قانون عوام کی گرفت میں
گزشتہ روز اہلیان کراچی کو ایک اور دل دہلانے والی خبر سننے (اور بذریعہ برقی ذرائع ابلاغ دیکھنے) کو ملی کہ رنچھوڑ لائن کے علاقے میں عوام نے 3ڈاکوؤں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلاڈالا ۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فلیٹ میں ڈکیتی کے بعد فرار ہوتے ہوئے ڈاکو مقامی افراد کے ہاتھوں پکڑے گئے جس کے بعد انہیں زبردست تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جائے وقوعہ پر موجود میرے دفتر کے ایک ساتھی نے بتایا کہ عوام نے موقع پر آنے والے پولیس اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تینوں کو گولی مار دے لیکن پولیس کے انکا رپر عوام نے نہ صرف پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر جائے وقوعہ سے ہٹا دیا بلکہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے تینوں ڈاکوؤں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ جنگ اخبار میں شائع ہونے والی تصویر واقعے کی سنگینی کی عکاس ہے۔

کسی بھی معاشرے و قوم کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام ادارے اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض بخوبی انجام دیں اور کسی بھی ریاست کو اندرونی خلفشار سے بچانے کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ بلاتعصب انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انصاف کی فراہمی کسی بھی معاشرے کی وہ بنیاد ہے جس پر پوری عمارت انحصار کرتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ انصاف کی عدم دستیابی معاشرے میںسفاکیت وجنونیت کو پروان چڑھاتی ہے اور عوام اپنا قانون خود بنانے لگتے ہیں اور یہ واقعہ اس کی پہلی اور بڑی مثال بن کر سامنے آیاہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ
کوئی بھی حکومت کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتی ہے لیکن ظلم و نا انصافی کے ساتھ اس کا باقی رہنا ناممکن ہے
اس طرح کے واقعات کے پیش آنے کی عام وجوہات دو ہیں ایک انصاف کی عدم دستیابی اور دوسری قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رشوت کا عام کلچر۔ مذکورہ واقعے کا بنیادی محرک یہی سمجھ آتا ہے کہ عوام کو معلوم تھا کہ اگر ان مجرموں کو پولیس کے حوالے کیا گیا تو یہ چند روپے رشوت دے کر چھوٹ جائیں گے اگلے ہی روز کہیں اور ڈکیتی مارتے پھریں گے اور اگر عدالتوں تک پہنچ بھی گئے تب بھی کورٹ کچہریوں کے طویل چکر کاٹنے کے بعد بھی اس امر کی امید بہت کم ہے کہ انہیں اپنے کیے کی سزا ملے۔ اس لیے انہوں نے تشدد کی انتہا کرتے ہوئے ایک بدترین مثال قائم کر دی جس کی تقلید میں کئی قدم مزید اٹھ سکتے ہیں۔
واقعے کا یہی پہلو سب سے خوفناک ہے کہ مزید لوگ بھی انہی قدموں پر نہ چل پڑیں۔ کسی زمانے میں بھارت کی ایک فلم “گنگا جل” میں بھی کہانی کا مرکزی پلاٹ ایسا ہی تھا کہ عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے مجرموں کو جائے وقوعہ پر ہی سزا دینے لگے لیکن اس ماورائے قانون قدم کے باعث علاقے میں جرائم کی شرح صفر ہو گئی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس طرح کی اقدامات کی حمایت کی جائے بلکہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ درماندہ حال عدلیہ کے باعث عوام کو کسی سے رائی برابر بھی امید نہیں کہ مجرموں کو ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ اس لیے وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر انتہائی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
اس بڑے ذہنی خلفشار کے دیگر کئی عوامل بھی ہیں کہ عوام نتائج سے بے پروا ہو کر ان قدر سنگین حرکات کر رہے ہیں۔ وہ ہے بجلی کی بلا ناغہ اور طویل دورانیے کی بندش،بے روزگاری، غربت اور سڑکوں پر ٹریفک کے اژدہام کے باعث چند منٹوں کا سفر گھنٹوں میں ، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ذہنی انتشار، اضطراب، خلفشار۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام میں برداشت کا مادہ مفقود ہو چکا ہے، اور جلتی پر تیل ڈکیتی جیسے واقعات کر جاتے ہیں تو اس صورت میں ان سے انتہائی سفاکانہ ردعمل کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔ چند روز قبل کراچی میں ایک مارکیٹ میں دکاندار کو جس بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا اور اس کی لاش سڑک پر کئی گھنٹے تک پڑی رہی اس کے اثرات ابھی تک ذہنوں سے محو نہیں ہوئے اس لیے عوام ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب قانون کو گرفت میں لے رہی ہے۔
ا س تمام صورتحال میں آزاد عدلیہ کی بحالی کی اہمیت کہیں زیادہ دو چند ہوتی ہے وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رشوت کے کلچر کے خاتمے کی ضرورت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کےلیے سنجیدہ حکمت عملی تیار کرے وہیں عوام کو ذہنی سکون دینے کے لیے اشیائے صرف کی گرانی پر قابو پائے بصورت دیگر عوام کا یہ سیلاب حکمرانوں کا حشر ان ڈاکوؤں سے بھی برا کر دے گا۔
May 15, 2008 | اردگرد اور حالات حاضرہ اور ملکی صورتحال اور ہم عوام | 16 تبصرے »