محفوظات برائے December, 2007

ہر گذرتا سال یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ اس سے زیادہ برا سال پہلے نہیں گذرا۔2001ء میں نیویارک اور واشنگٹن پر حملے، 2002ء میں افغانستان اور 2003ء میں عراق پر امریکی جارحیت، 2004ء کے آخری ایام میں سونامی اور 2005ء پاکستان میں تباہ کن زلزلہ اور پھر 2006ء سے پاکستان میں بدستور بگڑتی سیاسی صورتحال جو 2007ء میں پہلے چیف جسٹس کی برطرفی اور پھر ان کی بحالی کی تحریک اور اس دوران 12 مئی جیسے اندوہناک واقعات، سقوط ڈھاکہ کے بعد ملکی تاریخ کے دوسرے سب سے بڑے سانحۂ لال مسجد اور پھر خود کش بم دھماکوں اور سیاسی بحران کے لامتناہی سلسلہ اور بالآخر پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو کے قتل پر منتج ہوئی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ پاکستان کو 1971ء کے علاوہ شاید ہی کبھی اتنی نازک صورتحال سے گذرنا پڑا ہو۔ پرویز مشرف نے یہ کہہ کر امریکہ کی جنگ میں کودنے کی حامی بھری کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور انکار کی صورت میں “پتھر کے دور” میں پہنچانے کی دھمکی دی گئی تھی، کیا اس سے زیادہ بھی کوئی پتھر کا دور آئے گا؟ اتنا ظلم تو شاید پتھر کے دور میں بھی نہ ہوتا ہوگا۔ سوچیے کہ کیا ہم یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے اور اتنی قربانیوں سے حاصل کیا گیا ملک یونہی لٹیروں اور قاتلوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتا رہے گا۔ آخر ہم کب جاگیں گے؟
December 28, 2007 | حالات حاضرہ اور سیاسیات | 2 تبصرے »
اخبارات میں پیش کی گئی اردو کا گلہ تو اس بلاگ پر ہو چکا ہے لیکن معروف مزاحیہ شاعر عنایت علی خان کو کاتب اور کمپوزر حضرات سے شکوہ ہے جو بے جا بھی نہیں۔ کمپوزر حضرات نے وہ عظیم مزاحیہ شاہکار تخلیق کیے ہیں کہ اگر ان کو اکٹھا کر کے ایک مجموعے کی شکل دی جائے تو اردو کی مزاحیہ کتب میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب کہلائے گی۔ خیر عنایت علی خان نے اپنے ایک کالم میں جس انداز سے کمپوزر حضرات کی غلطیوں کو “چُن چُن” کر بیان کیا ہے وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ شاعری میں نہیں بلکہ نثر پر بھی کافی عبور کرتے ہیں اور موضوع کو گرفت سے نہیں نکلنے دیتے۔ ان کے کالم کے چند گوشے درج ذیل ہیں:
کاتب یا کمپوزر کاتبانِ تقدیر تو ہیں نہیں کہ ان سے سہو نہ ہو جبکہ غالب نے تو اًن کی کتابت پر بھی اعتراض جڑ دیا تھا کہ
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا
ہمارے آدمی سے مراد اُن کی غالباً پروف ریڈر ہی ہوگا جو ان کی تحریر کی املا درست کرتا۔
مغربی ممالک سے درآمد شدہ انگریزی کی کتب میں ہمیں spelling کی کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔ ہمارے خیال میں اس کی دو وجوہ ہیں، ایک تو یہ کہ کہتے ہیں کہ وہاں ایک نہیں تین تین دیدہ ریز (پروف ریڈر) یہ کام یکے بعد دیگرے سر انجام دیتے ہیں۔ دوسری یہ کہ خود ہماری اپنی اسپیلنگ اتنی معتبر نہیں کہ صحیح اور غلط املا کا فیصلہ کر سکے۔ یوں تو ماضی قریب میں یہ کام کرنے والے افراد یعنی کاتبانِ تحریر زیادہ لکھے ہی لکھے ہوتے تھے پڑھے کم ہوتے تھے ، پھر بھی انہیں عربی اور فارسی کی تھوڑی بہت شُد بُد ضرور ہوتی تھی اس لیے شبلی نعمانی کو سُتلی نو عدد جیسے لطیفے شاذ و نادر ہی پڑھنے میں آتے تھے لیکن اس کمپیوٹری دور میں کیونکہ زباں دانی کی جگہ انگشت روانی نے لے لی ہے جس کے لیے عربی اور فارسی تو کجا اردو دان بھی مل جائیں تو غنیمت ہے، ہاں اردو دان ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ پھر تحریر بھی مجھ جیسے بد خط فرد کی ہو جس کی ایم اے اردو میں اول بدرجۂ اول، کامیاب ہونے کی خبر سن کر والد محترم نے تعجب سے کہا تھا “اسی ہینڈ رائٹنگ کے ساتھ” تو سمند ناز کو ایک اور تازیانے کے مصداق پھر دیکھ بہار کتابت کی۔
سامنے کی مثال میرے سابقہ کالم میں کمپوزر صاحب نے دو جگہ تصرف فرمایا تھا۔ میرا جملہ تھا “اللہ تعالٰی نے انسان کی سرشت میں سعادت و شقاوت یعنی نیکی اور بدی دونوں کے داعیات رکھ دیے ہیں” کمپوزر صاحب چونکہ خود شقاوتِ قلب سے محفوظ تھے چنانچہ انہوں نے شقاوت کو ایک بہتر معنی والے لفظ “شفادت” سے بدل دیا۔ اسی طرح ایک اور جگہ نوسربازوں (پاکٹ ماروں) کے حوالے سے لکھا تھا کہ ان لوگوں نے نت نئے شاطرانہ طریقہ ہائے واردات ایجاد کر لیے ہیں یہاں غالباً میری موزونیتِ طبع کا لحاظ کرتے ہوئے شاطرانہ کو کمپوزر صاحب نے “شاعرانہ” طریقہ ہائے واردات میں بدل دیا تھا۔
کافی عرصہ ہوا کہ ایک مقامی اردو اخبار میں کاتب نے خبر کی عبارت لکھی: “نوید قمر الزماں صاحب کی گمشدگی کو آج پانچواں روز ہے گذشتہ چار دنوں سے ان کا سوراخ نہیں مل سکا ہے” اسی اخبار میں ایک تعزیتی بیان کا اختتام کچھ اس طرح تھا “اللہ تعالٰی مرحوم کو جنت الفردوس اور لواحقین کو قبرِ جمیل عطا فرمائے۔” بزم تعمیر ادب کی تشکیل کے بارے میں خبر تھی کہ چند چغد لوگوں نے اس کام کا بیڑا (جو اب بیڑے کی شکل اختیار کر گیا ہے) اٹھایا ہے ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ ان چغد (یعنی چند) لوگوں میں جناب ماسٹر عبد العزیز، جناب انور بریلوی، جناب واجد سعیدی کے ساتھ میرا نام بھی شامل تھا۔
تقسیم ملک کے وقت مشرقی پنجاب کے مہاجرین پر حملہ آور ہونے والے مسلم سکھوں (مسلح سکھوں) کا بھی تذکرہ پڑھنے کو ملا تھا اور “باوردی” سرنگوں سے ہونے والے دھماکے کا ذکر تو حال ہی کا واقعہ ہے۔
December 14, 2007 | لسانیات اور مزاحیات | ایک تبصرہ »
میرِ سپاہ ناسزا، لشکر یاں شکستہ صف
آہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف
تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا صدف صدف
عشقِ بتاں سے ہاتھ اٹھا، اپنی خودی میں ڈوب جا
نقش و نگار دَیر میں خونِ جگر نہ کر تلف
کھول کے کیا بیاں کرو سرِ مقامِ مرگ و عشق
عشق ہے مرگِ باشرف، مرگ حیاتِ بے شرف
صحبتِ پیرِ روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سر بکف
مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
اب بھی درختِ طور سے آتی ہے بانگِ ‘لاتخف’
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف
(بال جبریل از حکیم الامت علامہ محمد اقبال)
December 14, 2007 | اقبالیات | ایک تبصرہ »
یہ ہے زمین کا وہ نظارہ جسے کبھی حقیقی آنکھ سے نہ دیکھا جا سکے، یعنی پورے کرۂ ارض کو بیک وقت رات میں دیکھنا، لیکن اسے ممکن بنایا ہے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کے DMSP مصنوعی سیاروں سے کھینچی گئی ان کی بھر ہزاروں تصاویر نے جو دنیا کے ہر علاقے سے رات کے وقت لی گئیں۔ اور پھر انہیں جوڑ کر یہ شاہکار تخلیق کیا گیا۔ کیا آپ کو اس میں اپنا ملک یا شہر نظر آ رہا ہے؟
اصل میں زمین کے مختلف علاقوں کی جو خلائی تصاویر دن کے وقت حاصل کی جاتی ہیں، ان میں آبادیاں نمایاں نہیں ہوپاتیں لیکن رات کے وقت یہ ممکن ہے کیونکہ انسانوں کی جگمگاتی بستیاں اور ہزاروں “روشنیوں کے شہر” کے وقت کی روشنیاں ایسا ممکن بنا دیتے ہیں۔ اس نقشے کی بدولت آپ کو زمین کے خوشحال ترین علاقے انتہائی روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ، یورپ اور جاپان سے رنگ و نور کا سیلاب امڈتا دکھ رہا ہے۔ اس تصویر کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس سے دنیا میں انسانی آبادی کی تقسیم کا اندازہ بھی ہو رہا ہے اور اس ضمن میں جو ایک چیز بالکل واضح ہو کر سامنے آ رہی ہے وہ یہ کہ دنیا کی بیشتر آبادی دریاؤں اور سمندروں کے کنارے آباد ہے۔ دریائے سندھ اور دریائے نیل کے کنارے، جہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں نے جنم لیا، وہیں یہ علاقے آج بھی ایک طویل چمکتی ہوئی لکیر کے ساتھ اس امر کے گواہ ہیں کہ یہ آج بھی جدید تہذیب کے باسیوں کی پسندیدہ قیام گاہیں ہیں۔ روس میں سائبیریا کے وسط سے نکلنے والی روشنیوں کی لکیریں “ٹرانس سائبیرین ریلوے” سے ملحقہ علاقوں کو ظاہر کر رہی ہے۔ دوسری جانب کئی خطوں پر تاریکی بھی دکھائی دے رہی ہے جن میں شمالی سائبیریا، تبت، پامیر، صحرائے تکلا مکان، کاراکم، افغانستان، تھر، صحرائے گوبی، ربع الخالی، صحرائے اعظم، سب صحارن افریقہ کے جنگلات، صحرائے نمیب، ایمیزن کے جنگلات، شمالی کینیڈا اور صحرائے آسٹریلیا بالکل واضح ہیں۔
ذیل میں دی گئی تصویر پر کلک کیجیے اور Hi-Resolution تصویر دیکھیے

December 10, 2007 | فلکیات | 6 تبصرے »
روزنامہ “ایکسپریس” کراچی اور اس کے بعد ملک کے کئی دوسرے شہروں سے شائع ہونے والا معروف “اردو” اخبار ہے اور اس نے بہت کم عرصے میں اپنی ساکھ قائم کی ہے۔ خصوصاً کھیلوں کی خبروں کے حوالے سے اس نے ذرائع ابلاغ کو ایک نیا رحجان عطا کیا اور اس شعبے میں آج بھی کوئی ایکسپریس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ایکسپریس اردو کے لیے کوئی خاص خدمت انجام نہیں دے سکا۔ نام ہی لے لیجیے “Express”، چلیے اس سے بھی درگزر کر لیا۔ اخبار میں جس طرح کی اردو بیان کی جاتی ہے، وہ اردو سے محبت رکھنے والوں کے دلوں پر چھریاں چلانے کے مترادف ہے۔ بلکہ ٹھہریے ذرا یہ ملاحظہ کیجیے، اخبار کے صفحات کے نام! (تصویر پر کلک کیجیے) ذرا بتائیے اس میں سے کتنے اردو میں ہیں۔ میرے خیال میں ایکسپریس کو اردو چھوڑ کر انگریزی اخبار نکالنا چاہیے، Dawn کا نہیں تو The News کا مقابلہ تو خوب کریں گے۔

December 06, 2007 | ذرائع ابلاغ | 11 تبصرے »
گذشتہ روز نیشنل جیوگرافک چینل پر “Mad Labs” نامی ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک عالمی سروے کا ذکر ملا۔ ایک صاحب نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں وہ کون سی آوازیں ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ بری لگتی ہیں، اس کے لیے انہوں نے ایک ویب سائٹ بھی مرتب کی ہے جسے تیار کرنے کے لیے خاصی محنت کی گئی ہے کیونکہ انہوں نے اس کے لیے کئی اقسام کی آوازیں ریکارڈ کی تھیں۔ فلیش پر بنی یہ ویب سائٹ خوبصورت بھی ہے اور معلوماتی بھی۔ آپ بھی ملاحظہ کیجیے، اور سروے کے ذریعے معلوم کیجیے کہ سب سے زیادہ بری آواز کون سی لگتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ کون سی آوازیں زیادہ بری ہیں لیکن انہیں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ تجسس بھی تو برقرار رکھنا ہے نا !!! اور ہاں بتانا نہ بھولیے گا کہ آپ کو سب سے بری آواز کون سی لگتی ہے؟ :wink:
Bad vibes
December 05, 2007 | متفرقات | تبصرہ کریں »
اس تصویر پر میرا کوئی تبصرہ نہیں نہ ہی اس کا کوئی عنوان منتخب کیا ہے۔ ساتھی بلاگرز اور صارفین سے گذارش ہے کہ آپ کی نظر میں یہ تصویر کیا ہے ؟

December 04, 2007 | متفرقات | 12 تبصرے »