محفوظات برائے July, 2008

مسجد پیرس اور اقبال: عقدہ حل

آج مطالعے کے دوران ایک بہت پرانی الجھن حل ہو گئی جس کا ذکر میں کئی احباب سے کر چکا تھا حتٰی کہ پیرس میں مقیم ایک عزیز دوست سید سلمان رضوی بھی میرے اس الجھن کو حل نہ کر سکے البتہ ایک دوسرے ساتھی نے اس مسئلے کو حل کرنے میں کچھ مدد کی لیکن حوالہ فراہم کرنے میں وہ بھی ناکام رہے۔

مسئلہ یہ تھا کہ علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام “ضربِ کلیم” میں “پیرس کی مسجد” کے عنوان سے ایک مختصر قطعہ لکھا ہے اور میں اس تلاش میں تھا کہ کہیں علامہ اقبال نے یہ قطعہ “مسجد پیرس” کے بارے میں تو نہیں لکھا جو 1920ء کی دہائی میں تعمیر ہونے والی جامع مسجد ہے جو آج بھی پوری شان کے ساتھ موجود ہے۔ اور محمد راشد شیخ کی مرتب کردہ زیر مطالعہ کتاب “ڈاکٹر محمد حمید اللہ” پڑھنے کے دوران یہ عقدہ حل ہو گیا۔ کتاب میں ڈاکٹر صاحب کے احوال زندگی، ان کی تمام زبانوں میں کتب کی فہرست، ان کو خراج عقیدت کے طور پر لکھے گئے مختلف مصنفین کے مضامین کو یکجا کیا گیا ہے اور آخر الذکر مضامین میں ڈاکٹر سید رضوی علی ندوی کے مضمون کے درج ذیل پیرے نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ ندوی صاحب فرماتے ہیں:

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب موصوف نے مجھے پیرس کی مشہور مسجد دکھائی، محلے کا نام اب یاد نہیں لیکن اندر سے مسجد اندلس اور مغربی (مراکشی) طرز کی تھی اور اس میں دیواروں اور چوبی منبر وغیرہ پر نقش و نگار اسی طرز کے تھے۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی اصل مسجد سے قبل ایک چھوٹے سے کمرۂ داخلہ (entrance room) میں کتابوں کا ایک اسٹال تھا اور کاؤنٹر پر ایک الجزائری لڑکی کھڑی تھی۔ میں نے حلب چھوڑنے کے بعد استنبول یونیورسٹی میں ایک عراقی طالب علم سے عربی زبان میں گفتگو کے بعد سے تقریباً دس روز سے عربی نہیں بولی تھی، میری عربی زبان کی رگ پھڑکی اور میں سے اس خاتون سے کتابوں کے بارے میں کچھ پوچھا، لیکن افسوس کہ وہ فصیح عربی زبان سے نابلد تھی، بلکہ غالباً عربی سے بھی نابلد تھی۔ اس وقت الجزائر پر فرانس کی حکومت تھی اور عربی زبان میں تعلیم وہاں ممنوع تھی۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے فرانسیسی میں اس کو میری بات سمجھائی، پیرس کی یہ وہی مسجد ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے ضرب کلیم میں ایک مختصر قطعہ (پیرس کی مسجد) میں کہا ہے:

حرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نے

تن حرم میں چھپا دی روحِ بُت خانہ

July 28, 2008 | اقبالیات اور تاریخ اور حاصل مطالعہ | ایک تبصرہ »

ایک اور ضربِ کاری!!

“کرایہ پورا دو ورنہ اتر جاؤ”

“لسٹ دکھاؤ کہاں ہے؟”

“ڈیزل میں 10 روپیہ بڑھ گیا وہ نئیں دیکھتا تم؟”

“فی سواری 4 روپیہ بڑھانا کہاں کا انصاف ہے؟”

“ام کیا کرے؟ ام نے تو ڈیزل پر پیسہ نئیں بڑھایا”

“اترو نیچے، اترو!!!!”

یہ وہ صدائیں ہیں جو گزشتہ دو روز سے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران کانوں میں گونج رہی ہیں بلکہ کئی بار تو کان پھاڑ قسم کی ہوتی ہیں۔ اور یہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور مطالبات کو تسلیم کیے جانے کے بعد معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

حالانکہ موجودہ حکومت روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر میدان میں آئی ہے اور انتخابات میں گزشتہ حکومت کے جو “مظالم” گنوا کر عوام سے ہمدردی کے ووٹ بٹورے گئے ان میں سرفہرست مہنگائی کا مسئلہ تھا اور اس مسئلے کی بنیادی وجہ گزشتہ دور حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا روز بروز اضافہ تھا لیکن “عوام دوست” حکومت کے انتخابات جیتنے کے بعد سے اب تک 7 مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 61 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ فروری 2008ء کے اختتام پر پٹرول کی قیمت 53 روپے 70 پیسے تھی جو اب 86 روپے 87 پیسے پر پہنچ چکی ہے۔ اس ریکارڈ قیمت پر پہنچنے کے لیے ریکارڈ قدم اٹھا کر بیک وقت 11 روپے 18 پیسے اضافہ کیا گیا۔

اسی عرصے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 73، مٹی کے تیل کی قیمت میں 65 اور ایچ او بی سی کی قیمت میں 48 فیصد اضافہ کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک “منی بجٹ” کی حیثیت رکھتا ہے خصوصاً ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کے نتیجے میں عوام براہ راست متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ڈیزل سے وہ تمام اقسام کی ٹرانسپورٹ رواں دواں رہتی ہیں جو عوام استعمال کرتی ہے اور مٹی کا تیل ملک کے کئی علاقوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

بہرحال حالیہ اضافے کا نتیجہ اگلے ہی روز ہڑتال کی صورت میں دیکھنا پڑا اور مجھ جیسے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد دفتر پہنچنے میں ناکام رہے یا پھر دیگر ذرائع سے دفتر پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ ہڑتال کے اگلے روز متوقع طور پر شہر کراچی میں جابجا کنڈیکٹروں اور سواریوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات پیش آئے جس کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ تھا جبکہ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی فہرست جاری نہیں کی گئی. اسی تلخ کلامی کی جھلکیاں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے تمام افراد روزانہ ملاحظہ کر رہے ہوں گے۔

اب صرف فہرست کی صورت میں “پروانہ” جاری ہونے کا انتظار ہے، عوام ذہنی طور پر ایک اور کاری وار کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔

July 25, 2008 | اردگرد اور سیاسیات اور ملکی صورتحال | 11 تبصرے »

بیجنگ اولمپک

One World One Dream

Beijing 2008

4 سال بعد دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر سب سے عالمی کھیلوں کے مقابلوں “اولمپکس” پر مرکوز ہیں اور اس مرتبہ سب کی توجہ کا مرکز چین کا دارالحکومت بیجنگ ہے جہاں اگلے ماہ اولمپکس 2008ء کا آغاز ہو رہا ہے۔ بیجنگ نے 2001ء میں اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا مقابلہ اپنے نام کیا تھا اور اس کے بعد انہوں پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور سخت محنت کے بعد ان عالمی کھیلوں کے شاندار انعقاد کے لیے بھرپورتیاری کی جس کا مظہر بیجنگ اور دیگر مقامات پر اولمپک کھیلوں کے تیار کی گئی شاندار عمارات و کھیل کے میدان ہیں۔ بیجنگ کھیلوں کے لیے جس زور و شور سے تیاریاں کی گئی ہیں وہ اسے تاریخ کا عظیم ترین اولمپک بنانے کے لیے کافی ہیں۔

بیجنگ اولمپک کا آغاز 8 اگست کو ہوگا اور یہ 24 اگست تک جاری رہیں گے۔ ان عظیم کھیلوں کا چین میں انعقاد اس امر کا اظہار ہے کہ عالمی سطح پر چین کا مقام تسلیم کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب چین نے عظیم الشان تعمیراتی شاہکار قائم کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کی معراج کی جانب گامزن ہے۔ بیجنگ نیشنل اسٹیڈیم، بیجنگ نیشنل انڈور اسٹیڈیم، بینل نیشنل ایکویٹکس سینٹر، اولمپک گرین کنونشن سینٹر، اولمپک گرین اور بیجنگ ویوکسونگ کلچر اینڈ اسپورٹس سینٹر تعمیرات کے شاہکار ہیں۔ ان میں ماسٹر پیس بیجنگ کا مرکزی نیشنل اسٹیڈیم ہے جو کسی پرندے کے گھونسلے جیسا لگتا ہے اور اس کی عرفیت بھی bird nest” ہے۔ اس میں 80 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ افتتاحی و اختتامی تقریبات اسی اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گی۔

بیجنگ اولمپک میں 205 ممالک کے کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں جو 28 کھیلوں میں اپنے ملک کےلیے تمغوں کے حصول کی دوڑ میں مصروف دکھائی دیں گے۔

ایک جانب جہاں لاکھوں تماشائی یہ کھیل میدانوں میں ملاحظہ کریں گے وہیں دنیا بھر کے 4 ارب افراد اسے ٹیلی وژن پر بھی ملاحظہ کر سکیں گے تو ہم بھی منتظر ہیں صرف دو ہفتے بعد تاریخ کے اس عظیم ترین ایونٹ کے لیے اور چین کی شاندار تیاریوں کو عملی صورت میں ملاحظہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ چین پہلی مرتبہ اولمپک کھیلوں میں سب سے زيادہ تمغے جیتنے کا اعزاز حاصل کر پاتا ہے یا نہیں؟

July 23, 2008 | کھیل کھلاڑی | 2 تبصرے »

ٹیگ ٹیگ 2

طویل غیر حاضری کے بعد جیسے ہی اپنے بلاگ پر حاضر ہوا تو برادر محمد وارث اور فہیم کی جانب سے طلبی کا نوٹس لگا دیکھا جنہوں نے ایک مرتبہ پھر ٹیگ کا دم چھلا ہمارے ساتھ لگا دیا ہے۔ “مجبوری کا نام شکریہ”، تو دونوں کے شکریے کے ساتھ جوابات بھی حاضر ہیں۔ قاعدے کے تحت پہلے کھیل کے قوانین ملاحظہ ہوں۔

الف۔ کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے۔

ب۔ جس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے۔

ج۔ سوالات کے آخر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے۔

سوالات:

س1۔ ونڈوز یا لینکس؟

دونوں

س2۔ ہالی ووڈ یا بالی ووڈ؟

Hollywood

س3۔ پیپسی یا کوک؟

کوک

س4۔ سیب یا انگور؟

انگور

س5۔ کراچی یا لاہور؟

کراچی

س6۔ پاپ میوزک یا راک؟

ان دونوں میں سے تو کوئی نہیں

س7۔ چائے یا کافی؟

چائے

س8۔ عدنان سمیع یا عاطف اسلم؟

دونوں نہیں

س9۔ نہاری یا حلیم؟

حلیم

س10۔ لوو میریج یا ارینجڈ؟

ارینجڈ کی تو “گل” ہی اور ہے

س11۔ فورمز یا بلاگ؟

فورمز

س12۔ نواز شریف یا آصف زرداری؟

چھڈو جی

س13۔ دوست یا کزنز؟

دوست

س14۔ کرکٹ یا فٹ بال؟

فٹ بال

س15۔ پرسکون یا پریشان؟

ہمہ وقت پریشان

اب میں ان سوالوں کا بوجھ ان 5 لوگوں پرڈالتا ہوں۔

محب علوی

عارف انجم

شاکر عزیز

ساجد اقبال

قدیر احمد

July 15, 2008 | متفرقات | ایک تبصرہ »