محفوظات برائے زمرہ 'حاصل مطالعہ'

مسجد پیرس اور اقبال: عقدہ حل

آج مطالعے کے دوران ایک بہت پرانی الجھن حل ہو گئی جس کا ذکر میں کئی احباب سے کر چکا تھا حتٰی کہ پیرس میں مقیم ایک عزیز دوست سید سلمان رضوی بھی میرے اس الجھن کو حل نہ کر سکے البتہ ایک دوسرے ساتھی نے اس مسئلے کو حل کرنے میں کچھ مدد کی لیکن حوالہ فراہم کرنے میں وہ بھی ناکام رہے۔

مسئلہ یہ تھا کہ علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام “ضربِ کلیم” میں “پیرس کی مسجد” کے عنوان سے ایک مختصر قطعہ لکھا ہے اور میں اس تلاش میں تھا کہ کہیں علامہ اقبال نے یہ قطعہ “مسجد پیرس” کے بارے میں تو نہیں لکھا جو 1920ء کی دہائی میں تعمیر ہونے والی جامع مسجد ہے جو آج بھی پوری شان کے ساتھ موجود ہے۔ اور محمد راشد شیخ کی مرتب کردہ زیر مطالعہ کتاب “ڈاکٹر محمد حمید اللہ” پڑھنے کے دوران یہ عقدہ حل ہو گیا۔ کتاب میں ڈاکٹر صاحب کے احوال زندگی، ان کی تمام زبانوں میں کتب کی فہرست، ان کو خراج عقیدت کے طور پر لکھے گئے مختلف مصنفین کے مضامین کو یکجا کیا گیا ہے اور آخر الذکر مضامین میں ڈاکٹر سید رضوی علی ندوی کے مضمون کے درج ذیل پیرے نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ ندوی صاحب فرماتے ہیں:

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب موصوف نے مجھے پیرس کی مشہور مسجد دکھائی، محلے کا نام اب یاد نہیں لیکن اندر سے مسجد اندلس اور مغربی (مراکشی) طرز کی تھی اور اس میں دیواروں اور چوبی منبر وغیرہ پر نقش و نگار اسی طرز کے تھے۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی اصل مسجد سے قبل ایک چھوٹے سے کمرۂ داخلہ (entrance room) میں کتابوں کا ایک اسٹال تھا اور کاؤنٹر پر ایک الجزائری لڑکی کھڑی تھی۔ میں نے حلب چھوڑنے کے بعد استنبول یونیورسٹی میں ایک عراقی طالب علم سے عربی زبان میں گفتگو کے بعد سے تقریباً دس روز سے عربی نہیں بولی تھی، میری عربی زبان کی رگ پھڑکی اور میں سے اس خاتون سے کتابوں کے بارے میں کچھ پوچھا، لیکن افسوس کہ وہ فصیح عربی زبان سے نابلد تھی، بلکہ غالباً عربی سے بھی نابلد تھی۔ اس وقت الجزائر پر فرانس کی حکومت تھی اور عربی زبان میں تعلیم وہاں ممنوع تھی۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے فرانسیسی میں اس کو میری بات سمجھائی، پیرس کی یہ وہی مسجد ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے ضرب کلیم میں ایک مختصر قطعہ (پیرس کی مسجد) میں کہا ہے:

حرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نے

تن حرم میں چھپا دی روحِ بُت خانہ

July 28, 2008 | اقبالیات اور تاریخ اور حاصل مطالعہ | ایک تبصرہ »

ہماری اخلاقی حالت

ہمارے افراد کی عام اخلاقی حالت جیسی کچھ ہے، آپ اس کا اندازہ خود اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کی بنا پر کیجیے۔ ہم میں کتنے فی صد آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جو کسی کا حق تلف کرنے میں، کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے میں کوئی ’’مفید‘‘ جھوٹ بولنے اور کوئی ’’نفع بخش‘‘ بے ایمانی کرنے میں صرف اس بنا پر تامل کرتے ہوں کہ ایسا کرنا اخلاقاً برا ہے؟ جہاں قانون گرفت نہ کرتا ہو، یا جہاں قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی امید ہو، وہاں کتنے فی صدی اشخاص محض اپنے اخلاقی احساس کی بنا پر کسی جرم اور کسی برائی کا ارتکاب کرنے سے باز رہ جاتے ہیں؟ جہاں اپنے کسی ذاتی فائدے کی توقع نہ ہو، وہاں کتنے آدمی دوسروں کے ساتھ بھلائی، ہمدردی، ایثار، حق رسانی اور حسنِ سلوک کا برتاؤ کرتے ہیں؟ ہمار ے تجارت پیشہ لوگوں میں ایسے تاجروں کا اوسط کیا ہے، جو دھوکے اور فریب اور جھوٹ او رناجائز نفع اندوزی سے پرہیز کرتے ہوں؟ ہمارے صنعت پیشہ لوگوں میں ایسے افرادکا تناسب کیا ہے جو اپنے فائدے کے ساتھ کچھ اپنے خریداروں کے مفاد اور اپنی قوم اور اپنے ملک کی مصلحت کا بھی خیال رکھتے ہیں؟ ہمارے زمینداروں میں کتنے ہیں جو غلہ روکتے ہوئے اور بے حد گراں قیمتوں پر بیچتے ہوئے یہ سوچتے ہوں کہ اپنی اس نفع اندوزی سے وہ کتنے لاکھ بلکہ کتنے کروڑ انسانوں کو فاقہ کشی کا عذاب دے رہے ہیں؟ ہمارے مالداروں میں کتنے ہیں جن کی دولت مندی میں کسی ظلم، کسی حق تلفی، کسی بددیانتی کا دخل نہیں ہے؟ ہمارے محنت پیشہ لوگوں میں کتنے ہیں جو فرض شناسی کے ساتھ اپنی اُجرت اور اپنی تنخواہ کا حق ادا کرتے ہیں؟ ہمارے سرکاری ملازموں میں کتنے ہیں جو رشوت اور خیانت سے ظلم اور مردم آزاری سے، کام چوری اور حرام خوری سے، اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال سے بچے ہوئے ہیں؟ ہمارے وکیلوں میں، ہمارے ڈاکٹروں اور حکیموں میں، ہمارے اخبار نویسوں میں، ہمارے ناشرین و مصنفین میں، ہمارے قومی ’’خدمت گزاروں ‘‘ میں کتنے ہیں جواپنے فائدے کی خاطر ناپاک طریقے اختیار کرنے اور خلق خدا کو ذہنی، اخلاقی، مالی اور جسمانی نقصان پہنچانے میں کچھ شرم محسوس کرتے ہوں؟ شاید میں مبالغہ نہ کروں گا اگر یہ کہوں کہ ہماری آبادی میں بمشکل ۵ فیصدی لوگ اس اخلاقی جذام سے بچے رہ گئے ہیں، ورنہ۹۵ فیصدی کو یہ چھوت بری طرح لگ چکی ہے۔ اس معاملہ میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور ہریجن کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ سب کے سب یکساں بیمار ہیں، سب کی اخلاقی حالت خوفناک حد تک گری ہوئی ہے، اور کسی گروہ کا حال دوسرے سے بہتر نہیں ہے۔ (اقتباس: بناؤ اور بگاڑ از سید ابو الاعلی مودودی)

May 20, 2008 | اخلاقیات اور اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 4 تبصرے »

شہادتِ حق

ہمارے اندر ایک بہت ہی قلیل گروہ ایسا ہے جو کہیں انفرادی طور پر زبان و قلم سے اسلام کی شہادت دیتا ہے، اور اس میں بھی ایسے لوگ شاید انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو اس شہادت کو اس طرح ادا کر رہے ہیں، جیسا اس کے ادا کرنے کا حق ہے۔ اس قلیل گروہ کو اگر آپ الگ کر لیں تو آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کی عام شہادت اسلام کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف جا رہی ہے۔ ہمارے زمیندار شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام کا قانون وراثت غلط ہے اور جاہلیت کے رواج صحیح ہیں۔ ہمارے وکیل اور جج اور مجسٹریٹ شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام کے سارے ہی قوانین غلط ہیں۔ بلکہ اسلامی قانون کا بنیادی نظریہ ہی قابل قبول نہیں ہے۔ صحیح صرف وہ قوانین ہیں جو انسان نے وضع کیے ہیں اور انگریزوں کی معرفت ہمیں پہنچے ہیں۔ ہمارے معلم اور پروفیسر اور تعلیمی ادارے شہادت دے رہے ہیں کہ فلسفہ و حکمت، تاریخ و اجتماعیات، معاشیات و سیاسیات اور قانون و اخلاق کے متعلق وہی نظریات برحق ہیں جو مغرب کی ملحدانہ تعلیم سے ماخوذ ہیں۔ ان امور میں اسلام کا نقطئہ نظر قابلِ التفات تک نہیں ہے۔ ہمارے ادیب شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس بھی ادب کا وہی پیغام ہے جو امریکہ، انگلستان، فرانس اور روس کے دہری ادیبوں کے پاس ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے ادب کی سرے سے کوئی مستقل روح ہی نہیں ہے۔ ہمارا پریس شہادت دے رہا ہے کہ ان کے پاس بھی وہی مباحث اور مسائل و پروپیگنڈا کے وہی انداز ہیں جو غیرمسلموں کے پاس ہیں۔ ہمارے تاجر اور اہل صنعت شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام نے لین دین پر جو حدود قائم کی ہیں وہ ناقابل عمل ہیں اور کاروبار صرف انہی طریقوں پر ہو سکتا ہے جن پر کفار عامل ہیں۔ ہمارے لیڈر شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس بھی قومیت اور وطینت کے وہی نعرے ہیں، وہی قومی مقاصد ہیں، قومی مسائل کو حل کرنے کے وہی ڈھنگ ہیں، سیاست اور دستور کے وہی اصول ہیں جو کفار کے پاس ہیں۔ اسلام نے اس بارے میں کوئی رہنمائی نہیں کی ہے جس کی طرف رجوع کیا جائے۔ ہمارے عوام شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس زبان کا کوئی مصرف دنیا اور اس کے معاملات کے سوا نہیں ہے اور وہ کوئی ایسا دین رکھتے ہی نہیں، جس کا وہ چرچا کریں یا جس کی باتوں میں وہ اپنا کچھ وقت صرف کریں۔ یہ ہے وہ قولی شہادت جو مجموعی طور پر ہماری پوری امت اس ملک ہی میں نہیں، ساری دنیا میں دے رہی ہے۔ (شہادت حق از سید ابو الاعلی مودودی)

 

May 05, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 3 تبصرے »

انسانی فطرت

انسانی فطرت شرپسند نہیں ہے۔ اسے دھوکا ضرور دیا جا سکتا ہے، اور ایک بڑی حد تک مسخ بھی کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے اندر بھلائی کی قدر کا جو مادہ خالق نے ودیعت کردیا ہے، اسے بالکل معدوم نہیں کیا جا سکتا۔ انسانوں میں ایسے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں جو بدی ہی سے دلچسپی رکھتے ہوں اور اس کے علمبردار بن کر کھڑے ہوں۔ اور ایسے لوگ بھی کم ہوتے ہیں جنہیں نیکی سے عشق ہو اور اسے قائم کرنے کی جدوجہد کریں۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان عام انسان نیکی اور بدی کے ملے جلے رجحانات رکھتے ہیں۔ وہ نہ بدی کے گرویدہ ہوتے ہیں اور نہ نیکی ہی سے انہیں غیرمعمولی دلچسپی ہوتی ہے۔ ان کے کسی ایک طرف جھک جانے کا انحصار تمام تر اس پر ہوتا ہے کہ خیر اور شر کے علمبرداروں میں سے کون آگے بڑھ کر انہیں اپنے راستہ کی طرف کھینچتا ہے۔ اگر خیر کے علمبردار سرے سے میدا ن میں آئیں ہی نہیں اور ان کی طرف سے عوام الناس کو بھلائی کی راہ پر چلانے کی کوئی کوشش ہی نہ ہو تو لامحالہ میدان علمبردارانِ شر ہی کے ہاتھ رہے گا اور وہ عام انسانوں کو اپنی طرف کھینچ لے جائیں گے۔ لیکن اگر خیر کے علمبردار بھی میدان میں موجود ہوں۔ اور وہ اصلاح کی کوشش کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کریں تو عوام الناس پر علمبردارانِ شر کا اثر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ان دونوں کا مقابلہ آخرکار اخلاق کے میدان میں ہو گا، اور اس میدان میں نیک انسانوں کو بُرے انسان کبھی شکست نہیں دے سکتے۔ سچائی کے مقابلہ میں جھوٹ، ایمانداری کے مقابلہ میں بے ایمانی، اور پاک بازی کے مقابلہ میں بدکرداری خواہ کتنا ہی زور لگائے، آخری جیت بہرحال سچائی ، پاک بازی اور ایمان داری کی ہوگی۔ دنیا اس قدر بے حس نہیں ہے کہ اچھے اخلاق کی مٹھاس اور بُرے اخلاق کی تلخی کو چکھ لینے کے بعد آخرکار اس کا فیصلہ یہی ہو کہ مٹھاس سے تلخی زیادہ بہتر ہے۔ (اقتباس: بناؤ اور بگاڑ، از سید ابو الاعلٰی مودودیؒ)

April 24, 2008 | حاصل مطالعہ | ایک تبصرہ »

محسنِ انسانیت

موجودہ عالمگیر مادہ پرستانہ تہذیب کے ظاہر فریب پردوں کے پیچھے جھانک کر انسانیت کا جائزہ لیجیے، تو وہ حال زار سامنے آتا ہے کہ روح کانپ جاتی ہے۔ پوری اولادِ آدم کو چند خواہشات نے اپنے شکنجے میں کس لیا ہے اور ہر طرف دولت و اقتدار کے لیے ہاتھا پائی ہو رہی ہے۔ آدمیت کے اخلاقی شعور کی مشعل گل ہے۔ جرائم تمدنی ترقی کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نفسیاتی الجھنوں کا زور ہے اور ذہنی سکون یکسر غائب ہوچکا ہے۔ انسانی ذہن و کردار میں ایسا بنیادی فساد آگیا ہے کہ زندگی کا کوئی گوشہ اس کی منحوس پرچھائیں سے محفوظ نہیں رہا۔ فلسفہ و حکمت سے سچائی کی روح کھو گئی ہے۔ اعتقادات و نظریات میں توازن نہیں رہا۔ روحانی قدریں چوپٹ ہو چکی ہیں۔ قانون روحِ عدل سے خالی ہو رہا ہے۔ سیاست میں جذبۂ خدمت کی جگہ اغراض پرستی گھس گئی ہے۔ معیشت کے میدان میں ظالم اور مظلوم طبقے پیدا ہوگئے ہیں، فنون لطیفہ میں جمال کی ساری رنگ آمیزیاں جنسی جذبوں اور سفلی خواہشوں سے کی جانے لگی ہیں۔ تمدن کے سارے عوامل میں چپہ چپہ پر تضادات ابھر آئے ہیں جن کے درمیان تصادم برپا ہے اور پوری تاریخ ایک خوفناک ڈرامے میں بدل گئی ہے۔ عقل ترقی کر گئی ہے مگر اس کی حماقتیں ہمارے درپۓ آزار ہیں۔ علم کے سوتے ابل رہے ہیں، مگر اسی کی پروردہ جہالتوں کے ہاتھوں آدم زار کا ناک میں دم ہے۔ دولت کے خزانے ہر چہار طرف بکھرے پڑے ہیں مگر خاکی مخلوق بھوک، ننگ اور محرومی کے عذاب میں گھری ہے۔ ہزار گونہ تنظیمیں اور سیاسی ہئیتیں، نظریاتی وحدیں اور معاہداتی رابطے نمودار ہیں مگر انسان اور انسان کے درمیان بھائی بھائی کا سا تعلق نہیں چیتے اور بھیڑیے کا سا معاملہ ہے۔ عقلی، سیاسی، اخلاقی اور تہذیبی شعور کی ترقی کے چرچے ہیں، مگر ظلم اور تشدد کے انتہائی ناپاک حربے آج بھی انسانیت کے خلاف کام میں لائے جا رہے ہیں۔ تاریخ ایک وسیع اکھاڑا ہے جس میں کہیں امپیریلزم اور حریت پسندی کے درمیان، کہیں کمیونزم اور سرمایہ داری کے درمیان، کہیں جمہوریت اور آمریت کے درمیان اور کہیں فرد اور اجتماعیت کے درمیان اور کہیں مغربیت اور ایشیائیت کے درمیان ایک خونخوار آویزش جاری ہے۔

ایسی ہے یہ دنیا جس میں ہم اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں!

مصنوعی سیاروں اور میزائلوں کے اس دور میں سائنس الہ دین والے روایتی چراغ کے جن کی طرح مادی قوتوں کے نئے نئے خزانے انسان کے ایک ایک اشارے پر بہم پہنچا رہی ہے۔ قدرت کے سربستہ رازوں کے ازلی قفل حکمت کی کنجی سے کھل رہے ہیں، ہیبت ناک رفتار انسان کو زمان و مکان پر وسیع تصرف دلا رہی ہیں، جوہری توانائی نے تباہ دیووں کے لشکر انسان کے سامنے مسخّر کر کے کھڑے کر دیے ہیں جو بس ایک اشارۂ ابرو کے منتظر ہیں۔ دوسری طرف خود انسان کا اپنا یہ حال ہے کہ وہ شیطانی اور تخریبی قوتوں کے پنجے میں پہلے سے زیادہ بے بس دکھائی دیتا ہے جو بار بار اسے اپنے ہی خلاف محشر آرا کرتی رہی ہیں اور جنہوں نے ہر دور میں اس کے عظیم تعمیری کارناموں اور اس کے شاندار تمدنوں کو خود اسی کے ہاتھوں ملیامیٹ کرایا ہے۔

ذرا کسی ایسے کارواں کا تصور کیجیے جو کسی پہاڑ کی چوٹی پر ڈیرہ ڈالے اور زربفت کے خیمے نصب کر کے کھانے پینے، رقص و موسیقی اور شعر و شراب میں مگن ہو، اس کے پاس کاروباری اموال کے انبار ہوں، اس کے ساتھ روپے سے بھری ہوئی تھیلیاں ہوں، جانوروں اور سواریوں کی کثرت ہو، اس کے اسلحے چمکدار اور اس کا پہرہ مضبوط ہو ۔۔۔۔۔ لیکن عیس اس کے قالینوں اور بستروں اور مسندوں کے نیچے کی زمین میں چند فٹ کی گہرائی پر خوفناک لاوا کھول رہا ہو اور تھوڑا ہی وقفہ اس میں باقی ہو کہ پہاڑ پھٹ پڑے اور آگ کا طوفان امڈنے لگے۔ کچھ ایسا ہی حال ہمارے قافلہ تمدن کا ہے جو موجودہ لمحہ تاریخ کی پہاڑی پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔ اس پہاڑی کے سینے میں ہولناک ترین بحران کا لاوا کھول رہا ہے۔

ہمارے سامنے مشیت عالمی بحران کا چیلنج لیے کھڑی ہے، وقت کے راستہ پر پیچھے بھاگنے کا امکان نہیں۔ چیلنج کا جواب دینے کی صلاحیت موجودہ مادی تہذیب اور اس کے بنائے ہوئے انسان میں نہیں ہے۔ کوئی نیا فلسفہ نہیں ابھر رہا ہے جو کم سے کم ایک چھلاوے کی طرح وقتی طور پر ہی سرمایۂ اطمینان بن سکے ۔۔۔۔۔ کسی طرف کوئی راہ نجات کھلتی نظر نہیں آتی۔

اضطراب کے اس لمحے میں جب چاروں طرف نگاہیں گھماتا ہوں تو تاریکی کا ایک سمندر شش جہت سے محاصرہ کیے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ اس سمندر میں دور ۔۔۔چودہ صدی کی دوری پر۔۔۔ ایک نقطہ نور دکھائی دیتا ہے۔

یہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی مشعل ہے! وہی مشعل جس کی روشنی کو خود ہم نے ۔۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں نے ۔۔۔ اپنے افکار پریشاں اور اپنے اعمال پراگندہ کے غبار میں گم کر رکھا ہے !!

(محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم از نعیم صدیقی)

April 14, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 2 تبصرے »

رجوع الی القرآن

ہم پر لازم ہے کہ ابتدا سے ہم اس خالص سرچشمۂ ہدایت کی طرف رجوع کریں جس سے اسلام کے پہلے لاثانی معاشرے کے افراد نے فہمِ دین حاصل کیا تھا اور جس کے بارے میں اللہ تعالٰی نے یہ ضمانت دی ہے کہ وہ ہر گونہ اختلاط و آمیزش سے محفوظ رہے گا۔ ہمیں کائنات اور حیاتِ انسانی کی حقیقت، اور ان دونوں کے باہمی تعلق، اور پھر ان تمام چیزوں کے اور وجود کلی (باری تعالٰی کے وجود) کے باہمی تعلق کا صحیح تصور اس سرچشمہ سے حاصل کرنا ہوگا۔ اور اسی ضمن میں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ زندگی کا صحیح تصور کیا ہے؟ ہماری قدریں اور اخلاق کس نوعیت کے ہوں؟ ہمارا نظامِ حکمرانی کس ڈھب کا ہو؟ ہماری سیاست اور اقتصاد کن اصولوں پر قائم ہو؟ غرضیکہ زندگی کے ہر ہر پہلو کے بارے میں اس کتاب ہدایت سے ہمیں رہنمائی حاصل کرنا ہوگی۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ جب ہم ان مسائل کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اسلام کے چشمہ صافی (قرآن کریم) کی طرف رجوع کریں تو “علم برائے عمل” کے احساس و جذبہ کے ساتھ اُسے پڑھیں نہ کہ لُطف اندوزی، تسکین ذوق اور بحث و تحقیق کے شوق کی بنا پر۔ ہم یہ معلوم کرنے کے لیے اُس کی طرف رجوع کریں کہ وہ ہم سے کیسا انسان بننے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ ویسا انسان ہم بن کر دکھائیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ مقصدِ حقیقی کے حصول کے دوران ہم پر قرآن کا فنی کمال اور ادبی حُسن بھی آشکار ہو جائے گا، اس کے حیرت انگیز قصے ہمارا دامنِ دل پکڑیں گے، مناظر قیامت بھی آنکھوں کے سامنے جھلکیں گے اور اُس کی وجدانی منطق کی بھی ہم گلگشت کریں گے۔ الغرض وہ سب لذتیں ضمناً ہمیں حاصل ہوگی جن کی تلاش جویانِ علم کو ہوتی ہے اور جن کی طلب میں اربابِ ذوق سرگرداں رہتے ہیں۔ بے شک ان سب فوائد و لذائذ سے ہم ہمکنار ہوں گے لیکن یہ چیزیں ہمارے مطالعہ کا اصل مقصد نہ ہو گی۔ ہمارا اصل مقصد صرف یہ معلوم کرنا ہوگا کہ قرآن ہم سے کس طرح کی عملی زندگی کا مطالبہ کرتا ہے؟ زندگی اور کائنات کے بارے میں وہ اجمالی تصور کیا ہے جس پر ہمیں قرآن قائم کرنا چاہتا ہے؟ وہ ہمیں اللہ تعالٰی کے بارے میں کس نوعیت کا شعور اور احساس رکھنے کی تلقین کرتا ہے؟ اُسے کس قِسم کے اخلاق پسند ہیں؟ اور وہ زندگی میں کس ڈھنگ کا قانونی اور دستوری نظام نافذ کرنے کا خواہاں ہے؟ (”معالم فی الطریق” از سید قطب شہید (اردو ترجمہ “جادہ و منزل” از خلیل احمد حامدی)

April 11, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 2 تبصرے »

کولمبس – تصویر کا دوسرا رخ

بڑی شخصیات عام طور پر قوموں کے عروج کی نمائندہ ہوتی ہیں اس لیے مورخین ان کی شخصیت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے لیے ان کی کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہیں اور ان کے کارناموں کو غیر معمولی اور عوام کے لیے سود مند ثابت کرنے کی کوششوں میں جتے رہتے ہیں۔

مزید برآں انہیں لافانی حیثیت دینے کے لیے عوامی مقامات پر ان کے مجسمے نصب کیے جاتے ہیں؛ ان کی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کے لیے تصاویر پیش کی جاتی ہیں؛ ممالک، شہر، ادارے اور سڑکیں ان سے موسوم کی جاتی ہیں؛ ان کی عظمت کی تشہیر کے لیے کتابیں لکھی جاتی ہیں، ان کی شجاعت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نظمیں تخلیق ہوتی ہیں اور ڈاک ٹکٹ اور کرنسی نوٹ بھی شائع کیے جاتے ہیں۔ ہیرو سازی (Hero-making) کے اس عمل میں انہیں روایتی اخلاقیات سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے ان کے کمزوریوں اور جرائم سے بھی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ اگر ان سے کوئی جرم سرزد بھی ہوا ہوتو وہ انسانیت کے وسیع تر مفاد میں تھا اور اس لیے اس سے مکمل تجاہل برتا جانا چاہیے۔۔

کرسٹوفر کولمبس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا .1506ء میں غربت کے ہاتھوں گمنام موت کا شکار ہونے والا کرسٹوفر کولمبس رفتہ رفتہ ہیرو کے درجے پر پہنچ گیا کیونکہ یہ یوروامریکن باشندوں کے لیے وقت کی ضرورت تھی؟ کرکپیٹرک سیل نے اپنی کتاب ” Conquest of paradise: Christopher Columbus and the Columbian Legacy” میں اس شخص کے ابھرتے ہوئے افسانے کا سراغ لگایا ہے جسے ‘دریافت کرنے والا جہاز راں اور سیاح’ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

اپنی موت کے فوراً بعد وہ ایسے کپتان کی حیثیت سے مشہور ہوا جو کامیابی سے یورپ سے امریکہ پہنچا اور قدیم دنیا کو نئی دنیا سے منسلک کیا۔ وہ نو دریافت شدہ علاقوں سے دولت کے انبار سمیٹ کر لایا۔ ایک عام سے کپتان کا تاثر اس وقت مکمل طور پر تبدیل ہو گیا جب یورپی ہجرت کر کے امریکہ پہنچے اور وہاں قیام اختیار کیا، کولمبس ایک ایسے شخص کی حیثیت میں ابھر کر آیا جس نے دنیا کا ایک چوتھائی حصہ یورپ کو عطا کیا جہاں انہوں نے اپنی اضافی آبادی کو منتقل کیا۔

17 ویں اور 18 ویں صدی میں نئی دنیا میں رہائش اختیار کرنے والے اور قدیم مقامی آبادی کے علاقوں پر قبضہ کرنے والے افراد، خصوصاً یورپ میں زیر عتاب رہنے والے مذہبی فرقوں کے لیے کولمبس ایسی عظیم شخصیت تھی جس نے انہیں مشکل سے بچایا اور انہیں ایسا محفوظ مقام فراہم کیا جہاں وہ آزادی سے اپنے ایمان کے مطابق زندگی گذار سکتے ہیں۔ 19 ویں صدی میں جب مورخین نے ہسپانوی ادبی ذخائر میں موجود قدیم دستاویزات کا مطالعہ کیا تو اس کی سفری مہمات کو اس کی کامیابیوں کے ساتھ بیان کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہیرو سازی کا یہ عمل مکمل ہوا۔

شمالی اور جنوبی امریکہ میں ہیرو کی حیثیت سے اس کے تاثر کو وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔ اس کی “خدمات” کے عوض میں شہروں، اداروں اور سڑکوں کے نام اس سے موسوم کیے گئے۔ ایک عہد ساز شخصیت کی حیثیت سے تاریخ دانوں نے امریکہ کی تاریخ کو دو ادوار ‘قبل از کولمبس’ اور ‘بعد از کولمبس’ میں تقسیم کر دیا۔ 1963ء میں امریکی کانگریس نے یوم کولمبس کو قومی دن قرار دیا۔ اسکولوں کی نصابی کتب میں اسے ایک ‘دریافت کرنے والی’ شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا اور ان حقائق سے پردہ پوشی کی گئی کہ مذکورہ براعظم 1492ء سے عرصہ قبل چینیوں سمیت کئی قوموں نے دریافت کر لیا تھا۔ اسے عیسائیت کے پشتیبان کے طور پر پیش کیا گیا جس نے عثمانی ترکوں اور ان کی بحری قوت کو للکارا۔ اس کا نیا امیج ایک انسان دوست کا تھا، ایک ایسا شخص جس نے ترقی کی راہوں پر یورپیوں کی رہنمائی کی اور ان کی تہذیب کو فروغ دیا۔

اس کا یہ تاثر (امیج) جدید عہد تک مسلمہ رہا۔ قدیم سرخ ہندی(Red Indian) باشندے جنہیں مظالم کا شکار بنایا گیا تھا وہ اس حیثیت میں نہیں تھے کہ یورپ نواز تاریخی تحاریر کا جواب دے پاتے جو ان کے خلاف تعصب سے بھری پڑی ہے۔ تاریخ کے اس متعصب اور تحقیر آمیز انداز کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مقامی دانشور ابھرے جنہوں نے امریکی تاریخ دانوں اور سیاسی کارکنوں کے تعاون سے ایک ہیرو کی حیثیت سے کولمبس کے افسانوی تاثر کو للکارا۔

1992ء میں کولمبس کی امریکہ آمد کی 500 ویں سالگرہ کے موقع پر مقامی سرخ ہندیوں اور ان کے حامیوں نے زبردست احتجاج کیا اور تاریخی کتابوں کی بنیاد پر کولمبس کے متضاد تاثر کو سامنے لائے۔ ان کا دلیل یہ تھی کہ جس شخص نے مقامی آبادی کے ساتھ بدترین سلوک اختیار کیا، انہیں قتل کیا اور غلام بنایا حالانکہ انہوں نے اس کا ساتھیوں سمیت خیرمقدم کیا تھا اور انہیں کھانا اور رہائش بھی فراہم کی؛ ایسی شخصیت کو اس عظمت کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اپنے پہلے سفر پر اس نے مقامی باشندوں کو اغوا کیا اور انہیں اسپین لے جاکر بطور غلام ہسپانوی حکمرانوں کو تحفتاً پیش کر دیا۔ اس نے مقامی آبادی سے حتی الامکان سونا حاصل کیا۔ اس کے اپنے مطابق: “سونا سب سے شاندار ہے؛ سونا خزانے تشکیل دیتا ہے، اور جس کے پاس یہ ہو وہ دنیا میں سب کچھ کر سکتا ہے، حتٰی کہ روحوں کو جنت بھی لے جا سکتا ہے”۔ 1495ء میں جب وہ ہیٹی پہنچا تو اراوک قبیلہ اس کے مظالم کا نشانہ بنا۔ “سپاہیوں نے گولیوں کی بوچھاڑ سے درجنوں کو ٹھکانے لگا دیا، چھوڑے گئے کتے ان کے سینے اور پیٹ چیر پھاڑ دیتے، اور جھاڑیوں میں چھپے مفرور مقامی باشندوں کا پیچھا کرتے”۔ اس بدترین قتل عام کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو سال کے اندر اندر ہیٹی کی نصف آبادی کا خاتمہ ہو گیا۔ 1650ء تک ہیٹی میں کوئی مقامی باشندہ نہ بچا۔

اپنے 1493ء کے سفر میں کولمبس نے بطور انعام اپنے افسران کو مقامی عورتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کی پیشکش کی۔ ہیٹی میں غلاموں کے ہسپانوی باشندوں کے ساتھ زبردستی جنسی تعلقات استوار کرائے جاتے۔ اس نے اپنے ایک دوست کو انتہائی مسرت کے عالم میں لکھا: “کسی عورت کے لیے ایک سو قشتالوی (castellanies) بالکل اسی طرح با آسانی حاصل کیے جا سکتے ہیں جیسے کھیت کے لیے، یہ بہت عام ہے اور اور ایسے بہت سے دلال ہیں جو لڑکیوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں؛ نو سے دس سالہ لڑکیوں کی بہت زیادہ طلب ہے”۔ مقامی باشندوں کے مصائب و آلام یہیں ختم نہیں ہوئے۔ کولمبس کے بعد کورٹ اور پزارو جیسے دیگر ظالم اور لالچی ہسپانوی “فاتحین” آئے جنہوں نے نہ صرف مقامی آبادی کا قتل عام کیا بلکہ ان کی دولت اور وسائل کو بھی لوٹ لیا۔ ایزٹک اور انکا کی عظیم تہذیبوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا۔ شمالی امریکہ کے یورپی مہاجرین نے زبردستی مقامی قدیم آبادی کی زمینوں پر قبضہ کر لیا اور ان کو بے یار و مددگار صورتحال میں جھوڑ دیا۔

کسی بھی روایتی تاریخ کی کتاب میں پیش نہ کیے جانے والے اس نئے مواد کی بنیاد پر دانشور اور سیاسی کارکنان نے اس کے ہیرو کے امیج کے خلاف زبردست تحریک سے موازنہ شروع کیا۔ یورپیوں کی آمد کے 500 سال مکمل ہونے کے جشن کے خلاف کئی کتب لکھی گئیں، پمفلٹ تقسیم کیے گئے اور اخبارات میں مقالے لکھے گئے، ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا اور مظاہرے کیے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تصویر کا دوسرا رخ ابھر کر سامنے آیا اور عوام کو کولمبس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرنا پڑا۔

کچھ لوگوں کے لیے وہ ایک ہیرو ہے، ایک ایسا شخص جو امید اور الہام لے کر آیا، لیکن چند کے نزدیک وہ مقامی آبادی کے لیے تباہی، مصائب و آلام اور اذیت لے کر آیا، جس نے انہیں نہ صرف اپنی زمینوں سے بے دخل کیا بلکہ اپنی ثقافت اور تہذیب سے بھی محروم کر دیا۔ کیا وہ واقعی ایک ہیرو کہلانے کے قابل ہے؟

)ترجمہ Columbus- the other side از مبارک علی(

February 08, 2008 | تاریخ اور حاصل مطالعہ اور سیاسیات | 5 تبصرے »

مستقل اسلام کا، کیسے؟

اس حقیقت سے کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جس کو علامہ اقبال نے آج سے تقریباً ایک صدی قبل بڑے واضح الفاظ میں شیطان کی زبان سے ادا کروایا تھا:

جانتا ہے، جس پر روشن باطنِ ایام ہے

مزدکیت فتنۂ فردا نہیں، اسلام ہے

یہ اس زمانے کی بات ہے جب کوئی کمیونزم کے زوال کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن شاعر کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ ابلیسیت کے نظام کے لیے اگر کوئی فتنہ ہے تو وہ اسلام اور ملت اسلامیہ ہے کہ جو اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ مگر مغرب کے کتنے ہی مرثیے پڑھے جائیں، اس کی خرابیوں کو کتنا ہی کھول کھول کر بیان کیا جائے اور اس پر کتنے ہی تبرے کیوں نہ بھیجے جائیں اور اس کے خلاف کتنے ہی نعرے کیوں نہ بلند کیے جائیں، لیکن یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ مغرب کبھی خود بخود زوال پذیر نہیں ہوگا۔

اللہ تعالٰی نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے جو مستقبل لکھ دیا ہے، وہ صرف محنت، بلند نظری، قوتِ اجتہاد اور جہاد و قربانی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔

January 29, 2008 | حاصل مطالعہ اور حالات حاضرہ | 3 تبصرے »

شکستہ و ریختہ اردو

اردو کو ابتدا میں “ریختہ” کہا جاتا تھا جو بعد ازاں بدل کر “اردو” ہوا لیکن آج کے جدید دور میں اس زبان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس نے اسے واقعتاً “شکستہ و ریختہ” کر دیا ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ جس طرح کی اردو استعمال کرتے دکھائے دے رہے ہيں اس سے لگتا ہے کہ محض 10 سالوں بعد اردو کا حلیہ بالکل تبدیل ہوگا۔

لیکن آج سے دو تین دہائیاں قبل اخبارات و رسائل دیکھیے ان میں شائع ہونے والے اشتہارات کی اردو اس امر کی عکاس ہے کہ اس زمانے میں اردو دانی کا معیار آج سے بدرجہا بہتر تھا اور اردو کے فروغ کے لیے تمام ادارے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے۔ پرانی کتابیں چھاننے کے دوران چند رسائل میں کچھ اس طرح کے اشتہارات ملے کہ اگر ایسے اشتہارات آج کل شائع ہونے لگیں تو ان مصنوعات کی فروخت بالکل بند ہو جائے۔ 30 سال قبل (1977ء) کے ایک رسالے میں شائع ہونے والے چند اشتہارات کے جملے ملاحظہ کیجیے:

ہم فخر و انبساط سے اعلان کرتے ہیں کہ ہم ملک کے مایہ ناز ماہرین اور ترقی پسند انتظامیہ کی نگرانی میں اعلٰی اور معیاری مال تیار کرتے ہیں جسے بفضل خدا تعالٰی صنعت پارچہ بافی میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ ہمیشہ چوہدری مارکہ سوت طلب کیجیے جو پاکستانی اور غیر ملکی منڈیوں میں یکساں مقبول ہے۔

حتٰی کہ غیر ملکی اداروں کے اشتہار بھی ایسی اردو میں ہوا کرتے تھے کہ یقین نہیں آتا تھا مثلاً

====== سعودی ایئر لائنز کا یہ اشتہار:

آپ کو وہاں پہنچانا ہمارے لیے باعث سعادت ہے۔ عمرہ اور مسجد نبوی کی زیارت مسلمانان عالم کی زندگی کی سب سے مقدس آرزو ہے اس کی تکمیل کے مقدس سفر کے دوران پاکیزہ ماحول، ہمسفروں کی دینی یگانگت اور مثالی خدمت کے لیے سعودیہ آپ کی معاونت کرتی ہے۔ آپ سبک رفتار “بوئنگ” سے سفر کریں یا عظیم، کشادہ اور خاموش “ٹرائی اسٹار” سے سعودیہ سروس کی خصوصیات دونوں پر موجود پائیں گے۔

مشرق وسطٰی میں آپ کے رہنما السعودیہ

====== حسن و آرائش کے لیے اشتہار:

اسٹیلمینز بلیچ کریم سے جلد کو شگفتہ اور دلکش بنائیے

خوبصورتی کا انحصار جلد کی شگفتگی اور تازگی پر ہے، پھیکی رنگت کو دور کرنے، دھوپ کی تمازت، موسم کا ردو و بدل اور کاسمیٹک کے اثرات سے جلد کو محفوظ رکھنے کے لیے اسٹیلمینز بلیچ کریم استعمال کیجیے۔ امریکہ میں 1891ء میں قائم شدہ دنیا کی قدیم ترین اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کریم

====== حتٰی کہ ایک کوکنگ آئل کے اشتہار کا نعرہ دیکھیے:

فربہ مائل خواتین پریشان نہ ہوں۔

====== جبکہ پاکستان میں پہلی بار واشنگ مشین متعارف کرانے والے ادارے کا نعرہ ہے:

ہم ہیں نقیبِ صبحِ نو!

کیا آپ آجکل فخر و انبساط، مایہ ناز ماہرین، ترقی پسند انتظامیہ، پارچہ بافی، دینی یگانگت، شگفتگی، تمازت، نقیب صبح نو اور فربہ مائل جیسے الفاظ کے موجودہ دور کے اشتہارات میں استعمال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟

January 18, 2008 | حاصل مطالعہ اور لسانیات | 15 تبصرے »

ظالم سے معافی

13 جولائی 1955 ء مصر کی “عوامی عدالت” (محکمۃ الشعب) کی طرف سے سید قطب کو 15 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ عدالت کا فیصلہ ان کی غیر حاضری میں سنایا گیا کیونکہ موصوف اس قدر کمزور ہوچکے تھے کہ وہ عدالت میں حاضر نہ ہو سکتے تھے۔ 15 سالہ قید بامشقت کا ایک سال ہی گذرا تھا کہ جمال عبد الناصر کی طرف سے ایک نمائندہ سید قطب کے پاس جیل خانے بھیجا گیا۔ اس نے سید قطب یہ پیشکش کی کہ “اگر آپ چند سطریں معافی نامے کی لکھ دیں جنہیں اخبارات میں شائع کیا جا سکے تو آپ کو رہا کر دیا جائے گا اور جیل کے مصائب سے نجات پا کر آپ گھر کی آرام دہ زندگی سے متمتع ہو سکیں گے”۔ اس پیشکش کے جواب میں اس مرد مومن نے جو جواب دیا اسے تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔ انہوں نےکہا:

“مجھے ان لوگوں پر تعجب آتا ہے کہ جو مظلوم کو کہتے ہیں کہ ظالم سے معافی مانگ لے۔ خدا کی قسم! اگر معافی کے چند الفاظ مجھے پھانسی کے پھندے سے نجات دے سکتے ہں تو میں تب بھی کہنے کے لیے تیار نہ ہوں گا، اور میں  اپنے رب کے حضور اس حال میں پیش ہونا پسند کروں گا کہ میں اس سے خوش ہوں اور وہ مجھ سے خوش ہو”۔

آپ علامہ محمد اقبال کی طرح ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے مغرب کو بہت قریب سے دیکھا اور اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ یہ آشیانہ شاخ نازک پر بنا ہے اور اس کی ناپائیداری سے عالم کو آگاہ کیا۔

“معالم فی الطریق” (اردو ترجمہ: جادہ منزل) ہی ان کی وہ معرکۃ الآرا کتاب ہے جسے لکھنے کے “جرم” میں آپ کو سزائے موت دی گئی۔

 

November 30, 2007 | حاصل مطالعہ | 6 تبصرے »

پچھلی »