نہیں ہورہا۔
May 12th, 2008 بوقت 10:39 pm
وارث صاحب مضمون کی پسندیدگی کا شکریہ، لیکن ابھی تک مجھے اس کی بنیادی وجوہات کے بارے میں کچھ مزید معلومات نہیں ملیں، یہ مضمون لکھنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اس حوالے سے دیگر ساتھی بلاگرز اپنی معلومات پیش کریں۔
شکاری صاحب! ججز کا مسئلہ حل ہونے والا نہيں کیونکہ کوئی اسے حل کرنا ہی نہیں چاہتا البتہ کچھ سنجیدہ اقدامات سے غذائی بحران والا مسئلہ ضرور حل ہو سکتا ہے۔
ابوشامل کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..1
May 13th, 2008 بوقت 11:44 am
میری ناقصرائے میں یہ بحران عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی ہے اور بالآخر اس تباہی پر منتج ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف تو آدھی دنیا بھوک سے بلک رہی ہے جبکہ دوسری طرف ارب پتیوں کی دولت مسلسل بڑھ رہی ہے۔مجھے خطرہ ہے کہ یہ بحران اگر سنگین رخ اختیار کر گیا تو عام لوگ ان موٹے پیٹوںکے ارب پتیوں اور ملٹی نیشنلز کا تیاپانچہ کردینگے۔
ساجداقبال کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..ورڈپریس ہیلپ شیٹ
May 14th, 2008 بوقت 10:10 am
ساجد بھائی! سرمایہ دارانہ نظام کی “ھل من مزید” کی برق پہلے تو غریب ممالک پر ہی گرے گی، اور ہم جیسے غیر ترقی یافتہ ممالک کے عوام آٹے اور دال جیسی بنیادی ضروریات کو بھی ترس رہے ہیں اور مستقبل میں یہ صورتحال خراب سے خراب تر ہوگی اور ہمارے جلنے والے آشیاں کے شعلے “ان” کے محلات کو بھی جا لیں گے۔
May 16th, 2008 بوقت 11:05 am