08.06کولا وار خاتمے کی جانب گامزن
سافٹ ڈرنکس بنانے والے بڑے اداروں نے گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں بھی اپنی چند نئی مصنوعات بھی پیش کی ہیں جن میں معدنی پانی (mineral water) اور پھلوں کے رس (juices) کے علاوہ snacks تک شامل ہیں۔ اس حیران کُن تبدیلی نے ذہنی طور پر اس بارے میں کچھ تحقیق پر آمادہ کیا کہ اس کی وجوہات کیا ہیں؟
اب آپ یہ “نام نہاد تحقیق” ملاحظہ کیجیے جو انٹرنیٹ پر متعلقہ موضوعات کی تلاش کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں تبصرہ نگار بھی اپنی معلومات شیئر کرنا چاہیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔
کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس گزشتہ کئی دہائیوں سے نوجوانوں کے دلوں پر ان کے پسندیدہ کھلاڑیوں اور اداکاروں کے ذریعے راج کرتی آ رہی ہیں اور آج بھی “نیا جال لائے پرانے شکاری” کے مصداق یہی طریقۂ کار استعمال کیا جاتا ہے لیکن ………………………
کیا سنہرے دن اب صرف یادوں کی صورت میں ہی رہ گئے ہیں؟ کیونکہ کم از کم مغربی ممالک کی حد تک تو سافٹ ڈرنکس تیار کرنے والے اداروں کو “کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس” میں اپنا مستقبل نہیں دکھائی دیتا۔ کیونکہ صحت عامہ کے ماہرین گزشتہ دو دہائیوں سے سافٹ ڈرنکس کے انسانی صحت پر مضر اثرات کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے میں مصروف ہیں اور اب لگتا ہے کہ جلد ہی سگریٹ کی ڈبیہ کی طرح سافٹ ڈرنک کی بوتلوں پر بھی “صحت کے لیے مضر ہے” جیسے الفاظ درج ہوں گے
سافٹ ڈرنکس کے صحت پر اثرات کے حوالے سے رپورٹس سامنے آتے ہی 90ء کی دہائی کے اوائل سے ہی “جنم بھومی” امریکہ میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال کم ہونا شروع ہو گیا اور اب یہ صنعت مسلسل روبہ زوال ہے بلکہ گزشتہ دو سالوں سے تو اس زوال میں مزید تیزی آ رہی ہے۔ Beverage Digest کے مطابق امریکہ میں کاربورنیٹڈ سافٹ ڈرنکس کی مارکیٹ میں حجم کے اعتبار سے 2007ء میں 2.3 فیصد کمی آئی جبکہ 2006ء میں یہ کمی 0.6 اور 2005ء میں 0.2 فیصد تھی۔ ان اعداد و شمار میں انرجی ڈرنکس بھی شامل ہیں البتہ معدنی پانی، اسپورٹس ڈرنکس، تیار شدہ چائے وغیرہ شامل نہیں۔ حالانکہ جریدے کے مطابق اس کاروبار کے حجم میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ امریکہ میں 72 ارب ڈالرز کی صنعت بن چکا ہے لیکن اس کی وجہ بھی روایتی مشروبات کی قیمتوں اور انرجی ڈرنکس کی فروخت میں اضافہ بیان کی جاتی ہے، اور کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس کا اس اضافے میں کوئی کردار نہیں۔ ان تازہ اعداد و شمار کے باوجود امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس استعمال کرنے والا ملک ہے اور دنیا بھر میں سافٹ ڈرنکس کا 55 فیصد امریکہ میں استعمال ہوتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر امریکی سال میں 576 سافٹ ڈرنکس پیتا ہے یعنی روزانہ ڈیڑھ سے زائد۔
اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ سافٹ ڈرنکس صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ سب سے پہلا نقصان تو یہ ہے کہ سافٹ ڈرنکس کے “عادی” افراد زیادہ صحت مند مشروبات جیسے پانی، دودھ اور جوسز وغیرہ سے محروم رہ جاتے ہیں اور طبی تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ کئی بیماریوں کی جڑ ہیں جن میں مٹاپے اور ذیابیطس جیسے خطرناک امراض بھی شامل ہیں۔
ماہرینِ طب کے مطابق سافٹ ڈرنک نہ پینے والے بچوں کے مقابلے میں اسے استعمال کرنے والے بچوں میں مٹاپے کی شرح کہیں زیادہ ہے جس کا بنیادی سبب سافٹ ڈرنک پینے کے باعث زیادہ بھوک لگنا اور مشروب میں چینی کا استعمال ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ 330 ملی لیٹر کا ایک کین پینے کا مطلب مہینے میں ایک پاؤنڈ وزن کا اضافہ کرنا ہے۔
2004ء میں ہونے والی ایک تحقیق نے ثابت کیا کہ روزانہ ایک یا اس سے زائد سافٹ ڈرنک پینے والے افراد میں ذیابیطس ہونے کے امکانات اُن افراد کے مقابلے 80 فیصد زیادہ ہوتے ہیں جو مہینے میں صرف ایک مرتبہ یہ مشروب پیتے ہیں۔
بینزین سرطان کا باعث بننے والا ایک عنصر ہے اور اس امر کے واضح شواہد موجود ہیں کہ کم از کم 1990ء تک بڑی سافٹ ڈرنک کمپنیاں اسے اپنے مشروبات میں استعمال کرتی رہی ہیں۔
2006ء میں برطانیہ کی فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی نے سافٹ ڈرنکس میں بنزین کی سطح کا اندازہ لگانے کے لیے ایک سروے کیا اور 150 مصنوعات کا جائزہ لیا گیا جس کے نتائج کے مطابق 4 میں بنزین کی سطح عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیار سے زیادہ تھی۔ بہرحال بنزین کا استعمال اب قصۂ پارینہ بن چکا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں اس خطرناک عنصر کی سافٹ ڈرنکس میں شمولیت سے قطع نظر نہیں کیا جا سکتا۔
سافٹ ڈرنکس ایک سے زائد تیزابی عنصر شامل ہوتے ہیں جن میں فاسفورک اور سٹرک ایسڈ عام ہیں۔ علاوہ ازیں بغیر کولا کے مشروبات اور کین میں بند “چائے”میں بھی میلک، ٹارٹیرک اور دیگر نامیاتی تیزابی عنصر شامل ہوتے ہیں جو دانتوں کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیےسافٹ ڈرنکس سب سے زیادہ دانتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اب معالجین اسے اسٹرا کے ذریعے دانتوں سے لگائے بغیر براہ راست نگلنے کا مشورہ دیتے ہیں علاوہ ازیں وہ اس کی تیزابیت کے باعث پینے کے فوراً بعد دانتوں کو برش کرنے سے بھی منع کرتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں دانتوں پر موجود حفاظتی تہہ کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ وہ اس تیزاب کے نتیجے میں نرم پڑ جاتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سافٹ ڈرنکس میں شامل کیفین کے باعث یہ نیند کو بھی متاثر کرتی ہے اور نیند کی کمی کے باعث طبیعت مضمحل رہتی ہے۔
اس کے علاوہ چند واقعات بھی سافٹ ڈرنکس کی “شہرت” خراب کرنے کا باعث بنے جن میں سب سے اہم حالیہ سالوں میں ہی بھارت میں پیپسی اور کوکا کولا کے بطور کیڑے مار دوا کے استعمال کا واقعہ تھا۔ اس کے نتیجے میں چند ریاستوں میں تو اس کےاستعمال پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی گئی تھی۔ ایک بڑی مارکیٹ میں اس طرح کی صورتحال کا پیش آنا دونوں بڑی کمپنیوں کے لیے ایک بھیانک خواب سے کم نہ تھا اور اس سے نکلنے کے لیے انہیں بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم چلانا پڑی لیکن بہرحال “چُنری کو داغ” لگ چکا تھا اور اس سے پیچھا چھڑانا اب ناممکن تھا۔
یہ تمام صورتحال منظر عام پر آنے کے بعد کمپنیوں کو اس امر کا ادراک ہو گیا کہ انہیں نئی مارکیٹوں کی تلاش کے علاوہ آہستہ آہستہ “صحت بخش مشروبات” کی جانب منتقل ہونا ہوگا اور انہوں نے فی الفور دونوں اہداف کے حصول کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔
ان اداروں کی سب سے بڑی مارکیٹ کیونکہ امریکہ اور یورپ ہیں جہاں صحت عامہ کے حوالے سے عوام باشعور ہیں ، اس لیے اعداد و شمار تو واضح کرتے ہیں کہ وہاں سافٹ ڈرنکس کے استعمال میں بدستور کمی آتی جا رہی ہے اور اگلی ایک دہائی میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال انتہائی محدود رہ جائے گا۔ اس لیے سب سے پہلے تو سافٹ ڈرنکس تیار کرنے والے اداروں نے شمالی افریقہ، مشرق وسطٰی اور جنوبی ایشیا کی نئی مارکیٹوں پر اپنے قبضے کے مستحکم کیا اور اپنی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی اور اس کے لیے اداکاروں، اداکاراؤں اور کھلاڑیوں کا سہارا لیا۔
دوسری جانب انہوں نے مغربی دنیا میں معدنی پانی اور پھلوں کے جوسز کے کاروبار پر توجہ مرکوز کر لی۔ پیپسی نے “Aquafina” نامی معدنی پانی مارکیٹ میں متعارف کروایا تو کوکا کولا “Kinley” لے آیا۔ آخر الذکر Minute maid کے ساتھ جوس مارکیٹ میں لایا تو اول الذکر نے Tropicana Twister متعارف کرادیا۔ حتٰی کہ اب Kurkure جیسے برانڈز تک متعارف کرانا پڑ رہے ہیں تاکہ متبادل ذرائع سے آمدنی کو سہارا دیا جاسکے یا بڑھایا جا سکے۔
تو کیا یہ لگتا ہے کہ اگلی ایک دہائی میں سافٹ ڈرنکس کا خاتمہ ہو جائے گا؟
کوئی متعلقہ تحریر نہیں
















آپ نے تو بہت محنت کی ہے ۔ میں ایک بات پچھلے ستاون سال سے جانتا ہوں کہ کاربونیٹڈ مشروبات میں کاربونک ایسڈ گیس اور سِٹرِک ایسڈ ہوتے ہیں جو دونوں معدے پر بُرا اثر ڈالتے ہیں اور مُضرِ صحت ہیں
August 6th, 2008 بوقت 2:33 pm
اتنی زیادہ انتباہ کے باوجود کیا ہوا؟ کچھ نہیں ان مشروبات کی سیل ویسے کی ویسے جاری و ساری ہے۔ کہانی ان کی بھی بری دلچسپ ہے۔ یہاں نام بکتا ہے۔ جو بوتل ویسے 30 سینٹ کی ہے ان کمپنیوں کا نام لگ کر ڈیڑھ ڈالر کی ہو جاتی ہے لہذا کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔ پہلے اگر یہ ایک ڈالر فی بوتل دکاندار کو دیتے تھے اور اتنی سختی بھی نہیں کرتے تھے کہ قیمت اتنی ہی رکھو اب یہ لوگ وہ بوتل پچاس سینٹ کی چیتے ہیں اور کہتے ہیںکہ قیمت ایک ڈالر رکھو۔ اور یقین کریں ڈیڑھ ڈالر پر بھی یہ مشروبات سب سے زیادہ بکتے ہیں۔
کیڑے مار کے طور پر استعمال کی تو بات ہی کیا اس کے تو بڑے دلچسپ استعمالات ہیں جن میں سے چند یہاںناقابل اشاعت ہیں۔ ویسے کوک تو ڈرین کھولنے کے لٕے بھی بڑی موثر ہے۔
کیفین یا شوگر ایکٹ کرتی ہے جیسے ایک طرح سے منشیات۔ یہ انرجی پہنچاتی ہے اور بندہ کافی ہائپر ہو جاتا ہے۔ اگر موڈ نارمل ہو تو کیفین ڈرنک سے موڈ اچھا خاصا خوشگوار ہو جاتا ہے اور دماغ بہت تیز چلتا ہے۔ لیکن پھر یہ کیفیت ختم ہونے پر اثر پڑتا ہے لہذا یہاں ہر سوڈے کا کیفین فری بھی ملتا ہے
اصل میں یہاں 100 قسم کے سافٹ ڈرنک ہیں۔ سافٹ ڈرنک کو یہاں سوڈا کہتے ہیں۔ تو یہ ایک سٹنٹ ہی ہے۔ پہلے سوڈا تھا یا جوس بیچ کی کوئی چیز نہیں تھی۔ انہوں نے پہلے سادہ پانی کے ساتھ فلیورڈ واٹر متعارف کروایا۔ ہوتا پانی ہی ہے لیکن اس میں خوشبو ڈالی ہوتی ہے۔ جیسے ہم پاکستان میں موتیا کے پھول فریج یا گھڑے مین ڈال دیتے تھے تو پانی بھی خوشبودار ہوتا تھا۔ تو اب انہوں نے سپورٹس ڈرنک کی بھی رینج متعارف کروا دی ہیں فٹنس واٹر یا وائٹامن واٹر اس طرح نام دے دے کر مشروبات بناتاے جاتے ہیں۔ تو یہ نہیں کہ سافٹ ڈرنک کو سہارا دینا ہے۔ دوڑ ایسی ہے کہ اگر مارکیٹ میں میری سو میں سے ایک دکان ہو تو چانس کم ہے کہ میری بکری کم ہو گی اگر میری 50 دکانیں ہو تو چانس بھی بڑھ گئے۔ اسی طرح ان کے بھی چانس بڑھانے کی دوڑ ہے کہ اگر ان کی زیادہ سے زیادہ پراڈکٹس ہونگی تو زیادہ چانس ہیں کہ نام یا پانی جونسا بھی ہو آکر کار پیسہ ان کی جیب مںجانا ہے۔
کوکاکولا ایکوافینا سے مقابلے میں ڈیسانی لایا تھا۔ کینلے یورپ میں ہی ہے۔ یہاںنہیں۔ ٹروپیکانا ٹویسٹر ٹروپیکانا برانڈ میںایک رینج کا نام ہے اس کے اور بھی رینج ہیں۔
نہیں اگلی دہائی میں میرا نہیں خیال سافٹ ڈرنکس ختم ہونگے۔ ہاں آپ کے پاس پہلے اگر ایک ڈیپ فریزر تھا تو اب آپ کو نت نئے شیشے کے دروازے والے الماری جیسے سلائیڈنگ باٹل فریج نظر انے لگیں گیں جن میںتمام برانڈز نطر آ رہے ہونگے۔
August 6th, 2008 بوقت 3:14 pm
آپ تو محقق بن گئے ہیں۔
کافی تحقیق کی ہے۔ ویسے ہم تو کوک شوک کیا جانیں، لسی پینے والے لوگ ہیں نا۔
August 6th, 2008 بوقت 3:52 pm
اکنامکس کی زبان میںاسے کہتے ہیں:
horizontal integration
یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی سموسوں کیساتھ پکوڑے بھی بیچنا شروع کر دے۔ اگر وہ اپنے سموسوںپکوڑوںکیلئے آلو خود ہی اگانا شروع کر دے تو اسے کہیںگے:
vertical integration
مسئلہ بزنس کا نہیں حکومت کے کردار کا ہے۔ یورپ میںکوالٹی کنٹرول پر بڑا زور دیا جاتا ہے اور آپکو یہ بتانا پڑتا ہے کہ جو پھول آپ بیچ رہے ہیںاسکے اگنے والے فارم پر کیا صورتحال تھی، لیبر کا کیا حال تھا اور کیمیائی مادے استعمال ہوتے تھے یا نہیں۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ہم تیسری دنیا والے بھی اتنی ترقی کریں، ورنہ
کراس کر یا “برداش” کر!!!
فیصل کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..شکریہ دریچہ
August 6th, 2008 بوقت 5:27 pm
بہت عمدہ۔ ہمارے ملک میں ان کی سیل اور تشہیری مہمات بڑھنے کی وجہ یہ ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ رفتہ رفتہ پاکستانی عوام بھی باشعور ہوجائیں گے اور سافٹ ڈرنکس کا بکنا یہاں بھی کم ہوگا۔
August 6th, 2008 بوقت 6:50 pm
بھائی لسی کے تو نقصانات نہیں ہیں ناں!!
کافی محنت سے لکھا ہے!!!! صحافی ہو ناں! یہ کمال تو حاصل ہو گا!! بہت اعلٰی!!!
شعیب صفدر کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..تلاش!
August 6th, 2008 بوقت 8:37 pm
بہت اعلی امید ہے کئی لوگ مشروبات خریدتے وقت ترجیحات پر نظر ثانی کریں گے۔۔ ہر بوتل میں بند پانی معدنی پانی نہیں ہوتا ۔۔ بلکہ اکثر میں سے تو معدنیات کلی طور پر نکال دی جاتی ہے اور اسے کہتے ہیں ۔۔ خالص پانی ۔۔ بالکل ماں کے پیار کی طرح
August 7th, 2008 بوقت 2:10 am
ابو شامل۔۔۔ سلام
میں بہت شکر گزار ھوں کہ آپ نے مجھے خوش آمدید بولا- امید کرتا ھوں کہ آپ مستقل بنیاد پر راہنماہی فرمایں گے اور اپنی آراء دیتے رہیں گے۔
نعمان علی کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..ایک نظر، چار کام
August 7th, 2008 بوقت 9:53 am
افتخار صاحب! مضمون کی پسندیدگی کا بہت شکریہ۔
بدتمیز! جو اعداد و شمار مجھے حاصل ہوئے ہیں ان کے مطابق تو امریکہ میں کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے البتہ قیمتوں کے بڑھنے کے باعث ان اداروں کی فروخت میں معمولی اضافہ ضرور ہوا ہو۔
باقی افراد دیگر استعمالات کے والے سے انگریزی وکیپیڈیا پر تلاش کر کے دیکھ سکتے ہیں، وہ واقعی یہاں بیان کرنے کے قابل نہیں
یہ تو میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جس دن نیند کی کمی یا دیگر وجوہات کی بنا پر تھکن طاری ہو اور کام نہ ہو رہا ہو تو ایک یا دو کوک پی لیں، یقین جانیں دماغ ایک دم فریش ہو جاتا ہے۔
دیگر معلومات دینے کا بہت شکریہ۔ میں نے کوک اور پیپسی کے جتنے برانڈ بتائے ہیں وہ سب یہاں پاکستان میں متعارف کرائے گئے ہیں، امریکہ و یورپ میں متعارف کردہ برانڈز کے بارے میں آپ اور دیگر ساتھی ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ ویسے یہاں گزشتہ ایک دہائی سے شیشے کے دروازے والے فریج ہر دکان پر دکھائی دیتے ہیں۔
راہبر میاں! آپ جتنی چاہیں لسی نوش فرمائیں۔ کھلی اجازت ہے
فیصل بھائی! فی الحال تو ہم “برداش” ہی کر رہے ہیں
تبصرے کا شکریہ
نعمان بھائی! مضمون کی پسندیدگی کا بہت شکریہ، فی الحال تو جنوبی ایشیا کولا برانڈز کے لیے بہت بڑی مارکیٹ بنتا جا رہا ہے۔
شعیب بھائی! لسی کے بہت زیادہ نقصانات ہیں اگر اکیلے پیئں تو
مضمون کی پسندیدگی کا بہت شکریہ
راشد بھائی پسندیدگی کا شکریہ۔ کم از کم پاکستان میں تو بوتل میں بند ہر پانی معدنی پانی نہیں ہوتا بلکہ بیشتر عام نلکوں سے بوتل تک کا سفر کرتے ہيں البتہ “ماں کے پیار کی طرح خالص” پانی یہاں دستیاب نہیں
نعمان علی! بلاگ پر خوش آمدید۔ بلاگنگ کی دنیا میں اپنی بساط کے مطابق آپ کی مدد کی کوشش کریں گے۔ شکریہ
August 8th, 2008 بوقت 9:23 am
سر یہ اعداد و شمار لنک بھی کرنے تھے نہ۔
میں نے سلائیڈنگ باٹل والے فریج کہے تھے۔ شیشے کے دروازے والے فریج تو 15 سال سے پاکستان میں ہیں۔ سلائیڈنگ باٹل والے فریج میں صرف بوتلیں ہی آتی ہیں۔ جس کا آپ نے کہا اس کی شیلفس ہوتی ہیں اور کچھ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ اس لنک پر دیکھیں کچھ کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں کیونکہ یہ کافی بھدی انٹریئر کے ساتھے ہے ورنہ اچھے خاصے ہوتے ہیں۔
http://www.flickr.com/photos/paulwatson/5894719/
August 10th, 2008 بوقت 2:31 pm
واقعی اشتہاری مہم میںان لوگوں نے اب فنکاروں کو بھی گھسیٹ لیا ہے۔ جتنی بار پیپسی اور کوک کی مشہوری آتی ہے اتنا زیادہ لوگ اسے یاد کرتے ہیں۔ اور پھر خریدتے بھی ہیں۔ اشتہار بازی کی موجودہ صنعت میں چونکا دینا، کریز پیدا کردینا اور تواتر کے ساتھ اشتہار صارف کی آنکھوں کے سامنے نچاتے رہنا وہ عوامل ہیں جن سے مصنوع صارف کو “یاد” ہوجاتی ہے اور “یاد رہتی” ہے نتیجے میں صارف وہی چیز خریدتا ہے۔
چونکا دینے کے لیے الٹی سیدھی مشہوریاں بنائی جاتی ہیں، کریز پیدا کرنے کے لیے سٹارز کو صارف دکھایا جاتا ہے اور تواتر کے لیے کھیلوں کی سپانسر شپ کی جاتی ہے، ایونٹس کی سپانسر شپ کی جاتی ہے اور اہم اوقات جیسے سات سے نو اور (ہمارے لیے) پاک بھارت میچ جیسے پروگرام کے موقع پر کم از کم پانچ منٹ میں ایک اشتہار ان کا چلتا ہے۔
August 12th, 2008 بوقت 1:49 am
بدتمیز! بالکل سمجھ گیا
لنک کا شکریہ۔
دوست بھائی! فنکاروں و گلوکاروں کو اشتہاروں میں استعمال کرنا تو سب سے پرانا حربہ ہے البتہ کھلاڑیوں کو استعمال کرنا ایک نئی چیز تھی لیکن ان کی آمد اس لیے عارضی ثابت ہوئی کہ ان کا اشتہار اسی وقت “درست اثرات” چھوڑتا جب ان کی کارکردگی اچھی ہوتی۔ گزشتہ کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے بنایا گیا آپ کو اشتہار یاد ہوگا جو پاکستان کے پہلے راؤنڈ میں ہی باہر ہو جانے کے باعث محض چند دن میں ہی غائب ہوگیا تھا۔ باقی تمام اشتہاری دنیا کے “بنیادی اصول” ہیں۔ تبصرے کا شکریہ
August 15th, 2008 بوقت 12:00 pm
[...] وار کے خاتمے کے موضوع پر کی ہے اور اس کا عنوان ہے “کولا وار خاتمے کی جانب گامزن“۔ ابوشامل نسبتا نئے بلاگر ہیں لیکن بہت ہی پختہ [...]
August 17th, 2008 بوقت 1:16 am
شکریہ فہد بھیا
اتنی مفید معلومات کیلئے
اور شکریہ آپ کی تلاش و بسیار کیلئے۔
والسلام
August 19th, 2008 بوقت 4:08 pm
ابو شامل آپ نے مفید معلومات شیئر کی ہیں جس شکریہ۔
ہم تو پہلے ہی سافٹ ڈرنک سے دور ہیں
شکاری کے بلاگ سے آخری تحریر ہے ..میسنجر کہانی
August 21st, 2008 بوقت 7:53 am
مغل صاحب اور شکاری، پسند کرنے کا شکریہ
August 22nd, 2008 بوقت 10:01 am