وطن عزیز پاکستان میں “روشن خیالی” کے نام پر جو کارنامے انجام دیے جا رہے ہیں ان کے بھیانک اثرات بہت جلد نظر آنا شروع ہوں گے۔ اس سلسلے میں میں پہلے بھی ذرائع ابلاغ کو کردار کو نشانہ بناتا رہا ہوں اور تنقید کا یہ سلسلہ مزید طویل ہو کر آج اس پوسٹ کی صورت میں آپ کے سامنے آ رہا ہے۔
پاکستان میں خاص طور پر انگریزی صحافت روشن خیالی کے قافلے کا ہراول دستہ ہے۔ وہ اخبارات ہوں یا انگریزی اخبارات کے زیر نگیں چلنے والے انگریزی و اردو ٹیلی وژن چینلز، ان تمام کا بنیادی ہدف عوام میں دین سے دوری اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے ناامیدی پیدا کرنا ہے۔ اور ان دونوں بنیادی اہداف کی تکمیل میں کوشاں ذرائع ابلاغ کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں اور اس کے لیے کسی ثبوت کو پیش کرنے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ یہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے۔
انگریزی صحافت میں جس اخبار کو “روشن خیالی کا سرخیل” کہا جا سکتا ہے وہ”ڈیلی ٹائمز ہے۔ یہ اخبار جمعہ کو بچوں کے لیے خصوصی میگزین “Wikkid” کے نام سے نکالتا ہے جس میں “Celeb Solution: Anoushey Knows Best” کے نام سے ایک سلسلہ چلتا ہے جس میں بچوں کے الجھنوں کے مسائل بیان کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں جہاں اخبارات و رسائل پڑھنے کا رحجان بہت کم ہے وہیں ہر اخبار کسی مخصوص طبقے کی نمائندگی کرتا دکھائی دیتا ہے اور اس کی جھلک قارئین کے خطوط میں دکھائی دیتی ہے۔ یہی جھلکیاں بچوں کو انوشہ کو بھیجے گئے خطوط میں بھی واضح ہوتی ہیں لیکن سوال چاہے جیسا بھی ہو خاتون کو انفرادی حیثیت میں اور اخبار کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ننھے ذہنوں میں زہر نہیں اُگلنا چاہیے۔ یکم اگست 2008ء کو Wikkid کی اشاعت میں بھی یہ سلسلہ باقاعدگی سے آیا اور میری نظر سے گزرا۔ پہلا سوال پڑھ کر جھٹکا سا لگا لیکن ساتھ تجسس پیدا ہوا کہ جواب کیا ہوگا؟ ملاحظہ کیجیے، اصل اخبار کا اسکین شدہ ٹکڑا:
کیا کسی موقر جریدے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ مذہبی و اخلاقی اقدار کو پامال کرنے ننھے ذہنوں کو پراگندہ کرے؟ چاہے وہ سوال کرنے والا غیر مسلم ہو اور جواب دینے والی بھی لیکن کم از کم اس امر کو تو ملاحظہ کرنا چاہیے کہ ہماری بیشتر آبادی مسلمان ہے اور اسلام میں 6 سال کی عمر کے بعد بچوں کے بستر بھی الگ کر دینے کا حکم ہے تو یہ خاتون کس بنیاد پر سوال کا یہ “عالمانہ جواب” دے رہی ہیں۔ میں نے یہ موضوع اس لیے نہیں چھیڑا کہ میری اس صدائے احتجاج پر ڈیلی ٹائمز اپنی پالیسیاں بدل دے گا بلکہ اس لیے کہ وہ لوگ جو لاعلمی میں صرف بچوں کی انگریزی “بہتر” بنانے کے لیے گھروں پر انگریزی اخبارات لگواتے ہیں، یہ اخبارات ان کے بچوں کی کیا ذہن سازی کر رہے ہیں؟ آج سے 6 سال قبل روزنامہ جنگ سے وابستہ معروف انگریزی اخبار The News بھی بچوں کے صفحات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے وابستہ بائبلی قصہ شائع کرنے کا کارنامہ انجام دے چکا ہے جس میں اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اسحاق علیہ السلام کی قربانی کا ذکر تھا۔ اس واقعے کو درج کرنے سے بڑا ظلم یہ کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کارٹونک تصویر بھی شائع ہوئی۔ اس پر بعد ازاں اخبار نے معافی ضرور مانگی اور ذمہ دار افراد کی شاید سرزنش بھی ہوئی لیکن اس تحریر کے نتیجے میں کتنے ذہنوں تک غلط معلومات پہنچی اور انبیاء کی توہین ہوئی اس کا شاید کسی کو اندازہ نہ ہو۔
میری گزارش ہے کہ آج کے پرفتن دور میں اپنے بچوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے ان کی سرگرمیوں کو مانیٹر کریں۔ انٹرنیٹ پر وہ کس قسم کی ویب سائٹس ملاحظہ کرتے ہیں، ان کی نصابی کتب میں کیا تعلیم دی جا رہی ہے، وہ کس قسم کا لٹریچر پڑھ رہے ہیں، کس قسم کی محفلوں میں بیٹھ رہے ہیں اور گھر میں جو اخبارات و رسائل آتے ہیں ان میں کس قسم کا مواد ہے جو ان کے زیر مطالعہ ہے۔ یقین جانیں اگر ہم نے ان امور پر آج دھیان نہیں رکھا تو کل سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہ ہوگا۔
پاکستانی سیاست بہت “رنگین” ہے اور اس کے ہر رنگ کی ایک خاص بات ہے۔ حتٰی کہ چند “چٹ پٹے” رنگوں پر بازاری قسم کے مصنفین نے کتابیں بھی لکھ ڈالیں جو ٹھیلے پر کتابیں بیچنے والوں کے ہاں مخصوص مقامات پر رکھی جاتی ہیں تاکہ فوری توجہ حاصل کریں۔ بہرحال پاکستانی سیاست کے انہی رنگوں میں سے ایک رنگ آجکل پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور وہ ہے چیئرمین سی بی آر عبد اللہ یوسف کا ایک محفل کے دوران “رقص”
ویسے ہمارے “جمہوری” وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اسی صلاحیت کی بنیاد پر وزارت تک تقسیم کرچکے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے صدر پرویز مشرف (”پر کٹنے سے پہلے”) انہی حرکات کا ارتکاب کر چکے ہیں جن کی بناء پر بھٹو کو اپنا زوال دیکھنا پڑا۔ حالانکہ صدر محترم اپنے دور عروج میں کئی ایسے کام کر چکے ہیں جن میں سے ہر ایک پر ایک کیا کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن حال ہی میں عبد اللہ یوسف کے ساتھ ان کے رقص کا چرچا اب سر راہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور ایک نجی چینل نے تو روشن خیالی کے اس عملی مظاہرے کو دکھانے کا موقع ہاتھ نہیں جانے دیا اور کارکردگی کا عملی مظاہرہ عوام کو دکھا دیا۔
ویسے بھٹو صاحب نے تو صرف ایک وزارت کے حصول کے لیے مقابل دو امیدواروں میں سے ایک انتخاب بہتر رقص کی بنیاد پر کیا تھا لیکن پرویز صاحب تو اس رقص کا خود حصہ بن گئے۔ جی ہاں! عبد اللہ یوسف نے صدر صاحب کو نشست سے اٹھا کر اہلیان محفل کے روبرو دعوت رقص دی جسے محترم صدر نے قبول کیا لیکن جناب ان کے “رقص” کے آغاز سے قبل ہی کیمرہ مین نے کمال ہوشیاری سے کیمرے کا رخ حاضرین کی جانب پھیر دیا (لگتا ہے کیمرہ مین کا تعلق پی ٹی وی سے تھا)۔ تو فی الوقت تو ہم عبد اللہ یوسف صاحب کے رقص پر ہی اکتفا کرتے ہیں، اب ہمیں اور نجانے کیا کیا دیکھنا ہے اس لیے ساری حیرانگی یہیں ختم مت کیجیے گا، کچھ “برے” وقت کے لیے بھی بچا کر رکھیے گا۔
ماضی میں قوم پرستی، سوشلسٹ اسلام، شرعی ریاست اور جمہوری ریاست کے نعروں کے بعد جب ملک کی بدقسمتی اور قوم کی بد اعمالیوں کے باعث ایک اور فوجی دور حکومت آیا تو ایک مرتبہ پھر نیا نعرہ بلند کیا گیا جس نے ہمارے طبقہ اشرافیہ (Elite Class) میں خوب شرفِ قبولیت حاصل کیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ یہ نعرہ تھا “روشن خیالی” کا اور 11 ستمبر 2001ء کے بعد اس نعرے کی عملی تفسیر کے لیے جب بیرونی وسائل بھی فراہم کیے جانے لگے تو گویا دھن آسمان سے پانی کی طرح برسنے لگا اور اس طبقے کی پانچویں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں آ گیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اِسے نجی ذرائع ابلاغ کی صورت میں روشن خیالی کی ترویج کا ایک ایسا زبردست پلیٹ فارم بھی مل گیا جس کی رسائی جھونپڑیوں سے لے کر محلات تک تھی۔ اس طرح روشن خیالی کی عملی تفسیر مختلف صورتوں میں مختلف ذرائع سے عوام پر ظاہر ہونے لگی، چہرے مختلف، موضوعات مختلف لیکن مقصد واحد اور واضح۔
لیکن گزشتہ دنوں اسلام کے شہر (اسلام آباد)، جو اسلام کے قلعے کا دارالحکومت بھی ہے، سے ایک ایسی خبر منظر عام پر آئی جو روشن خیالی کی معراج کی جانب ملک و قوم کی ایک بہت بڑی جَست قرار دی جا سکتی ہے بلکہ بقول شاعر “عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام” والی بات زیادہ بہتر رہے گی۔
روشن خیالی کے بڑے ترجمان انگریزی روزنامے ڈیلی ٹائمز نے ایک خبر شائع کی کہ نیشنل آرٹ گیلری (این اے جی) میں ایسے فن پاروں کو نمایاں طور پر آویزاں کیا گیا ہے جن میں عورتوں کو عُریاں دکھایا گیا ہے۔ یہ کارنامہ نیشنل آرٹ گیلری میں واقع “خزانہ سووینئر شاپ” نے انجام دیا ہے اور یقیناً یہ قدم اٹھانے پر “روشن دماغوں” کی جانب سے خوب داد تحسین سمیٹی ہوگی۔
گیلری انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کوئی نئے نہیں بلکہ وہ اس سے قبل اپنی افتتاحی تقریب کے موقع پر بھی مرد و عورتوں کی عُریاں تصاویر پیش کر کے “خواص” اور “روشن خیال” ذرائع ابلاغ کے علاوہ “ہدایت کار” سے بھی داد سمیٹ چکا ہے لیکن اب مستقل بنیادوں پر ان تصاویر کو ملکی ثقافت کا حصہ بنا کر دکھانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے ماضی کی عوامی شکایات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا ہے۔ زیادہ افسوسناک بات یہی ہے کہ سووینئر شاپ کسی بھی عجائب گھر یا ثقافتی مقام میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہاں سے خریدی گئی چیز ہر شخص کو اُس دورے کی ہمیشہ یاد دلاتی رہتی ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں کئی غیر ملکی (خصوصاً برادر مسلم ممالک کے ساتھی) اس دکان کا دورہ کرنے کے بعد پاکستانیوں کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے؟ اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ عُریاں آرٹ مغربی معاشرے تک میں قبولیت عام کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہاں بھی عوام (چاہے قلیل تعداد ہی سہی) اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہیں اور وہاں عُریاں ثقافت کی ترویج کے خاتمے کی تجاویز بھی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ عین اسی دورِ خانہ خراب میں پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں عُریاں تصاویر کی خم ٹھونک کر کی جانے والی نمائش عوام کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہے۔
“خزانہ” کی اس “جرات رندانہ” پر وہاں آنے والے شائقین کی اکثریت کو جس خفت و پشیمانی کا سامنا ہے اس کا اندازہ خبر میں چند افراد کی گفتگو سے لگایا جا سکتا ہے۔
ہر معاشرہ اخلاقی و مذہبی اقدار کے مجموعے کا حامل ہوتا ہے جس سے صَرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اب عُریاں تصاویر کی نمائش کا واحد مقصد معاشرے کے ایک خاص طبقے کو خوش کرنا لگتا ہے۔
اگر پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی انتظامیہ این اے جی کو عوامی ملکیت قرار دیتی ہے تو اسے اُسی فن و ثقافت کی ترویج کرنی چاہیے جو شائقین کی جمالیاتی حس کو جِلا بخشے نہ کہ ان کے جذبات کو برانگیختہ کرے۔
یہ عورت کی تذلیل و تضحیک کے علاوہ کچھ بھی نہیں، اس عظیم الشان گیلری کا قیام عوام کے خون پسینے کی کمائی سے عمل میں آیا لیکن لیکن اب عوام کا یہاں آنا سوائے شرمندگی اور خِفْت اٹھانے کے کچھ بھی نہیں۔
دوسری جانب مصوروں کی اکثریت نے بھی گیلری انتظامیہ کی جانب سے اِن تصاویر کی نمائش کی مذمت کی ہے۔
ایک مصور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ
این اے جی انتظامیہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ گیلری عوامی ملکیت ہے اور صرف اُن فن پاروں کو اس میں جگہ دینی چاہیے جو عوامی دلچسپی کے حامل ہوں۔ کسی نجی گیلری میں تو کوئی مصور اپنے من پسند فن پارے پیش کر سکتا ہے لیکن این اے جی جیسے عوامی اداروں کو اپنے “من پسند فن” کی ترویج کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔
گیلری انتظامیہ “روشن خیالی” و ” اعتدال پسندی” کے دستور کے مطابق عورت کو شوپیس اور شمعِ محفل کے طور پر نمایاں کرنے کے مذموم مقاصد کی تکمیل کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ “خزانہ” سووینئر شاپ تین عورتوں نگین رحمان، غانیہ بدر اور عطیہ ظفر کی ملکیت ہے جنہوں نے پی این سی اے 4 سالہ ٹھیکہ کا معاہدہ کر رکھا ہے۔
قوم کے عظیم سرمائے سے قائم ہونے والی اس گیلری کی انتظامیہ حکومت کی طرح مذہب کو تو کسی کھاتے میں ہی نہیں لاتی لیکن اب تو بنیادی اخلاقیات سے بھی اس کا دامن خالی ہوتا جا رہا ہے اور اس کا حقیقی اظہار اس گھٹیا قدم کی حمایت کی صورت میں سامنے آتا ہے اور یہ سب کچھ آرٹ کی ترویج کے نام پر کیا جا رہا ہے۔
ذرا عذرِ گناہ بدتر از گناہ کی عملی مثال ملاحظہ کیجیے، پی این سی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (اور معروف مصور و اداکار) جمال شاہ نے اِس “قابلِ فخر” کارنامے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نمونہ معروف مصور نسیم حافظ قاضی کی تخلیق ہے اور اسے صرف عارضی بنیادوں پر پیش کیا گیا ہے ساتھ ہی انہوں نے عوام کی عدم مقبولیت کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ ایک الزام ہے کہ عوام اس آرٹ کو پسند نہیں کرتے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے عجائب گھر اور گیلریاں اس فن کی ترویج کرتی ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کرسکتا؟ گیلری کو تمام اقسام کے آرٹ کو پیش کرنا چاہیے اور جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کو پسند کرتی ہے تو اس لیے اس کو پیش کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
روشن خیالی و اعتدال پسندی اور کیا کیا گُل کھلائے گی؟