محفوظات برائے May, 2008

“رنگین” پاکستانی سیاست کا ایک “سنگین” مظاہرہ

پاکستانی سیاست بہت “رنگین” ہے اور اس کے ہر رنگ کی ایک خاص بات ہے۔ حتٰی کہ چند “چٹ پٹے” رنگوں پر بازاری قسم کے مصنفین نے کتابیں بھی لکھ ڈالیں جو ٹھیلے پر کتابیں بیچنے والوں کے ہاں مخصوص مقامات پر رکھی جاتی ہیں تاکہ فوری توجہ حاصل کریں۔ بہرحال پاکستانی سیاست کے انہی رنگوں میں سے ایک رنگ آجکل پھر موضوع بحث بنا ہوا ہے اور وہ ہے چیئرمین سی بی آر عبد اللہ یوسف کا ایک محفل کے دوران “رقص”

ویسے ہمارے “جمہوری” وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اسی صلاحیت کی بنیاد پر وزارت تک تقسیم کرچکے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے صدر پرویز مشرف (”پر کٹنے سے پہلے”) انہی حرکات کا ارتکاب کر چکے ہیں جن کی بناء پر بھٹو کو اپنا زوال دیکھنا پڑا۔ حالانکہ صدر محترم اپنے دور عروج میں کئی ایسے کام کر چکے ہیں جن میں سے ہر ایک پر ایک کیا کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن حال ہی میں عبد اللہ یوسف کے ساتھ ان کے رقص کا چرچا اب سر راہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور ایک نجی چینل نے تو روشن خیالی کے اس عملی مظاہرے کو دکھانے کا موقع ہاتھ نہیں جانے دیا اور کارکردگی کا عملی مظاہرہ عوام کو دکھا دیا۔

ویسے بھٹو صاحب نے تو صرف ایک وزارت کے حصول کے لیے مقابل دو امیدواروں میں سے ایک انتخاب بہتر رقص کی بنیاد پر کیا تھا لیکن پرویز صاحب تو اس رقص کا خود حصہ بن گئے۔ جی ہاں! عبد اللہ یوسف نے صدر صاحب کو نشست سے اٹھا کر اہلیان محفل کے روبرو دعوت رقص دی جسے محترم صدر نے قبول کیا لیکن جناب ان کے “رقص” کے آغاز سے قبل ہی کیمرہ مین نے کمال ہوشیاری سے کیمرے کا رخ حاضرین کی جانب پھیر دیا (لگتا ہے کیمرہ مین کا تعلق پی ٹی وی سے تھا)۔ تو فی الوقت تو ہم عبد اللہ یوسف صاحب کے رقص پر ہی اکتفا کرتے ہیں، اب ہمیں اور نجانے کیا کیا دیکھنا ہے اس لیے ساری حیرانگی یہیں ختم مت کیجیے گا، کچھ “برے” وقت کے لیے بھی بچا کر رکھیے گا۔

May 21, 2008 | حالات حاضرہ اور روشن خیالی اور سیاسیات | 2 تبصرے »

ہماری اخلاقی حالت

ہمارے افراد کی عام اخلاقی حالت جیسی کچھ ہے، آپ اس کا اندازہ خود اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کی بنا پر کیجیے۔ ہم میں کتنے فی صد آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جو کسی کا حق تلف کرنے میں، کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے میں کوئی ’’مفید‘‘ جھوٹ بولنے اور کوئی ’’نفع بخش‘‘ بے ایمانی کرنے میں صرف اس بنا پر تامل کرتے ہوں کہ ایسا کرنا اخلاقاً برا ہے؟ جہاں قانون گرفت نہ کرتا ہو، یا جہاں قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی امید ہو، وہاں کتنے فی صدی اشخاص محض اپنے اخلاقی احساس کی بنا پر کسی جرم اور کسی برائی کا ارتکاب کرنے سے باز رہ جاتے ہیں؟ جہاں اپنے کسی ذاتی فائدے کی توقع نہ ہو، وہاں کتنے آدمی دوسروں کے ساتھ بھلائی، ہمدردی، ایثار، حق رسانی اور حسنِ سلوک کا برتاؤ کرتے ہیں؟ ہمار ے تجارت پیشہ لوگوں میں ایسے تاجروں کا اوسط کیا ہے، جو دھوکے اور فریب اور جھوٹ او رناجائز نفع اندوزی سے پرہیز کرتے ہوں؟ ہمارے صنعت پیشہ لوگوں میں ایسے افرادکا تناسب کیا ہے جو اپنے فائدے کے ساتھ کچھ اپنے خریداروں کے مفاد اور اپنی قوم اور اپنے ملک کی مصلحت کا بھی خیال رکھتے ہیں؟ ہمارے زمینداروں میں کتنے ہیں جو غلہ روکتے ہوئے اور بے حد گراں قیمتوں پر بیچتے ہوئے یہ سوچتے ہوں کہ اپنی اس نفع اندوزی سے وہ کتنے لاکھ بلکہ کتنے کروڑ انسانوں کو فاقہ کشی کا عذاب دے رہے ہیں؟ ہمارے مالداروں میں کتنے ہیں جن کی دولت مندی میں کسی ظلم، کسی حق تلفی، کسی بددیانتی کا دخل نہیں ہے؟ ہمارے محنت پیشہ لوگوں میں کتنے ہیں جو فرض شناسی کے ساتھ اپنی اُجرت اور اپنی تنخواہ کا حق ادا کرتے ہیں؟ ہمارے سرکاری ملازموں میں کتنے ہیں جو رشوت اور خیانت سے ظلم اور مردم آزاری سے، کام چوری اور حرام خوری سے، اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال سے بچے ہوئے ہیں؟ ہمارے وکیلوں میں، ہمارے ڈاکٹروں اور حکیموں میں، ہمارے اخبار نویسوں میں، ہمارے ناشرین و مصنفین میں، ہمارے قومی ’’خدمت گزاروں ‘‘ میں کتنے ہیں جواپنے فائدے کی خاطر ناپاک طریقے اختیار کرنے اور خلق خدا کو ذہنی، اخلاقی، مالی اور جسمانی نقصان پہنچانے میں کچھ شرم محسوس کرتے ہوں؟ شاید میں مبالغہ نہ کروں گا اگر یہ کہوں کہ ہماری آبادی میں بمشکل ۵ فیصدی لوگ اس اخلاقی جذام سے بچے رہ گئے ہیں، ورنہ۹۵ فیصدی کو یہ چھوت بری طرح لگ چکی ہے۔ اس معاملہ میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور ہریجن کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ سب کے سب یکساں بیمار ہیں، سب کی اخلاقی حالت خوفناک حد تک گری ہوئی ہے، اور کسی گروہ کا حال دوسرے سے بہتر نہیں ہے۔ (اقتباس: بناؤ اور بگاڑ از سید ابو الاعلی مودودی)

May 20, 2008 | اخلاقیات اور اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 4 تبصرے »

قانون عوام کی گرفت میں

گزشتہ روز اہلیان کراچی کو ایک اور دل دہلانے والی خبر سننے (اور بذریعہ برقی ذرائع ابلاغ دیکھنے) کو ملی کہ رنچھوڑ لائن کے علاقے میں عوام نے 3ڈاکوؤں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلاڈالا ۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فلیٹ میں ڈکیتی کے بعد فرار ہوتے ہوئے ڈاکو مقامی افراد کے ہاتھوں پکڑے گئے جس کے بعد انہیں زبردست تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جائے وقوعہ پر موجود میرے دفتر کے ایک ساتھی نے بتایا کہ عوام نے موقع پر آنے والے پولیس اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تینوں کو گولی مار دے لیکن پولیس کے انکا رپر عوام نے نہ صرف پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر جائے وقوعہ سے ہٹا دیا بلکہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے تینوں ڈاکوؤں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ جنگ اخبار میں شائع ہونے والی تصویر واقعے کی سنگینی کی عکاس ہے۔

BurnedDacoits

کسی بھی معاشرے و قوم کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام ادارے اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض بخوبی انجام دیں اور کسی بھی ریاست کو اندرونی خلفشار سے بچانے کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ بلاتعصب انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انصاف کی فراہمی کسی بھی معاشرے کی وہ بنیاد ہے جس پر پوری عمارت انحصار کرتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ انصاف کی عدم دستیابی معاشرے میںسفاکیت وجنونیت کو پروان چڑھاتی ہے اور عوام اپنا قانون خود بنانے لگتے ہیں اور یہ واقعہ اس کی پہلی اور بڑی مثال بن کر سامنے آیاہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ

کوئی بھی حکومت کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتی ہے لیکن ظلم و نا انصافی کے ساتھ اس کا باقی رہنا ناممکن ہے

اس طرح کے واقعات کے پیش آنے کی عام وجوہات دو ہیں ایک انصاف کی عدم دستیابی اور دوسری قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رشوت کا عام کلچر۔ مذکورہ واقعے کا بنیادی محرک یہی سمجھ آتا ہے کہ عوام کو معلوم تھا کہ اگر ان مجرموں کو پولیس کے حوالے کیا گیا تو یہ چند روپے رشوت دے کر چھوٹ جائیں گے اگلے ہی روز کہیں اور ڈکیتی مارتے پھریں گے اور اگر عدالتوں تک پہنچ بھی گئے تب بھی کورٹ کچہریوں کے طویل چکر کاٹنے کے بعد بھی اس امر کی امید بہت کم ہے کہ انہیں اپنے کیے کی سزا ملے۔ اس لیے انہوں نے تشدد کی انتہا کرتے ہوئے ایک بدترین مثال قائم کر دی جس کی تقلید میں کئی قدم مزید اٹھ سکتے ہیں۔

واقعے کا یہی پہلو سب سے خوفناک ہے کہ مزید لوگ بھی انہی قدموں پر نہ چل پڑیں۔ کسی زمانے میں بھارت کی ایک فلم “گنگا جل” میں بھی کہانی کا مرکزی پلاٹ ایسا ہی تھا کہ عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے مجرموں کو جائے وقوعہ پر ہی سزا دینے لگے لیکن اس ماورائے قانون قدم کے باعث علاقے میں جرائم کی شرح صفر ہو گئی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس طرح کی اقدامات کی حمایت کی جائے بلکہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ درماندہ حال عدلیہ کے باعث عوام کو کسی سے رائی برابر بھی امید نہیں کہ مجرموں کو ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ اس لیے وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر انتہائی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

اس بڑے ذہنی خلفشار کے دیگر کئی عوامل بھی ہیں کہ عوام نتائج سے بے پروا ہو کر ان قدر سنگین حرکات کر رہے ہیں۔ وہ ہے بجلی کی بلا ناغہ اور طویل دورانیے کی بندش،بے روزگاری، غربت اور سڑکوں پر ٹریفک کے اژدہام کے باعث چند منٹوں کا سفر گھنٹوں میں ، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ذہنی انتشار، اضطراب، خلفشار۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام میں برداشت کا مادہ مفقود ہو چکا ہے، اور جلتی پر تیل ڈکیتی جیسے واقعات کر جاتے ہیں تو اس صورت میں ان سے انتہائی سفاکانہ ردعمل کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔ چند روز قبل کراچی میں ایک مارکیٹ میں دکاندار کو جس بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا اور اس کی لاش سڑک پر کئی گھنٹے تک پڑی رہی اس کے اثرات ابھی تک ذہنوں سے محو نہیں ہوئے اس لیے عوام ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب قانون کو گرفت میں لے رہی ہے۔

ا س تمام صورتحال میں آزاد عدلیہ کی بحالی کی اہمیت کہیں زیادہ دو چند ہوتی ہے وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں رشوت کے کلچر کے خاتمے کی ضرورت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کےلیے سنجیدہ حکمت عملی تیار کرے وہیں عوام کو ذہنی سکون دینے کے لیے اشیائے صرف کی گرانی پر قابو پائے بصورت دیگر عوام کا یہ سیلاب حکمرانوں کا حشر ان ڈاکوؤں سے بھی برا کر دے گا۔

May 15, 2008 | اردگرد اور حالات حاضرہ اور ملکی صورتحال اور ہم عوام | 16 تبصرے »

اوبنٹو 8.04 جائزہ

اوبنٹو کا نیا ورژن “8.04 ہارڈی ہیرون” منظر عام پر آیا، shipit کے ذریعے سی ڈی منگوانے کا “حکم” بھی کر دیا، لیکن اب ہم میں اور اوبنٹو کے نئے ورژن میں واحد رکاوٹ وہ طویل انتظار تھا جو سی ڈی کی وصولیابی تک کرنا پڑتا۔

انتظار کے ان لمحات کو گزارنا مشکل تر تھا لیکن ساتھی بلاگر نعمان یعقوب نے اپنے بلاگ پر پوسٹ پر کیے گئے تبصروں کے دوران کراچی کے بلاگر ساتھیوں کے لیے اوبنٹو کی مفت سی ڈی کی فراخدلانہ پیشکش کی اور یوں محض چند روز میں نعمان یعقوب سے ایک یادگار ملاقات کے ساتھ اوبنٹو کا نیا نسخہ ہمارے ہاتھوں میں تھا۔

اوبنٹو ہر 6 ماہ بعد نیا نسخہ (ورژن) جاری کرتا ہے اور ہر 18 ماہ بعد طویل المدتی معاونت کا حامل نسخہ (ایل ٹی ایس) جاری کیا جاتا ہے۔ اس طرح 8.04 ہارڈی ہیرون اوبنٹو کا دوسرا ایل ٹی ایس ورژن ہے جس کی معاونت کی مدت تین سال ہے یعنی اگلے تین سال تک اس کے لیے security اور maintenance کے اپ ڈیٹس جاری کیے جائیں گے۔ البتہ سرور ورژن کے لیے یہی مدت 5 سال ہے۔

مجھے یہ نسخہ اپنے گھر کے کمپیوٹر پر نصب کرنا تھا جس کے لیے ایسے وقت کا انتظار کرنا تھا جس میں یقین ہو کہ بجلی نہیں جائے گی اس لیے رات ایک بجے کا انتخاب کیا اور رت جگے کے ذریعے اوبنٹو کی تنصیب اور بعد ازاں اس کی خوبیوں کی تلاش کا منصوبہ بنایا۔

آغاز ہی سے اندازہ ہوا کہ اس ورژن میں کچھ واضح تبدیلیاں کی گئی ہیں جو مجھ جیسے نو آموز لینکس صارفین کو بھی محسوس ہوئیں۔ اِس مرتبہ Live اور Install کے آپشنز الگ الگ کر دیے ہیں پہلے صارف کو لازماً Live CD چلانا پڑتی تھی جس کے بعد تنصیب کا عمل شروع کیا جاتا تھا لیکن اب اسے ابتداء میں ہی تنصیب یا براہ راست چلانے میں سے کسی ایک کے انتخاب کی سہولت دی گئی۔ اس آپشن کی بدولت صارف خواہ مخواہ Live CD چلانے کے زحمت سے چھٹکارہ پاتا ہے اور براہ راست تنصیب کا آغاز کرنے پر بہت قیمتی وقت بھی بچتا ہے۔ جس کا اندازہ تنصیب کے بعد ہو گیا کہ یہ ورژن گزشتہ تمام ورژنز سے کہیں زیادہ جلد کمپیوٹر پر نصب ہوا۔

تنصیب کے تمام مراحل بخوبی انجام پائے اور لاگ ان ہونے کے بعد ڈیسک ٹاپ پر نئے وال پیپر نے استقبال کیا۔

اب ہارڈی ہیرون کی چند خوبیاں، یہ نیا ورژن جدید گنوم 2.22 کا حامل ہے جو مشہور اوپن سورس ڈیسک ٹاپ انوائرمنٹ ہے۔ گنوم کا یہ نیا ورژن کئی نئی خوبیوں اور بنیادی ڈھانچوں میں کئی بہتریوں کا حامل ہے۔

اس نئے نسخے میں شامل نئی خاصیتوں میں میرے خیال میں سب سے زیادہ شاندار اِس کی Windows آپریٹنگ سسٹم کے اندر تنصیب کی خوبی ہے جسے ووبی (Wubi) کا نام دیا گیا ہے (تاہم میں اسے تاحال آزما نہیں سکا)۔ ووبی ونڈوز-بیسڈ انسٹالر ہے جو ایک ہی پارٹیشن میں ونڈوز کے ساتھ اوبنٹو کو بھی نصب کر دیتا ہے بالکل ایک سافٹ ویئر کی طرح اور اسے Add/Remove Program سے بالکل اسی طرح حذف بھی کیا جا سکتا ہے جیسے عام سافٹ ویئرز کو کیا جاتا ہے۔

ہارڈی ہیرون میں کئی نئے سافٹ ویئرز بھی شامل کیے گئے ہیں جیسے نیا بٹ ٹورینٹ کلائنٹ Transmission، ویب کیم ایپلی کیشن Cheese اور سی ڈی برننگ کا نیا پروگرام Brasero وغیرہ۔ البتہ میری توقعات کے برعکس Inkscape موجود نہیں، جس کی اطلاع بیٹا ورژن استعمال کرنے والے نعمان یعقوب نے پہلے ہی دے دی تھی۔ البتہ GIMP بدستور موجود ہے۔

اوبنٹو کے دیگر مختلف ذائقے بھی نئے ورژن میں دستیاب ہیں جن میں کبنٹو، زبنٹو، اوبنٹو اسٹوڈیو، ایجوکیشن اوبنٹو اور متھ بنٹو شامل ہیں۔ علاوہ ازیں 8.04 کا سرور ایڈیشن بھی دستیاب ہے۔

اوبنٹو کا اگلا ورژن چھ ماہ بعد اکتوبر 2008ء میں جاری ہوگا جسے Intrepid Ibex کا نام دیا گیا ہے۔

یہ تبصرہ نعمان صاحب کا مجھ پر ادھار تھا کیونکہ انہوں نے سی ڈی کی قیمت یہی طلب کی تھی :) لیکن ان سے معذرت بھی کہ اس کو شائع کرنے میں کافی دیر ہوگئی۔

May 15, 2008 | لینکس نامہ | 5 تبصرے »

عالمی غذائی بحران

کیا دنیا ایک بحرانی دور میں داخل ہو چکی ہے؟ جس میں ایک بحران سے قبل دوسرا بحران جنم لے رہا ہے، کیا یہ عالمی قوتوں معاشی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے یا سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی خرابیاں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں؟

تیل کے بڑے بحران کے باعث محض گزشتہ چند سالوں میں تیل کی قیمت 25 ڈالرز سے 120 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز چکی ہے (تادمِ تحریر 124 ڈالرز فی بیرل سے زائد)۔ حالانکہ ان قیمتوں میں ابھی اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے لیکن پھر بھی قیمت 105 سے 120 ڈالرز کے درمیان ہی گردش کر رہی ہے اور جیسے جیسے یہ بحران سنگین تر ہو تا جا رہا ہے لگتاہے کہ اگلے چند سالوں (یا اگلے ہی سال میں) تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچے گی۔ دیگر وجوہات کے علاوہ چین اور بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی اس بحران کو مزید گمبھیر صورتحال سے دوچار کر سکتی ہیں کیونکہ ان کی تیل و گیس کی ضروریات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی معیشتیں ترقی کے جس مرحلے پر ہیں اُس مقام پر وہ کسی بحران کے محتمل ہو بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ انہیں شاہراہِ ترقی پر اپنے سفر کو تیز تر بنانا ہے۔

دوسری جانب عالمی طاقتیں اپنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام جائز طریقوں کے علاوہ اب ناجائز ہتھکنڈوں پر بھی اتر آئی ہیں جس کی واضح مثال افغانستان و عراق پر امریکہ و برطانیہ اور اتحادی ممالک کی چڑھائی ہے جس کے ڈانڈے بہرصورت تیل ہی سے جا کر ملتے ہیں۔

تیل کی یہ کہانی اتنی زیادہ زور پکڑ گئی کہ اس دوران جتنے بھی دیگر نسبتاً چھوٹے بحرانات سامنے آئے وہ زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکے اور حقیقت تب آشکار ہوئی جب جن بوتل سے باہر آ چکا تھا۔ ان بحرانوں میں سب سے سنگین نوعیت کا بحران ہے “عالمی غذائی بحران”۔

دنیا کی پہنچ سے باہر ہوتی ہوئی خوراک

اس بحران کی سنگینی کا اندازہ گزشتہ دنوں اخبارات میں شائع ہونے والے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کے بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ “سستی غذا کا دور” اپنے خاتمے پر ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے یہ بیان اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا کے دو تہائی غریب ایشیا میں بستے ہیں۔

اس بحران نے نہ صرف یہاں کہ ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے وہیں عوامی قوتِ خرید بھی روز بروز گھٹتی جا رہی ہے۔ غذائی بحران اس لیے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ وہ اضافی آمدنی جو عوام اپنے طرزِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعما ل کر سکتے تھے، وہ غذاؤں کی اضافی قیمت کی نذر ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب کئی ممالک میں عوام اپنی تین چوتھائی آمدنی خوراک پر صرف کر رہے ہیں اور گزشتہ تین سالوں میں خوراک کی قیمتوں میں 80 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس بحران کا نوٹس لیتے ہوئے بہت سخت بیانات بھی دیے ہیں، جن میں عالمی طاقتوں کی غلط پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کو چنداں اہمیت نہیں دی حتٰی کہ مقروض ترقی پذیر ملکوں پر دباؤ ڈالتے رہے کہ غذائی خود کفالت کی حصول کے بجائے وہ نقد فصلوں کی برآمدات میں سرمایہ کاری کریں ۔ بہرحال اس امر کا مکمل اندازہ ہونا چاہیے کہ اقوام متحدہ کے “سخت ترین بیانات” بھی صورتحال میں تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے بلکہ اسے عالمی معاملات کا “چوہدری شجاعت حسین” کہنا زیادہ بہتر ہوگا، جہاں ثالثی کے لیے درمیان میں آئے حریف کے مارے جانے سے کم نتائج نہ نکلے، چاہے معاملہ بگٹی والا ہو یا لال مسجد والا، دونوں کو چوہدری کی ثالثی کافی مہنگی پڑی۔ بہرحال موضوع کی جانب واپس آتے ہیں:

اس سلسلے میں سب سے غور طلب بات یہ ہے کہ آخر خوراک کا یہ عالمی بحران کیوں جنم لے رہا ہے؟ بنظر غائر دیکھا جائے تو دو بہت بڑی وجوہات دکھائی دیتی ہیں: ایک حیاتیاتی ایندھن (Bio Fuel) کی تیاری اور دوسری عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں یا عالمی حدت (Global Warming) کے باعث فصلوں کی پیداوار پر پڑنے والے مضر اثرات۔ اس کے علاوہ عالمی آبادی کا بگڑتا ہوا توازن بھی ایک اہم وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ و لاطینی امریکہ میں تو بلاشبہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا سبب “بائیو فیول” کی تیاری قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ امریکہ میں حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے کاشت کی جانے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس طرح کاشت کار بجائے غذا کے حصول کے ایندھن کے حصول کے لیے فصلیں اگا رہے ہیں اور یہ رحجان عالمی غذائی بحران کو سنگین تر کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس سلسلے میں بھی اقوام متحدہ نے سخت موقف اپناتے ہوئے فصلوں کو ایندھن کے لیے استعمال کرنے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے لیکن لگتا ہے اتنا سنگین معاملہ بھی بس مطالبات کی حد تک رہ گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے حال ہی میں بائیو فیولز کی تیاری کے لیے اہداف تک مقرر کر دیے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی ان غیر ذمہ دارانہ حرکتوں اور ترقی پذیر ممالک کے حکمرانوں کی نااہلی کے باعث مستقبل قریب میں غذائی بحران کی سنگینی میں کمی کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آسٹریلیا میں شدید خشک سالی نے گندم کی کاشت میں کافی کمی کر دی ہے جبکہ صورتحال کو بھانپ کر یوکرین نے گندم اور چین، مصر، ویت نام اور بھارت نے چاول کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے جس نے صورتحال کو مزید گمبھیر کر دیا ہے۔

غذائی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں

خوراک کے اس عالمی بحران کے باعث دنیا بھر کے 8 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں اور عالمی ادارہ خوراک نے اسے ایک “خاموش سونامی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ اٹھائے اور زیادہ سے زیادہ اجناس کی پیداوار کے لیے ترقی پذیر ممالک کے کاشتکاروں کی مدد نہ کی تو تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔

غذائی بحران کی چند جھلکیاں تو پاکستانی قوم سالِ گزشتہ سے دیکھتی آ رہی ہے جب آٹے جیسی بنیادی ضرورت سنگینوں کے سائے تلے ملتی رہی اور عوام طویل قطاروں میں لگ کر گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد چند روز کا آٹا لینے میں کامیاب ہوئے، اور اب بھی ملک کے کئی شہروں میں آٹے کی شدید قلت ہے۔ عالمی اداروں نے حال ہی میں شدید غذائی بحران کا شکار 36 ممالک میں پاکستان کو بھی شمار کیا ہے اور پاکستان کے سیاسی اکھاڑے کھیلے جانے والے کھیل اور سیاست دانوں کی اُس میں مصروفیت اور محویت کے باعث ہر شخص ناامید ہے کہ حکومت غذا کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی تیار کرے گی۔

May 12, 2008 | حالات حاضرہ اور عالمی صورتحال اور ماحولیات اور متفرقات | 6 تبصرے »

اوبنٹو کے بعد فیڈورا اور سوسی

لینکس میرے لیے ہمیشہ خاص اہمیت کا حامل رہا ہے اور حتی الامکان پوری کوشش ہوتی ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ پھیلا سکوں۔ علاوہ ازیں مارکیٹ میں دستیاب ڈسٹروز کے حوالے سے تحقیق کا سلسلہ بھی ہمہ وقت جاری رہتا ہے اور اس مضطرب کیفیت نے نئی سے نئی لینکس ڈسٹروز کے درشن کرائے۔

اردو محفل پر لینکس کے حوالے سے مختلف دھاگوں کے مطالعے کے بعد پہلی بار لینکس کے استعمال کا شوق پیدا ہوا اور یوں منزل بہ منزل ساتھیوں کی مدد اور تعاون کے ذریعے آج کم از کم تنصیب کی حد تک تو لینکس جانتا ہوں البتہ استعمال میں مہارت کے درجے تک پہنچنے کا مستقبل قریب تک کوئی امکان نہیں۔

بہرحال یہ سفر چلتا چلتا آج میرے اوبنٹو 8.04 ہارڈی ہیرون تک پہنچ چکا ہے جس سے میں خوب لطف اٹھا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ٹھیریے !!! بات صرف اوبنٹو ہارڈی ہیرون پر ختم نہیں ہو رہی بلکہ اگلے چند ہفتے لینکس کے دیوانوں کے لیے چند اور اچھی خبریں لیے ہوئے ہیں خاص طور پر ان کے لیے جو میری طرح مضطرب کیفیت کے حامل ہیں اور نئی سے نئی ڈسٹروز آزماتے رہتے ہیں۔ تو جناب اوبنٹو کے علاوہ دو اور مشہور ترین ڈسٹروز اپنے نئے ورژن لا رہی ہیں ایک فیڈورا 9 سلفر اور دوسرا میری پسندیدہ ترین ڈسٹرو سوسی کا ورژن 11

فیڈورا 9 آنے میں تو محض چند روز باقی ہیں (جس کے بقیہ ایام آپ سائیڈ بار میں دیکھ سکتے ہیں) اور اس کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور امید ہے کہ ایک ڈیڑھ ہفتے میں ہی کراچی کی مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہوگی البتہ ڈاؤن لوڈنگ کا آپشن بھی موجود ہے۔ اور کوئی آسرا ہو گیا تو فوری حصول ممکن ہو سکتا ہے۔

میں نے آخری بار سوسی لینکس کا 10.3 ورژن نصب کیا تھا جس کی ڈی و ی ڈی کراچی کی مقامی مارکیٹ سے مل گئی تھی۔ استعمال کیا، سواد آ گیا، سافٹ ویئرز کی جتنی وسیع رینج اس ڈسٹرو کے ساتھ ملی پہلے کبھی نہ ملی تھی۔ یہ ورژن بالآخر اوبنٹو کے نئے ورژن کے منظر عام پر آنے کے بعد مرحوم ہو گیا کیونکہ میں نے اسے لینکس کے لیے مختص پارٹیشن میں ہی نصب کرنا تھا۔ اب میں بہت شدت سے منتظر ہوں کہ اگلے ماہ سوسی کا نیا ورژن استعمال کروں۔ فی الوقت بیٹا ورژن کے چند اسکرین شاٹس ملاحظہ کیجیے:

سوسی لینکس دورانِ تنصیب

سوسی لینکس دورانِ تنصیب

سوسی لینکس اسپلیش اسکرین

سوسی لینکس گنوم میں

سوسی لینکس کے ڈی ای 4 میں

سوسی لینکس ایکس ایف سی ای میں

اوبنٹو کے نئے ورژن کے بعد ان معروف ترین لینکس ڈسٹروز کی پوری قوت کے ساتھ میدان میں آمد لینکس میں بہتر سے بہترین کی جانب سفر کا اہم سنگ میل ثابت ہوں گی۔

اور ہاں لگ رہا ہے کہ اب لینکس کے لیے مجھے ایک اور کمپیوٹر خریدنا پڑے گا۔ چلیں دیکھتے ہیں، شاید اسی ماہ ممکن ہو جائے۔

May 07, 2008 | لینکس نامہ | 13 تبصرے »

عادل کے نام

ماہ فروری میں بیٹھے بیٹھے لاہور جانے کا منصوبہ بن گیا، اور محض چند روز کے لیے لاہور کو شرفِ میزبانی بخشا۔

لاہور آمد کے بعد جس شخصیت سے ہمارا ملاقات کا مکمل منصوبہ تھا وہ تھی اردو وکیپیڈیا کے ثاقب سعود اور رابطے کی صورت میں عادل جاوید چوہدری لیکن جناب ثاقب کے  موبائل کی بے وفائی کے باعث ہم لاہور میں قیام کے پورے عرصے اُن سے رابطے سے محروم رہے اور اس طرح اُن سے ملاقات نہ ہو سکی جس کا مجھے آج تک بہت غم ہے۔ البتہ خوشی کی بات یہ رہی کہ عادل جاوید سے رابطہ کرنے میں کامیابی نصیب ہوئی اور انہوں نے جس محبت و خلوص کے ساتھ ہمیں اپنے گھر مدعو کیا اس کےلیے آج بھی ان کا مشکور ہوں۔ بہت نفیس اور پرخلوص نوجوان، جن سے محض ایک ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات نے مجھے اُن کا گرویدہ بنا دیا۔ اس مختصر سی ملاقات میں  انہوں نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ اردو وکیپیڈیا پر میرے صفحہ صارف میں ابوشامل کی جو خطاطی پیش کی گئی ہے ا‍سی طرز پر ان کے نام پر بھی طبع آزمائی کی جائے۔ کیونکہ وہ خطاطی میں نے برادر خاور بلال سے کروائی تھی اس لیے اس مرتبہ پھر انہیں زحمت دی اور انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر برادر عادل جاوید کے لیے خوبصورت خطاطی آج مجھے ای میل کی جو میں اُن کی نذر کرتا ہوں۔

 

 

 

  

 

May 05, 2008 | تخلیقات اور خطاطی | 7 تبصرے »

شہادتِ حق

ہمارے اندر ایک بہت ہی قلیل گروہ ایسا ہے جو کہیں انفرادی طور پر زبان و قلم سے اسلام کی شہادت دیتا ہے، اور اس میں بھی ایسے لوگ شاید انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو اس شہادت کو اس طرح ادا کر رہے ہیں، جیسا اس کے ادا کرنے کا حق ہے۔ اس قلیل گروہ کو اگر آپ الگ کر لیں تو آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کی عام شہادت اسلام کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف جا رہی ہے۔ ہمارے زمیندار شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام کا قانون وراثت غلط ہے اور جاہلیت کے رواج صحیح ہیں۔ ہمارے وکیل اور جج اور مجسٹریٹ شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام کے سارے ہی قوانین غلط ہیں۔ بلکہ اسلامی قانون کا بنیادی نظریہ ہی قابل قبول نہیں ہے۔ صحیح صرف وہ قوانین ہیں جو انسان نے وضع کیے ہیں اور انگریزوں کی معرفت ہمیں پہنچے ہیں۔ ہمارے معلم اور پروفیسر اور تعلیمی ادارے شہادت دے رہے ہیں کہ فلسفہ و حکمت، تاریخ و اجتماعیات، معاشیات و سیاسیات اور قانون و اخلاق کے متعلق وہی نظریات برحق ہیں جو مغرب کی ملحدانہ تعلیم سے ماخوذ ہیں۔ ان امور میں اسلام کا نقطئہ نظر قابلِ التفات تک نہیں ہے۔ ہمارے ادیب شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس بھی ادب کا وہی پیغام ہے جو امریکہ، انگلستان، فرانس اور روس کے دہری ادیبوں کے پاس ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے ادب کی سرے سے کوئی مستقل روح ہی نہیں ہے۔ ہمارا پریس شہادت دے رہا ہے کہ ان کے پاس بھی وہی مباحث اور مسائل و پروپیگنڈا کے وہی انداز ہیں جو غیرمسلموں کے پاس ہیں۔ ہمارے تاجر اور اہل صنعت شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام نے لین دین پر جو حدود قائم کی ہیں وہ ناقابل عمل ہیں اور کاروبار صرف انہی طریقوں پر ہو سکتا ہے جن پر کفار عامل ہیں۔ ہمارے لیڈر شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس بھی قومیت اور وطینت کے وہی نعرے ہیں، وہی قومی مقاصد ہیں، قومی مسائل کو حل کرنے کے وہی ڈھنگ ہیں، سیاست اور دستور کے وہی اصول ہیں جو کفار کے پاس ہیں۔ اسلام نے اس بارے میں کوئی رہنمائی نہیں کی ہے جس کی طرف رجوع کیا جائے۔ ہمارے عوام شہادت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس زبان کا کوئی مصرف دنیا اور اس کے معاملات کے سوا نہیں ہے اور وہ کوئی ایسا دین رکھتے ہی نہیں، جس کا وہ چرچا کریں یا جس کی باتوں میں وہ اپنا کچھ وقت صرف کریں۔ یہ ہے وہ قولی شہادت جو مجموعی طور پر ہماری پوری امت اس ملک ہی میں نہیں، ساری دنیا میں دے رہی ہے۔ (شہادت حق از سید ابو الاعلی مودودی)

 

May 05, 2008 | اسلام اور عصر حاضر اور حاصل مطالعہ | 3 تبصرے »