پاکستانی سیاست بہت “رنگین” ہے اور اس کے ہر رنگ کی ایک خاص بات ہے۔ حتٰی کہ چند “چٹ پٹے” رنگوں پر بازاری قسم کے مصنفین نے کتابیں بھی لکھ ڈالیں جو ٹھیلے پر کتابیں بیچنے والوں کے ہاں مخصوص مقامات پر رکھی جاتی ہیں تاکہ فوری توجہ حاصل کریں۔ بہرحال پاکستانی سیاست کے انہی رنگوں میں سے ایک رنگ آجکل پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور وہ ہے چیئرمین سی بی آر عبد اللہ یوسف کا ایک محفل کے دوران “رقص”
ویسے ہمارے “جمہوری” وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اسی صلاحیت کی بنیاد پر وزارت تک تقسیم کرچکے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے صدر پرویز مشرف (”پر کٹنے سے پہلے”) انہی حرکات کا ارتکاب کر چکے ہیں جن کی بناء پر بھٹو کو اپنا زوال دیکھنا پڑا۔ حالانکہ صدر محترم اپنے دور عروج میں کئی ایسے کام کر چکے ہیں جن میں سے ہر ایک پر ایک کیا کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن حال ہی میں عبد اللہ یوسف کے ساتھ ان کے رقص کا چرچا اب سر راہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور ایک نجی چینل نے تو روشن خیالی کے اس عملی مظاہرے کو دکھانے کا موقع ہاتھ نہیں جانے دیا اور کارکردگی کا عملی مظاہرہ عوام کو دکھا دیا۔
ویسے بھٹو صاحب نے تو صرف ایک وزارت کے حصول کے لیے مقابل دو امیدواروں میں سے ایک انتخاب بہتر رقص کی بنیاد پر کیا تھا لیکن پرویز صاحب تو اس رقص کا خود حصہ بن گئے۔ جی ہاں! عبد اللہ یوسف نے صدر صاحب کو نشست سے اٹھا کر اہلیان محفل کے روبرو دعوت رقص دی جسے محترم صدر نے قبول کیا لیکن جناب ان کے “رقص” کے آغاز سے قبل ہی کیمرہ مین نے کمال ہوشیاری سے کیمرے کا رخ حاضرین کی جانب پھیر دیا (لگتا ہے کیمرہ مین کا تعلق پی ٹی وی سے تھا)۔ تو فی الوقت تو ہم عبد اللہ یوسف صاحب کے رقص پر ہی اکتفا کرتے ہیں، اب ہمیں اور نجانے کیا کیا دیکھنا ہے اس لیے ساری حیرانگی یہیں ختم مت کیجیے گا، کچھ “برے” وقت کے لیے بھی بچا کر رکھیے گا۔
گزشتہ روز اہلیان کراچی کو ایک اور دل دہلانے والی خبر سننے (اور بذریعہ برقی ذرائع ابلاغ دیکھنے) کو ملی کہ رنچھوڑ لائن کے علاقے میں عوام نے 3ڈاکوؤں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلاڈالا ۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فلیٹ میں ڈکیتی کے بعد فرار ہوتے ہوئے ڈاکو مقامی افراد کے ہاتھوں پکڑے گئے جس کے بعد انہیں زبردست تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جائے وقوعہ پر موجود میرے دفتر کے ایک ساتھی نے بتایا کہ عوام نے موقع پر آنے والے پولیس اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تینوں کو گولی مار دے لیکن پولیس کے انکا رپر عوام نے نہ صرف پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر جائے وقوعہ سے ہٹا دیا بلکہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے تینوں ڈاکوؤں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ جنگ اخبار میں شائع ہونے والی تصویر واقعے کی سنگینی کی عکاس ہے۔
کسی بھی معاشرے و قوم کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام ادارے اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض بخوبی انجام دیں اور کسی بھی ریاست کو اندرونی خلفشار سے بچانے کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ بلاتعصب انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انصاف کی فراہمی کسی بھی معاشرے کی وہ بنیاد ہے جس پر پوری عمارت انحصار کرتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ انصاف کی عدم دستیابی معاشرے میںسفاکیت وجنونیت کو پروان چڑھاتی ہے اور عوام اپنا قانون خود بنانے لگتے ہیں اور یہ واقعہ اس کی پہلی اور بڑی مثال بن کر سامنے آیاہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ
کوئی بھی حکومت کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتی ہے لیکن ظلم و نا انصافی کے ساتھ اس کا باقی رہنا ناممکن ہے
اس طرح کے واقعات کے پیش آنے کی عام وجوہات دو ہیں ایک انصاف کی عدم دستیابی اور دوسری قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رشوت کا عام کلچر۔ مذکورہ واقعے کا بنیادی محرک یہی سمجھ آتا ہے کہ عوام کو معلوم تھا کہ اگر ان مجرموں کو پولیس کے حوالے کیا گیا تو یہ چند روپے رشوت دے کر چھوٹ جائیں گے اگلے ہی روز کہیں اور ڈکیتی مارتے پھریں گے اور اگر عدالتوں تک پہنچ بھی گئے تب بھی کورٹ کچہریوں کے طویل چکر کاٹنے کے بعد بھی اس امر کی امید بہت کم ہے کہ انہیں اپنے کیے کی سزا ملے۔ اس لیے انہوں نے تشدد کی انتہا کرتے ہوئے ایک بدترین مثال قائم کر دی جس کی تقلید میں کئی قدم مزید اٹھ سکتے ہیں۔
واقعے کا یہی پہلو سب سے خوفناک ہے کہ مزید لوگ بھی انہی قدموں پر نہ چل پڑیں۔ کسی زمانے میں بھارت کی ایک فلم “گنگا جل” میں بھی کہانی کا مرکزی پلاٹ ایسا ہی تھا کہ عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے مجرموں کو جائے وقوعہ پر ہی سزا دینے لگے لیکن اس ماورائے قانون قدم کے باعث علاقے میں جرائم کی شرح صفر ہو گئی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس طرح کی اقدامات کی حمایت کی جائے بلکہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ درماندہ حال عدلیہ کے باعث عوام کو کسی سے رائی برابر بھی امید نہیں کہ مجرموں کو ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ اس لیے وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر انتہائی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
اس بڑے ذہنی خلفشار کے دیگر کئی عوامل بھی ہیں کہ عوام نتائج سے بے پروا ہو کر ان قدر سنگین حرکات کر رہے ہیں۔ وہ ہے بجلی کی بلا ناغہ اور طویل دورانیے کی بندش،بے روزگاری، غربت اور سڑکوں پر ٹریفک کے اژدہام کے باعث چند منٹوں کا سفر گھنٹوں میں ، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ذہنی انتشار، اضطراب، خلفشار۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام میں برداشت کا مادہ مفقود ہو چکا ہے، اور جلتی پر تیل ڈکیتی جیسے واقعات کر جاتے ہیں تو اس صورت میں ان سے انتہائی سفاکانہ ردعمل کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔ چند روز قبل کراچی میں ایک مارکیٹ میں دکاندار کو جس بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا اور اس کی لاش سڑک پر کئی گھنٹے تک پڑی رہی اس کے اثرات ابھی تک ذہنوں سے محو نہیں ہوئے اس لیے عوام ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب قانون کو گرفت میں لے رہی ہے۔
ا س تمام صورتحال میں آزاد عدلیہ کی بحالی کی اہمیت کہیں زیادہ دو چند ہوتی ہے وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رشوت کے کلچر کے خاتمے کی ضرورت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کےلیے سنجیدہ حکمت عملی تیار کرے وہیں عوام کو ذہنی سکون دینے کے لیے اشیائے صرف کی گرانی پر قابو پائے بصورت دیگر عوام کا یہ سیلاب حکمرانوں کا حشر ان ڈاکوؤں سے بھی برا کر دے گا۔
کیا دنیا ایک بحرانی دور میں داخل ہو چکی ہے؟ جس میں ایک بحران سے قبل دوسرا بحران جنم لےرہا ہے، کیا یہ عالمی قوتوں معاشی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے یا سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی خرابیاں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں؟
تیل کے بڑے بحران کے باعث محض گزشتہ چند سالوں میں تیل کی قیمت 25 ڈالرز سے 120 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز چکی ہے(تادمِ تحریر 124 ڈالرز فی بیرل سے زائد)۔ حالانکہ ان قیمتوں میں ابھی اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے لیکن پھر بھی قیمت 105 سے 120 ڈالرز کے درمیان ہی گردش کر رہی ہے اور جیسے جیسے یہ بحران سنگین تر ہو تا جا رہا ہے لگتاہے کہ اگلے چند سالوں (یا اگلے ہی سال میں) تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچے گی۔ دیگر وجوہات کے علاوہ چین اور بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی اس بحران کو مزید گمبھیر صورتحال سے دوچار کر سکتی ہیں کیونکہ ان کی تیل و گیس کی ضروریات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی معیشتیں ترقی کے جس مرحلے پر ہیں اُس مقام پر وہ کسی بحران کے محتمل ہو بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ انہیں شاہراہِ ترقی پر اپنے سفر کو تیز تر بنانا ہے۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں اپنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام جائز طریقوں کے علاوہ اب ناجائز ہتھکنڈوں پر بھی اتر آئی ہیں جس کی واضح مثال افغانستان و عراق پر امریکہ و برطانیہ اور اتحادی ممالک کی چڑھائی ہے جس کے ڈانڈے بہرصورت تیل ہی سے جا کر ملتے ہیں۔
تیل کی یہ کہانی اتنی زیادہ زور پکڑ گئی کہ اس دوران جتنے بھی دیگر نسبتاً چھوٹے بحرانات سامنے آئے وہ زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکے اور حقیقت تب آشکار ہوئی جب جن بوتل سے باہر آ چکا تھا۔ ان بحرانوں میں سب سے سنگین نوعیت کا بحران ہے “عالمی غذائی بحران”۔
اس بحران کی سنگینی کا اندازہ گزشتہ دنوں اخبارات میں شائع ہونے والے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کے بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ “سستی غذا کا دور” اپنے خاتمے پر ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے یہ بیان اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا کے دو تہائی غریب ایشیا میں بستے ہیں۔
اس بحران نے نہ صرف یہاں کہ ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے وہیں عوامی قوتِ خرید بھی روز بروز گھٹتی جا رہی ہے۔ غذائی بحران اس لیے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ وہ اضافی آمدنی جو عوام اپنے طرزِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعما ل کر سکتے تھے، وہ غذاؤں کی اضافی قیمت کی نذر ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب کئی ممالک میں عوام اپنی تین چوتھائی آمدنی خوراک پر صرف کر رہے ہیں اور گزشتہ تین سالوں میں خوراک کی قیمتوں میں 80 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس بحران کا نوٹس لیتے ہوئے بہت سخت بیانات بھی دیے ہیں، جن میں عالمی طاقتوں کی غلط پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کو چنداں اہمیت نہیں دی حتٰی کہ مقروض ترقی پذیر ملکوں پر دباؤ ڈالتے رہے کہ غذائی خود کفالت کی حصول کے بجائے وہ نقد فصلوں کی برآمدات میں سرمایہ کاری کریں ۔ بہرحال اس امر کا مکمل اندازہ ہونا چاہیے کہ اقوام متحدہ کے “سخت ترین بیانات” بھی صورتحال میں تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے بلکہ اسے عالمی معاملات کا “چوہدری شجاعت حسین” کہنا زیادہ بہتر ہوگا، جہاں ثالثی کے لیے درمیان میں آئے حریف کے مارے جانے سے کم نتائج نہ نکلے، چاہے معاملہ بگٹی والا ہو یا لال مسجد والا، دونوں کو چوہدری کی ثالثی کافی مہنگی پڑی۔ بہرحال موضوع کی جانب واپس آتے ہیں:
اس سلسلے میں سب سے غور طلب بات یہ ہے کہ آخر خوراک کا یہ عالمی بحران کیوں جنم لے رہا ہے؟ بنظر غائر دیکھا جائے تو دو بہت بڑی وجوہات دکھائی دیتی ہیں: ایک حیاتیاتی ایندھن (Bio Fuel) کی تیاری اور دوسری عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں یا عالمی حدت (Global Warming) کے باعث فصلوں کی پیداوار پر پڑنے والے مضر اثرات۔ اس کے علاوہ عالمی آبادی کا بگڑتا ہوا توازن بھی ایک اہم وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ و لاطینی امریکہ میں تو بلاشبہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا سبب “بائیو فیول” کی تیاری قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ امریکہ میں حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے کاشت کی جانے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس طرح کاشت کار بجائے غذا کے حصول کے ایندھن کے حصول کے لیے فصلیں اگا رہے ہیں اور یہ رحجان عالمی غذائی بحران کو سنگین تر کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس سلسلے میں بھی اقوام متحدہ نے سخت موقف اپناتے ہوئے فصلوں کو ایندھن کے لیے استعمال کرنے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے لیکن لگتا ہے اتنا سنگین معاملہ بھی بس مطالبات کی حد تک رہ گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے حال ہی میں بائیو فیولز کی تیاری کے لیے اہداف تک مقرر کر دیے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی ان غیر ذمہ دارانہ حرکتوں اور ترقی پذیر ممالک کے حکمرانوں کی نااہلی کے باعث مستقبل قریب میں غذائی بحران کی سنگینی میں کمی کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آسٹریلیا میں شدید خشک سالی نے گندم کی کاشت میں کافی کمی کر دی ہے جبکہ صورتحال کو بھانپ کر یوکرین نے گندم اور چین، مصر، ویت نام اور بھارت نے چاول کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے جس نے صورتحال کو مزید گمبھیر کر دیا ہے۔
خوراک کے اس عالمی بحران کے باعث دنیا بھر کے 8 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں اور عالمی ادارہ خوراک نے اسے ایک “خاموش سونامی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ اٹھائے اور زیادہ سے زیادہ اجناس کی پیداوار کے لیے ترقی پذیر ممالک کے کاشتکاروں کی مدد نہ کی تو تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔
غذائی بحران کی چند جھلکیاں تو پاکستانی قوم سالِ گزشتہ سے دیکھتی آ رہی ہے جب آٹے جیسی بنیادی ضرورت سنگینوں کے سائے تلے ملتی رہی اور عوام طویل قطاروں میں لگ کر گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد چند روز کا آٹا لینے میں کامیاب ہوئے، اور اب بھی ملک کے کئی شہروں میں آٹے کی شدید قلت ہے۔ عالمی اداروں نے حال ہی میں شدید غذائی بحران کا شکار 36ممالک میں پاکستان کو بھی شمار کیا ہے اور پاکستان کے سیاسی اکھاڑے کھیلے جانے والے کھیل اور سیاست دانوں کی اُس میں مصروفیت اور محویت کے باعث ہر شخص ناامید ہے کہ حکومت غذا کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی تیار کرے گی۔
ماضی میں قوم پرستی، سوشلسٹ اسلام، شرعی ریاست اور جمہوری ریاست کے نعروں کے بعد جب ملک کی بدقسمتی اور قوم کی بد اعمالیوں کے باعث ایک اور فوجی دور حکومت آیا تو ایک مرتبہ پھر نیا نعرہ بلند کیا گیا جس نے ہمارے طبقہ اشرافیہ (Elite Class) میں خوب شرفِ قبولیت حاصل کیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ یہ نعرہ تھا “روشن خیالی” کا اور 11 ستمبر 2001ء کے بعد اس نعرے کی عملی تفسیر کے لیے جب بیرونی وسائل بھی فراہم کیے جانے لگے تو گویا دھن آسمان سے پانی کی طرح برسنے لگا اور اس طبقے کی پانچویں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں آ گیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اِسے نجی ذرائع ابلاغ کی صورت میں روشن خیالی کی ترویج کا ایک ایسا زبردست پلیٹ فارم بھی مل گیا جس کی رسائی جھونپڑیوں سے لے کر محلات تک تھی۔ اس طرح روشن خیالی کی عملی تفسیر مختلف صورتوں میں مختلف ذرائع سے عوام پر ظاہر ہونے لگی، چہرے مختلف، موضوعات مختلف لیکن مقصد واحد اور واضح۔
لیکن گزشتہ دنوں اسلام کے شہر (اسلام آباد)، جو اسلام کے قلعے کا دارالحکومت بھی ہے، سے ایک ایسی خبر منظر عام پر آئی جو روشن خیالی کی معراج کی جانب ملک و قوم کی ایک بہت بڑی جَست قرار دی جا سکتی ہے بلکہ بقول شاعر “عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام” والی بات زیادہ بہتر رہے گی۔
روشن خیالی کے بڑے ترجمان انگریزی روزنامے ڈیلی ٹائمز نے ایک خبر شائع کی کہ نیشنل آرٹ گیلری (این اے جی) میں ایسے فن پاروں کو نمایاں طور پر آویزاں کیا گیا ہے جن میں عورتوں کو عُریاں دکھایا گیا ہے۔ یہ کارنامہ نیشنل آرٹ گیلری میں واقع “خزانہ سووینئر شاپ” نے انجام دیا ہے اور یقیناً یہ قدم اٹھانے پر “روشن دماغوں” کی جانب سے خوب داد تحسین سمیٹی ہوگی۔
گیلری انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کوئی نئے نہیں بلکہ وہ اس سے قبل اپنی افتتاحی تقریب کے موقع پر بھی مرد و عورتوں کی عُریاں تصاویر پیش کر کے “خواص” اور “روشن خیال” ذرائع ابلاغ کے علاوہ “ہدایت کار” سے بھی داد سمیٹ چکا ہے لیکن اب مستقل بنیادوں پر ان تصاویر کو ملکی ثقافت کا حصہ بنا کر دکھانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے ماضی کی عوامی شکایات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا ہے۔ زیادہ افسوسناک بات یہی ہے کہ سووینئر شاپ کسی بھی عجائب گھر یا ثقافتی مقام میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہاں سے خریدی گئی چیز ہر شخص کو اُس دورے کی ہمیشہ یاد دلاتی رہتی ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں کئی غیر ملکی (خصوصاً برادر مسلم ممالک کے ساتھی) اس دکان کا دورہ کرنے کے بعد پاکستانیوں کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے؟ اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ عُریاں آرٹ مغربی معاشرے تک میں قبولیت عام کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہاں بھی عوام (چاہے قلیل تعداد ہی سہی) اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہیں اور وہاں عُریاں ثقافت کی ترویج کے خاتمے کی تجاویز بھی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ عین اسی دورِ خانہ خراب میں پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں عُریاں تصاویر کی خم ٹھونک کر کی جانے والی نمائش عوام کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہے۔
“خزانہ” کی اس “جرات رندانہ” پر وہاں آنے والے شائقین کی اکثریت کو جس خفت و پشیمانی کا سامنا ہے اس کا اندازہ خبر میں چند افراد کی گفتگو سے لگایا جا سکتا ہے۔
ہر معاشرہ اخلاقی و مذہبی اقدار کے مجموعے کا حامل ہوتا ہے جس سے صَرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اب عُریاں تصاویر کی نمائش کا واحد مقصد معاشرے کے ایک خاص طبقے کو خوش کرنا لگتا ہے۔
اگر پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی انتظامیہ این اے جی کو عوامی ملکیت قرار دیتی ہے تو اسے اُسی فن و ثقافت کی ترویج کرنی چاہیے جو شائقین کی جمالیاتی حس کو جِلا بخشے نہ کہ ان کے جذبات کو برانگیختہ کرے۔
یہ عورت کی تذلیل و تضحیک کے علاوہ کچھ بھی نہیں، اس عظیم الشان گیلری کا قیام عوام کے خون پسینے کی کمائی سے عمل میں آیا لیکن لیکن اب عوام کا یہاں آنا سوائے شرمندگی اور خِفْت اٹھانے کے کچھ بھی نہیں۔
دوسری جانب مصوروں کی اکثریت نے بھی گیلری انتظامیہ کی جانب سے اِن تصاویر کی نمائش کی مذمت کی ہے۔
ایک مصور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ
این اے جی انتظامیہ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ گیلری عوامی ملکیت ہے اور صرف اُن فن پاروں کو اس میں جگہ دینی چاہیے جو عوامی دلچسپی کے حامل ہوں۔ کسی نجی گیلری میں تو کوئی مصور اپنے من پسند فن پارے پیش کر سکتا ہے لیکن این اے جی جیسے عوامی اداروں کو اپنے “من پسند فن” کی ترویج کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔
گیلری انتظامیہ “روشن خیالی” و ” اعتدال پسندی” کے دستور کے مطابق عورت کو شوپیس اور شمعِ محفل کے طور پر نمایاں کرنے کے مذموم مقاصد کی تکمیل کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ “خزانہ” سووینئر شاپ تین عورتوں نگین رحمان، غانیہ بدر اور عطیہ ظفر کی ملکیت ہے جنہوں نے پی این سی اے 4 سالہ ٹھیکہ کا معاہدہ کر رکھا ہے۔
قوم کے عظیم سرمائے سے قائم ہونے والی اس گیلری کی انتظامیہ حکومت کی طرح مذہب کو تو کسی کھاتے میں ہی نہیں لاتی لیکن اب تو بنیادی اخلاقیات سے بھی اس کا دامن خالی ہوتا جا رہا ہے اور اس کا حقیقی اظہار اس گھٹیا قدم کی حمایت کی صورت میں سامنے آتا ہے اور یہ سب کچھ آرٹ کی ترویج کے نام پر کیا جا رہا ہے۔
ذرا عذرِ گناہ بدتر از گناہ کی عملی مثال ملاحظہ کیجیے، پی این سی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (اور معروف مصور و اداکار) جمال شاہ نے اِس “قابلِ فخر” کارنامے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نمونہ معروف مصور نسیم حافظ قاضی کی تخلیق ہے اور اسے صرف عارضی بنیادوں پر پیش کیا گیا ہے ساتھ ہی انہوں نے عوام کی عدم مقبولیت کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ ایک الزام ہے کہ عوام اس آرٹ کو پسند نہیں کرتے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے عجائب گھر اور گیلریاں اس فن کی ترویج کرتی ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کرسکتا؟ گیلری کو تمام اقسام کے آرٹ کو پیش کرنا چاہیے اور جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کو پسند کرتی ہے تو اس لیے اس کو پیش کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
روشن خیالی و اعتدال پسندی اور کیا کیا گُل کھلائے گی؟
2002ء میں گجرات فسادات کے بعد اب ریاست کے مسلمان آہستہ آہستہ خوف کے سائے سے پیچھا چھڑا رہے ہیں۔ معروف بھارتی روزنامے ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق فسادات کے 6 سال بعد اب ریاست کے مسلمان اب خاص نمبر پلیٹوں کی نیلامی میں ایک مرتبہ پھر “786″ کے حصول کی کوششیں کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جسے “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔
فسادات سے قبل مسلمان زیادہ سے زیادہ بولی لگا کر اپنی گاڑیوں کے لیے ایسی نمبر پلیٹیں حاصل کیا کرتے تھے لیکن 2002ء کے اوائل سے ایسی نمبر پلیٹوں کی نیلامی روک دی گئی تھی جن پر 786 درج ہوتا تھا اور ان فسادات کے بعد ریاست میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث مسلمان اپنی شناخت چھپانے اور ہندو انتہا پسندوں کے عتاب کا نشانہ بننے سے بچنے کے لیے ایسی نمبر پلیٹوں سے گریز کرنے لگے۔
اخبار کے مطابق گزشتہ ماہ ہونے والی ایک نیلامی میں مسلمان ایک مرتبہ پھر 786 کے حصول کے لیے کوشاں دکھائی دیے اور پرویز شیخ نامی ایک مسلمان نے نیلامی میں 4186 روپے کی ادائیگی کر کے اپنی موٹر سائیکل کے لیے 786 کے نمبر کی حامل پلیٹ حاصل کر لی۔
بھارتی گجراتمیں 2002ء فسادات کے بعد مسلمانوں کی حالت کی بہتری کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ اور کیا اٹھائے جا رہے ہیں؟ اور کیا واقعی ریاست گجرات میں صورتحال میں بہتری آ رہی ہے؟ کیا دو ہزار مسلمانوں کے قتل عام کو اتنی آسانی سے بھلایا جا سکتا ہے؟ کیا آج بھی اسی وزیر اعلٰی کی موجودگی میں مسلمان سکھ کا سانس لے سکتے ہیں؟ کیا 786 نمبر والیتختیوں کی نیلامی اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج بھی ہر اس شخص کے ذہن میں ابھر رہے ہیں جو خود کو امت واحدہ کا حصہ سمجھتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق دو ممالک کے درمیان سفارتی تنازع کا باعث بننے والی “ممی” ابھی تک تدفین سے محروم ہے۔ اکتوبر 2000ء میں کراچی پولیس کو ایک مقدمے کی تفتیش کے دوران ایک ایسی ممی ملی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ چھٹی صدی قبل مسیح کی ایرانی تہذیب سے تعلق رکھتی ہے جس پر ایران نے اپنا دعویٰ کیا لیکن بعد ازاں تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ ممی جعلی ہے۔ ایدھی ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ ممی سرخ فیتے کے باعث اپنی “آخری رسومات” سے محروم ہے۔ ایدھی ٹرسٹ کے مطابق مردہ خانے میں تین دن کے اخراجات 500 روپے ہوتے ہیں جبکہ اس لاش کو سات سال گذر چکے ہیں۔ (تو اخراجات کا اندازہ لگا لیں)
واضح رہے کہ قدیم سامان کے اسمگلروں نے ایک خاتون کی لاش کی ممی بنا دیا تھا جسے آثار قدیمہ کی ایک عظیم دریافت قرار دیا گیا تھا۔ یہ اس وقت پاکستان کی اہم ترین خبروں میں سے ایک بن گئی تھی اور غیر ملکی صحافیوں کی بڑی تعداد بھی اس “عظیم تاریخی دریافت” کی کوریج کے لیے پاکستان پہنچی۔ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ ایران نے بھی اس ممی کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔ بعد ازاں ماہرین کی زیر نگرانی ایک ٹیم نے اس ممی کا معائنہ کرنے کے بعد اسے جعلی قرار دیا اور رپورٹ کے مطابق یہ 96ء یا 97ء میں انتقال کر جانے والی ادھیڑ عمر خاتون کی لاش ہے جس کی موت کی وجہ گردن کی ہڈی ٹوٹنا بتایا گیا۔
پاکستان میں جہاں انسانی حقوق اور نسوانی حقوق کا ڈھنڈورا بہت زیادہ پیٹا جاتا ہے وہاں کوئی اس “ممی” کے آخری حق کے لیے بھی آواز اٹھائے؟ آخر کو وہ بھی انسان اور خاتون تھی۔ خیر یہاں تو زندوں کی کوئی سننے والا نہیں ہے بلکہ ان کی بھی “ممیاں” بنا دی گئیں تو ان مردوں کو کون پوچھتا ہے بلکہ کئی بلاگرز تو اعتراض بھی کریں گے کہ یہاں انسانیت کے خلاف جتنا ظلم کیا جا رہا ہے اس صورتحال میں آپ کو 11-12 سال قدیم ایک لاش کی پڑی ہے۔
بہرحال موضوع میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کچھ تفصیلات یہاں بھی موجود ہیں:
اس حقیقت سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جس کو علامہ اقبال نے آج سے تقریباً ایک صدی قبل بڑے واضح الفاظ میں شیطان کی زبان سے ادا کروایا تھا:
جانتا ہے، جس پر روشن باطنِ ایام ہے
مزدکیت فتنۂ فردا نہیں، اسلام ہے
یہ اس زمانے کی بات ہے جب کوئی کمیونزم کے زوال کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن شاعر کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ ابلیسیت کے نظام کے لیے اگر کوئی فتنہ ہے تو وہ اسلام اور ملت اسلامیہ ہے کہ جو اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ مگر مغرب کے کتنے ہی مرثیے پڑھے جائیں، اس کی خرابیوں کو کتنا ہی کھول کھول کر بیان کیا جائے اور اس پر کتنے ہی تبرے کیوں نہ بھیجے جائیں اور اس کے خلاف کتنے ہی نعرے کیوں نہ بلند کیے جائیں، لیکن یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ مغرب کبھی خود بخود زوال پذیر نہیں ہوگا۔
اللہ تعالٰی نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے جو مستقبل لکھ دیا ہے، وہ صرف محنت، بلند نظری، قوتِ اجتہاد اور جہاد و قربانی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔
محترمہ تو چلی گئیں لیکن ان کے پیچھے تنازعات، بحث مباحثے، الزامات کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ بات زیادہ نہیں صرف TIME میگزین کا سرورق دیکھ لیں۔ باقی رہا تبصرہ سو وہ آپ کریں
ہر گذرتا سال یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ اس سے زیادہ برا سال پہلے نہیں گذرا۔2001ء میں نیویارک اور واشنگٹن پر حملے، 2002ء میں افغانستان اور 2003ء میں عراق پر امریکی جارحیت، 2004ء کے آخری ایام میں سونامیاور 2005ء پاکستان میں تباہ کن زلزلہ اور پھر 2006ء سے پاکستان میں بدستور بگڑتی سیاسی صورتحال جو 2007ء میں پہلے چیف جسٹس کی برطرفی اور پھر ان کی بحالی کی تحریک اور اس دوران 12 مئی جیسے اندوہناک واقعات، سقوط ڈھاکہ کے بعد ملکی تاریخ کے دوسرے سب سے بڑے سانحۂ لال مسجد اور پھر خود کش بم دھماکوں اور سیاسی بحران کے لامتناہی سلسلہ اور بالآخر پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو کے قتل پر منتج ہوئی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ پاکستان کو 1971ء کے علاوہ شاید ہی کبھی اتنی نازک صورتحال سے گذرنا پڑا ہو۔ پرویز مشرف نے یہ کہہ کر امریکہ کی جنگ میں کودنے کی حامی بھری کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور انکار کی صورت میں “پتھر کے دور” میں پہنچانے کی دھمکی دی گئی تھی، کیا اس سے زیادہ بھی کوئی پتھر کا دور آئے گا؟ اتنا ظلم تو شاید پتھر کے دور میں بھی نہ ہوتا ہوگا۔ سوچیے کہ کیا ہم یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے اور اتنی قربانیوں سے حاصل کیا گیا ملک یونہی لٹیروں اور قاتلوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتا رہے گا۔ آخر ہم کب جاگیں گے؟
فیصل آباد سے اردو کے معروف بلاگر شاکر عزیز نے موجودہ حالات کے تناظر میں بہت اہم موضوع چھیڑا ہے۔ موضوع ہے “شخصیت پرستی” اور خصوصاً پاکستان کے موجودہ حالات میں جہاں “کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی” کے مصداق ہر “نئے” شخص سے امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں اور “شخصیت سازی” کا یہ عمل کچھ خاص مدارج سے گذرنے کے بعد بالآخر “شخصیت کی عبادت” تک پہنچ جاتا ہے۔ اصل میں ہمیں شخصیت کی نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے مانا کہ اس اجتماعی جدوجہد کی قیادت کے لیے کسی قائدانہ صلاحیت کے حامل فرد کی ضرورت لازمی ہے لیکن اگر اجتماعی سطح پر جدوجہد کا مادہ نہیں تو نظام کو بدلنا ایک شخص کے بس کی بات نہیں رہتی۔
ہمارا مجموعی قومی مزاج یہ ہے کہ ہم آغاز تو اظہار ہمدردی سے کرتے ہیں لیکن پھر جست لگاتے ہوئے پہلے اظہار محبت اور پھر اظہار عقیدت تک پہنچ جاتے ہیں اور یہی نفسیات عمران خان کے حوالے سے حالیہ واقعات پر عوامی جذبات میں کارفرما رہی۔ Hero worshipکا مادہ من حیث القوم ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ فی الوقت کیونکہ بحیثیت مجموعی قوم کو موجودہ بحران سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی اس لیے اس اندھے راستے پر اسے جو کرن دکھائی دیتی ہے اس سمت سفر شروع ہو جاتاہے۔ اور یہ رویہ بہت زیادہ خطرناک بھی ہے کہ پورے معاشرے کا سارا بوجھ ایک فرد پر کس طرح ڈالا جا سکتا ہے اور کس طرح یہ امید باندھی جا سکتی ہے کہ اب جو کچھ کرنا ہے ایک فرد نے کرنا ہے۔ تبدیلی کے لیے تو بہت سی قوتوں کا اس کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے لیکن یہ بھی کافی نہیں کیونکہ کھڑے ہونے اور بوجھ بانٹنے میں بڑا فرق ہے۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ آپ کے سر پر دس من وزن ہے اور میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ہماری مجموعی نفسیات یہ ہے کہ ہم اچھا کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے خطرات اور اندیشوں کا سامنا کرنے کو تیار نہیں اور بزدلوں اور نامردوں کی طرح یہ خواہش رکھتے ہیں کہ خطرات و اندیشے کوئی انگیز کرلے اور اچھا کام ہو جائے۔ اس عمل میں اگر خطرات و اندیشوں سے نمٹنے والے کا نقصان ہو جائے تو میں اس پر آٹھ آٹھ آنسو بہا لوں گا، اس کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا دوں گا، قصیدہ گوئی کروں گا، قلم سے صفحات سیاہ کر دوں گا لیکن خطرہ مول نہیں لوں گا۔ فوجی آمریت نے معاشرے کی علامت بن کر ابھرنے والی ہر کرن کو قتل کیا اور ہمارا ردعمل صرف اور صرف وقتی رہا اور کچھ عرصے بعد بالکل ایسے سکون سے بیٹھ گئے جیسے مردے کو دفنانے کے بعد دلوں کو قرار آ جاتا ہے۔ اور یہی ہمارا مزاج ہے کہ ڈاکٹر قدیر اور افتخار چوہدری کے بعد جیسے ہی عمران خان “نظر” آئے سب ان کی طرف دوڑ پڑے۔
کہا جاتا ہے کہ آخرت میں ہر کسی کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا، آخرت کیا دنیا میں بھی یہی اصول ہے اور جو لوگ دنیا میں اپنا بوجھ دوسرے کے سر ڈال کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بچ گئے، انہیں معلوم نہیں اللہ تعالٰی پھر انہیں کوئی بھی بار اٹھانے کے لائق نہ سمجھتے ہوئے تاریخ کے سفر کی ہر ذمہ داری سے محروم کر دیتا ہے۔