محفوظات برائے زمرہ 'ماحولیات'
آج ہمیں ایک ایسے کھیل میں پھنسا دیا گیا ہے جس سے سابقہ ہی پہلی بار پڑا ہے اور وہ ہے، بقول شخصے بلاگرز کا پسندیدہ کھیل، “ٹیگ ٹیگ کھیلنا” اور اسے کھیلنے کے لیے ہمیں اکھاڑے میں دھکا دینے کا شرف حاصل ہوا ہے محترم عارف انجم کو۔ بہرحال اب دھکا دیا جا چکا ہے تو کھیلنا پڑے گا۔
تو جناب سب سے پہلے اس کھیل کے قوانین
ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔
ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔
سوالات اور جوابات
1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
سردی گرمی خزاں بہار، چاہے کچھ ہو دفتر آنے کے لیے جرابیں پہننی پڑتی ہیں اور اس وقت سیاہ رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں۔
2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
ابھی دفتر پہنچا ہوں اور دفتر میں کام کرنے والی خواتین کی محفل سے بھن بھن کی آوازیں آ رہی ہیں (نجانے کس کی غیبت ہو رہی ہے؟)
3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
ہاں وہی ناشتہ! پراٹھہ، انڈہ اور چائے
4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
ہممممم آج اندازہ ہو رہا ہے کہ کوئی فلم دیکھے بہت عرصہ ہو گیا ہے، شاید آخری مرتبہ بچوں والی کوئی فلم دیکھی تھی ڈاکٹر ڈولٹل 1
5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
مرد کا ایک مرتبہ گھر کے اندر اور عورت کا گھر سے باہر دل لگ گیا تو انہیں پلٹانا سب سے مشکل ہے
6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
کمپیوٹر پر نصب کردہ نیا گیم کھیل رہا تھا UEFA Euro 2008
7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
یہ سب سے مشکل سوال ہے، اتنی شخصیات سے ملنے کی خواہش ہے کہ ہر شخصیت پہ دم نکلے۔ بہرحال حکیم الامت علامہ اقبال سے ملنے کی بہت تمنا ہے۔
غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
پرسکون اسی وقت ہوتا ہوں جب غصہ اتر جاتا ہے، ویسے میں بذات خود کوشش نہیں کرتا بلکہ دیگر افراد میرے غصے کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں
9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
کل رات کو ایک دوست سے
10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
بلاشبہ سب سے زیادہ مزا عید الاضحٰی پر آتا ہے۔
کھیل کے قوانین کے مطابق 5 دیگر بلاگرز کو زبردستی اس کھیل میں گھسیٹنا ہے تو میں دھکا دیتا ہوں ان بلاگرز کو:
راہبر، اظہر الحق، راشد کامران، نعمان اور اجمل صاحب
June 19, 2008 | بلاگنگ اور ماحولیات | 5 تبصرے »
کیا دنیا ایک بحرانی دور میں داخل ہو چکی ہے؟ جس میں ایک بحران سے قبل دوسرا بحران جنم لے رہا ہے، کیا یہ عالمی قوتوں معاشی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے یا سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی خرابیاں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں؟
تیل کے بڑے بحران کے باعث محض گزشتہ چند سالوں میں تیل کی قیمت 25 ڈالرز سے 120 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز چکی ہے (تادمِ تحریر 124 ڈالرز فی بیرل سے زائد)۔ حالانکہ ان قیمتوں میں ابھی اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے لیکن پھر بھی قیمت 105 سے 120 ڈالرز کے درمیان ہی گردش کر رہی ہے اور جیسے جیسے یہ بحران سنگین تر ہو تا جا رہا ہے لگتاہے کہ اگلے چند سالوں (یا اگلے ہی سال میں) تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچے گی۔ دیگر وجوہات کے علاوہ چین اور بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی اس بحران کو مزید گمبھیر صورتحال سے دوچار کر سکتی ہیں کیونکہ ان کی تیل و گیس کی ضروریات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی معیشتیں ترقی کے جس مرحلے پر ہیں اُس مقام پر وہ کسی بحران کے محتمل ہو بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ انہیں شاہراہِ ترقی پر اپنے سفر کو تیز تر بنانا ہے۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں اپنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام جائز طریقوں کے علاوہ اب ناجائز ہتھکنڈوں پر بھی اتر آئی ہیں جس کی واضح مثال افغانستان و عراق پر امریکہ و برطانیہ اور اتحادی ممالک کی چڑھائی ہے جس کے ڈانڈے بہرصورت تیل ہی سے جا کر ملتے ہیں۔
تیل کی یہ کہانی اتنی زیادہ زور پکڑ گئی کہ اس دوران جتنے بھی دیگر نسبتاً چھوٹے بحرانات سامنے آئے وہ زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکے اور حقیقت تب آشکار ہوئی جب جن بوتل سے باہر آ چکا تھا۔ ان بحرانوں میں سب سے سنگین نوعیت کا بحران ہے “عالمی غذائی بحران”۔

اس بحران کی سنگینی کا اندازہ گزشتہ دنوں اخبارات میں شائع ہونے والے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کے بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ “سستی غذا کا دور” اپنے خاتمے پر ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے یہ بیان اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا کے دو تہائی غریب ایشیا میں بستے ہیں۔
اس بحران نے نہ صرف یہاں کہ ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے وہیں عوامی قوتِ خرید بھی روز بروز گھٹتی جا رہی ہے۔ غذائی بحران اس لیے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ وہ اضافی آمدنی جو عوام اپنے طرزِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعما ل کر سکتے تھے، وہ غذاؤں کی اضافی قیمت کی نذر ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب کئی ممالک میں عوام اپنی تین چوتھائی آمدنی خوراک پر صرف کر رہے ہیں اور گزشتہ تین سالوں میں خوراک کی قیمتوں میں 80 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس بحران کا نوٹس لیتے ہوئے بہت سخت بیانات بھی دیے ہیں، جن میں عالمی طاقتوں کی غلط پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کو چنداں اہمیت نہیں دی حتٰی کہ مقروض ترقی پذیر ملکوں پر دباؤ ڈالتے رہے کہ غذائی خود کفالت کی حصول کے بجائے وہ نقد فصلوں کی برآمدات میں سرمایہ کاری کریں ۔ بہرحال اس امر کا مکمل اندازہ ہونا چاہیے کہ اقوام متحدہ کے “سخت ترین بیانات” بھی صورتحال میں تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے بلکہ اسے عالمی معاملات کا “چوہدری شجاعت حسین” کہنا زیادہ بہتر ہوگا، جہاں ثالثی کے لیے درمیان میں آئے حریف کے مارے جانے سے کم نتائج نہ نکلے، چاہے معاملہ بگٹی والا ہو یا لال مسجد والا، دونوں کو چوہدری کی ثالثی کافی مہنگی پڑی۔ بہرحال موضوع کی جانب واپس آتے ہیں:
اس سلسلے میں سب سے غور طلب بات یہ ہے کہ آخر خوراک کا یہ عالمی بحران کیوں جنم لے رہا ہے؟ بنظر غائر دیکھا جائے تو دو بہت بڑی وجوہات دکھائی دیتی ہیں: ایک حیاتیاتی ایندھن (Bio Fuel) کی تیاری اور دوسری عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں یا عالمی حدت (Global Warming) کے باعث فصلوں کی پیداوار پر پڑنے والے مضر اثرات۔ اس کے علاوہ عالمی آبادی کا بگڑتا ہوا توازن بھی ایک اہم وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ و لاطینی امریکہ میں تو بلاشبہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا سبب “بائیو فیول” کی تیاری قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ امریکہ میں حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے کاشت کی جانے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس طرح کاشت کار بجائے غذا کے حصول کے ایندھن کے حصول کے لیے فصلیں اگا رہے ہیں اور یہ رحجان عالمی غذائی بحران کو سنگین تر کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس سلسلے میں بھی اقوام متحدہ نے سخت موقف اپناتے ہوئے فصلوں کو ایندھن کے لیے استعمال کرنے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے لیکن لگتا ہے اتنا سنگین معاملہ بھی بس مطالبات کی حد تک رہ گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے حال ہی میں بائیو فیولز کی تیاری کے لیے اہداف تک مقرر کر دیے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی ان غیر ذمہ دارانہ حرکتوں اور ترقی پذیر ممالک کے حکمرانوں کی نااہلی کے باعث مستقبل قریب میں غذائی بحران کی سنگینی میں کمی کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آسٹریلیا میں شدید خشک سالی نے گندم کی کاشت میں کافی کمی کر دی ہے جبکہ صورتحال کو بھانپ کر یوکرین نے گندم اور چین، مصر، ویت نام اور بھارت نے چاول کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے جس نے صورتحال کو مزید گمبھیر کر دیا ہے۔

خوراک کے اس عالمی بحران کے باعث دنیا بھر کے 8 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں اور عالمی ادارہ خوراک نے اسے ایک “خاموش سونامی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ اٹھائے اور زیادہ سے زیادہ اجناس کی پیداوار کے لیے ترقی پذیر ممالک کے کاشتکاروں کی مدد نہ کی تو تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔
غذائی بحران کی چند جھلکیاں تو پاکستانی قوم سالِ گزشتہ سے دیکھتی آ رہی ہے جب آٹے جیسی بنیادی ضرورت سنگینوں کے سائے تلے ملتی رہی اور عوام طویل قطاروں میں لگ کر گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد چند روز کا آٹا لینے میں کامیاب ہوئے، اور اب بھی ملک کے کئی شہروں میں آٹے کی شدید قلت ہے۔ عالمی اداروں نے حال ہی میں شدید غذائی بحران کا شکار 36 ممالک میں پاکستان کو بھی شمار کیا ہے اور پاکستان کے سیاسی اکھاڑے کھیلے جانے والے کھیل اور سیاست دانوں کی اُس میں مصروفیت اور محویت کے باعث ہر شخص ناامید ہے کہ حکومت غذا کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی تیار کرے گی۔
May 12, 2008 | حالات حاضرہ اور عالمی صورتحال اور ماحولیات اور متفرقات | 6 تبصرے »
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے NASA نے حال ہی میں خلیج فارس کی ایک تصویر پیش کی ہے جس میں خلیج فارس اور اس سے ملحقہ علاقوں کی تفاصیل پیش کی گئی ہیں۔ خلائی تصاویر اور نقشہ جات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بہت اعلٰی ہے۔ اس میں ایک نیا اضافہ مجھے دبئی کے ساحلوں پر Palm Islands کی صورت میں نظر آ رہا ہے اور اتنی بڑی تصویر میں ان جزائر کا دکھائی دینا ان جزائر کے حجم کو واضح کرتا ہے۔ گہرائی کے لحاظ سے سمندر کے مختلف رنگ اور شط العرب کے خلیج میں گرنے کے مقام پر مٹیالے رنگ کا دریائی پانی بھی نمایاں ہے۔

اس تصویر کے بارے میں کچھ تفصیل کے لیے یہ ربط استعمال کیجیے اور
Hi-resolution تصویر اتارنے کے لیے یہ ربط استعمال کریں۔
January 08, 2008 | فلکیات اور ماحولیات اور متفرقات | 3 تبصرے »
میرے پاس امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (NASA) کی ای میلز باقاعدگی کے ساتھ آتی ہیں اور میں لازماً ان کا مطالعہ کرتا ہوں کیونکہ کسی زمانے میں مجھے خلا اور زمین کی معلومات کا بہت زیادہ شغف رہا ہے اور آج تک جغرافیہ سے دلچسپی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے۔لیکن ناسا کی جانب سے جو آخری ای میل مجھے موصول ہوئی وہ کافی پریشان کن ہے جس میں ایک نہایت خوفناک خبر میری منتظر تھی۔ خبر یہ ہے کہ رواں سال جون سے ستمبر تک قطب شمالی میں ریکارڈ برف پگھلی ہے اور اس خوفناک خبر کا ثبوت ذیل میں دی گئی خلا سے کھینچی گئی یہ تصویر ہے۔

دنیا بھر میں پھیلتی ہوئی آلودگی کے نتیجے میں عالمی ماحولیات پر مرتب ہونے والے اثرات نے “عالمی حدت” (Global Warming) کا جو عذاب کھڑا کیا ہے اس کے نتائج آپ دنیا بھر میں روز بروز بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کے نتیجے میں دیکھ رہے ہوں گے۔ یورپ اور امریکہ میں صنعتی ترقی نے جہاں دنیا کو نت نئی ٹیکنالوجی سے متعارف کروایا ہے وہیں ان کارخانوں سے خارج ہونے والا دھواں گرین ہاؤس گیسوں میں تبدیل ہو کر آج دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔
سمندروں کی سطح میں اضافہ، سیلاب، موسموں کی شدت میں اضافہ اور دیگر کئی عوامل اسی بڑھتی ہوئی عالمی حدت کا تحفہ ہیں۔ لیکن ٹھیریے سب سے بڑا خطرہ تو ابھی باقی ہے یعنی قطب شمالی کی برف کا پگھلنا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں سمندروں کی سطح میں اضافہ ہوگا اور مالدیپ جیسے ممالک زیر آب آ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بُری خبر یہ ہے کہ رواں سال جون سے ستمبر تک کے عرصے میں قطب شمالی پر ریکارڈ برف پگھلی ہے۔ نیشنل سنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر (این ایس آئی ڈی سی) کی 16 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق سمندری برف کا حجم 4.13 ملین مربع کلومیٹر (1.56 ملین مربع میل) کم ہوا ہے جو اوسط سے 38 فیصد اور گذشتہ (2005ء کے) ریکارڈ سے 24 فیصد کم ہے۔
مندرجہ بالا تصویر امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے نے 16 ستمبر کو جدید مائیکروویو اسکیننگ ریڈیو میٹر آلے (اے ایم ایس آر ای) سے حاصل کی ہے۔ جس میں گرین لینڈ سے روس تک پھیلے ہوئی برف کو دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ سمندری برف زمین کے “ایئر کنڈیشنر” کی طرح کام کرتی ہے۔ بحر منجمد شمالی کی سفید شفاف برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتی ہے۔ جبکہ اس سے ملحقہ سمندر کا گہرے رنگ کا پانی سورج کی روشنی کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ اگر برف پگھلنے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو سورج کی روشنی کو خلا میں واپس کرنے کے عمل میں کمی اور پگھلنے کے عمل میں تیزی واقع ہوگی اور عالمی حدت میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔ حتٰی کہ این ایس آئی ڈی سی کے سینئر تحقیقی سائنسدان مارک سیریز نےیہ خطرہ تک ظاہر کر دیا ہے کہ 2030ء تک بحر منجمد شمالی مکمل طور پر پگھل سکتا ہے۔
عالمی حدت بڑھنے کے نتیجے میں جو دیگر خطرات ہیں ان میں 1990ء سے 2100ء تک سمندروں کی سطح میں 110 سے 770 ملی میٹر کا اضافہ، زراعت پر اثرات، اوزون کی سطح میں کمی، طوفانوں اور موسموں کی شدت میں اضافہ اور ملیریا اور ڈینگی بخار جیسے امراض میں اضافہ شامل ہیں۔

دوسری جانب عالمی حدت میں اضافے کا سبب بننے والے امریکی و یورپی کارخانوں کے نزدیک ان کی جیبوں میں جانے والا پیسہ زمین کے فطری نظام میں بگاڑ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کثیر القومی اداروں نے ایک خاص مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ عالمی حدت کے حوالے سے خدشات صرف ڈرامہ ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ اور آسٹریلیا نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے عالمی معاہدے Kyoto Protocol پر آج تک دستخط بھی نہیں کیے۔
حالانکہ ماحولیات کبھی بھی میرا پسندیدہ مضمون نہیں رہا لیکن نجانے کیوں اس ای میل کے بعد میں مجبور ہوگیا کہ آپ کو اُن خطرات سے آگاہ کروں جو ہماری دنیا کو درپیش ہیں۔
October 17, 2007 | ماحولیات | 6 تبصرے »