یہ وہ صدائیں ہیں جو گزشتہ دو روز سے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران کانوں میں گونج رہی ہیں بلکہ کئی بار تو کان پھاڑ قسم کی ہوتی ہیں۔ اور یہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور مطالبات کو تسلیم کیے جانے کے بعد معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
حالانکہ موجودہ حکومت روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر میدان میں آئی ہے اور انتخابات میں گزشتہ حکومت کے جو “مظالم” گنوا کر عوام سے ہمدردی کے ووٹ بٹورے گئے ان میں سرفہرست مہنگائی کا مسئلہ تھا اور اس مسئلے کی بنیادی وجہ گزشتہ دور حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا روز بروز اضافہ تھا لیکن “عوام دوست” حکومت کے انتخابات جیتنے کے بعد سے اب تک 7 مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 61 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ فروری 2008ء کے اختتام پر پٹرول کی قیمت 53 روپے 70 پیسے تھی جو اب 86 روپے 87 پیسے پر پہنچ چکی ہے۔ اس ریکارڈ قیمت پر پہنچنے کے لیے ریکارڈ قدم اٹھا کر بیک وقت 11 روپے 18 پیسے اضافہ کیا گیا۔
اسی عرصے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 73، مٹی کے تیل کی قیمت میں 65 اور ایچ او بی سی کی قیمت میں 48 فیصد اضافہ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک “منی بجٹ” کی حیثیت رکھتا ہے خصوصاً ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کے نتیجے میں عوام براہ راست متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ڈیزل سے وہ تمام اقسام کی ٹرانسپورٹ رواں دواں رہتی ہیں جو عوام استعمال کرتی ہے اور مٹی کا تیل ملک کے کئی علاقوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
بہرحال حالیہ اضافے کا نتیجہ اگلے ہی روز ہڑتال کی صورت میں دیکھنا پڑا اور مجھ جیسے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد دفتر پہنچنے میں ناکام رہے یا پھر دیگر ذرائع سے دفتر پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ ہڑتال کے اگلے روز متوقع طور پر شہر کراچی میں جابجا کنڈیکٹروں اور سواریوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات پیش آئے جس کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ تھا جبکہ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی فہرست جاری نہیں کی گئی. اسی تلخ کلامی کی جھلکیاں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے تمام افراد روزانہ ملاحظہ کر رہے ہوں گے۔
اب صرف فہرست کی صورت میں “پروانہ” جاری ہونے کا انتظار ہے، عوام ذہنی طور پر ایک اور کاری وارکے لیے تیار ہو چکے ہیں۔
پاکستانی سیاست بہت “رنگین” ہے اور اس کے ہر رنگ کی ایک خاص بات ہے۔ حتٰی کہ چند “چٹ پٹے” رنگوں پر بازاری قسم کے مصنفین نے کتابیں بھی لکھ ڈالیں جو ٹھیلے پر کتابیں بیچنے والوں کے ہاں مخصوص مقامات پر رکھی جاتی ہیں تاکہ فوری توجہ حاصل کریں۔ بہرحال پاکستانی سیاست کے انہی رنگوں میں سے ایک رنگ آجکل پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور وہ ہے چیئرمین سی بی آر عبد اللہ یوسف کا ایک محفل کے دوران “رقص”
ویسے ہمارے “جمہوری” وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اسی صلاحیت کی بنیاد پر وزارت تک تقسیم کرچکے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے صدر پرویز مشرف (”پر کٹنے سے پہلے”) انہی حرکات کا ارتکاب کر چکے ہیں جن کی بناء پر بھٹو کو اپنا زوال دیکھنا پڑا۔ حالانکہ صدر محترم اپنے دور عروج میں کئی ایسے کام کر چکے ہیں جن میں سے ہر ایک پر ایک کیا کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن حال ہی میں عبد اللہ یوسف کے ساتھ ان کے رقص کا چرچا اب سر راہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور ایک نجی چینل نے تو روشن خیالی کے اس عملی مظاہرے کو دکھانے کا موقع ہاتھ نہیں جانے دیا اور کارکردگی کا عملی مظاہرہ عوام کو دکھا دیا۔
ویسے بھٹو صاحب نے تو صرف ایک وزارت کے حصول کے لیے مقابل دو امیدواروں میں سے ایک انتخاب بہتر رقص کی بنیاد پر کیا تھا لیکن پرویز صاحب تو اس رقص کا خود حصہ بن گئے۔ جی ہاں! عبد اللہ یوسف نے صدر صاحب کو نشست سے اٹھا کر اہلیان محفل کے روبرو دعوت رقص دی جسے محترم صدر نے قبول کیا لیکن جناب ان کے “رقص” کے آغاز سے قبل ہی کیمرہ مین نے کمال ہوشیاری سے کیمرے کا رخ حاضرین کی جانب پھیر دیا (لگتا ہے کیمرہ مین کا تعلق پی ٹی وی سے تھا)۔ تو فی الوقت تو ہم عبد اللہ یوسف صاحب کے رقص پر ہی اکتفا کرتے ہیں، اب ہمیں اور نجانے کیا کیا دیکھنا ہے اس لیے ساری حیرانگی یہیں ختم مت کیجیے گا، کچھ “برے” وقت کے لیے بھی بچا کر رکھیے گا۔
امریکہ کیونکہ فی زمانہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی و عسکری قوت ہے جس کا دنیا بھر کے معاملات پر اس اثر و رسوخ ہے اور اس کی اہمیت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اس لیے اس کی تاریخ بھی دنیا بھر کے لیے اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے، قصہ مختصر یہ کہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں امریکہ کا طوطی بول رہا ہے۔ وطن عزیز میں رہنے والا عام چند جماعت پاس شخص بھی، جو اپنی تاریخ سے واجبی سی واقفیت بھی نہیں رکھتا، امریکہ کی دریافت کے حوالے سے سوال پر فوری جواب دے گا “کولمبس!”
تاریخ کا ایک ایسا کردار جس کے کارنامے نے دنیا کی تاریخ پر عظیم اثرات مرتب کیے، جس کا یہ واحد کارنامہ دنیا میں یورپ کی بالادستی کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور یورپ نے محض دو صدیوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے مسلمانوں کو باہر کر کے اپنی برتری قائم کر لی اور مسلمان ایک طویل نوآبادیاتی دور کے بعد موجودہ جدید ‘ذہنی’ غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیے گئے۔ اس بات سے قطع نظر کہ امریکہ دریافت کرنا اس کا کارنامہ تھا یا نہیں یہ امر بہرحال تسلیم شدہ ہے کہ اس کا سفرِ امریکہ دنیا کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔
“امریکہ کی دریافت” کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل مبارک علی صاحب کے ایک مضمون کا ترجمہ کر کے پیش کیا تھا جس پر یہ فرمائش کی گئی کہ امریکہ کی دریافت کے حوالے سے جو دیگر نظریات (خصوصاً مسلمانوں سے متعلق) پائے جاتے ہیں ان کے بارے میں بھی لکھا جانا چاہیے، سو اس موضوع پر کچھ نظریات سامنے لانے کی کوشش کی ہے ، امید ہے یہ حقیر سی کوششتاریخ کو دوسرے زاویے سے سمجھنے میں کسی حد تک مددگار ثابت ہوگی۔ مقصد صرف زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا اور پہنچانا ہے، کسی کے نظریے سے کلی اختلاف یا اتفاق کرنا نہیں۔ فی الوقت میرا موضوع امریکہ کی دریافت کے وہ دعوے ہیں جو مسلمانوں سے منسوب ہیں۔
کولمبس کے ہاتھوں امریکہ کی مبینہ دریافت دنیا کی تاریخ کا اتنا اہم واقعہ ہے کہ مورخین اِس سرزمین کی تاریخ کو ہی دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ایک قبل از کولمبس اور دوسری بعد از کولمبس۔ تاریخ انسانی کے اس واقعے کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ دعوے اور نظریات سامنے آئیں تاکہ حقیقت کا علم ہو سکے اور اس موضوع کا مکمل احاطہ بھی ہو سکے۔
امریکہ دریافت کرنے کے حوالے سے مسلمانوں نے جتنے دعوے کیے ان کا سہرا اندلس، چین اور افریقہ کے مسلمانوں کو سر باندھا گیا ہے۔ اس نظریے کے حامل مورخین کا دعویٰ یہ ہے کہ 9 ویں سے 14 ویں صدی عیسوی تک اندلس اور المغرب (مراکش) کے مسلمان جہاز رانوں نے بحر اوقیانوس میں دور دور تک جہاز رانی کی اور اس دوران انہوں نے امریکی براعظم تک بھی رسائی حاصل کی۔ان مسلمانوں نے تاریخ میں پہلی بار بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے اس پار نئی دنیا سے رابطے کا آغاز کیا۔ ان دعووں کے حق میں یہ مورخین کئی دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے ان دلائل پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو قرون وسطٰی کے مسلمان دانشوروں کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ مسلم جہاز رانوں کی امریکہ تک رسائی کا سب سے پہلا حوالہ ہمیں علی المسعودی (871ء تا 957ء) کی “مروج الذہب و معادن الجوہر” میں ملتا ہے جس میں انہوں نے بحر اوقیانوس میں ایک نامعلوم سرزمین کا ذکر کیا ہے اور اتنی کتاب میں اسے “ارض مجہولہ” کا نام دیا ہے۔ انہوں نے اپنی مذکورہ کتاب میں لکھا ہے کہ خلیفہ اندلس عبدالرحمن ثالث کے دور میں ایک مسلم جہاز راں خشخش ابن سعید ابن اسود نے 889ء میں دیلبا (موجودہ پیلوس) سے سفر کا آغاز کیا اور بحر اوقیانوس کے اُس پار ایک “ارض مجہولہ: (نامعلوم سرزمین) پر پہنچے اور انواع و اقسام کے خزانوں کے ساتھ واپس لوٹے۔ المسعودی کے مرتب کردہ دنیا کے نقشے میں افریقہ کے جنوب مغرب میں سمندر میں ایک بہت بڑا قطعہ زمین دکھایا گیا ہے جسے “ارض مجہولہ” کہا گیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان براعظم امریکہ کی موجودگی سے کولمبس کی دریافت سے 5 صدی قبل واقف تھے
ایک اور مسلم مورخ ابو بکر ابن عمر الغطیہ کے مطابق فروری 999ء میں اندلس میں اموی حکمران ہشام ثانی کے دور میں غرناطہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم جہاز راں ابن فرخ کناری جزائر پہنچے اور وہاں سے مغرب کی جانب بحر اوقیانوس میں سفر کا آغاز کیا اور دو ایسے جزائر پر پہنچے جنہیں اب کپراریا اور پلوتانا کہا جاتا ہے۔ وہ مئی 999ء میں غرناطہ واپس پہنچے۔
قبل از کولمبس تاریخ میں مسلمانوں کے “نئی دنیا” سے روابط کے حوالے سے سب سے اہم حوالہ مشہور مسلم جغرافیہ دان اور خرائط ساز محمد الادریسی (110ء تا 1166ء) کی کتاب “نزہت المشتاق” سے دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے بحر اوقیانوس اور “نئی دنیا” کی تلاش کے لیے مسلم جہاز رانوں کی کوششوں کے بارے میں لکھا ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ:
– مسلمانوں کے سپہ سالار علی ابن یوسف ابن تاشفین نے اپنے امیر البحر احمد ابن عمر کو بحر اوقیانوس کے مختلف جزائر پر حملے کے لیے بھیجا لیکن وہ اس حکم کی تعمیل سے قبل ہی انتقال کر گئے۔
– بحر ظلمات کے اُس پار کیا ہے؟ اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ کسی کے پاس اس کا درست علم نہیں کیونکہ اس سمندر کو پار کرنا بہت مشکل ہے۔ اس پر دھند کے گہرے بادل چھائے رہتے ہیں، اس کی لہریں بہت طاقتور ہیں، یہخطرات سے پُر ہے اور اس میں ہواؤں کے تیز جھکڑ چلتے ہیں۔ بحر ظلمات میں بہت سے جزائر ہیں جن میں سے متعدد غیر آباد ہیں اور دیگر پر سمندر کی لہریں غالب آتی رہتی ہیں۔ کوئی جہاز راں ان میں داخل نہیں ہوتا بلکہ ان کے ساحلوں کے قریب سے ہوتا ہوا گزر جاتا ہے۔
– لزبن کے قصبے سے اس مہم کا آغاز کیا گیا جسے “مغررین” کا نام دیا گیا اور وہ بحر ظلمات کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کے لیے نکل پڑے، تاکہ یہ جان سکیں کہ اس سمندر کا خاتمہ کہاں ہوتا ہے؟۔ 12 دن کے سفر کے بعد وہ ایک ایسے جزیرے پر پہنچے جو غیر آباد دکھائی دیتا تھا لیکن وہاں زرعی علاقے موجود تھے۔ وہ ان جزائر پر اترے لیکن جلد ہی ایسے افراد کے گھیرے میں آ گئے اور گرفتار کر لیے گئے جن کی جلد کا رنگ سرخ تھا، جسم پر بہت زیادہ بال نہیں تھے اور سر کے بال سیدھے تھے اور قامت بہت بلند تھی۔”
ادریسی کا “سرخ رنگت کے حامل افراد” کا حوالہ دینا اس امر کا شاہد سمجھا جاتا ہے کہ یہ قافلہ دراصل ان افراد کی سرزمین پر پہنچا تھا جنہیں کولمبس نے “سرخ ہندی” (Red Indians) کا نام دیا تھا۔
ان کے علاوہ افریقہ میں واقع سلطنت مالی کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہاں سے بھی مسلمان جہاز رانوں کا ایک قافلہ بحر ظلمات کو عبور کر کے امریکی سرزمین تک پہنچا تھا۔ اس مہم کا ذکر مسلم مورخ شہاب الدین ابو عباس احمد بن فضل العمری کی کتاب “مسالک الابصار فی ممالیک الامسار” میں ملتا ہے۔
رفتہ رفتہ مسلمانوں کی جانب سے امریکہ کی دریافت کے نظریات اتنی زیادہ اہمیت اختیار کر گئے کہ 1969ء میں ناروے کے ایک مہم جو تھور ہیئرڈیہل (Thor Heyerdahl) نے شمالی افریقہ کی بندرگاہ صافی سے بارباڈوس، ویسٹ انڈیز تک کا سفر ایسی کشتی کے ذریعے کیا جسے مقامی افریقی باشندوں نے پیپیرس سے بالکل اس طریق پر تیار کیا تھا جس طرح قرون وسطٰی میں تیار کیا جاتا تھا۔ اس سفر کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا کہ قرون وسطٰی میں افریقہ سے نئی دنیا تک سفر ممکن تھا۔
علاوہ ازیں چینی مسلمانوں کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت بھی ایک اہم نظریہ ہے اور اس کا سہرا منگ دور حکومت میں معروف مسلم جہاز راں “ژینگ ہی” کے سر باندھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ کارنامہ مبینہ طور پر 15 ویں صدی میں کولمبس سے قبل اس دور میں انجام دیا جب چین نے تجارتی راستوں پر اپنے قدم جمانے کے لیے 7 بحری مہمات کا آغاز کیا تھا۔مہم کی قیادت ژینگ ہی کے سپرد کی گئی ۔ ایک یورپی مورخ Gavin Menzies نے اپنی متنازع کتاب “1421: The Year China Discovered the World” میں اس کا ذکر کیا ہے۔کیونکہ اس نظریے کے حامی افراد 1421ء کو چینیوں کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت کا سال سمجھتے ہیں اس لیے مخالفین اسے 1421 Hypothesis کہتے ہیں۔
علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کولمبس نے 1492ء میں جب امریکہ دریافت کیا تو اس کی اس مہم میں کئی مسلمان جہاز راں بھی شامل تھے۔ اور کولمبس کے بیٹے فرنانڈو کولون نے اپنی کتاب تو یہاں تک کہا تھا کہ اسے جینووا کے مسلمان جہاز رانوں نے ہی بتایا تھا کہ وہ مغرب کی جانب سفر کر کے متبادل راستے کے ذریعے ہندوستان پہنچ سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی “دریافت” کے اس تاریخی سفر میں دو ایسے جہاز راں بھی کولمبس کے ہمراہ تھے جن کے اجداد مسلمان تھے۔ ان جہاز رانوں کے نام مارٹن الونسو پنزون Martin Alonso Pinzonاور ویسنٹ یانیز پنزون Vicente Yanex Pinzonتھے جو بالترتیب PINTAاور NINA جہازوں کے کپتان اور آپس میں بھائی تھے۔ یہ دونوں امیر کبیر اور ماہر کاریگر تھے اور سفر کے دوران انہوں نے پرچم بردار جہاز SANTA MARIAکی مرمت بھی کی تھی۔ پنزون خاندان کا تعلق مرینی خاندان کے سلطان ابو زیان محمد ثالث (1362ء تا 1366ء) سے تھا۔
کولمبس کا بیٹا فرنانڈو کولون یہ بھی لکھتا ہے کہ پوائنٹ کاویناس کے مشرقی علاقوں میں رہنے والی آبادی سیاہ فام تھی اور اسی علاقے میں ایک مسلم نسل کا قبیلہ “المامی” بھی آباد تھا۔ مینڈینکا اور عربی زبان میں المامی “الامام” یا “الامامو” سے مشتق لگتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذہبی یا قبائلی یا برادری کی سطح پر اعلٰی حیثیت کے حامل تھے۔
کئی مسلم حوالہ جاتی کتب میں شیخ زین الدین علی بن فضل الماژندرانی کے بحر ظلمات کے سفر کا ذکر ملتا ہے۔ جنہوں نے مرینی خاندان کے چھٹے حکمران ابو یعقوب سیدی یوسف (1286ء تا 1307ء) میں طرفایہ (جنوبی مراکش) سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور تقریباً 1291ء میں بحیرہ کیریبین میں واقع سبز جزیرے (Green Island) پر پہنچے۔ ان کے بحری سفر کی تفصیلات اسلامی حوالہ جات اور کئی مسلم دانشوروں کی کتب میں تاریخی واقعے کی حیثيت سے درج ہیں۔
کولمبس نے 21 اکتوبر 1492ء بروز پیر کیوبا کے شمال مشرقی ساحلوں پر جبارا کے قریب ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک مسجد کی موجودگی کا بھی ذکر کیا ہے۔ علاوہ ازیں کیوبا، میکسیکو، ٹیکساس اور نیواڈا میں مسجدیں اور قرآنی آیات سے مزین میناروں کی باقیات بھی دریافت ہوئی ہیں۔ کولمبس نے ٹرینیڈاڈ میں مقامی باشندوں کی خواتین کے لباس کا ذکر جس طرح کیا ہے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں مسلمان بھی موجود تھے اور اس کے بیٹے نے تو واضح طور پر لکھا ہے کہ ان کا لباس غرناطہ کی مسلمان خواتین جیسا ہی ہے۔
جدید مصنفین نے بھی اس موضوع پر خاصا کام کیا ہے جن میں بیری فیل، ایوان وان سرتیمی اور الیگزینڈ وان ووتھینو شامل ہیں۔ آخر الذکر جرمن مصنف کا کہنا ہے کہ کولمبس سے پہلے افریقہ، ایشیا اور یورپ سے تعلق رکھنے والے مختلف النسل افراد نئی دنیا میں موجود تھے تاہم انہوں نے مسلمانوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کو تسلیم کیا ہے۔
ڈاکٹر بیری فیل نے اپنی کتاب “Saga America” میں ٹھوس شواہد دے کر ثابت کیا ہے کہ شمالی اور مغربی افریقہ کے مسلمان کولمبس کی آمد سے صدیوں قبل نئی دنیا میں پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے ویلی آف فائر، ایلن اسپرنگز، لوگومارسینو، کی ہول، کینین، واشو اور ہکیسن سمٹ پاس (نیواڈا)، میسا ورڈی (کولوراڈو)، ممبریس ویلی (نیو میکسیکو) اور ٹپر کینو (انڈیانا) میں مسلم مدارس کی باقیات دریافت کیں جن کا تعلق 700 سے 800 صدی عیسوی سے ہے۔ باقیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان مدارس میں ریاضی، مذہب، تاریخ، جغرافیہ، علم ہیئت اور جہاز رانی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اُن کے مطابق امریکہ (484) اور کینیڈا (81) میں 565 مقامات (دیہات، قصبات، شہر، پہاڑ، جھیل اور دریا وغیرہ) ایسے ہیں جن کے نام دراصل اسلامی و عربی النسل ہیں۔ ان مقامات کے نام قبل از کولمبس دور میں رکھے گئے۔
ایوان وان سرتیما نے 1976ء میں اپنی کتاب “ They Came Before Columbus” میں افریقی لوگوں کے براعظم امریکہ سے روابط کو موضوع بحث بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیز، زمورس، مرابطین اور مرابیوس کے نام اس امر کے شاہد ہیں کہ قبل از کولمبس دونوں براعظموں کے آپس میں تعلقات تھے خصوصاً مرابطین کا نام ان کے لیے کشش کا حامل رہا کیونکہ مرابطین المغرب میں مسلمانوں کی معروف حکومت تھی۔
اس کے علاوہ عثمانی دور کے معروف ترک جہاز راں و امیر البحر پیری رئیس کے بنے ہوئے جو اعلٰی ترین نقشے آج تک موجود ہیں ان میں ایک نقشہ ایسا بھی ہے جس میں بحر اوقیانوس کے اُس پار برازیل کا علاقہ دیکھا جا سکتا ہے حالانکہ اس وقت کولمبس کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت کا چرچا بھی نہ ہوا تھا۔ پیری رئیس کا یہ قدیم نقشہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہ ان تمام شواہد پر بھاری ہے جو مورخین کولمبس سے قبل مسلمانوں کے ہاتھوں امریکہ کی دریافت کے بارے میں دیتے رہے ہیں۔ (یہ نقشہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے)
(اس مضمون کی تیاری میں مختلف حوالہ جات اور کتب سے مدد لی گئی ہے جن تک رسائی مضمون میں دیے گئے روابط کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔)
2002ء میں گجرات فسادات کے بعد اب ریاست کے مسلمان آہستہ آہستہ خوف کے سائے سے پیچھا چھڑا رہے ہیں۔ معروف بھارتی روزنامے ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق فسادات کے 6 سال بعد اب ریاست کے مسلمان اب خاص نمبر پلیٹوں کی نیلامی میں ایک مرتبہ پھر “786″ کے حصول کی کوششیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جسے “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔
فسادات سے قبل مسلمان زیادہ سے زیادہ بولی لگا کر اپنی گاڑیوں کے لیے ایسی نمبر پلیٹیں حاصل کیا کرتے تھے لیکن 2002ء کے اوائل سے ایسی نمبر پلیٹوں کی نیلامی روک دی گئی تھی جن پر 786 درج ہوتا تھا اور ان فسادات کے بعد ریاست میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث مسلمان اپنی شناخت چھپانے اور ہندو انتہا پسندوں کے عتاب کا نشانہ بننے سے بچنے کے لیے ایسی نمبر پلیٹوں سے گریز کرنے لگے۔
اخبار کے مطابق گزشتہ ماہ ہونے والی ایک نیلامی میں مسلمان ایک مرتبہ پھر 786 کے حصول کے لیے کوشاں دکھائی دیے اور پرویز شیخ نامی ایک مسلمان نے نیلامی میں 4186 روپے کی ادائیگی کر کے اپنی موٹر سائیکل کے لیے 786 کے نمبر کی حامل پلیٹ حاصل کر لی۔
بھارتی گجراتمیں 2002ء فسادات کے بعد مسلمانوں کی حالت کی بہتری کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ اور کیا اٹھائے جا رہے ہیں؟ اور کیا واقعی ریاست گجرات میں صورتحال میں بہتری آ رہی ہے؟ کیا دو ہزار مسلمانوں کے قتل عام کو اتنی آسانی سے بھلایا جا سکتا ہے؟ کیا آج بھی اسی وزیر اعلٰی کی موجودگی میں مسلمان سکھ کا سانس لے سکتے ہیں؟ کیا 786 نمبر والیتختیوں کی نیلامی اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج بھی ہر اس شخص کے ذہن میں ابھر رہے ہیں جو خود کو امت واحدہ کا حصہ سمجھتا ہے۔
بڑی شخصیات عام طور پر قوموں کے عروج کی نمائندہ ہوتی ہیں اس لیے مورخین ان کی شخصیت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے لیے ان کی کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہیں اور ان کے کارناموں کو غیر معمولی اور عوام کے لیے سود مند ثابت کرنے کی کوششوں میں جتے رہتے ہیں۔
مزید برآں انہیں لافانی حیثیت دینے کے لیے عوامی مقامات پر ان کے مجسمے نصب کیے جاتے ہیں؛ ان کی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کے لیے تصاویر پیش کی جاتی ہیں؛ ممالک، شہر، ادارے اور سڑکیں ان سے موسوم کی جاتی ہیں؛ ان کی عظمت کی تشہیر کے لیے کتابیں لکھی جاتی ہیں، ان کی شجاعت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نظمیں تخلیق ہوتی ہیں اور ڈاک ٹکٹ اور کرنسی نوٹ بھی شائع کیے جاتے ہیں۔ ہیرو سازی (Hero-making) کے اس عمل میں انہیں روایتی اخلاقیات سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے ان کے کمزوریوں اور جرائم سے بھی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ اگر ان سے کوئی جرم سرزد بھی ہواہوتو وہ انسانیت کے وسیع تر مفاد میں تھا اور اس لیے اس سے مکمل تجاہل برتا جانا چاہیے۔۔
کرسٹوفر کولمبس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا .1506ء میں غربت کے ہاتھوں گمنام موت کا شکار ہونے والا کرسٹوفر کولمبس رفتہ رفتہ ہیرو کے درجے پر پہنچ گیا کیونکہ یہ یوروامریکن باشندوں کے لیے وقت کی ضرورت تھی؟ کرکپیٹرک سیل نے اپنی کتاب ” Conquest of paradise: Christopher Columbus and the Columbian Legacy” میں اس شخص کے ابھرتے ہوئے افسانے کا سراغ لگایا ہے جسے ‘دریافت کرنے والا جہاز راں اور سیاح’ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
اپنی موت کے فوراً بعد وہ ایسے کپتان کی حیثیت سے مشہور ہوا جو کامیابی سے یورپ سے امریکہ پہنچا اور قدیم دنیا کو نئی دنیا سے منسلک کیا۔ وہ نو دریافت شدہ علاقوں سے دولت کے انبار سمیٹ کر لایا۔ ایک عام سے کپتان کا تاثر اس وقت مکمل طور پر تبدیل ہو گیا جب یورپی ہجرت کر کے امریکہ پہنچے اور وہاں قیام اختیار کیا، کولمبس ایک ایسے شخص کی حیثیت میں ابھر کر آیا جس نے دنیا کا ایک چوتھائی حصہ یورپ کو عطا کیا جہاں انہوں نے اپنی اضافی آبادی کو منتقل کیا۔
17 ویں اور 18 ویں صدی میں نئی دنیا میں رہائش اختیار کرنے والے اور قدیم مقامی آبادی کے علاقوں پر قبضہ کرنے والے افراد، خصوصاً یورپ میں زیر عتاب رہنے والے مذہبی فرقوں کے لیے کولمبس ایسی عظیم شخصیت تھی جس نے انہیں مشکل سے بچایا اور انہیں ایسا محفوظ مقام فراہم کیا جہاں وہ آزادی سے اپنے ایمان کے مطابق زندگی گذار سکتے ہیں۔ 19 ویں صدی میں جب مورخین نے ہسپانوی ادبی ذخائر میں موجود قدیم دستاویزات کا مطالعہ کیا تو اس کی سفری مہمات کو اس کی کامیابیوں کے ساتھ بیان کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہیرو سازی کا یہ عمل مکمل ہوا۔
شمالی اور جنوبی امریکہ میں ہیرو کی حیثیت سے اس کے تاثر کو وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔ اس کی “خدمات” کے عوض میں شہروں، اداروں اور سڑکوں کے نام اس سے موسوم کیے گئے۔ ایک عہد ساز شخصیت کی حیثیت سے تاریخ دانوں نے امریکہ کی تاریخ کو دو ادوار ‘قبل از کولمبس’ اور ‘بعد از کولمبس’ میں تقسیم کر دیا۔ 1963ء میں امریکی کانگریس نے یوم کولمبس کو قومی دن قرار دیا۔ اسکولوں کی نصابی کتب میں اسے ایک ‘دریافت کرنے والی’ شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا اور ان حقائق سے پردہ پوشی کی گئی کہ مذکورہ براعظم 1492ء سے عرصہ قبل چینیوں سمیت کئی قوموں نے دریافت کر لیا تھا۔ اسے عیسائیت کے پشتیبان کے طور پر پیش کیا گیا جس نے عثمانی ترکوں اور ان کی بحری قوت کو للکارا۔ اس کا نیا امیج ایک انسان دوست کا تھا، ایک ایسا شخص جس نے ترقی کی راہوں پر یورپیوں کی رہنمائی کی اور ان کی تہذیب کو فروغ دیا۔
اس کا یہ تاثر (امیج) جدید عہد تک مسلمہ رہا۔ قدیم سرخ ہندی(Red Indian) باشندے جنہیں مظالم کا شکار بنایا گیا تھا وہ اس حیثیت میں نہیں تھے کہ یورپ نواز تاریخی تحاریر کا جواب دے پاتے جو ان کے خلاف تعصب سے بھری پڑی ہے۔ تاریخ کے اس متعصب اور تحقیر آمیز انداز کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مقامی دانشور ابھرے جنہوں نے امریکی تاریخ دانوں اور سیاسی کارکنوں کے تعاون سے ایک ہیرو کی حیثیت سے کولمبس کے افسانوی تاثر کو للکارا۔
1992ء میں کولمبس کی امریکہ آمد کی 500 ویں سالگرہ کے موقع پر مقامی سرخ ہندیوں اور ان کے حامیوں نے زبردست احتجاج کیا اور تاریخی کتابوں کی بنیاد پر کولمبس کے متضاد تاثر کو سامنے لائے۔ ان کا دلیل یہ تھی کہ جس شخص نے مقامی آبادی کے ساتھ بدترین سلوک اختیار کیا، انہیں قتل کیا اور غلام بنایا حالانکہ انہوں نے اس کا ساتھیوں سمیت خیرمقدم کیا تھا اور انہیں کھانا اور رہائش بھی فراہم کی؛ ایسی شخصیت کو اس عظمت کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اپنے پہلے سفر پر اس نے مقامی باشندوں کو اغوا کیا اور انہیں اسپین لے جاکر بطور غلام ہسپانوی حکمرانوں کو تحفتاً پیش کر دیا۔ اس نے مقامی آبادی سے حتی الامکان سونا حاصل کیا۔ اس کے اپنے مطابق: “سونا سب سے شاندار ہے؛ سونا خزانے تشکیل دیتا ہے، اور جس کے پاس یہ ہو وہ دنیا میں سب کچھ کر سکتا ہے، حتٰی کہ روحوں کو جنت بھی لے جا سکتا ہے”۔ 1495ء میں جب وہ ہیٹی پہنچا تو اراوک قبیلہ اس کے مظالم کا نشانہ بنا۔ “سپاہیوں نے گولیوں کی بوچھاڑ سے درجنوں کو ٹھکانے لگا دیا، چھوڑے گئے کتے ان کے سینے اور پیٹ چیر پھاڑ دیتے، اور جھاڑیوں میں چھپے مفرور مقامی باشندوں کا پیچھا کرتے”۔ اس بدترین قتل عام کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو سال کے اندر اندر ہیٹی کی نصف آبادی کا خاتمہ ہو گیا۔ 1650ء تک ہیٹی میں کوئی مقامی باشندہ نہ بچا۔
اپنے 1493ء کے سفر میں کولمبس نے بطور انعام اپنے افسران کو مقامی عورتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کی پیشکش کی۔ ہیٹی میں غلاموں کے ہسپانوی باشندوں کے ساتھ زبردستی جنسی تعلقات استوار کرائے جاتے۔ اس نے اپنے ایک دوست کو انتہائی مسرت کے عالم میں لکھا: “کسی عورت کے لیے ایک سو قشتالوی (castellanies) بالکل اسی طرح با آسانی حاصل کیے جا سکتے ہیں جیسے کھیت کے لیے، یہ بہت عام ہے اور اور ایسے بہت سے دلال ہیں جو لڑکیوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں؛ نو سے دس سالہ لڑکیوں کی بہت زیادہ طلب ہے”۔ مقامی باشندوں کے مصائب و آلام یہیں ختم نہیں ہوئے۔ کولمبس کے بعد کورٹ اور پزارو جیسے دیگر ظالم اور لالچی ہسپانوی “فاتحین” آئے جنہوں نے نہ صرف مقامی آبادی کا قتل عام کیا بلکہ ان کی دولت اور وسائل کو بھی لوٹ لیا۔ ایزٹک اور انکا کی عظیم تہذیبوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا۔ شمالی امریکہ کے یورپی مہاجرین نے زبردستی مقامی قدیم آبادی کی زمینوں پر قبضہ کر لیا اور ان کو بے یار و مددگار صورتحال میں جھوڑ دیا۔
کسی بھی روایتی تاریخ کی کتاب میں پیش نہ کیے جانے والے اس نئے مواد کی بنیاد پر دانشور اور سیاسی کارکنان نے اس کے ہیرو کے امیج کے خلاف زبردست تحریک سے موازنہ شروع کیا۔ یورپیوں کی آمد کے 500 سال مکمل ہونے کے جشن کے خلاف کئی کتب لکھی گئیں، پمفلٹ تقسیم کیے گئے اور اخبارات میں مقالے لکھے گئے، ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا اور مظاہرے کیے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تصویر کا دوسرا رخ ابھر کر سامنے آیا اور عوام کو کولمبس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرنا پڑا۔
کچھ لوگوں کے لیے وہ ایک ہیرو ہے، ایک ایسا شخص جو امید اور الہام لے کر آیا، لیکن چند کے نزدیک وہ مقامی آبادی کے لیے تباہی، مصائب و آلام اور اذیت لے کر آیا، جس نے انہیں نہ صرف اپنی زمینوں سے بے دخل کیا بلکہ اپنی ثقافت اور تہذیب سے بھی محروم کر دیا۔ کیا وہ واقعی ایک ہیرو کہلانے کے قابل ہے؟
چند روز قبل نیشنل جیوگرافک چینل پر ایک دستاویزی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ حالانکہ میں “دہشت گردی” اور اس طرح کے دیگر موضوعات پر نیشنل جیوگرافک کی فلمیں دیکھنے سے اجتناب ہی کرتا ہوں کیونکہ وہ انتہائی متعصبانہ ہوتی ہیں اور اس میں صرف وہ نقطۂ نظر ہی پیش کیا جاتا ہے جو حکومتوں کا پیش کردہ ہوتا ہے مثلاً نائن الیون پر امریکی حکومت کا موقف بعینہ ویسا کا ویسا ہی پیش کیا گیا اور اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کا اظہار تک بھی نہیں کیا گیا۔
بہرحال اِس مرتبہ جو فلم دیکھنے کا موقع ملا وہ مشہور سیریز Situation Criticalکا حصہ تھی اور اس قسط کا نام تھا Situation Critical: Taliban Uprising جو 25 نومبر سے یکم دسمبر 2001ء تک افغانستان کے مشہور قلعہ جنگی میں پیش آنے والی صورتحال کا آنکھوں دیکھا حال تھا۔ فلم کی خاص بات وہ حقیقی مناظر ہیں جو طالبان قیدیوں کی مزاحمت اور شمالی اتحاد کے فوجیوں کی بربریت اور امریکی گولہ باری کے موقع پر موجود صحافیوں نے کیمرے میں قید کر لیے ۔قلعہ جنگی کی اس “جنگ” میں شمالی اتحاد کے درجنوں فوجی اور طالبان کے 300 سے زائد جنگجو (سرکاری اعداد و شمار) مارے گئے جبکہ 10 امریکی و برطانوی فوجی زخمی بھی ہوئے جبکہ ایک امریکی سی آئی اے ایجنٹ بھی مارا گیا۔
شمالی اتحاد کا ایک سپاہی طالبان کی لاش کی آڑ لے کر پوزیشن سنبھالے ہوئے
حالانکہ وہاں موجود صحافیوں کا یہ کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی اور شاید صحیح تعداد کبھی بھی منظر عام پر نہ آسکے۔ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والی اس مزاحمت کے بعد جو 80 طالبان گرفتار ہوئے ان میں امریکہ سے تعلق رکھنے والا “جان واکر لِنڈھ” بھی شامل تھا جس کا اسلامی نام حمزہ واکر جبکہ کوڈ نام سلیمان الفارس تھا۔ بہرحال اس واقع کا افسوسناک ترین پہلو یہ تھا کہ امریکی طالبان کے منظر عام پر آنے کے بعد وہ سینکڑوں ہلاکتیں پس منظر میں چلی گئیں اور اس قتل عام کی تحقیقات آج تک نہ ہو سکیں۔ اس بارے میں کچھ اہم روابط درج ذیل ہیں:
محترمہ تو چلی گئیں لیکن ان کے پیچھے تنازعات، بحث مباحثے، الزامات کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بات زیادہ نہیں صرف TIME میگزین کا سرورق دیکھ لیں۔ باقی رہا تبصرہ سو وہ آپ کریں
ہر گذرتا سال یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ اس سے زیادہ برا سال پہلے نہیں گذرا۔2001ء میں نیویارک اور واشنگٹن پر حملے، 2002ء میں افغانستان اور 2003ء میں عراق پر امریکی جارحیت، 2004ء کے آخری ایام میں سونامیاور 2005ء پاکستان میں تباہ کن زلزلہ اور پھر 2006ء سے پاکستان میں بدستور بگڑتی سیاسی صورتحال جو 2007ء میں پہلے چیف جسٹس کی برطرفی اور پھر ان کی بحالی کی تحریک اور اس دوران 12 مئی جیسے اندوہناک واقعات، سقوط ڈھاکہ کے بعد ملکی تاریخ کے دوسرے سب سے بڑے سانحۂ لال مسجد اور پھر خود کش بم دھماکوں اور سیاسی بحران کے لامتناہی سلسلہ اور بالآخر پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو کے قتل پر منتج ہوئی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ پاکستان کو 1971ء کے علاوہ شاید ہی کبھی اتنی نازک صورتحال سے گذرنا پڑا ہو۔ پرویز مشرف نے یہ کہہ کر امریکہ کی جنگ میں کودنے کی حامی بھری کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور انکار کی صورت میں “پتھر کے دور” میں پہنچانے کی دھمکی دی گئی تھی، کیا اس سے زیادہ بھی کوئی پتھر کا دور آئے گا؟ اتنا ظلم تو شاید پتھر کے دور میں بھی نہ ہوتا ہوگا۔ سوچیے کہ کیا ہم یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے اور اتنی قربانیوں سے حاصل کیا گیا ملک یونہی لٹیروں اور قاتلوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتا رہے گا۔ آخر ہم کب جاگیں گے؟
فیصل آباد سے اردو کے معروف بلاگر شاکر عزیز نے موجودہ حالات کے تناظر میں بہت اہم موضوع چھیڑا ہے۔ موضوع ہے “شخصیت پرستی” اور خصوصاً پاکستان کے موجودہ حالات میں جہاں “کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی” کے مصداق ہر “نئے” شخص سے امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں اور “شخصیت سازی” کا یہ عمل کچھ خاص مدارج سے گذرنے کے بعد بالآخر “شخصیت کی عبادت” تک پہنچ جاتا ہے۔ اصل میں ہمیں شخصیت کی نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے مانا کہ اس اجتماعی جدوجہد کی قیادت کے لیے کسی قائدانہ صلاحیت کے حامل فرد کی ضرورت لازمی ہے لیکن اگر اجتماعی سطح پر جدوجہد کا مادہ نہیں تو نظام کو بدلنا ایک شخص کے بس کی بات نہیں رہتی۔
ہمارا مجموعی قومی مزاج یہ ہے کہ ہم آغاز تو اظہار ہمدردی سے کرتے ہیں لیکن پھر جست لگاتے ہوئے پہلے اظہار محبت اور پھر اظہار عقیدت تک پہنچ جاتے ہیں اور یہی نفسیات عمران خان کے حوالے سے حالیہ واقعات پر عوامی جذبات میں کارفرما رہی۔ Hero worshipکا مادہ من حیث القوم ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ فی الوقت کیونکہ بحیثیت مجموعی قوم کو موجودہ بحران سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی اس لیے اس اندھے راستے پر اسے جو کرن دکھائی دیتی ہے اس سمت سفر شروع ہو جاتاہے۔ اور یہ رویہ بہت زیادہ خطرناک بھی ہے کہ پورے معاشرے کا سارا بوجھ ایک فرد پر کس طرح ڈالا جا سکتا ہے اور کس طرح یہ امید باندھی جا سکتی ہے کہ اب جو کچھ کرنا ہے ایک فرد نے کرنا ہے۔ تبدیلی کے لیے تو بہت سی قوتوں کا اس کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے لیکن یہ بھی کافی نہیں کیونکہ کھڑے ہونے اور بوجھ بانٹنے میں بڑا فرق ہے۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ آپ کے سر پر دس من وزن ہے اور میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ہماری مجموعی نفسیات یہ ہے کہ ہم اچھا کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے خطرات اور اندیشوں کا سامنا کرنے کو تیار نہیں اور بزدلوں اور نامردوں کی طرح یہ خواہش رکھتے ہیں کہ خطرات و اندیشے کوئی انگیز کرلے اور اچھا کام ہو جائے۔ اس عمل میں اگر خطرات و اندیشوں سے نمٹنے والے کا نقصان ہو جائے تو میں اس پر آٹھ آٹھ آنسو بہا لوں گا، اس کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا دوں گا، قصیدہ گوئی کروں گا، قلم سے صفحات سیاہ کر دوں گا لیکن خطرہ مول نہیں لوں گا۔ فوجی آمریت نے معاشرے کی علامت بن کر ابھرنے والی ہر کرن کو قتل کیا اور ہمارا ردعمل صرف اور صرف وقتی رہا اور کچھ عرصے بعد بالکل ایسے سکون سے بیٹھ گئے جیسے مردے کو دفنانے کے بعد دلوں کو قرار آ جاتا ہے۔ اور یہی ہمارا مزاج ہے کہ ڈاکٹر قدیر اور افتخار چوہدری کے بعد جیسے ہی عمران خان “نظر” آئے سب ان کی طرف دوڑ پڑے۔
کہا جاتا ہے کہ آخرت میں ہر کسی کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا، آخرت کیا دنیا میں بھی یہی اصول ہے اور جو لوگ دنیا میں اپنا بوجھ دوسرے کے سر ڈال کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بچ گئے، انہیں معلوم نہیں اللہ تعالٰی پھر انہیں کوئی بھی بار اٹھانے کے لائق نہ سمجھتے ہوئے تاریخ کے سفر کی ہر ذمہ داری سے محروم کر دیتا ہے۔
ایک محفل کا ذکر احوال جہاں چند ادھیڑ عمر افراد اور بزرگ ایک معاملے پر گفتگو کر رہے ہیں
نوٹ: میری حیثیت صرف سامع کی ہے
“مشرف ہماری اقدار کو تبدیل کرنے جا رہا ہے”
“ہاں بھیا! اس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے تو بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے”
“اخلاقی اقدار، شرافت، حیا، ادب آداب کا جنازہ نکال دیا ہے”
“صرف آٹھ نو سال کے عرصے میں معاشرے میں کتنی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، یہ سب اسی کا کیا دھرا ہے”
“نہیں! مجھے تو کچھ ایسا نہیں لگتا، دیکھو جب ہم نوجوان تھے تو اس وقت داڑھی رکھنے والوں پر پھبتیاں کسی جاتی تھیں، حتٰی کہ لڑکوں کے رشتے سے صرف اس بنا پر انکار کر دیا جاتا تھا کہ اس کی داڑھی ہے لیکن اب دیکھیے برقعوں کی بہار ہے،داڑھی سجائے کتنے نوجوان گھومتے نظر آتے ہیں، میرے خیال میں حالات اتنے خراب نہیں ہوئے”
“دیکھیں اقدار کی تبدیلی کا عمل اتنا آسان نہیں ہوتا، اقدار کوئی ماچس یا لائٹر نہیں کہ کسی کے بھی طلب کرنے پر اس کے حوالے کر دی جائیں”
“لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ مشرف نے آتے ہی خود کو اتاترک کا پیروکار کہا تھا اور وہ اسی کے نقش قدم پر چل رہا ہے”
” آپ تاریخ کا مطالعہ کر کے یہ بھی تو سمجھ سکتے ہیں کہ اتاترک نے اپنی قوم کے لیے بہت کچھ کیا، مشرف نے ملک کو کیا دیا ہے، مہنگائی، لاقانونیت، خودکش حملے، بے حیائی، بے غیرتی، ہر میدان میں ناکامی، اپنے بھی خفا بیگانے بھی ناخوش۔ اتاترک جس کی مثال دی جاتی ہے اس نے اپنی قوم کو آزادی دلائی، آدھے ملک کو غیر ملکی پنجوں سے آزاد کرایا، ایک مردہ ہوتی ہوئی قوم میں نئی زندگی پھونکی، اس نے ملک کو نیا اقتصادی و تعلیمی نظام دیا، اس نے نیا آئین دیا، اس کے دور میں ترکی ترقی کی راہوں پر گامزن ہو چکا تھا اور وہ مرنے سے پہلے ایک مستحکم و خوشحال ملک چھوڑ کر گیا۔ جب کوئی شخص عوام کو وہ سب کچھ دے تو اس کے بدلے میں عوام اقدار دینے پر بھی رضامند ہو جاتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اقدار کے بدلے میں بہت کچھ دینا پڑتا ہے۔ لیکن مشرف نے عوام کو کیا دیا کہ عوام اپنی اقدار اس کی جھولی میں ڈال دیں۔”