محفوظات برائے زمرہ 'اسلام اور عصر حاضر'
“معالم فی الطریق” سید موصوف کی آخری تصنیف ہے۔ جس میں ان کی نئی تحریروں کے ساتھ کچھ پرانی تحریریں بھی ترمیم و اضافہ کے بعد شامل کی گئی ہیں۔ اس کتاب کو ہم “جادہ و منزل” کے نام سے اردو دان احباب کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ یہی وہ کتاب ہے جس نے سید قطب کو تختۂ دار تک پہنچایا ہے۔ جہاں تک سید قطب کی انقلابی شخصیت اور تحریکی جوش و ولولہ کا تعلق ہے۔ بے شک اس میں وہ اپنے دور کے چند گنے چنے لوگوں میں سے ہیں۔ جب مصر میں فوجی انقلاب برپا ہوا تھا اس میں سید قطب نے جو کردار ادا کیا تھا اس کی بنا پر بعض مصری مصنفین نے ان کو “انقلابِ مصر کا میرابو” کا لقب دیا ہے۔ “میرابو” سے ان کا اشارہ اس فرانسیسی رائٹر کی طرف ہے جو فرانس کے اندر جاگیرداری اور استبداد کے خلاف انقلاب برپا کرنے کے لیے عوام کو اکساتا رہا ہے۔ سید قطب کی کتاب “معرکۃ الاسلام و الراسمالیۃ” میں یہ انقلابی روح صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ اور یہ اس دور میں لکھی گئی ہے جب وہ تمام بڑے بڑے جغادری جو اس وقت “اشتراکیت” اور “مساوات” اور اسی نوعیت کے دوسرے نعروں سے ہنگامہ نشور برپا کیے ہوئے ہیں منقار زیرِ پر تھے۔ “معالم فی الطریق” میں انہوں نے اسلامی نظریہ اور اسلامی تنظیم کے بنیادی خدوخال بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کی پوری اسکیم جس بنیادی نقطہ پر مرکوز ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح اسلام کے صدر اول میں اسلامی معاشرہ ایک مستقل اور جداگانہ معاشرے کی صورت میں ترقی و نمو کے فطری مراحل طے کرتا ہوا بام عروج کو پہنچا تھا اسی طرح آج بھی ویسا صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں لانے کے لیے اُسی طریقِ کار کو اختیار کیا جانا لازم ہے۔ اس اسلامی معاشرے کو ارد گرد کے جاہلی معاشروں سے الگ رہ کر اپنا تشخص قائم کرنا ہوگا۔
یہ اسی کتاب “معالم فی الطریق” کے اردو ترجمہ “جادہ و منزل” کے میں کتاب کے وہ تعارفی الفاظ ہیں جو کتاب اور مصنف کے تعارف کے ضمن میں ادا کیےگئے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو اسی وقت تہیہ کر لیا کہ اس کتاب کو برقیانے کا کام ضرور کروں گا۔ ماہ اپریل کے اوائل میں اردو محفل پر اس سلسلے میں گفتگو کا آغاز کیا اور دو انتہائی شفیق دوستوں نے اس ضمن میں مدد کی یقین دہانی کرائی اور بعد ازاں عملی طور پر اس میں حصہ لیا اور صرف 25 دنوں کے عرصے میں 436 صفحات کی اس کتاب کی کمپوزنگ کا مرحلہ طے پا گیا۔
اب اس کے تکنیکی و پروف ریڈنگ کے اہم مراحل باقی تھے۔ اس پوری کتاب کو ایک فائل میں بند کرنا گویا “دریا کو کوزے میں سمانا” تھا اس لیے اس کی تیاری کے دوران پوری کوشش رہی کہ اس فائل کا حجم کم سے کم رہے اور اسی لیے صرف ایک فونٹ “نفیس ویب نسخ” کااستعمال کیا گیا ہے اور قرآنی آیات کے لیے خوبصورت سے خوبصورت فونٹس کی موجودگی کے باوجود کسی دوسرے فونٹ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ نفیس ویب نسخ کو بھی اس فائل کے اندر embed کر دیا گیا ہے تاکہ وہ صارفین جن کے کمپیوٹر پر یہ فونٹ نصب نہیں، بھی اس کتاب سے استفادہ حاصل کر سکیں۔
مجھے امید ہے کہ تمام دوستوں کو یہ کاوش پسند آئے گی لیکن بحیثیت انسان غلطی ہر شخص سے ہو سکتی ہے اس لیے اس برقی کتاب میں ہجے اور املاء کے علاوہ خاص طور پر کچھ تکنیکی غلطیاں ضرور ہوں گی اور وہ تمام افراد جن پر یہ غلطیاں ظاہر ہوں اس کے بارے میں مجھے مطلع کریں تو میں بہت مشکور ہوں گا اور اس غلطی کو فوری طور پر درست کردوں گا۔
آخر میں تمام اراکین سے التماس ہے کہ اس کتاب کے مصنف سید قطب شہید اور مترجم خلیل احمد حامدی صاحب کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں اور دعاؤں میں اس ناچیز اور کتاب کو برقیانے میں مدد دینے والے دیگر ساتھیوں کو بھی یاد رکھیں
“جادہ و منزل” کتاب یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے:
جادہ و منزل (مکمل برقی نسخہ)
June 18, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور برقی کتب اور تخلیقات | 4 تبصرے »
ہمارے افراد کی عام اخلاقی حالت جیسی کچھ ہے، آپ اس کا اندازہ خود اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کی بنا پر کیجیے۔ ہم میں کتنے فی صد آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جو کسی کا حق تلف کرنے میں، کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے میں کوئی ’’مفید‘‘ جھوٹ بولنے اور کوئی ’’نفع بخش‘‘ بے ایمانی کرنے میں صرف اس بنا پر تامل کرتے ہوں کہ ایسا کرنا اخلاقاً برا ہے؟ جہاں قانون گرفت نہ کرتا ہو، یا جہاں قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی امید ہو، وہاں کتنے فی صدی اشخاص محض اپنے اخلاقی احساس کی بنا پر کسی جرم اور کسی برائی کا ارتکاب کرنے سے باز رہ جاتے ہیں؟ جہاں اپنے کسی ذاتی فائدے کی توقع نہ ہو، وہاں کتنے آدمی دوسروں کے ساتھ بھلائی، ہمدردی، ایثار، حق رسانی اور حسنِ سلوک کا برتاؤ کرتے ہیں؟ ہمار ے تجارت پیشہ لوگوں میں ایسے تاجروں کا اوسط کیا ہے، جو دھوکے اور فریب اور جھوٹ او رناجائز نفع اندوزی سے پرہیز کرتے ہوں؟ ہمارے صنعت پیشہ لوگوں میں ایسے افرادکا تناسب کیا ہے جو اپنے فائدے کے ساتھ کچھ اپنے خریداروں کے مفاد اور اپنی قوم اور اپنے ملک کی مصلحت کا بھی خیال رکھتے ہیں؟ ہمارے زمینداروں میں کتنے ہیں جو غلہ روکتے ہوئے اور بے حد گراں قیمتوں پر بیچتے ہوئے یہ سوچتے ہوں کہ اپنی اس نفع اندوزی سے وہ کتنے لاکھ بلکہ کتنے کروڑ انسانوں کو فاقہ کشی کا عذاب دے رہے ہیں؟ ہمارے مالداروں میں کتنے ہیں جن کی دولت مندی میں کسی ظلم، کسی حق تلفی، کسی بددیانتی کا دخل نہیں ہے؟ ہمارے محنت پیشہ لوگوں میں کتنے ہیں جو فرض شناسی کے ساتھ اپنی اُجرت اور اپنی تنخواہ کا حق ادا کرتے ہیں؟ ہمارے سرکاری ملازموں میں کتنے ہیں جو رشوت اور خیانت سے ظلم اور مردم آزاری سے، کام چوری اور حرام خوری سے، اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال سے بچے ہوئے ہیں؟ ہمارے وکیلوں میں، ہمارے ڈاکٹروں اور حکیموں میں، ہمارے اخبار نویسوں میں، ہمارے ناشرین و مصنفین میں، ہمارے قومی ’’خدمت گزاروں ‘‘ میں کتنے ہیں جواپنے فائدے کی خاطر ناپاک طریقے اختیار کرنے اور خلق خدا کو ذہنی، اخلاقی، مالی اور جسمانی نقصان پہنچانے میں کچھ شرم محسوس کرتے ہوں؟ شاید میں مبالغہ نہ کروں گا اگر یہ کہوں کہ ہماری آبادی میں بمشکل ۵ فیصدی لوگ اس اخلاقی جذام سے بچے رہ گئے ہیں، ورنہ۹۵ فیصدی کو یہ چھوت بری طرح لگ چکی ہے۔ اس معاملہ میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور ہریجن کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ سب کے سب یکساں بیمار ہیں، سب کی اخلاقی حالت خوفناک حد تک گری ہوئی ہے، اور کسی گروہ کا حال دوسرے سے بہتر نہیں ہے۔ (اقتباس: بناؤ اور بگاڑ از سید ابو الاعلی مودودی)
May 20, 2008 | اخلاقیات اور اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 4 تبصرے »
ہمارے اندر ایک بہت ہی قلیل گروہ ایسا ہے جو کہیں انفرادی طور پر زبان و قلم سے اسلام کی شہادت دیتا ہے، اور اس میں بھی ایسے لوگ شاید انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو اس شہادت کو اس طرح ادا کر رہے ہیں، جیسا اس کے ادا کرنے کا حق ہے۔ اس قلیل گروہ کو اگر آپ الگ کر لیں تو آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کی عام شہادت اسلام کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف جا رہی ہے۔ ہمارے زمیندار شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام کا قانون وراثت غلط ہے اور جاہلیت کے رواج صحیح ہیں۔ ہمارے وکیل اور جج اور مجسٹریٹ شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام کے سارے ہی قوانین غلط ہیں۔ بلکہ اسلامی قانون کا بنیادی نظریہ ہی قابل قبول نہیں ہے۔ صحیح صرف وہ قوانین ہیں جو انسان نے وضع کیے ہیں اور انگریزوں کی معرفت ہمیں پہنچے ہیں۔ ہمارے معلم اور پروفیسر اور تعلیمی ادارے شہادت دے رہے ہیں کہ فلسفہ و حکمت، تاریخ و اجتماعیات، معاشیات و سیاسیات اور قانون و اخلاق کے متعلق وہی نظریات برحق ہیں جو مغرب کی ملحدانہ تعلیم سے ماخوذ ہیں۔ ان امور میں اسلام کا نقطئہ نظر قابلِ التفات تک نہیں ہے۔ ہمارے ادیب شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس بھی ادب کا وہی پیغام ہے جو امریکہ، انگلستان، فرانس اور روس کے دہری ادیبوں کے پاس ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے ادب کی سرے سے کوئی مستقل روح ہی نہیں ہے۔ ہمارا پریس شہادت دے رہا ہے کہ ان کے پاس بھی وہی مباحث اور مسائل و پروپیگنڈا کے وہی انداز ہیں جو غیرمسلموں کے پاس ہیں۔ ہمارے تاجر اور اہل صنعت شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام نے لین دین پر جو حدود قائم کی ہیں وہ ناقابل عمل ہیں اور کاروبار صرف انہی طریقوں پر ہو سکتا ہے جن پر کفار عامل ہیں۔ ہمارے لیڈر شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس بھی قومیت اور وطینت کے وہی نعرے ہیں، وہی قومی مقاصد ہیں، قومی مسائل کو حل کرنے کے وہی ڈھنگ ہیں، سیاست اور دستور کے وہی اصول ہیں جو کفار کے پاس ہیں۔ اسلام نے اس بارے میں کوئی رہنمائی نہیں کی ہے جس کی طرف رجوع کیا جائے۔ ہمارے عوام شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس زبان کا کوئی مصرف دنیا اور اس کے معاملات کے سوا نہیں ہے اور وہ کوئی ایسا دین رکھتے ہی نہیں، جس کا وہ چرچا کریں یا جس کی باتوں میں وہ اپنا کچھ وقت صرف کریں۔ یہ ہے وہ قولی شہادت جو مجموعی طور پر ہماری پوری امت اس ملک ہی میں نہیں، ساری دنیا میں دے رہی ہے۔ (شہادت حق از سید ابو الاعلی مودودی)
May 05, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 3 تبصرے »
موجودہ عالمگیر مادہ پرستانہ تہذیب کے ظاہر فریب پردوں کے پیچھے جھانک کر انسانیت کا جائزہ لیجیے، تو وہ حال زار سامنے آتا ہے کہ روح کانپ جاتی ہے۔ پوری اولادِ آدم کو چند خواہشات نے اپنے شکنجے میں کس لیا ہے اور ہر طرف دولت و اقتدار کے لیے ہاتھا پائی ہو رہی ہے۔ آدمیت کے اخلاقی شعور کی مشعل گل ہے۔ جرائم تمدنی ترقی کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نفسیاتی الجھنوں کا زور ہے اور ذہنی سکون یکسر غائب ہوچکا ہے۔ انسانی ذہن و کردار میں ایسا بنیادی فساد آگیا ہے کہ زندگی کا کوئی گوشہ اس کی منحوس پرچھائیں سے محفوظ نہیں رہا۔ فلسفہ و حکمت سے سچائی کی روح کھو گئی ہے۔ اعتقادات و نظریات میں توازن نہیں رہا۔ روحانی قدریں چوپٹ ہو چکی ہیں۔ قانون روحِ عدل سے خالی ہو رہا ہے۔ سیاست میں جذبۂ خدمت کی جگہ اغراض پرستی گھس گئی ہے۔ معیشت کے میدان میں ظالم اور مظلوم طبقے پیدا ہوگئے ہیں، فنون لطیفہ میں جمال کی ساری رنگ آمیزیاں جنسی جذبوں اور سفلی خواہشوں سے کی جانے لگی ہیں۔ تمدن کے سارے عوامل میں چپہ چپہ پر تضادات ابھر آئے ہیں جن کے درمیان تصادم برپا ہے اور پوری تاریخ ایک خوفناک ڈرامے میں بدل گئی ہے۔ عقل ترقی کر گئی ہے مگر اس کی حماقتیں ہمارے درپۓ آزار ہیں۔ علم کے سوتے ابل رہے ہیں، مگر اسی کی پروردہ جہالتوں کے ہاتھوں آدم زار کا ناک میں دم ہے۔ دولت کے خزانے ہر چہار طرف بکھرے پڑے ہیں مگر خاکی مخلوق بھوک، ننگ اور محرومی کے عذاب میں گھری ہے۔ ہزار گونہ تنظیمیں اور سیاسی ہئیتیں، نظریاتی وحدیں اور معاہداتی رابطے نمودار ہیں مگر انسان اور انسان کے درمیان بھائی بھائی کا سا تعلق نہیں چیتے اور بھیڑیے کا سا معاملہ ہے۔ عقلی، سیاسی، اخلاقی اور تہذیبی شعور کی ترقی کے چرچے ہیں، مگر ظلم اور تشدد کے انتہائی ناپاک حربے آج بھی انسانیت کے خلاف کام میں لائے جا رہے ہیں۔ تاریخ ایک وسیع اکھاڑا ہے جس میں کہیں امپیریلزم اور حریت پسندی کے درمیان، کہیں کمیونزم اور سرمایہ داری کے درمیان، کہیں جمہوریت اور آمریت کے درمیان اور کہیں فرد اور اجتماعیت کے درمیان اور کہیں مغربیت اور ایشیائیت کے درمیان ایک خونخوار آویزش جاری ہے۔
ایسی ہے یہ دنیا جس میں ہم اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں!
مصنوعی سیاروں اور میزائلوں کے اس دور میں سائنس الہ دین والے روایتی چراغ کے جن کی طرح مادی قوتوں کے نئے نئے خزانے انسان کے ایک ایک اشارے پر بہم پہنچا رہی ہے۔ قدرت کے سربستہ رازوں کے ازلی قفل حکمت کی کنجی سے کھل رہے ہیں، ہیبت ناک رفتار انسان کو زمان و مکان پر وسیع تصرف دلا رہی ہیں، جوہری توانائی نے تباہ دیووں کے لشکر انسان کے سامنے مسخّر کر کے کھڑے کر دیے ہیں جو بس ایک اشارۂ ابرو کے منتظر ہیں۔ دوسری طرف خود انسان کا اپنا یہ حال ہے کہ وہ شیطانی اور تخریبی قوتوں کے پنجے میں پہلے سے زیادہ بے بس دکھائی دیتا ہے جو بار بار اسے اپنے ہی خلاف محشر آرا کرتی رہی ہیں اور جنہوں نے ہر دور میں اس کے عظیم تعمیری کارناموں اور اس کے شاندار تمدنوں کو خود اسی کے ہاتھوں ملیامیٹ کرایا ہے۔
ذرا کسی ایسے کارواں کا تصور کیجیے جو کسی پہاڑ کی چوٹی پر ڈیرہ ڈالے اور زربفت کے خیمے نصب کر کے کھانے پینے، رقص و موسیقی اور شعر و شراب میں مگن ہو، اس کے پاس کاروباری اموال کے انبار ہوں، اس کے ساتھ روپے سے بھری ہوئی تھیلیاں ہوں، جانوروں اور سواریوں کی کثرت ہو، اس کے اسلحے چمکدار اور اس کا پہرہ مضبوط ہو ۔۔۔۔۔ لیکن عیس اس کے قالینوں اور بستروں اور مسندوں کے نیچے کی زمین میں چند فٹ کی گہرائی پر خوفناک لاوا کھول رہا ہو اور تھوڑا ہی وقفہ اس میں باقی ہو کہ پہاڑ پھٹ پڑے اور آگ کا طوفان امڈنے لگے۔ کچھ ایسا ہی حال ہمارے قافلہ تمدن کا ہے جو موجودہ لمحہ تاریخ کی پہاڑی پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔ اس پہاڑی کے سینے میں ہولناک ترین بحران کا لاوا کھول رہا ہے۔
ہمارے سامنے مشیت عالمی بحران کا چیلنج لیے کھڑی ہے، وقت کے راستہ پر پیچھے بھاگنے کا امکان نہیں۔ چیلنج کا جواب دینے کی صلاحیت موجودہ مادی تہذیب اور اس کے بنائے ہوئے انسان میں نہیں ہے۔ کوئی نیا فلسفہ نہیں ابھر رہا ہے جو کم سے کم ایک چھلاوے کی طرح وقتی طور پر ہی سرمایۂ اطمینان بن سکے ۔۔۔۔۔ کسی طرف کوئی راہ نجات کھلتی نظر نہیں آتی۔
اضطراب کے اس لمحے میں جب چاروں طرف نگاہیں گھماتا ہوں تو تاریکی کا ایک سمندر شش جہت سے محاصرہ کیے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ اس سمندر میں دور ۔۔۔چودہ صدی کی دوری پر۔۔۔ ایک نقطہ نور دکھائی دیتا ہے۔
یہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی مشعل ہے! وہی مشعل جس کی روشنی کو خود ہم نے ۔۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں نے ۔۔۔ اپنے افکار پریشاں اور اپنے اعمال پراگندہ کے غبار میں گم کر رکھا ہے !!
(محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم از نعیم صدیقی)
April 14, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 2 تبصرے »
ہم پر لازم ہے کہ ابتدا سے ہم اس خالص سرچشمۂ ہدایت کی طرف رجوع کریں جس سے اسلام کے پہلے لاثانی معاشرے کے افراد نے فہمِ دین حاصل کیا تھا اور جس کے بارے میں اللہ تعالٰی نے یہ ضمانت دی ہے کہ وہ ہر گونہ اختلاط و آمیزش سے محفوظ رہے گا۔ ہمیں کائنات اور حیاتِ انسانی کی حقیقت، اور ان دونوں کے باہمی تعلق، اور پھر ان تمام چیزوں کے اور وجود کلی (باری تعالٰی کے وجود) کے باہمی تعلق کا صحیح تصور اس سرچشمہ سے حاصل کرنا ہوگا۔ اور اسی ضمن میں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ زندگی کا صحیح تصور کیا ہے؟ ہماری قدریں اور اخلاق کس نوعیت کے ہوں؟ ہمارا نظامِ حکمرانی کس ڈھب کا ہو؟ ہماری سیاست اور اقتصاد کن اصولوں پر قائم ہو؟ غرضیکہ زندگی کے ہر ہر پہلو کے بارے میں اس کتاب ہدایت سے ہمیں رہنمائی حاصل کرنا ہوگی۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ جب ہم ان مسائل کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اسلام کے چشمہ صافی (قرآن کریم) کی طرف رجوع کریں تو “علم برائے عمل” کے احساس و جذبہ کے ساتھ اُسے پڑھیں نہ کہ لُطف اندوزی، تسکین ذوق اور بحث و تحقیق کے شوق کی بنا پر۔ ہم یہ معلوم کرنے کے لیے اُس کی طرف رجوع کریں کہ وہ ہم سے کیسا انسان بننے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ ویسا انسان ہم بن کر دکھائیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ مقصدِ حقیقی کے حصول کے دوران ہم پر قرآن کا فنی کمال اور ادبی حُسن بھی آشکار ہو جائے گا، اس کے حیرت انگیز قصے ہمارا دامنِ دل پکڑیں گے، مناظر قیامت بھی آنکھوں کے سامنے جھلکیں گے اور اُس کی وجدانی منطق کی بھی ہم گلگشت کریں گے۔ الغرض وہ سب لذتیں ضمناً ہمیں حاصل ہوگی جن کی تلاش جویانِ علم کو ہوتی ہے اور جن کی طلب میں اربابِ ذوق سرگرداں رہتے ہیں۔ بے شک ان سب فوائد و لذائذ سے ہم ہمکنار ہوں گے لیکن یہ چیزیں ہمارے مطالعہ کا اصل مقصد نہ ہو گی۔ ہمارا اصل مقصد صرف یہ معلوم کرنا ہوگا کہ قرآن ہم سے کس طرح کی عملی زندگی کا مطالبہ کرتا ہے؟ زندگی اور کائنات کے بارے میں وہ اجمالی تصور کیا ہے جس پر ہمیں قرآن قائم کرنا چاہتا ہے؟ وہ ہمیں اللہ تعالٰی کے بارے میں کس نوعیت کا شعور اور احساس رکھنے کی تلقین کرتا ہے؟ اُسے کس قِسم کے اخلاق پسند ہیں؟ اور وہ زندگی میں کس ڈھنگ کا قانونی اور دستوری نظام نافذ کرنے کا خواہاں ہے؟ (”معالم فی الطریق” از سید قطب شہید (اردو ترجمہ “جادہ و منزل” از خلیل احمد حامدی)
April 11, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 2 تبصرے »
انٹرنیٹ گردی کے دوران ایک “تھنک ٹینک” Free World Academy کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل ہوئی، ان کی رپورٹیں ملاحظہ کر کے اندازہ ہوا کہ مغربی دانشور طبقے میں کس طرح کی thinking ہوتی ہے اور یہ بھی کہ انتہا پسند صرف مسلم دنیا میں نہیں بلکہ مغربی دنیا میں بھی ہیں، اور وہ بھی اِس سطح کے جس کا بھرپور اندازہ مندرجہ ذیل ربط سے رپورٹ پڑھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ رپورٹ 2005ء کے بارے میں ہے لیکن اس کے مطالعے کے بعد مغربی دانشور طبقے کی مسلمانوں اور مسلم دنیا کے بارے میں گھٹیا سوچ کا مکمل ادراک کیا جا سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل ربط سے ملاحظہ کیجیے کہ مغرب کا ایک خاص طبقہ مسلم دنیا کے بارے میں کیا سوچتا ہے اور اس پر کیسی نگاہ رکھتا ہے؟
مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا مستقبل
April 02, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور ذرائع ابلاغ | تبصرہ کریں »
کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اس پر ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ اللہ سے بچانے کے لیے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد۔ وہ دوزخ کے یار ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ خوب جان لو، وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے اور اس نے خدا کی یاد ان کے دل سے بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار ہو، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے۔
تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (سورۃ المجادلہ آیت 14 تا 22)
March 20, 2008 | اسلام اور عصر حاضر | 5 تبصرے »
مجھے یہ تحریر پڑھ کر جہاں حیرت بھی ہوئی اور وہیں کئی گنا خوشی بھی ہوئی۔ القلم جیسا اخبار جسے “ضربِ مومن” کا سرحدی ایڈیشن کہا جاتا ہے، میں اس طرح کی تحریر واقعی آپ نے بھی کبھی نہیں پڑھی ہوگی۔ میری حیرت کی وجہ یہ ہے کہ علمائے کرام کا طبقہ بھی اس بات کو سمجھتا ہے جسے ہم عرصے سے سمجھانا چاہ رہے تھے۔ آپ بھی مندرجہ ذیل ربط سے یہ تحریر ملاحظہ کیجیے:
سرخ آندھی
November 20, 2007 | اسلام اور عصر حاضر اور حالات حاضرہ اور ذرائع ابلاغ | 6 تبصرے »
جس کو ساری انسانیت کا امام بننا ہو، اس کو ہر لحاظ سے اپنے اندر وسعت پیدا کرنا ہوگی اور ایک دنیا کو اپنے اندر سمونا ہوگا اور ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اسے اپنے دل کے اندر وسعت پیدا کرنا ہوگی، وہ وسعت کہ جس میں سارے لوگ سما جائیں، دماغ کی وسعت کہ جو سارے افکار کا مقابلہ کر سکے، عمل کی وسعت کہ جو سارے انسانوں کو اپنے اندر سمیٹ سکے۔جس کا دل تنگ ہو، جس کی نظر تنگ ہو، جس کا دماغ محدود ہو، جو اپنے ناک کے آگے نہ دیکھ سکتا ہو، وہ ساری دنیا کا امام نہیں بن سکتا۔ صحابہ کرام قیصر و کسریٰ کے دربار میں کھڑے ہو کر کہا کرتے تھے کہ ہم تو اس لیے آئے ہیں کہ تم کو دنیا کی تنگیوں سے نکال کر آخرت کی وسعت تک پہنچا دیں۔
جو اُس جنت کا طلب گار ہو جس کی وسعت میں زمین و آسمان سما جائیں، نہ اس کا دل تنگ ہو سکتا ہے نہ نگاہ، نہ اس کا دماغ تنگ ہو سکتا ہے نہ فکر سطحی اور نہ اس کی نظر محدود ہو سکتی ہے۔ لہٰذا امامت عالم کے لیے مقاصد میں، دل میں، فکر میں، نظر میں اور رویوں میں تنگی کے بجائے وسعت ناگزیر ہے۔
November 19, 2007 | اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 3 تبصرے »
میری ایک پوسٹ “وحشت کا الزام” کے جواب میں ایک قاری کچھ ان الفاظ میں رقم تھے، انہوں نے تو “رومن اردو” میں لکھا تھا جسے پڑھنا اور سمجھنا مجھ جیسے اردو پرست کے لیے ناقابل فہم و برداشت ہے اس لیے ان کے تبصرے کو یہاں اردویا کر پیش کر رہا ہوں:
“تو یعنی ہاتھ کاٹنا اور ایٹم بم چلانا دونوں غلط ہوئے؟
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مولوی لوگ عامۃ الناس کی جہالت کا فائدہ اٹھا کے انہیں گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جن سزاؤں کا ذکر قرآن میں ہے اور جنہیں رسول اللہ نے بھی نافذ کیا انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر کے زمانے میں ہاتھ کاٹنے کی سزا موقوف کر دی گئی تھی جبکہ یہ سزا رسول اللہ نے نافذ کی اور قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ موقع محل کے مطابق ان سزاؤں میں تبدیلی کی جاسکتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ملا جاہل ہیں اور اتنی سمجھ نہیں رکھتے اور اسلام کو بھی مذاق بنائے ہوئے ہیں”۔
برادرِ معترض نے اپنا نام تحریر کرنا مناسب نہ سمجھا، اور میں فوری طور پر ان کے سوالات کے جواب دینے سے بھی قاصر رہا البتہ ان سے وعدہ ضرور کیا کہ جواب ضرور ملے گا۔ سب سے پہلی بات یہ کہ نہ میں مولوی مُلا ہوں اور نہ ہی ان کے دفاع میں کوئی بات کروں گا۔ بہرحال برادر کے تبصرے میں چند باتیں بہت غور طلب ہیں۔
میرے خیال میں سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ روشن خیالوں کی منطق کیا ہے؟ جہاں تک میں سمجھا ہوں اُن کا کہنا ہے کہ “ُزمانۂ قدیم کے وحشیوں کے لیے وضع کردہ سزائیں موجودہ ترقی یافتہ دور میں کیسے نافذ کی جا سکتی ہیں؟ کیا محض چند روپوں کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے؟ حالانکہ مجرم چور ہو یا ڈاکو، (جدید نقطہ نظر کے مطابق) معاشرے کی بے انصافی اور ظلم کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے وہ سزا کا نہیں بلکہ ہمدردی سے نفسیاتی علاج کا مستحق ہے”۔
مگر عجیب بات ہے کہ اکیسویں صدی کے یہ روشن خیال حضرات دنیا بھر میں مسلمانوں کا (اور غیر مسلموں کا بھی) قتل عام ہوتے دیکھتے ہیں اور ہلکا سا اضطراب بھی محسوس نہیں کرتے لیکن ایک مجرم کی قانونی سزا پر بے چین اور چیں بہ جبیں ہو جاتے ہیں! افسوس کہ انسان خوشنما اور دلفریب الفاظ سے دھوکا کھا جاتا ہے اور اصل حقیقت اس کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
مجھے اس امر کو تسلیم کرنے میں کچھ امر مانع نہیں کہ جدید حضرات کے نظریات جزوی طور پر صحیح ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ فرد پر اس کے ماحول کا گہرا اثر پڑتا ہے اور اس کے تحت الشعور کی الجھنیں بعض اوقات جرائم کا باعث بنتی ہیں لیکن یہ بات بھی اپنے ذہن میں رکھیے کہ انسان حالات کے مقابلے میں مجبور محض نہیں ہے۔ موجودہ دور کے جدت پسند افراد انسان کی قوت محرکہ (Dynamic Energy) پر اتنا زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی وجود میں ودیعت قوتِ ضابطہ (Controlling Energy) کو بالکل ہی نظر انداز کر جاتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشی حالات سے انسان کے جذبات اور افعال متاثر ہوتے ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ بھوک روحِ انسانی کے انتشار اور معاشرے میں منافرت کا باعث بن کر بعض اوقات جرائم یا اخلاقی فساد کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے لیکن محض اقتصادی حالات کو انسانی زندگی کا واحد مؤثر عامل قرار دینا صحیح نہیں البتہ کسی حد تک جزوی طور پر ہی درست ہے۔
بہرحال مجرم کو سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرنے سے پیشتر ہمیں ارتکابِ جرم میں اس کی ذمہ داری کی صحیح حدود کا تعین ضرور کر لینا چاہیے اور یہی اسلام کا اصولِ سزائے جرم ہے۔ اسلام اندھا دھند سزائیں تجویز نہیں کرتا اور نہ ہی بغیر سوچے سمجھے انہیں نافذ کرتا ہے۔ اسلام صحیح معنوں میں عدل قائم کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ جرم کی سزا دینے سے پہلے ان تمام حالات اور اسباب کا جائزہ لیا جائے جن کا ارتکابِ جرم سے تعلق ہے۔ مجرم کو سزا دیتے وقت اسلام بیک وقت دو امور پیش نظر رکھتا ہے: مجرم کا نقطۂ نظر اور اس کے معاشرے کا زاویۂ نظر جس کے خلاف ارتکاب جرم کیا گیا ہے۔ ان ہر دو امور کی روشنی میں اسلام مناسب سزا تجویز کرتا ہے جو منطق اور عقل دونوں سے ہم آہنگ اور غلط قسم کے انفرادی اور قومی نظریات کے اثرات سے بالکل پاک ہوتی ہے۔
اسلام کی بعض مثالی سزائیں ممکن ہے بظاہر ظالمانہ اور غیر مناسب نظر آئیں لیکن تھوڑے سے غور و فکر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ سزائیں نہ ظالمانہ ہیں اور نہ غیر مناسب۔ کیونکہ اسلام انہیں صرف اسی صورت میں نافذ کرتا ہے جب اس کو یقین ہو جاتا ہے کہ مجرم کو نہ کوئی خاص مجبوری درپیش تھی، اور نہ اس کے ارتکاب جرم کی کوئی اور معقول وجہ جواز ہے۔ مثال کے طور پر اسلام چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا ہے، مگر جہاں ذرا بھی شبہ ہو کہ چوری کی وجہ بھوک تھی، تو وہ مجرم کی قطع ید کی سزا نہیں دیتا۔ اسی طرح بدکار مرد و عورت کے لیے سنگسار کی سزا بھی صرف شادی شدہ مرد و عورت کے لیے مخصوص ہے اور صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب چار عینی گواہوں نے ارتکاب جرم کرتے ہوئے دیکھا ہو۔
اس ضمن میں اہم ترین واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قحط کے زمانے میں قطع ید کی سزا کو موقوف کرنا تھا جس کا ذکر برادرِ عزیز نے اپنی پوسٹ میں کیا تھا اور اس سزا کو موقوف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ قحط کے باعث اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ لوگ چوری بھوک سے مجبور ہو کر کرتے ہوں۔
اس لیے اسلامی قانون کا صریح اور واضح اصول ہے کہ کسی مجرم کو قانونی سزا ایسے حالات میں نہیں دی جائے گی جب جرم کا ارتکاب حالات سے مجبور ہو کر کیا گیا ہو۔ اس اصول کی تائید میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول بھی موجود ہے کہ :
“شک کی صورت میں حدود جاری نہ کرو”
اب دیکھیے کہ اسلام کے قانون جرم و سزا کے بارے میں متشککین کیا کہتے ہیں؟ اور یہ حقیقت ہے کہ ان تمام کا وسیلۂ معلومات مستشرقین اور یورپی مصنفین کی کتب ہیں اور ان کتب کے مطالعے کے باعث ہی وہ اسلام کے تصور جرم و سزا سے ناواقف ہیں، اس لیے وہ اس کی مقرر کردہ سزاؤں کو وحشیانہ اور انسان کی توہین قرار دیتے ہیں کیونکہ غلطی سے وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان کے یورپی ضابطۂ تعزیرات کی طرح یہ سزائیں بھی آئے دن لوگوں پر نافذ ہوتی رہیں گی۔ گویا ان کے نزدیک اسلامی معاشرے میں کوڑوں، قطع ید اور سنگساری کی سزائیں ایک عام معمول ہوتی ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس طرح کی عبرت ناک سزائیں اسلامی معاشرے میں شاذ و نادر ہی نافذ کی جاتی ہیں چنانچہ یہ بات کہ اسلامی تاریخ کی 400 سالہ طویل مدت میں قطع ید کی سزا صرف چھ مرتبہ دی گئی، اس حقیقت کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اصل مقصد چوری کا سدباب تھا نہ کہ لوگوں کے ہاتھ کاٹنا۔ اس لیے اسلام سزائیں دینے سے پہلے خود جرائم مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس قسم کی سزائیں کوئی عملی افادیت نہیں رکھتیں، مگر یہ خیال غلط ہے۔ اسلامی سزائیں دراصل ان لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہیں جو بغیر کسی معقول وجہ جواز کے ارتکاب جرائم کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کی اصلاح کے نقطۂ نظر سے یہ سزائیں بہت موثر ہیں کیونکہ ان کی خواہش جرم خواہ کتنی ہی شدید ہو سزا کا خوف انہیں ارتکاب جرم سے قبل کئی بار سوچنے پر ضرور مجبور کرتا ہے۔
اس سلسلے میں افسوسناک بات یہ ہے کہ جدید زمانے کے بعض مہذب نوجوان اسلامی سزاؤں کو محض اس خوف سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ یورپ کے لوگ انہیں وحشت و بربریت کا طعنہ دیں گے لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ حضرات اگر اسلامی قانون کی حکمتوں کا کھلے دل سے مطالعہ کریں اور اسلام کے قانون جرم و سزا کی مستند کتب کو پڑھیں تو ان کی تمام غلط فہمیاں رفع ہو سکتی ہیں۔
November 03, 2007 | اسلام اور عصر حاضر | 3 تبصرے »
پچھلی »