محفوظات برائے زمرہ 'متفرقات'
طویل غیر حاضری کے بعد جیسے ہی اپنے بلاگ پر حاضر ہوا تو برادر محمد وارث اور فہیم کی جانب سے طلبی کا نوٹس لگا دیکھا جنہوں نے ایک مرتبہ پھر ٹیگ کا دم چھلا ہمارے ساتھ لگا دیا ہے۔ “مجبوری کا نام شکریہ”، تو دونوں کے شکریے کے ساتھ جوابات بھی حاضر ہیں۔ قاعدے کے تحت پہلے کھیل کے قوانین ملاحظہ ہوں۔
الف۔ کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے۔
ب۔ جس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے۔
ج۔ سوالات کے آخر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے۔
سوالات:
س1۔ ونڈوز یا لینکس؟
دونوں
س2۔ ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟
Hollywood
س3۔ پیپسی یا کوک؟
کوک
س4۔ سیب یا انگور؟
انگور
س5۔ کراچی یا لاہور؟
کراچی
س6۔ پاپ میوزک یا راک؟
ان دونوں میں سے تو کوئی نہیں
س7۔ چائے یا کافی؟
چائے
س8۔ عدنان سمیع یا عاطف اسلم؟
دونوں نہیں
س9۔ نہاری یا حلیم؟
حلیم
س10۔ لوو میریج یا ارینجڈ؟
ارینجڈ کی تو “گل” ہی اور ہے
س11۔ فورمز یا بلاگ؟
فورمز
س12۔ نواز شریف یا آصف زرداری؟
چھڈو جی
س13۔ دوست یا کزنز؟
دوست
س14۔ کرکٹ یا فٹ بال؟
فٹ بال
س15۔ پرسکون یا پریشان؟
ہمہ وقت پریشان
اب میں ان سوالوں کا بوجھ ان 5 لوگوں پرڈالتا ہوں۔
محب علوی
عارف انجم
شاکر عزیز
ساجد اقبال
قدیر احمد
July 15, 2008 | متفرقات | ایک تبصرہ »
میرؔ کہہ گئے ہیں:
اچھا نہیں ہے میرؔ کا احوال ان دنوں
غالب کہ ہو چکے گا یہ بیمار آج کل
قصہ مختصر یہ کہ جیسے جیسے مئی کے ایام گزرتے گئے اور کراچی کی گرمی کی قیامت خیزی میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے طبیعت مضحمل ہوتی چلی گئی اور بالآخر مئی کے آخری عشرے کے ساتھ ہی نزلے اور بخار نے جکڑ لیا اور یوں ہم بلاگ پر کچھ تحریر کرنے سے کم و بیش دو ہفتوں کے لیے محروم ہو گئے۔ ان دو ہفتوں کے دوران بخار ایک مرتبہ اتر کر دوبارہ چڑھا اور طبیعت اس قدر پتلی ہوتی چلی گئی کہ لکھنے لکھانے کے کسی کام کی جانب دل مائل نہیں ہوپایا۔ طبیعت میں گرانی تو اب بھی ہے تاہم حالت پہلے سے بہتر ہے۔ آپ لوگوں سے التماس ہے کہ دعا کریں اور میری کوشش ہے کہ چند روز میں ہی بلاگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کروں۔
June 06, 2008 | متفرقات | 11 تبصرے »
کیا دنیا ایک بحرانی دور میں داخل ہو چکی ہے؟ جس میں ایک بحران سے قبل دوسرا بحران جنم لے رہا ہے، کیا یہ عالمی قوتوں معاشی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے یا سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی خرابیاں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں؟
تیل کے بڑے بحران کے باعث محض گزشتہ چند سالوں میں تیل کی قیمت 25 ڈالرز سے 120 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز چکی ہے (تادمِ تحریر 124 ڈالرز فی بیرل سے زائد)۔ حالانکہ ان قیمتوں میں ابھی اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے لیکن پھر بھی قیمت 105 سے 120 ڈالرز کے درمیان ہی گردش کر رہی ہے اور جیسے جیسے یہ بحران سنگین تر ہو تا جا رہا ہے لگتاہے کہ اگلے چند سالوں (یا اگلے ہی سال میں) تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچے گی۔ دیگر وجوہات کے علاوہ چین اور بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی اس بحران کو مزید گمبھیر صورتحال سے دوچار کر سکتی ہیں کیونکہ ان کی تیل و گیس کی ضروریات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی معیشتیں ترقی کے جس مرحلے پر ہیں اُس مقام پر وہ کسی بحران کے محتمل ہو بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ انہیں شاہراہِ ترقی پر اپنے سفر کو تیز تر بنانا ہے۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں اپنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام جائز طریقوں کے علاوہ اب ناجائز ہتھکنڈوں پر بھی اتر آئی ہیں جس کی واضح مثال افغانستان و عراق پر امریکہ و برطانیہ اور اتحادی ممالک کی چڑھائی ہے جس کے ڈانڈے بہرصورت تیل ہی سے جا کر ملتے ہیں۔
تیل کی یہ کہانی اتنی زیادہ زور پکڑ گئی کہ اس دوران جتنے بھی دیگر نسبتاً چھوٹے بحرانات سامنے آئے وہ زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکے اور حقیقت تب آشکار ہوئی جب جن بوتل سے باہر آ چکا تھا۔ ان بحرانوں میں سب سے سنگین نوعیت کا بحران ہے “عالمی غذائی بحران”۔

اس بحران کی سنگینی کا اندازہ گزشتہ دنوں اخبارات میں شائع ہونے والے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کے بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ “سستی غذا کا دور” اپنے خاتمے پر ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے یہ بیان اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا کے دو تہائی غریب ایشیا میں بستے ہیں۔
اس بحران نے نہ صرف یہاں کہ ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے وہیں عوامی قوتِ خرید بھی روز بروز گھٹتی جا رہی ہے۔ غذائی بحران اس لیے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ وہ اضافی آمدنی جو عوام اپنے طرزِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعما ل کر سکتے تھے، وہ غذاؤں کی اضافی قیمت کی نذر ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب کئی ممالک میں عوام اپنی تین چوتھائی آمدنی خوراک پر صرف کر رہے ہیں اور گزشتہ تین سالوں میں خوراک کی قیمتوں میں 80 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس بحران کا نوٹس لیتے ہوئے بہت سخت بیانات بھی دیے ہیں، جن میں عالمی طاقتوں کی غلط پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کو چنداں اہمیت نہیں دی حتٰی کہ مقروض ترقی پذیر ملکوں پر دباؤ ڈالتے رہے کہ غذائی خود کفالت کی حصول کے بجائے وہ نقد فصلوں کی برآمدات میں سرمایہ کاری کریں ۔ بہرحال اس امر کا مکمل اندازہ ہونا چاہیے کہ اقوام متحدہ کے “سخت ترین بیانات” بھی صورتحال میں تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے بلکہ اسے عالمی معاملات کا “چوہدری شجاعت حسین” کہنا زیادہ بہتر ہوگا، جہاں ثالثی کے لیے درمیان میں آئے حریف کے مارے جانے سے کم نتائج نہ نکلے، چاہے معاملہ بگٹی والا ہو یا لال مسجد والا، دونوں کو چوہدری کی ثالثی کافی مہنگی پڑی۔ بہرحال موضوع کی جانب واپس آتے ہیں:
اس سلسلے میں سب سے غور طلب بات یہ ہے کہ آخر خوراک کا یہ عالمی بحران کیوں جنم لے رہا ہے؟ بنظر غائر دیکھا جائے تو دو بہت بڑی وجوہات دکھائی دیتی ہیں: ایک حیاتیاتی ایندھن (Bio Fuel) کی تیاری اور دوسری عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں یا عالمی حدت (Global Warming) کے باعث فصلوں کی پیداوار پر پڑنے والے مضر اثرات۔ اس کے علاوہ عالمی آبادی کا بگڑتا ہوا توازن بھی ایک اہم وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ و لاطینی امریکہ میں تو بلاشبہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا سبب “بائیو فیول” کی تیاری قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ امریکہ میں حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے کاشت کی جانے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس طرح کاشت کار بجائے غذا کے حصول کے ایندھن کے حصول کے لیے فصلیں اگا رہے ہیں اور یہ رحجان عالمی غذائی بحران کو سنگین تر کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس سلسلے میں بھی اقوام متحدہ نے سخت موقف اپناتے ہوئے فصلوں کو ایندھن کے لیے استعمال کرنے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے لیکن لگتا ہے اتنا سنگین معاملہ بھی بس مطالبات کی حد تک رہ گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے حال ہی میں بائیو فیولز کی تیاری کے لیے اہداف تک مقرر کر دیے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی ان غیر ذمہ دارانہ حرکتوں اور ترقی پذیر ممالک کے حکمرانوں کی نااہلی کے باعث مستقبل قریب میں غذائی بحران کی سنگینی میں کمی کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آسٹریلیا میں شدید خشک سالی نے گندم کی کاشت میں کافی کمی کر دی ہے جبکہ صورتحال کو بھانپ کر یوکرین نے گندم اور چین، مصر، ویت نام اور بھارت نے چاول کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے جس نے صورتحال کو مزید گمبھیر کر دیا ہے۔

خوراک کے اس عالمی بحران کے باعث دنیا بھر کے 8 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں اور عالمی ادارہ خوراک نے اسے ایک “خاموش سونامی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ اٹھائے اور زیادہ سے زیادہ اجناس کی پیداوار کے لیے ترقی پذیر ممالک کے کاشتکاروں کی مدد نہ کی تو تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔
غذائی بحران کی چند جھلکیاں تو پاکستانی قوم سالِ گزشتہ سے دیکھتی آ رہی ہے جب آٹے جیسی بنیادی ضرورت سنگینوں کے سائے تلے ملتی رہی اور عوام طویل قطاروں میں لگ کر گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد چند روز کا آٹا لینے میں کامیاب ہوئے، اور اب بھی ملک کے کئی شہروں میں آٹے کی شدید قلت ہے۔ عالمی اداروں نے حال ہی میں شدید غذائی بحران کا شکار 36 ممالک میں پاکستان کو بھی شمار کیا ہے اور پاکستان کے سیاسی اکھاڑے کھیلے جانے والے کھیل اور سیاست دانوں کی اُس میں مصروفیت اور محویت کے باعث ہر شخص ناامید ہے کہ حکومت غذا کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی تیار کرے گی۔
May 12, 2008 | حالات حاضرہ اور عالمی صورتحال اور ماحولیات اور متفرقات | 6 تبصرے »
ویب سائٹ
کسی تعارف کی محتاج نہیں، دنیا بھر کے گرافک ڈیزائنرز اور فوٹو گرافرز اپنی تخلیقات اور عکاسی کی رونمائی کر کے نہ صرف داد سمیٹتے ہیں بلکہ ان کے اعلٰی کام کو دیکھ کر مجھ جیسے نو وارد اپنے کام میں نئی جہتیں لاتے ہیں۔
چند ماہ قبل برادر ساجد اقبال نے اپنی ایک پوسٹ میں پر فلکر(Flickr) اکاؤنٹ سے تصاویر سائیڈ بار میں شامل کرنے کا طریقہ بتایا تھا تو دل سے ایک خواہش اٹھی تھی کہ کاش کوئی ایسا پلگ ان ہوتا جس سے Deviantart.com کے اکاؤنٹ سے اپنی تخلیقات و تصاویر بلاگ پر پیش کرپاتا۔ اس خواہش کو عملی جامہ پہنانا میرے بس کی تو بات نہ تھی اس لیے انتظار کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ بالآخر تین ماہ بعد ایک ایسا پلگ ان مل گیا جس کے ذریعے آپ Deviantart پر اپنے یا کسی بھی ساتھی کے اکاؤنٹ سے تصاویر و تخلیقات کو اپنے بلاگ کی سائیڈ بار میں شامل کر سکتے ہیں اور یہ پلگ ان ہے Deviant Thumbs.
سب سے پہلے یہ پلگ ان اس جگہ سے ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے بلاگ پر اپ لوڈ کر دیں (میں ون کلک استعمال کرتا ہوں) اور پلک انز میں جا کر activate کر دیں۔


اب Presentation یا Design میں جا کر Widgets میں چلے جائیں جہاں آپ کو Deviant Thumbs بھی نظر آئے گا۔

آپ اس کو شامل کر کے اس کی ترجیحات میں تبدیلی کر سکتے ہیں یعنی کتنی تصاویر سائیڈ بار میں دکھائی جائیں اور کون سے کھاتے سے حاصل کی جائیں وغیرہ۔ بس آپ کی پلگ ان کام کرنا شروع کر دے گی اور آپ کے تجویز کردہ کھاتے سے بالکل اسی طرح تصاویر دکھائے گی جس طرح اِس بلاگ کے سائیڈ بار میں آپ کو دکھائی دے رہی ہیں۔

امید ہے ان بلاگرز کے لیے فائدہ مند ہوگی جو Deviantart پر کھاتے کے حامل ہیں یا اس کے دلدادہ ہیں۔
April 15, 2008 | متفرقات | 8 تبصرے »
ایک رپورٹ کے مطابق دو ممالک کے درمیان سفارتی تنازع کا باعث بننے والی “ممی” ابھی تک تدفین سے محروم ہے۔ اکتوبر 2000ء میں کراچی پولیس کو ایک مقدمے کی تفتیش کے دوران ایک ایسی ممی ملی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ چھٹی صدی قبل مسیح کی ایرانی تہذیب سے تعلق رکھتی ہے جس پر ایران نے اپنا دعویٰ کیا لیکن بعد ازاں تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ ممی جعلی ہے۔ ایدھی ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ ممی سرخ فیتے کے باعث اپنی “آخری رسومات” سے محروم ہے۔ ایدھی ٹرسٹ کے مطابق مردہ خانے میں تین دن کے اخراجات 500 روپے ہوتے ہیں جبکہ اس لاش کو سات سال گذر چکے ہیں۔ (تو اخراجات کا اندازہ لگا لیں)
واضح رہے کہ قدیم سامان کے اسمگلروں نے ایک خاتون کی لاش کی ممی بنا دیا تھا جسے آثار قدیمہ کی ایک عظیم دریافت قرار دیا گیا تھا۔ یہ اس وقت پاکستان کی اہم ترین خبروں میں سے ایک بن گئی تھی اور غیر ملکی صحافیوں کی بڑی تعداد بھی اس “عظیم تاریخی دریافت” کی کوریج کے لیے پاکستان پہنچی۔ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ ایران نے بھی اس ممی کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔ بعد ازاں ماہرین کی زیر نگرانی ایک ٹیم نے اس ممی کا معائنہ کرنے کے بعد اسے جعلی قرار دیا اور رپورٹ کے مطابق یہ 96ء یا 97ء میں انتقال کر جانے والی ادھیڑ عمر خاتون کی لاش ہے جس کی موت کی وجہ گردن کی ہڈی ٹوٹنا بتایا گیا۔
پاکستان میں جہاں انسانی حقوق اور نسوانی حقوق کا ڈھنڈورا بہت زیادہ پیٹا جاتا ہے وہاں کوئی اس “ممی” کے آخری حق کے لیے بھی آواز اٹھائے؟ آخر کو وہ بھی انسان اور خاتون تھی۔ خیر یہاں تو زندوں کی کوئی سننے والا نہیں ہے بلکہ ان کی بھی “ممیاں” بنا دی گئیں تو ان مردوں کو کون پوچھتا ہے بلکہ کئی بلاگرز تو اعتراض بھی کریں گے کہ یہاں انسانیت کے خلاف جتنا ظلم کیا جا رہا ہے اس صورتحال میں آپ کو 11-12 سال قدیم ایک لاش کی پڑی ہے۔
بہرحال موضوع میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کچھ تفصیلات یہاں بھی موجود ہیں:
http://en.wikipedia.org/wiki/Persian_Princess
February 01, 2008 | حالات حاضرہ اور متفرقات | تبصرہ کریں »
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے NASA نے حال ہی میں خلیج فارس کی ایک تصویر پیش کی ہے جس میں خلیج فارس اور اس سے ملحقہ علاقوں کی تفاصیل پیش کی گئی ہیں۔ خلائی تصاویر اور نقشہ جات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بہت اعلٰی ہے۔ اس میں ایک نیا اضافہ مجھے دبئی کے ساحلوں پر Palm Islands کی صورت میں نظر آ رہا ہے اور اتنی بڑی تصویر میں ان جزائر کا دکھائی دینا ان جزائر کے حجم کو واضح کرتا ہے۔ گہرائی کے لحاظ سے سمندر کے مختلف رنگ اور شط العرب کے خلیج میں گرنے کے مقام پر مٹیالے رنگ کا دریائی پانی بھی نمایاں ہے۔

اس تصویر کے بارے میں کچھ تفصیل کے لیے یہ ربط استعمال کیجیے اور
Hi-resolution تصویر اتارنے کے لیے یہ ربط استعمال کریں۔
January 08, 2008 | فلکیات اور ماحولیات اور متفرقات | 3 تبصرے »
گذشتہ روز نیشنل جیوگرافک چینل پر “Mad Labs” نامی ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک عالمی سروے کا ذکر ملا۔ ایک صاحب نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں وہ کون سی آوازیں ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ بری لگتی ہیں، اس کے لیے انہوں نے ایک ویب سائٹ بھی مرتب کی ہے جسے تیار کرنے کے لیے خاصی محنت کی گئی ہے کیونکہ انہوں نے اس کے لیے کئی اقسام کی آوازیں ریکارڈ کی تھیں۔ فلیش پر بنی یہ ویب سائٹ خوبصورت بھی ہے اور معلوماتی بھی۔ آپ بھی ملاحظہ کیجیے، اور سروے کے ذریعے معلوم کیجیے کہ سب سے زیادہ بری آواز کون سی لگتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ کون سی آوازیں زیادہ بری ہیں لیکن انہیں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ تجسس بھی تو برقرار رکھنا ہے نا !!! اور ہاں بتانا نہ بھولیے گا کہ آپ کو سب سے بری آواز کون سی لگتی ہے؟ :wink:
Bad vibes
December 05, 2007 | متفرقات | تبصرہ کریں »
اس تصویر پر میرا کوئی تبصرہ نہیں نہ ہی اس کا کوئی عنوان منتخب کیا ہے۔ ساتھی بلاگرز اور صارفین سے گذارش ہے کہ آپ کی نظر میں یہ تصویر کیا ہے ؟

December 04, 2007 | متفرقات | 12 تبصرے »
کپلنگ نے کہا تھا
“مشرق، مشرق ہے
اور مغرب، مغرب ہے
اور دونوں کا ملنا ناممکن ہے”
لیکن مغرب، مشرق کے گھر آنگن میں آ پہنچا ہے
میرے بچوں کے کپڑے لندن سے آتے ہیں
میرا نوکر بی بی سی کی خبریں سنتا ہے
میں بیدل اور حافظ کے بجائے
شیکسپیئر اور رلکے کی باتیں کرتا ہوں
اخباروں میں
مغرب کے چکلوں کی خبریں اور تصویریں چھپتی ہیں
مجھ کو چگی داڑھی والے اکبر کی کھسیانی ہنسی پر
رحم آتا ہے
اقبال کی باتیں (گستاخی ہوتی ہے)
……… مجذوب کی بڑہیں
وارث شاہ اور بلھے شاہ اور بابا فرید؟
چلیے جانے دیجیے ان باتوں میں کیا رکھا ہے
مشرق ہار گیا ہے!
یہ بکسر پلاسی کی ہار نہیں ہے
ٹیپو اور جھانسی کی رانی کی ہار نہیں ہے
سن ستاون کی جنگ آزادی کی ہار نہیں ہے
ایسی ہار تو جیتی جا سکتی ہے (شاید ہم نے جیت بھی لی ہے)
لیکن مشرق اپنی روح کے اندر ہار گیا ہے
قبلائی خان تم ہار گئے ہو؟
اور تمہارے ٹکڑوں پر پلنے والا لالچی مارکوپولو
جیت گیا ہے
اکبر اعظم! تم کو مغرب کی جس عیارہ نے تحفے بھیجے تھے
اور بڑا بھائی لکھا تھا
اس کے کتے بھی ان لوگوں سے افضل ہیں
جو تمہیں مہابلی اور ظل الہی کہا کرتے تھے
مشرق کیا تھا؟
جسم سے اوپر اٹھنے کی خواہش تھی
شہوت اور جبلت کی تاریکی میں
اک دیا جلانے کی کوشش تھی
میں سوچ رہا ہوں، سورج مشرق سے نکلا تھا
(مشرق سے جانے کتنے سورج نکلے تھے)
لیکن مغرب ہر سورج کو نگل گیا ہے
“میں ہار گیا ہوں”
میں نے اپنے گھر کی دیواروں پر لکھا ہے
“میں ہار گیا ہوں”
میں نے اپنے آئینے پر کالک مل دی ہے
اور تصویروں پر تھوکا ہے
ہارنے والے چہرے ایسے ہوتے ہیں
میری روح کے اندر اک ایسا زخم لگا ہے
جس کے بھرنے کے لیے صدیاں بھی ناکافی ہیں
میں اپنے بچے اور کتے دونوں کو ٹیپو کہتا ہوں
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے اک نفرت دے دو
مجھ سے میرا سب کچھ لے لو
اور مجھے ایک غصہ دے دو
ایسی نفرت، ایسا غصہ
جس کی آگ میں سب جل جائیں
……. میں بھی!
(شاعر: سلیم احمد)
November 28, 2007 | متفرقات | 4 تبصرے »
اقبال کے بعد اب میر تقی میر سے معذرت کے ساتھ:
“الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا”
جعلی اینٹی بایوٹک نے آخر کام تمام کیا
“عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لی آنکھیں موند”
پہلے بیوی پھر بچوں نے اپنا یہ انجام کیا
“ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی”
جو چاہے پولیس کرے ہے، ہم کو عبث بد نام کیا
“سر زد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی”
اس کے ایک اشارے پر اپنوں کا قتل عام کیا
“کس کا کعبہ، کس کا قبلہ، کون حرم ہے کیا احرام”
وردی پہنی، واشنگٹن میں جا کے بش کو سلام کیا
“یاں کے سپید و سیاہ میں ہم کو دخل ہے جو سو اتنا ہے”
اپنے کام ادھورے چھوڑے، اُس کی خاطر کام کیا
“ساعد سیمیں دونوں ان کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے”
اس نے بھی ہمارے گالوں کو چانٹوں سے لالہ فام کیا
“ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی”
آخر ایک پڑھی لکھی ہرنی نے اس کو رام کیا
“میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو، ان نے تو”
پارٹی بدلی، ایماں بیچا، یوں زندہ اسلام کیا
(بشکریہ: محمد ظہیر صاحب)
November 26, 2007 | متفرقات | 3 تبصرے »
پچھلی »