ایکسپریس سنڈے میگزین کا پوسٹ مارٹم

روزنامہ ایکسپریس ملک کے باوقار ترین اردو روزناموں میں سے ایک ہے۔ ایکسپریس نے پاکستان میں اردو صحافت کو نئی جدتوں سے روشناس کرایا۔ خصوصاً کھیلوں کی خبروں کے حوالے سے جن نئی روایتوں کا آغاز کیا آج پاکستان کے تقریباً تمام اخبارات ایکسپریس ہی کی متعین کی گئی ان راہوں پر سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کے بیشتر بڑے روزناموں کی طرح ایکسپریس بھی ہفت وار میگزین جاری کرتا ہے جو سنڈے ایکسپریس کے نام سے ہر اتوار کی اشاعت میں شامل ہوتا ہے۔ جو بات اس میگزین کو دیگر سے ممتاز کرتی ہے وہ اس میں شایع ہونے والے انتہائی معلوماتی مضامین ہیں، اور معیار کے سلسلے میں ان مضامین کا مقابلہ بہت کم ملکی اخبارات ہی کرپائیں گے۔
لیکن اتوار 26 اپریل 2009ء کی اشاعت میں سنڈے میگزین میں دو مضامین پڑھ کر “سنڈے ایکسپریس” کے گھٹتے معیار کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔ ایک “عالمی امور” کے ضمن میں شایع ہونے والا مضمون “صومالیہ: ریاست در ریاست کی بدترین شکل” اور دوسرا “سیاحت” کے سلسلے میں شایع ہونے والا مضمون “قدرت کے تشکیل کردہ پیالے، ترکی کا خوبصورت سیاحتی مقام” ہر گز اس معیار کے نہیں تھے جس کے لیے ایکسپریس اخبار شہرہ رکھتا ہے۔
“صومالیہ: ریاست در ریاست کی بدترین شکل” کو اغلاط کا مجموعہ کہا جائے تو بہتر ہوگا۔ ایک تو اس میں معلومات بکھرے ہوئے انداز میں بیان کی گئیں اور جملوں اور پیراگرافس میں کوئی ربط نہیں دکھائی دیا، دوسری جانب اعداد و شمار کی اور جغرافیائی اغلاط بھی بھرپور تھیں۔ ابتدائی چند جملے ہی اس مضمون کی حالت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ “صومالیہ، افریقہ کا سینگ کہلاتا ہے تاہم نقشہ پر اس کی شکل دریائی گھوڑے کی سی ہے۔ شمال مشرق کی جانب سے جبوتی، جنوب مغرب کی طرف سے کینیا اور خلیج عدن، شمال کی جانب سے یمن، مشرق کی طرف سے بحر ہند اور مغرب میں ایتھی اوپیا اسے چھوتا ہے۔ “
ان چند جملوں کو پڑھ کر سر پیٹنے کو دل کرتا ہے، پہلی یہ کہ صومالیہ کو افریقہ کا سینگ نہیں کہا جاتا، بلکہ افریقہ کا سینگ کی اصطلاح کی غلط ہے اصل میں “قرن افریقہ” کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، اور اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ صاحبِ مضمون موضوع پر کتنی گرفت رکھتے ہیں اور ان کی معلومات صرف انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے تک کی محدود ہے لیکن بصد افسوس ترجمہ بھی ناقص ہے۔ دوسری بات یہ کہ قرنِ افریقہ کی اصطلاح کا اطلاق صرف صومالیہ پر نہیں ہوتا بلکہ اس سے ملحقہ چند مزید تقریباً تمام علاقے بھی اس کے زمرے میں آتے ہیں جن میں جبوتی، ایریٹیریا، ایتھوپیا شامل ہیں۔ پھر صومالیہ کے حدود اربعہ کو بیان کرتے ہوئے جو فاش غلطیاں کی گئی ہیں ذرا وہ ملاحظہ کیجیے کہ جبوتی کو بجائے شمال مغرب کے شمال مشرق کی جانب کر دیا گیا، جنوب مغرب میں خلیج عدن کو دھر دیا گیا، یمن کی سرحدیں شمالی علاقوں سے ملا دی گئیں، حالانکہ ان کے درمیان خلیج عدن کی صورت میں ایک وسیع سمندری علاقہ موجود ہے۔ علاوہ اردو میں ہمیشہ ایتھوپیا یا حبشہ ہی لکھا جاتا ہے لیکن اس مضمون میں پہلی بار “ایتھی اوپیا” پڑھنے کو ملا۔
مضمون میں ترجمے اور ٹائپنگ کی بھی بے شمار غلطیاں ہیں۔ بہتر کو “بہ تر”، بحالی کو “بہ حالی”، جنگجوؤں کے لیے کہیں “وارلاڈز” اور کہیں “جنگ باز” کا استعمال، مجھے جنگ باز لکھنے پر کوئی اعتراض تو نہیں لیکن کہیں وار لارڈز اور کہیں لڑاکے اور جنگ باز لکھنا کچھ جچتا نہیں۔
تاریخی لحاظ سے بھی مضمون میں کچھ تشنگیاں موجود ہیں خصوصاً قحط کے بعد خطے میں امریکہ کا کردار اور جنرل فرح عدید کا ذکر بھی بہت کم رہا اور اتحاد المحاکم الاسلامیہ کے ذکر کو بہت زیادہ طول دے دیا گیا حالانکہ بغیر معلومات گھٹائے اسے مختصر کیا جا سکتا تھا اور اس کی جگہ امریکی اور فرح عدید کے کردار کو مضمون کا حصہ بنایا جاسکتا تھا۔
اب کچھ “نظرِ کرم” دوسرے مضمون پر ڈالتے ہیں جس میں مصنف (یا مترجم) نے وجۂ تسمیہ لکھنے کے باوجود مقام کے نام میں بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ انہوں نے ترکی کے معروف سیاحتی مقام Pamukkale کو اردو میں “پامیوکیل” لکھا ہے جو سراسر غلط ہے۔ حالانکہ انہوں نے وجۂ تسمیہ کے ذیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ مبینہ پامیوکیل کا مطلب “کپاس کا قلعہ” ہے۔ میرے خیال میں یہ جملہ لکھنے کے بعد تو ان پر یہ واضح ہو جانا چاہیے تھا کہ یہ پامیوکیل نہیں بلکہ “پاموق قلعہ” ہے۔ شاید وہ اس وجہ سے نہ سمجھ پائے ہوں کہ اردو میں قلعہ بولتے ہوئے ہمارا تلفظ کچھ یوں ہوتا ہے “قلعا” جبکہ فارسی اور ترکی زبان میں اس کا تلفظ کچھ یوں بنتا ہے “قلعے”۔ فارسی میں لالہ کو لالے اور فرزانہ کو فرزانے ہی کہا جاتا ہے اور بالکل یہی قاعدہ ترکی زبان میں بھی لاگو ہوتا ہے، اس لیے یہ اچھا اور معلوماتی مضمون صرف نام کی غلطی کی وجہ سے زیرِ عتاب آ گیا۔
مضامین کے حوالے سے یہ گزارشات بذریہ مدیر ایکسپریس دونوں مضامین تحریر کرنے والے حضرات محترم انوار فطرت صاحب اور محترم عتیق احمد تک پہنچا دی گئی ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں اس حوالے سے اچھی پیشرفت ہوگی اور اردو صحافت میں مضامین بھرپور تحقیق کے بعد شایع ہوں گے۔ میری یہ گزارش بھی رہی کہ کم از کم اس طرح کے مضامین ایک موضوعاتی ماہر کی نظروں سے ضرور گزرنے چاہئیں تاکہ اعداد و شمار و جغرافیہ کی اغلاط درست ہو سکیں یا پھرغلط اصطلاحات کی اصلاح ہو سکے۔

پسندیدہ میں شامل کیجیے، ای میل کیجیے یا پرنٹ لیجیے
  • Digg
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Google
  • LinkedIn
  • Live
  • Ma.gnolia
  • YahooMyWeb
  • Print this article!
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • E-mail this story to a friend!
  • TwitThis

کوئی متعلقہ تحریر نہیں



13 تبصرے برائے “ایکسپریس سنڈے میگزین کا پوسٹ مارٹم”

  1. ڈفر کا کہنا ہے:

    یہ تو چلو قابل برداشت غلطیاں ہیں کہ اکثریت کو اس کا علم نہیں ہوتا ہو گا
    اگر جنگ کے سنڈے میگزین کا آپریشن کر کے دکھائیں تو مانوں
    اس میں تو موٹاپا کم کرنے کے اشتہارات کے علاوہ کچھ ہوتا ہی نہیں
    پہلے ان کی جگہ ہومیوپیتھک کی دوائیوں کے اشتہارات ہوتے تھے
    باقی بچ رہنے والی جگہ پر گھٹیا مضامین، جن کو شائد لکھاری بھی دوسری دفعہ نہیں ‌پڑھتا ہو گا

  2. ابوشامل کا کہنا ہے:

    ڈفر جی! عام عوام کے لیے تو شاید قابل برداشت غلطیاں ہوں لیکن مجھ جیسے جغرافیہ و تاریخ کے کیڑے کے لیے تو ہر گز قابل برداشت نہیں۔
    ایکسپریس کا پوسٹ مارٹم اس لیے کیا کہ یہ دیگر جرائد کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس میں اچھے مضامین شایع ہوتے ہیں۔ دیگر اخباروں کے میگزین کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

  3. محمد وارث کا کہنا ہے:

    کوئی حال نہیں ہے ہمارے میڈیا کا، سب کے سب ڈفر بھرے ہوئے ہیں (نقلی ڈفر بھائی سے معذرت کے ساتھ)۔

  4. منیر عباسی کا کہنا ہے:

    یوں لگتا ہے ایکسپریس سنڈے میگزین بھی رو بہ زوال ہے۔
    اب کچھ عرصے بعد کسی کونے کھدرے میں نجومیوں اور عاملوں کے اشتہارات آئیں گے۔ کچھ نئی قسم کی طبی تحقیق، جو اب پاکستان میں یورپ اور امریکہ میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے کے بعد آئی ہے، پر مشتمل کسی پروفیسر کا ایک صفحے کا ضمیمہ بھی شائع ہوگا جسے ایشین اور ورلڈ گولڈ میڈل وصول کرتے ہوئے دکھایا جائے گا۔

    تصویر کا بیک گراؤنڈ واضح نہ ہونے کی بنا ء پر آپ اس تصویر کے جائز و ناجائز ہونے کا اندازہ نہیں لگا سکیں گے۔

    اور کچھ اور اسے قسم کے اشتہارات جن میں ناکامی کا تناسب صرف ایک ٍفیصد دکھایا گیا ہوگا۔

    میں ملک کے تمام سنڈے / فرائیڈے میگزینز پر اس وسم کے حالات آتے دیکھ چکا ہوں۔۔۔

    کب سدھریں گےہم؟

  5. راشد کامران کا کہنا ہے:

    دراصل ہمارے میڈیا کے کرتا دھرتاؤں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ انہیں اس بات کا کامل یقین ہے کہ انٹرنیٹ کے اس دور میں بھی لوگ جو ہے اور جہاں ہے کی بنیاد پر قبول کرلیں گے۔ میڈیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ نسیم حجازی کا دور ختم ہوچلا جب لوگ تاریخ کو صرف قصہ کہانیوں‌کی طرح دیکھا کرتے تھے اب ہر چیز کو پرکھنے کے لیے انتہائی آسان ذرائع موجود ہیں۔ لیکن اس کا سنگین پہلو یہ ہے کہ شاذونادر ہی کبھی آپ کے خط یا ای میل کے جواب میں کسی قسم کی تصیح یا جوابی ای میل موصول ہوگی خاص کر “مشہور کالم نگاروں” کی توجہ آپ سنگین تاریخی غلطیوں کی طرف دلائیں تو وہ تاریخ بدلنے کو تیار ہوجاتے ہیں لیکن کالم نہیں۔

    اگر تمام لوگ آپ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے صرف اخبار ہی کیا ہر چیز کا مطالعہ کرتے وقت ذہن کی کھڑکی کھلی رکھیں تو بہت سے فسادات پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں گے۔

  6. نعمان کا کہنا ہے:

    ہمارے گھر جنگ آتا ہے لیکن ایکسپریس نائیوں کی دکان، دفاتر اور دیگر انتظار گاہوں میں دیکھا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ سے انگریزی مضامین کی مدد لیتے ہیں اور ترجمے کی مدد سے اچھے مضامین بنانے کی کوشش کرتے ہیں اس سے ان لوگوں کو جو انگریزی اور انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتے کافی معلومات حاصل ہوجاتی ہے۔

    لیکن انٹرنیٹ پر غیر مصدقہ اور غلط معلومات بھی بھری پڑی ہے۔ یہ ترجمہ کرنے والے پر ہے کہ وہ اچھی طرح تحقیق کرے۔

  7. ابوشامل کا کہنا ہے:

    راشد بھائی! موضوعات میں تنوع اور حسن انتخاب پر تو میں نے کبھی ایکسپریس کو نہیں ٹوکا۔ ویسے بھی اس کا زیادہ زور “بائیں بازو” پر ہے :) ۔ لیکن آپ نے جس پہلو کی جانب توجہ دلائی ہے وہ واقعی بہت افسوسناک ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل مصطفی کمال کو دوسرے بہترین میئر کا “اعزاز” دیے جانے کا معاملہ اٹھا تھا تو جن لوگوں نے بھی فنانشل میگزین کو ای میلز کیں ان سب کو جواب ضرور دیا گیا اور آخر میں ایک اعلامیہ کے ذریعے اس “غلط فہمی” کو دور کیا گیا۔ جبکہ ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ کوئی اخباری مدیر یا کالم نگار آپ کو سرے سے جواب ہی نہیں دے گا بلکہ چند مشہور کالم نگار ایسے ہیں جن کے ای میل ایڈریسزصرف دکھانے کے ہیں۔ اگر ان پر کچھ بھیجا جائے تو یا تو واپس آ جاتا ہے یا پھر اندھے کنویں میں چلا جاتا ہے کہ کبھی وصولی کی رسید بھی نہیں ملتی۔

  8. زبیر انجم صدیقی کا کہنا ہے:

    میرا خیال ہے کہ ۔۔ اخبارات کے بجائے ٹی وی چینلز زیادہ فاش اور بکثرت غلطیاں کرتے ہیں ، مگر اخبار شائع ہونے کے بعد فزیکلی ہاتھ میں موجود رہتا ہے ۔۔ اس لئے اس کی گرفت زیادہ ہوتی ہے ۔۔ کیونکہ اخبار کے پاس اشاعت کے بعد غلطی درست کرنے کا کوئی موقع نہیں ہوتا ۔۔ ویسے میرا خیال ہے ان دنوں اخبارات کے بجائے ٹی وی چینلز پر آنے والی چیزوں کی گرفت کرنے کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس کا ابلاغ اخبارات سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر ہورہا ہے اور ذہن اپنے ارادے کے بجائے ٹی وی کی مرضی کے مطابق پراگندہ اور منتشر ہو رہے ہیں ۔۔

  9. ابوشامل کا کہنا ہے:

    برادر زبیر! گو کہ اخباری و برقی ابلاغ میں اثر انداز ہونے کے لحاظ سے اب بہت زیادہ فرق پیدا ہو گیا ہے اور آپ کی اس بات سے بھی مجھے مکمل اتفاق ہے کہ زیادہ کڑی نظر ٹی وی وغیرہ پر رکھنی چاہیے لیکن اخبارات پر میرا نزلہ زیادہ اس لیے گرتا ہے کیونکہ ان میں غلطی کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے یا ہونی چاہیے۔ ٹی وی چینلوں میں “سب سے پہلے” کی دوڑ اور براہ راست نشریات کا دباؤ ہونے کے باوجود بہت کم غلطیاں کرتے ہیں۔ جبکہ اخبارات بھرپور وقت ہونے کے باوجود اغلاط سے بھرپور ہوتے ہیں۔

  10. م۔م۔مغل (ناطقہ) کا کہنا ہے:

    واہ صاحب بڑی گہری نظر ہے ، آخری اسی بات پر آپ ہمارے پیرو مرشد ہیں ، بہت خوب اور مفصل مراسلہ ہے ، سدا خوش رہیں جناب ،
    م۔م۔مغل
    (موبی لنک انڈیگو کے لوگو والے ) :lol:

  11. ابوشامل کا کہنا ہے:

    جی اتصالات کے لوگو والے صاحب! پیری مریدی کے تو ہم ویسے بھی قائل نہیں اس لیے ایسا کہہ کر شرمندہ نہ کیا کریں۔ ہم تو آپ کے سامنے طفل مکتب ہیں۔

  12. وہاب اعجاز خان کا کہنا ہے:

    یہ بات میں نے تحقیق کے حوالے سے بھی نوٹ کی ہے کہ اکثر محقق بے پروا ہو کر بہت کچھ ایسا لکھ جاتے ہیں جس کی صحت کا انہیں ایک فیصد یقین نہیں ہوتا۔ ان کے خیال میں‌ جس ملک میں لوگوں کے پاس کتاب پڑھنے کا وقت نہ ہو وہاں اگر کوئی یہ کتاب پڑھ بھی لے گا تو کہاں اس کی گہرائیوں میں اتر کر اصل ماخذ کی طرف رجوع کرے گا۔ اس لیے بڑی بڑی کتابوں میں ہمیں بہت فاش غلطیاں مل جاتی ہیں۔ یہ تو پھر بھی ایک اخبار کا میگزین ہے۔

  13. عبداللہ کا کہنا ہے:

    :آپ ماشاءاللہ کافی پڑھے لکھے ہیں مگر پتہ نہیں ایم کیو ایم اور اس سے متعلق لوگوں کے بارے میں بات کرتے آپ لوگوں کی ساری علمیت ہوا کیوں ہو جاتی ہے اور تعصب سامنے آجاتا ہے شائد اس لیئے کہ نون لیگ اور جماعتی اب تک کراچی فتح نہ کرپانے پر سیخ پا ہیں اب یہی دیکھ لیں اس بلاگ میں ان کا کوئی زکر نہیں مگر پھر بھی مصطفی کمال کو یاد کر کے جلے دل کے پھپھولے پھوڑ نا ضروری سمجھے آپنے حالانکہ فارن پالیسی میگزین نے 3 میئرز کے نام لیئے تھے یعنی تینوں برابر دنیا کے بیسٹ میرز ہوئے پھر بھی کراچی والوں نے کثر نفسی سے کام لیتے ہوئے اپنے میئر کو دوسرا نمبر ہی دیا ،
    اور بعدمیں جب انہوں نے مصطفی کمال کو میئر آف دی موومنٹ کا خطاب دیا تو وہ آپ سب پی گئے، آپنے راشد کامران کے بلاگ پر مجھ سے مخاطب ہو کر کچھ کہا تھا اس کا جواب وہاں تو دے دیا ہے سوچا یہاں بھی دے دوں پتہ نہیں آپ وہاں جا پائیں یا نہیں
    آپ سے معزرت کے ساتھ راشد آپکی بات صحیح ہے مگر یہاں بے ٹریکا میں ہی نہیں ہوا تھا بلکھ بڑے بڑے لوگ ہوگئے تھے اور اکثر ہوجاتے ہیں، مزید بے ٹریک ہوتے ہوئے صرف اتنا کہوں گا ابو شامل صاحب کو بصد احترام کہ اوپر ر لکھی باتیں الطاف بھائی کی تقریر نہیں کراچی کی اکثریت کی زبان تھی،اور یہ قالو سلاما آپ لوگ صرف اس وقت کیوں کہتے ہیں جب کوئی جواب نہ بن پڑ رہا ہو،آپ فرماتے ہیں بحث مناظرہ جاہلوں کا کام ہے زرا اپنے تبصروں پر غور فرمائیے اور پھر بتائیے کہ الطاف حسین کا نام پہلے آپنے لیا تھا یا کسی اور نے،کاش یہ قالو سلاما آپکے بڑے میاں طفیل ضیاء الحق کو اس وقت کہتے جب وہھ قران پاک پر جھوٹی قسم اٹھا کر بھٹو کیس کے گواہوں کو اس بات کا یقین دلا رہے تھے کہ وہھ جھوٹی گواہی دے دیں تو وہ انہیں بچا لیں گے،یہ قالو سلاما اس وقت آپ کے عظیم رہنماؤں نے کیوں نہ کہا جب وہ ایک غیر اسلامی قانون کوٹہ سسٹم پر مزید 10 ساال کے لی دستخط فرما رہے تھے اور اس وقت جب اللہ کے قانون کے زمین اس کی جو اس پر کاشت کرے کے خلاف دلائل دے رہے تھے :cry:

تبصرہ کیجیے۔